ادارے کے بانی کا تعارف
حضرت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب نور اللہ مرقدہ
خاندانی پس منظر
حضرت رحمہ اللہ کا خاندان دہلی کے پنجابی سودا گران کی ایک شاخ ہے۔ پنجابی سودا گران دراصل پنجاب کے ضلع بھیرہ کے باشندے تھے جو اصلاً ہندو تھے۔ جن کو(بقول حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمہ اللہ)حضرت شاہ شمس سبزواری رحمہ اللہ(ملتان)نے تبلیغ کر کے مسلمان کیا۔ اور جو ہندو بھی ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا حضرت سبزواری رحمہ اللہ اسے نومسلموں کے خاندان کا فرد قرار دیتے۔ حتیٰ کہ اس خاندان کی پہچان ہی حضرت شمس رحمہ اللہ کی نسبت سے ’’شمسی‘‘ قرار پائی۔ حضرت سبزواری رحمہ اللہ نے اس خاندان کو تجارت میں برکت کی بطور خاص دعا دی تھی۔
نوٹ:حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمہ اللہ تاکید کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ مذکورہ بزرگ سنی العقیدہ تھے ان کی اہل تشیع سے نسبت غلط ہے۔
نومسلموں کا یہ خاندان ملک کے مختلف خطوں خاص کر دہلی میں مقیم ہوا، جہاں پنجاب کی نسبت سے پنجابی سودا گران کے نام سے اس خاندان کی شہرت ہوئی۔ اس خاندان کی شناخت صرف اسلام تھی لہذا مرور زمانہ کے باوجود یہ خاندان اسلام کے ساتھ ہمیشہ سے الفت رکھتا رہا ہے۔(البتہ صحیح رہنمائی نہ ہونے یا قیادت غلط ہاتھوں میں جانے کے باعث بعض افراد میں یہ جذبہ انہیں جادۂ حق سے ہٹا کر کہیں دور لے گیا ہے)۔
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی پیدائش چونکہ تقسیم ہند کے بعد ۱۹۵۰ء کی ہے اس لیے بہتر ہو گا کہ تقسیم سے قبل اس برادری اور حضرت رحمہ اللہ کے خاندان کا کچھ ذکر کر دیا جائے۔
پنجابی سوداگران برادری کی تقسیم سے قبل دہلی کے جن دو بزرگوں سے بطور خاص عقیدت تھی ان دو بزرگوں کا نام ہی ان کی شناسائی کے لیے کافی ہے اور ان کے کام و محنت کا عکاس ہے۔(۱) حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ بستی نظام الدین اور(۲) حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ۔ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے ددھیال کی بنسبت ننھیال متذکرہ بالا بزرگوں سے زیادہ عقیدت رکھتا تھا حضرت رحمہ اللہ کے نانا شیخ عبدالجبار فضل الہٰی صاحب رحمہ اللہ نہ صرف یہ کہ مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ کے قریبی رفقاء میں تھے بلکہ تقسیم کے بعد کراچی میں تبلیغ کے معروف بزرگوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔ اسی طرح ان کے دو صاحبزادگان ابراہیم عبدالجبار صاحب رحمہ اللہ اور حافظ خلیل عبدالجبار صاحب مدظلہم بھی تبلیغ کے معروف بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا ددھیال متذکرہ بالا بزرگوں سے قابل ذکر نسبت نہ رکھنے کے باوجود اپنی شرافت و نجابت میں معروف تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کے دادا شیخ عبدالوہاب مرحوم نے تقسیم سے قبل دہلی کے ساتھ ساتھ لاہور انار کلی میں بھی ایک دکان کھول لی تھی اور لاہور کے علاقہ ’’پیسہ اخبار‘‘ میں گھر بھی بنا لیا تھا۔ وہ چھ مہینے لاہور میں رہتے تھے اور چھ مہینے دہلی میں رہتے تھے۔ چونکہ ان کے خاندان کے اکثر افراد دہلی میں رہتے تھے تو لاہور میں کاروبار شروع کرنے کی وجہ سے دہلی کے خاندان میں ان کی شناخت ’’لاہور والے‘‘ سے ہو گئی تھی۔ ان کی یہ شناخت رفتہ رفتہ یہاں تک ہو گئی تھی کہ دہلی میں نہ صرف ان کا گھر ’’لاہور والا‘‘ مشہور تھا بلکہ گلی بھی ’’لاہور والی‘‘ مشہور ہو گئی تھی۔
حضرت رحمہ اللہ کے والدین
حضرت رحمہ اللہ کا ددھیال ایک عام کاروباری گھرانہ تھا جہاں بددینی تو نہ تھی لیکن گہری دینداری بھی نہ تھی۔ البتہ نیکی و پرہیزگاری جو اس دور کے لوگوں میں بالعموم ہوتی تھی اس سے پوری طرح بہرہ ور تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کے والد صاحب تقسیم کے بعد پہلے کچھ عرصہ کراچی رہے جہاں حضرت رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی پھر یہ خاندان لاہور اپنے گھر میں منتقل ہو گیا اور پہلے سے موجود انار کلی والے کاروبار کو سنبھالا۔
حضرت رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ چونکہ معروف تبلیغی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے انہوں نے لاہور آکر بھی دعوت و تبلیغ سے تعلق برقرار رکھا، انہوں نے اپنے گھر میں خواتین کے لیے ہفتہ وار تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا جو بقول بعض حضرات لاہور میں تبلیغی جماعت کے پلیٹ فارم سے خواتین کے لیے ہفتہ واری تعلیم کی پہلی کاوش تھی۔
پیدائش کے واقعات
خاندان میں یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کی دادی نماز، روزہ کی پابند، بڑی نیک خاتون تھیں اور اخیر عمر میں ان کے سچے خواب خاندان میں شہرت پاگئے تھے۔ ایک دن وہ بیٹھے بیٹھے سوئیں تو اٹھ کر کہنے لگی کہ مجھے خواب میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارا یہ پوتا جو پیدا ہو گا اس کا مقام بہت اونچا ہو گا اور اس کا نام ’’عبدالواحد‘‘ رکھنا۔
میری دادی کہتی تھیں مجھے اس بچے(حضرت ڈاکٹر صاحب)نے کبھی تنگ نہیں کیا۔ گویا شروع سے طبیعت میں سلامتی اور راست روی تھی۔
بچپن و لڑکپن
حضرت رحمہ اللہ بچپن سے ہی خاموش اور کم گو تھے، کھیل کود اور لڑائی جھگڑے سے دور رہتے تھے۔ بچپن سے ہی پڑھنے کا اتنا شوق تھا کہ اسکول کے پرنسپل نے ان کے والد صاحب کو بلا کر پوچھا کہ اس بچے کو کوئی مسئلہ ہے؟ یا گھریلو پریشانی کا شکار ہے؟ کہ ہر وقت خاموش رہتا ہے اور پڑھتا رہتا ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، تو پرنسپل نے پوچھا کہ پھر یہ کھیل کود میں حصہ کیوں نہیں لیتا؟ والد صاحب نے کہا کہ کوئی بچہ پڑھائی میں حصہ نہ لے اور کھیل کود میں لگا رہے تو شکایت بنتی ہے لیکن کوئی پڑھائی میں لگا رہے اور کھیل کود میں حصہ نہ لے تو یہ تو شکایت نہیں بنتی۔
حضرت رحمہ اللہ کا خاندان چونکہ تجارت پیشہ ہے اور عموماً تاجروں کے خاندان میں تعلیم سے زیادہ تجارت پر توجہ ہوتی ہے اس لیے(اب کچھ دینی یا دنیاوی اعلیٰ تعلیم کا شوق پیدا ہو گیا ہے ورنہ)حضرت رحمہ اللہ کے دور میں خال خال ہی کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا تھا۔ بس چند جماعتیں پڑھنے کے بعد لڑکے کاروبار میں چلے جاتے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ کا ساتھ والا گھر ان کے تایا کا تھا۔ ان کے تایا زاد بھائی خاندان کے دیگر بچوں کی طرح پڑھائی میں دلچسپی نہ لیتے تھے تو ان کی اپنے والد صاحب سے شامت آتی تھی کہ تو پڑھتا نہیں ہے اور ایک اسے(حضرت رحمہ اللہ)جاکر دیکھ وہ بیٹھا پڑھ رہا ہو گا۔
جانکاہ محنت
حضرت رحمہ اللہ بتاتے تھے کہ میں پڑھائی میں متوسط درجے کاطالب علم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلسل محنت کی بدولت علم کی دولت سے نوازا۔ مسلسل محنت اور اہمیت کے ساتھ پڑھائی کرنے کا حضرت رحمہ اللہ نے ایک واقعہ یہ سنایا کہ ؎(کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کاMBBSکا امتحان جو کہ مشکل ہونے میں معروف تھا)مکمل کرنے کے بعد کئی روز تک خواب میں بھی ایسا لگتا رہا کہ میں امتحان گاہ میں بیٹھا ہوا ہوں۔ گویا پڑھائی اعصاب پر سوار ہو گئی تھی۔
حضرت رحمہ اللہ کا تعلیم کا سارا دورانیہ خواہ وہ دنیاوی تعلیم کا ہو یا دینی تعلیم کا، ایسا گذرا ہے کہ رات ایک بجے تک مسلسل پڑھتے رہنا عام معمول تھا۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے صرف کھانے پر ملاقات ہوتی تھی اور کھانے کے بعد دوبارہ اپنے علمی کام میں مگن ہو جاتے تھے۔
رات ایک، ڈیڑھ بجے تک مطالعہ و تحریر میں لگے رہنا رعشہ کی تکلیف شروع ہونے سے قبل تک کا معمول رہا ہے۔ اور رعشہ کی تکلیف حضرت کو ۵۸ سال کی عمر میں شروع ہوئی ہے۔ اس طرح تقریباً نصف صدی کے قریب تک اپنے اس معمول کو نبھایا۔ مرض وفات شروع ہونے سے قبل تک حضرت رحمہ اللہ کا یہ معمول رہا کہ گھر والوں یا مہمانوں سے گفتگو ختم ہوتے ہی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر فوراً ہی پڑھنے لکھنے میں لگ جاتے تھے۔
عصری تعلیم
حضرت رحمہ اللہ نے اپنے طبعی شوق کی بناء پر اسکول میں داخل ہونے کے بعد نہایت انہماک سے پڑھنا شروع کیا۔ ان کے والد صاحب نے انہیں اس زمانے کے تعلیمی معیار کے بہترین اسکول ’’دی کیتھیڈرل اسکول‘‘ میں داخل کروایا تھا۔ وہاں پر ابتداء سے تعلیم حاصل کرتے کرتے میٹرک تک پہنچے، میٹرک میں اولاً آرٹس گروپ میں داخلہ لیا تھا لیکن کچھ عرصہ گذرنے کے بعد اپنے ماموں ابراہیم عبدالجبار صاحب کے سمجھانے پر سائنس گروپ میں داخلہ کے لیے پرنسپل سے بات کی تو پرنسپل نے کہا کہ اب امتحان میں وقت کم ہے، آرٹس سے سائنس میں تبدیلی مناسب نہیں۔ لیکن حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت میں سائنس میں میٹرک کرنے کا داعیہ شدت اختیار کر گیا تھا لہذا پرنسپل نے حضرت رحمہ اللہ کے والد صاحب کو بلا کر بتایا کہ یہ طالب علم اس طرح گروپ تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ وقت کم ہے۔ والد صاحب نے حضرت رحمہ اللہ کی حمایت کی اور کہا کہ اگر بچے کی خواہش ہے تو آپ اسے گروپ تبدیل کرنے دیں۔ بالآخر پرنسپل نے گروپ تبدیل کر دیا اور حضرت رحمہ اللہ نے سائنس میں میٹرک مکمل کیا۔ اس کے بعد جبF.Scکرنے کا مرحلہ آیا تو حضرت رحمہ اللہ نے بتایا کہ اس اسکول میں ایف اے اور ایف ایس سی تک تعلیم کی اسی سال ابتداء کی گئی تھی۔ لہذا ایف ایس سی میں داخلہ کے لیے کسی نئی جگہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی بلکہ پرانے اسٹوڈنٹ ہونے کے ناطے آسانی سے ایف ایس سی میں داخلہ مل گیا۔
ایف ایس سی کی تکمیل کے بعد لاہور کے مشہور میڈیکل کالج کنگ ایڈورڈ میں داخلہ لیا اور وہاں سے ۷۳ء میں ایم بی بی ایس مکمل کیا۔
میڈیکل کالج کے زمانہ کے حالات زیادہ معلوم نہیں ہیں البتہ اتنا حضرت رحمہ اللہ نے بتایا تھا کہ میڈیکل کالج کے زمانہ میں ہی دینی تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
دینی تعلیم کی ابتداء
حضرت رحمہ اللہ نے جس اسکول(کیتھیڈرل اسکول سے)تعلیم حاصل کی وہ عیسائیوں کا مشنری اسکول ہے۔ اس اسکول میں ایک پیریڈ بائبل کا ہوتا ہے جس میں مسلمان بچوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی صرف عیسائی بچے بیٹھتے ہیں۔ عیسائی بچوں میں مذہبی تعلیم کا اہتمام دیکھ کر اسی وقت سے حضرت رحمہ اللہ کے دل میں اپنے مذہب کی تعلیم کی رغبت پیدا ہو گئی تھی لیکن دینی تعلیم کا کوئی ماحول میسر نہ آسکا۔ حتی کہ میڈیکل کالج کے زمانہ میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سے تعلق پیدا ہوا، جو خود بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے اور حضرت رحمہ اللہ کے محلہ سمن آباد کی مسجد خضراء میں درس قرآن دیتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ نے ان کے ادارے کے ترتیب دیے ہوئے چند مختصر کورس پڑھے لیکن اس کے بعد مکمل دینی تعلیم کے حصول کا جذبہ فزوں تر ہو گیا۔ حضرت رحمہ اللہ کے مکمل دینی تعلیم کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اسرار صاحب نے انہیں حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ(فاضل دیوبند و خلیفہ مجاز حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ)کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔
حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ ڈاکٹر اسرار صاحب کی دعوت پر سمن آباد کی مسجد خضراء میں چند مرتبہ بیانات کے لیے تشریف لاچکے تھے۔ جس کی وجہ سے حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کی ذات حضرت رحمہ اللہ کے لیے اجنبی نہ تھی۔
میڈیکل کی تعلیم کے دوران ہی حفظ قرآن کا شوق بھی پیدا ہوا تو میڈیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظ کرنا بھی شروع کیا جس میں طویل عرصہ لگا لیکن اللہ تعالیٰ نے حفظ مکمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائی اور بعد میں دو دفعہ مسجد میں اور متعدد مرتبہ گھر میں تراویح میں قرآن پاک سنانے کی توفیق بھی عطا فرمائی(لیکن بڑی عمر میں حفظ کرنے کی وجہ سے عمر بھر کوشش کے باوجود حفظ قرآن ویسا رواں نہ ہو سکا جیسا کہ بچپن میں حفظ کرنے والے کا ہوتا ہے)۔
میڈیکل کے زمانہ میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھیں۔ لیکن میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ سوال درپیش تھا کہ چار ماہ کے لیے تبلیغ میں نکلیں یا باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ جائیں؟ حضرت رحمہ اللہ نے ساتھیوں کے سامنے اپنی طبیعت کا تقاضا دینی تعلیم حاصل کرنے کا رکھا اور پھر باقاعدہ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کے پاس جامعہ مدنیہ جانا شروع کیا اور وہاں ابتداء سے داخلہ لے کر انتہا تک دینی تعلیم حاصل کی۔ بیچ میں دو سال کے لیے اس وقت فوج کی طرف سے نئے فارغ ہونے والے ڈاکٹروں کے لیے جبری بھرتی کے قانون کی وجہ سے فوج میں بطور کیپٹن جانا پڑا۔ اس عرصہ میں مختلف علاقوں میں پوسٹنگ کے دوران حضرت نے مولانا حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کے مشورہ سے قریبی مدارس کے اساتذہ کرام سے شام کے اوقات میں مختلف کتابیں پڑھیں۔
مکمل دینی علوم کی تحصیل
حضرت رحمہ اللہ نے نہ صرف درس نظامی مکمل کیا بلکہ قرء ات سبعہ و عشرہ کی تعلیم بھی حاصل کی اور درجۂ تکمیل و تخصص کی کتب بھی پڑھیں، اس زمانے میں درس نظامی کی رائج تقریبا ساری کتابیں ہی پڑھیں حتیٰ کہ طب یونانی کی تعلیم بھی حاصل کی، حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ سے فن حدیث کی بھی تعلیم حاصل کی۔ حکومت مصر کی جانب سے ایک دور میں مصری اساتذہ کو مدارس میں مبعوث کیا گیا تھا تاکہ پاکستانی طلباء عربی تحریر و تکلم میں مہارت حاصل کریں۔ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے زمانہ تدریس میں ایک سال باقاعدہ طور پر وقت نکال کر مصری شیخ ممدوح المصری جو جامعہ مدنیہ میں مبعوث تھے کے پاس روزانہ ایک گھنٹہ لگایا تاکہ عربی تکلم بہتر ہو جائے۔
حضرت رحمہ اللہ کی دینی تعلیم کا دورانیہ ۷۳ء سے لے کر تقریباً ۸۲ء ہے۔
غرضیکہ حضرت رحمہ اللہ نے دینی تعلیم میں کوئی مختصر کورس نہیں کیا، یا صرف عربی زبان حاصل کر کے خود سے قرآن و حدیث کے سمجھنے کی مشق نہیں کی بلکہ علم و فن کی دنیا کی ترتیب کے مطابق مکمل اور مفصل دینی تعلیم حاصل کی۔
چند اساتذہ کرام
حضرت رحمہ اللہ نے جس دور میں دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اس دور میں تمام بڑے مدارس میں اکثر اساتذہ کرام دار العلوم دیوبند کے فضلاء اور صاحب نسبت بزرگ تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کے اکثر اساتذہ کرام بھی اسی چمن سے تعلق رکھتے تھے۔ چند مشہور اساتذہ کرام کے اسماء گرامی یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ۔
فاضل دیوبند، خلف الرشید حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب رحمہ اللہ، و خلیفہ مجاز حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ
۲۔ حضرت مولانا مفتی عبدالحمید صاحب سیتاپوری رحمہ اللہ۔ فاضل دیوبند و مفتی جامعہ مدنیہ لاہور
۳۔ حضرت مولانا ظہور الحق صاحب مدظلہم العالی، فاضل دارالعلوم دیوبند۔
۴۔ حضرت مولانا سید مرزا گل صاحب رحمہ اللہ
۵۔ حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ، فاضل ندوۃ العلماء لکھنؤ۔
حضرت رحمہ اللہ نے درس نظامی کی تکمیل پر وفاق المدارس العربیہ کے تحت امتحان دیا۔ اس وقت وفاق کے تحت صرف دورہ حدیث کا امتحان لیا جاتا تھا۔ نصاب وفاق مہیا نہ کرتا تھا بلکہ مدارس میں ملا جلا اپنا نصاب ہوتا تھا۔
حضرت رحمہ اللہ کی دینی تعلیم کا دور، وہ دور تھا جس میں اساتذہ کرام طلباء کی خوب گوشمالی کیا کرتے تھے حضرت رحمہ اللہ کے بعض اساتذہ کرام خصوصاً قاری عبدالرشید صاحب رحمہ اللہ اور مفتی عبدالحمید صاحب رحمہ اللہ دونوں اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود تمام اساتذہ کرام حضرت کے دنیاوی تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کا لحاظ کرتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ بھی اس رعایت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاتے تھے بلکہ ہر طرح سے کوشش کرتے تھے کہ تنبیہ کا بھی موقع نہ آنے پائے۔
اساتذہ کا اعتماد
o حضرت رحمہ اللہ کی تعلیم کا زمانہ چونکہ ان کے اساتذہ کرام کے سامنے کھلی کتاب تھا اس لیے تعلیم مکمل ہوتے ہی اساتذہ کرام نے آپ رحمہ اللہ پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا بلکہ آپ کے ذمے مختلف ذمہ داریاں بھی لگائیں۔
o تخصص کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے چند فتاویٰ کی تمرین دیکھنے کے بعد جامعہ مدنیہ میں بطور مفتی مقرر کیا۔
o ایک سال تک تمرین کے بعد حضرت مفتی عبدالحمید سیتاپوری صاحب رحمہ اللہ نے اپنی علالت کے پیش نظر دار الافتاء کی مکمل ذمہ داری آپ پر ڈال دی۔
o حضرت مولانا قاری عبدالرشید صاحب رحمہ اللہ نے ڈاکٹر اسرار صاحب کی غلطیوں کے سامنے آنے پر حضرت رحمہ اللہ کو فرمایا کہ تم چونکہ ڈاکٹر اسرار صاحب کے ساتھ رہ چکے ہو اس لیے ان کے بارے میں کوئی مضمون لکھو۔ پھر حضرت رحمہ اللہ کو اپنے ساتھ لے کر ڈاکٹر اسرار صاحب سے ملاقاتیں کیں لیکن ڈاکٹر اسرار صاحب اپنی غلطیوں سے رجوع پر تیار نہ ہوئے۔ بالآخر حضرت رحمہ اللہ نے ایک تفصیلی کتاب ’’ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار و نظریات تنقید کے میزان میں‘‘ کے نام سے لکھی۔ جس میں ڈاکٹر اسرار صاحب کے دینی فلسفہ اور ان کی دیگر غلطیوں پر نقد کیا اور ساتھ ہی ڈاکٹر اسرار صاحب(جو اپنا کام میڈیکل پریکٹس سے زیادہ درس قرآن سمجھتے تھے اس)کے بارے میں بتایا کہ ڈاکٹر صاحب جن لوگوں سے قرآن سمجھ کر آگے درس دیتے ہیں وہ لوگ قرآن سے کیا کیا مطلب نکالتے ہیں، اور ڈاکٹر صاحب نے ان کے پیچھے چل کر کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے۔
حضرت رحمہ اللہ کی تصنیفی دنیا میں یہ پہلی کاوش تھی مگر تحقیق اور نکتہ شناسی کی داد خوب خوب لی۔ اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ کافی ہے کہ جب یہ کتاب حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب کی خدمت میں پہنچی تو انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں یوں لکھا:
’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کی تالیف منیف ’’ڈاکٹر اسرار احمد کے نظریات کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے دو نسخے وصول ہوا۔ کتاب وصول ہوتے ہی اول سے آخر تک پڑھ ڈالی تھی۔ جزاکم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اس سے نفع عام ہو۔ آمین۔ کتاب علمی ہے اور وقیع، اس سے میں نے بھی نفع اٹھایا۔ ڈاکٹر رفیع کے نظریہ ارتقاء کی مجھے پہلے اطلاع نہ تھی، آپ کی کتاب پڑھ کر ان کے خیالات سے واقفیت ہوئی۔ بہرحال کامیاب اور مفید کوشش ہے۔ مجھے اسی وقت جواب لکھنا چاہیے تھا اور کتاب کی رسید بھیجنی چاہیے تھی مگر میں اب بھی لاہور کے قیام کی طرح یہاں مصروف ہوں ذرا فرصت نہیں ملتی ہے آج کل پر بات ٹلتی رہی اور مہینے گذر گئے۔‘‘
یوں کہہ لیجیے کہ فتوے اور دین کے بارے میں غلط فہمیوں کے ازالہ کی صلاحیت کے بارے میں آپ رحمہ اللہ کے اساتذہ نے علمی اعتبار سے بالکل نوعمری میں آپ رحمہ اللہ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اپنے اساتذہ کے اسی اعتماد کو آپ رحمہ اللہ نے تادم واپسیں اپنا حرز جان بنایا اور اس نازک فقہی و تنقیدی ذمہ داری کو اس شان سے نبھایا کہ اپنے معاصر اہل علم کے لیے قابل رشک اور اخلاف و تلامذہ کے لیے قابل تقلید مثال بن گئے۔
بیعت و سلوک
علم برائے علمی دلچسپی یا علم برائے معلومات شریعت میں مطلوب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس ظاہری طور پر شریعت کا بڑا علم ہو اور دل میں نہ عمل کا جذبہ ہو اور نہ صفات محمودہ ہوں تو ہمارے اکابر ’بقول حضرت سید نفیس الحسینی شاہ رحمہ اللہ‘ ایسے شخص کو بادام کے خول کی طرح سمجھتے تھے کہ اسے بادام سمجھ کر جب کھولا جائے تو وہ اندر سے بالکل خالی نکلے۔ اس لیے ہمارے اکابر کی میراث وہ علم ہے جس میں علمی پختگی کے ساتھ ساتھ عمل بھی مضبوط ہو کیونکہ رسوخ فی العلم بغیر عمل کے ہوتا نہیں۔ سلف سے منقول ہے کہ ’’من عمل بما علم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم‘‘ جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے اللہ اسے نامعلوم کا علم بھی عطا فرما دیتے ہیں۔
اس لیے ہمارے جملہ اکابر علم کے ساتھ ساتھ عمل پیدا کرنے کے لیے صدیوں سے مجرب راستے یعنی راہ سلوک کو بھی اختیار کرتے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ بھی مولانا حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کے دست حق پرست پر دینی تعلیم کے ابتدائی دور سے ہی بیعت کر کے عازم سفر ہوئے۔ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کی رحلت کے بعد حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ(خلیفہ مجاز حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ)کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے راہِ سلوک میں اجتہادی شان سے نوازا تھا۔ انہوں نے اپنے دور کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس راہ میں بہت سے انقلابی اقدامات کیے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جو سالک اخلاص و للہیت کے ساتھ اپنے آپ کو کھپاتے ہوئے کسی بھی دینی خدمت میں لگا ہوا ہے وہ اس خدمت کو اپنا وظیفہ سمجھے اور اس طرح سے خدمت انجام دے کہ دین کی یہی خدمت اس کے لیے منازل سلوک طے کر کے وصول الی اللہ کا باعث ہو اس لیے حضرت رائے پوری رحمہ اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ ذکر و اذکار میں نہیں لگاتے تھے کہ اس سے ان کی دینی خدمت میں حرج آتا ہے۔ حضرت رائے پوری رحمہ اللہ کے اس اصول کو حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے بھی اپنایا تھا۔ اور انہوں نے حضرت رحمہ اللہ کی منازل سلوک اسی راہ سے طے کروائیں کہ فتویٰ اور اہل باطل کی غلط فہمیوں کے کام کو پورے اخلاص و للہیت کے ساتھ کرنے کی تلقین کرتے رہے اور ایک زمانہ بعد تھوڑا عرصہ کچھ ذکر کروا کر حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے حضرت کو نہ صرف سلاسل اربعہ میں اجازت عطا فرمائی بلکہ سلسلۂ حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ جس میں بیعت علی الجہاد لی جاتی ہے اور احیاء سنت پر بطور خاص توجہ دی جاتی ہے اس سلسلہ میں بھی اجازت سے نوازا۔
شادی
حضرت رحمہ اللہ کی نسبت برادری میں اپنی چھوٹی پھوپھی کے سسرال میں طے ہوئی۔ آپ رحمہ اللہ کے خسر حاجی محمد رفیع صاحب تقسیم سے قبل ہندوستان کے شہر انبالہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور تقسیم کے بعد راولپنڈی میں قیام پذیر تھے حاجی محمد رفیع راولپنڈی راجہ بازار میں کپڑے کے معروف تاجر تھے۔ تجارت کے ساتھ تبلیغ میں بطور خاص آمد و رفت رکھتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ کی کم سنی میں ہی حاجی محمد رفیع صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے بڑے بھائی، بھائی امین صاحب رحمہ اللہ تبلیغی مرکز کراچی میں تبلیغی جماعت کے امیر تھے(کچھ عرصہ قبل فوت ہوئے ہیں۔)
حضرت رحمہ اللہ کی نسبت اگرچہ تبلیغی گھرانہ میں ہوئی تھی لیکن سسرال میں خسر صاحب کی وفات کے بعد کسی اور کی تبلیغ میں آمد و رفت اتنی نہ رہی تھی۔ اس لیے اس گھرانہ کا دینی ماحول حضرت رحمہ اللہ کے اپنے گھرانے سے مختلف نہ تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کی شادی دینی تعلیم کے ابتدائی حصے ۱۹۷۷ء میں ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت رحمہ اللہ نے بتایا کہ اس وقت خود اپنے اندر بھی اتنا جذبہ نہیں تھا کہ خلاف شرع کسی کام پر لوگوں کو روک سکوں۔ تو اس وقت چھوٹے برادر نسبتی ایک کیمرا لائے اور مسلسل تصویر کشی میں لگ گئے، اس اثناء میں حضرت رحمہ اللہ کے بڑے ماموں ابراہیم عبدالجبار صاحب رحمہ اللہ(جن کا کچھ تذکرہ شروع میں بھی گذر چکا ہے کہ تبلیغ میں خاصے متحرک تھے اور رائے ونڈ میں ہونے والی مشاورت میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے)نے انہیں ڈانٹ کر تصویر کشی بند کرنے کو کہا۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ تصویر کشی میں لگے تو ابراہیم صاحب رحمہ اللہ نے ڈانٹ کر کہا کہ میں دولہا کا ماموں ہوں، ابھی بارات لے جاؤں گا؟ تو اس پر سب نے انہیں تصویر کشی سے روک دیا۔
بھائی بہنیں
حضرت رحمہ اللہ ۱۰(دس)بہن بھائی ہیں، چھ بھائی ہیں اور چار بہنیں ہیں۔ جن میں حضرت رحمہ اللہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ سب سے بڑے بھائی حضرت رحمہ اللہ کی وفات سے تقریباً ۴ برس قبل فوت ہو گئے تھے۔ ایک بھائی مولانا آفتاب صاحب رحمہ اللہ کو تبلیغ سے بہت لگاؤ تھا۔ انہوں نے رائے ونڈ میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے دورۂ حدیث کیا۔ تعلیم کے بعد انہوں نے اپنی زندگی تبلیغ کے لیے وقف کر دی اور توکلاً علی اللہ وہیں رہنے لگے۔ ان کے بیوی بچے لاہور میں رہتے تھے۔ وہ ہفتہ میں صرف دو راتوں کے لیے گھر آتے اور اس دوران بھی ان کا بہت سا وقت تبلیغی امور میں متحرک رہتے گذرتا تھا۔ بھائیوں میں سے سب سے پہلے(یعنی ۲۰۰۱ء میں)ان کی وفات ہوئی۔
اولاد و احفاد
اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کو دو بیٹے اور چار بیٹیاں عطا کیں۔ سوائے ایک بیٹے کے تمام اولاد حافظ قرآن ہے۔ وہ بیٹے بھی دوران حفظ مختلف عوارضات لاحق ہونے کی بناء پر باوجود خواہش و کوشش کے تکمیل نہ کر سکے۔
بحمد اللہ تمام اولاد شادی شدہ ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے اولاد کی شادی میں دین کا لحاظ رکھا اگر ظاہری طور پر عمل میں کچھ کمی ہو بھی تو یہ ضرور دیکھا کہ دین سے محبت کا جذبہ ہے یا نہیں؟کیونکہ دل میں جب دین سے محبت کا جذبہ ہو تو ظاہری عمل میں کوتاہی ختم کرنے میں دقت نہیں آتی لیکن اگر دل میں دین سے محبت کا جذبہ نہ ہو تو ظاہری عمل کے باوجود زندگی میں دین سے مزید دوری آتی ہے۔ لہذا ایک مرتبہ ایک گھرانہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ آنے پر حضرت رحمہ اللہ نے قبولیت کے لیے یہ شرط لگائی کہ پہلے لڑکا تبلیغ میں چار ماہ لگائے۔ چار ماہ سے کم پر اصرار کے باوجود آمادہ نہ ہوئے اور فرمایا کہ مزاج تبدیل کرنے کے لیے چار ماہ سے کم وقت مفید نہیں ہوتا۔
کسب معاش
حضرت رحمہ اللہ کی میڈیکل کی تعلیم ۱۹۷۴ء میں مکمل ہوئی۔ ۷۱ء کی انڈیا پاکستان کی جنگ کو گذرے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اور افواج پاکستان کے پاس اس وقت اپنے میڈیکل کالج نہیں تھے جس کی بناء پر فوج کو میڈیکل کے شعبہ میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا۔ لہذا حکومت نے اس وقت ہر نئے فارغ ہونے والے ڈاکٹر کے لیے فوج کے میڈیکل کور میں دو سال کی ملازمت لازمی کر دی تھی، دو سال کے بعد اختیار تھا کہ فوج میں رہیں یا چھوڑ دیں۔ حضرت رحمہ اللہ کو بھی لازمی سروس کے اس قانون کی وجہ سے دو سال کے لیے فوج میں بطور کیپٹن جانا پڑا۔ لیکن دلی طور پر اس ملازمت سے خوش نہیں تھے۔ بے تکلفی میں فرماتے تھے:فوج میں تو یہ ہوتا ہے کہ بس اپنا دماغ استعمال ہی نہ کرو، اور ہمارا اپنا دماغ بھی چلتا تھا۔ لہذا دو سال مکمل ہوتے ہی اس ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔
خیرباد کہنے کے تقریباً بیس سال بعد ملاقات کے لیے آنے والے ایک بے تکلف نوجوان کو جب حضرت رحمہ اللہ کی زبانی فوج میں بطور کیپٹن ملازمت کی ابتداء کا علم ہوا تو بے اختیار اس نوجوان کے منہ سے نکلا اگر آپ آج بھی فوج میں ہوتے تو آپ کتنے اونچے عہدے پر ہوتے اور آپ کے آگے پیچھے پورا قافلہ چلتا۔ حضرت رحمہ اللہ نے چونکہ اس سب کو علی وجہ البصیرت خیرباد کہا تھا اور اپنے سامنے دینی تعلیم اور اس کی نشر و اشاعت کے اعلیٰ و ارفع مقصد کو رکھا تھا۔ جس میں اگرچہ مادی اعتبار سے کمی ہے لیکن آخرت کے اعتبار سے کوئی چیز اس کے مقابلہ کی نہیں ہے۔ اس لیے حضرت نے اس نوجوان سے کمال بے نیازی اور کسی تصنع اور تکلف کے بغیر فرمایا: ’’اس[پروٹوکول اور مال و منال]میں کیا رکھا ہے۔ !‘‘
یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت رحمہ اللہ نے ایک موقع پر استخارہ کی اہمیت و فائدہ بیان کرتے ہوئے ذکر فرمایا کہ میں نے جب اپنی طبیعت کے تقاضے پر فوج کی نوکری چھوڑنے کا تہیہ کر لیا تو میں نے حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کو خط لکھ کر نوکری چھوڑنے کا ارادہ بتایا۔ حضرت نے جواب میں لکھا کہ استخارہ کرو۔ میں نے حضرت میاں صاحب کو لکھا کہ جب میں چھوڑنے کا عزم ہی کر چکا ہوں تو استخارہ کا کیا فائدہ؟ لیکن حضرت میاں صاحب رحمہ اللہ نے پھر تحریر فرمایا کہ استخارہ کرو۔ میں نے تعمیل ارشاد میں استخارہ کیا اور استخارہ میری منشا کے مطابق نکلا لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آئندہ زندگی میں حالات کیسے ہی آئے لیکن کبھی اپنے فیصلہ پر پشیمانی نہیں ہوئی اور نہ افسوس ہوا۔ میں نے استخارہ کا یہ بڑا فائدہ دیکھا۔(کہ چاہے فیصلہ ہو بھی جائے پھر بھی استخارہ کرنے سے رحمت اور خیر شامل حال ہو جاتی ہے اور اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہوتا۔)
فوج کی ملازمت ختم ہونے کے بعد حضرت رحمہ اللہ صبح کے اوقات میں مدرسہ میں دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ لہذا کسب معاش کے لیے شام کے اوقات میں گھر کے قریب ایک کلینک شروع کیا۔ حضرت رحمہ اللہ کے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ حضرت رحمہ اللہ لوگوں کی خیر خواہی کو مدنظر رکھتے تھے۔ اس لیے بخار کے مریض کو ابتداء ً صرف پیناڈول دینے پر اکتفا کرتے تھے۔ جس سے مریض کی تسلی نہ ہوتی تھی کیونکہ دوسری جگہوں پر عام امراض میں مبتلا مریضوں کو وضع وضع کی دوائیاں تجویز کی جاتی تھیں۔ پھر کسی نے دوائی لے جانے کے بعد پیسے دیے نہ دیے حضرت رحمہ اللہ حیاء و مروت کی وجہ سے لوگوں سے پیسوں کا تقاضا نہ کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کلینک کا سلسلہ حضرت رحمہ اللہ کے لیے معاشی اعتبار سے مفید ثابت نہ ہوا۔
اسی اثناء میں حضرت اپنی نانی سے ملنے کراچی گئے۔ پیچھے اس زور کی بارش آئی کہ پانی کلینک میں داخل ہو گیا اور وہاں موجود دوائیوں اور آلات کو نقصان پہنچا بالآخر کراچی سے واپسی پر حضرت رحمہ اللہ نے کلینک کا سلسلہ بند کر دیا۔
اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے محکمہ اوقاف پنجاب کے تحت حضرت علی ہجویری رحمہ اللہ کے مزار کے قریب قائم سرکاری ہسپتال میں ملازمت کا سلسلہ شروع کروا دیا۔ یہ ملازمت آئندہ کے دینی مقاصدکے لیے چند وجوہ سے بہت مفید ثابت ہوئی:
۱۔ محکمہ کا ایک ہی ہسپتال تھا جس کی وجہ سے تبادلوں کا مسئلہ نہ تھا۔
۲۔ عام طور سے دیگر ڈاکٹرز شام کے اوقات میں کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے جبکہ صبح کے وقت مدرسہ کی وجہ سے حضرت رحمہ اللہ کو شام کے اوقات میں ملازمت میں سہولت بلکہ ترجیح تھی۔
۳۔ شام کے اوقات میں صبح کے وقت جتنا اژدحام نہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے دینی تعلیم و تعلم کا سلسلہ ساتھ ساتھ بآسانی چلتا تھا۔ چنانچہ حضرت خود بھی اپنا کام کرتے رہتے اور طلبہ کو بھی وہاں طلب فرما لیتے۔
۴۔ ہسپتال مدرسہ سے دس منٹ کی پیدل مسافت پر تھا جس سے نہ صرف حضرت رحمہ اللہ کو سہولت رہی بلکہ ان طلباء کو بھی سہولت رہی جو مدرسہ کے اوقات کے علاوہ حضرت رحمہ اللہ سے کچھ مزید پڑھنا چاہتے۔ چنانچہ ہسپتال میں بھی دینی تعلیم و تعلم کا ایسا سلسلہ رہا کہ تقریباً ہمیشہ کوئی نہ کوئی طالب علم حضرت سے تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اگر طالب علم نہ ہوتا تو بازار قریب ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی شخص حضرت رحمہ اللہ کے پاس مسائل پوچھنے کے لیے بیٹھا رہتا تھا۔ اس لیے مریض کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے ادھر مدرسہ بھی کھولا ہوا ہے۔
۶۰ سال کی عمر تک حضرت رحمہ اللہ کا ذریعۂ معاش فقط یہی ملازمت تھی۔ اس کے علاوہ نہ کبھی کوئی کلینک کیا نہ ہی مدرسہ میں پڑھانے اور دار الافتاء میں کام کرنے پراجرت لی اور نہ ہی تصنیفی و تالیفی کام کا معاوضہ لیا اور نہ ہی اپنی کتابوں کی طباعت کر کے پیسے کمانے کا سوچا۔
حضرت رحمہ اللہ کی دین اور دینی تعلیم کی خاطر اسی قربانی کا ثمرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے(۱) ایسی مہربانی فرمائی کہ حضرت رحمہ اللہ کو قناعت کی دولت سے نوازا۔ حضرت رحمہ اللہ کے اپنے اور اپنے گھرانے کے تقاضے دیگر افراد کی بنسبت بہت محدود تھے جس کی وجہ سے آمدنی کا ایک حصہ بچا لیتے تھے۔(۲) اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ یہ معاملہ بھی رکھا کہ جب جس ضرورت کا وقت آیا تو کوئی ضرورت بطور امتحان کے تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ روکی بلکہ ہر ضرورت کو فوراً پورا فرمایا۔ خواہ وہ ضرورت بچوں کی شادیوں کی ہو یا حج و عمرہ کے سفر کی ہو۔
آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ ہونے کے باوجود بھی حضرت رحمہ اللہ ہسپتال میں سرکاری ملازمت کو اپنے علمی و دینی کام کے لیے معاون سمجھتے تھے اور اپنا اصل کام دینی تعلیم و تعلم سمجھتے تھے۔ اس لیے جب ایک موقع پر ملازمت اصل کام یعنی دینی تعلیم میں ایک گونہ رکاوٹ بننے لگی تو حضرت رحمہ اللہ نے ملازمت سے اپنا استعفیٰ لکھ کر بیگ میں رکھ لیا تھا، اللہ کے فضل سے دینے کی نوبت نہ آئی۔ ہوا یوں کہ ان دنوں صبح کے اوقات میں حضرت رحمہ اللہ جامعہ مدنیہ میں اسباق پڑھاتے تھے وہ اسباق تخصص کے علاوہ دورۂ حدیث شریف اور دیگر درجات کے بھی ہوتے تھے۔ جنہیں مدرسہ میں شام کے اوقات میں منتقل کرنا مدرسہ کے نظم کے باعث ممکن نہ تھا۔ ریٹائرمنٹ سے تقریبا آٹھ سال پہلے جبکہ حضرت رحمہ اللہ کی صحت بھی ٹھیک تھی محکمہ نے شام کے اوقات میں ہسپتال بند کر دیا اور حضرت رحمہ اللہ کو ڈیوٹی کے لیے صبح کے اوقات میں آنے کو کہا۔ ہسپتال میں بھی صبح کے اوقات بعینہ مدرسہ والے(صبح ۸ تا ڈیڑھ)تھے۔ اس وقت حضرت رحمہ اللہ کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو مدرسہ میں دیگر اسباق پڑھانا ترک کر دیں اور شام کے اوقات میں مدرسہ جا کر صرف دار الافتاء کا کام کرتے رہیں یا ملازمت ترک کر دیں اور اسباق کا معمول جاری رکھیں۔(جبکہ پرائیویٹ کلینک چلانے کے حوالے سے حضرت رحمہ اللہ کا مزاج گذشتہ سطور میں ذکر ہو چکا ہے)۔ محکمہ کی طرف سے یہ حکم رجب کا مہینہ شروع ہونے پر ملا تھا۔ اس لیے حضرت نے ہسپتال سے چند روز کی رخصت لے کر اسباق مکمل کروائے اور اسباق ختم ہونے کے بعد صبح کے اوقات میں ہسپتال جانا شروع کر دیا۔ جب حضرت رحمہ اللہ کو اندازہ ہوا کہ محکمہ شام کے اوقات میں ہسپتال دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو حضرت رحمہ اللہ نے استعفیٰ لکھا اور اپنے بیگ میں رکھ لیا اور یہ عزم کیا کہ اگر رمضان کے بعد دوبارہ مدرسہ میں اسباق شروع ہونے پر بھی محکمہ نے شام کے اوقات میں ہسپتال نہ کھولا تو اس وقت استعفیٰ دے دوں گا۔(جامعہ مدنیہ کا راستہ نووارد کے لیے چونکہ آسان نہیں ہے اس لیے عام لوگ یا تو دوسرے دار الافتاؤں میں چلے جاتے تھے یا پھر حضرت رحمہ اللہ کے پاس ہسپتال میں آتے تھے، مسائل پوچھنے کے لیے مدرسہ میں آنے والے لوگوں کی تعداد خاصی کم تھی اس لیے تین ماہ تک دارالافتاء میں صبح کے اوقات میں نہ بیٹھنے سے حرج نہ آتا تھا)۔ ہسپتال کے دیگر عملہ کو حضرت رحمہ اللہ کا دینی تعلیم سے شغف معلوم تھا اور اسے پتا تھا کہ حضرت رحمہ اللہ کے لیے معاشی طور پر شام کی شفٹ کیا حیثیت رکھتی ہے اس لیے عملہ بطور خاص حضرت رحمہ اللہ سے آکر پوچھتا تھا کہ آپ آئندہ کیا کریں گے؟ اور مدرسہ کا نظم کیسے چلائیں گے؟ جب حضرت دو ٹوک الفاظ میں انہیں اپنا مؤقف سناتے اور استعفیٰ دکھاتے تو وہ لوگ حضرت رحمہ اللہ کو بہت لجاحت سے سمجھاتے اور بچوں کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند کرتے اور انہیں باور کرواتے کہ آپ نے ملازمت کا طویل حصہ گذار لیا ہے کچھ عرصہ رہ گیا ہے اگر آپ نے اس وقت استعفیٰ دیا تو آپ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی تمام سرکاری مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔
مجھے یاد ہے کہ درمیان رجب سے لے کر شوال تک ہر روز حضرت رحمہ اللہ کے پاس محکمہ کے افسروں سے لے کر چوکیدار تک اس موضوع پر گفتگو کرتے۔ لیکن حضرت رحمہ اللہ کے پائے استقلال میں سرمو بھی لغزش نہ آتی اور حضرت رحمہ اللہ اپنے مؤقف پہ ڈٹے رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے یوں مہربانی فرمائی کہ علاقہ کے وہ لوگ جو دیگر جگہوں پر ملازمت کی وجہ سے صبح کے اوقات میںعلاج معالجہ کے لیے ہسپتال نہ آسکتے تھے شام کے اوقات میں سرکاری ہسپتال کی بندش نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کا وکیلوں کے پاس روزانہ کا آنا جانا تھا۔ انہوں نے وکیلوں کے مشورہ سے محکمہ کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا تو ۱۵ شوال کے بعد جب مدرسہ کھلا اور مدرسہ میں اسباق کی ابتداء کا مرحلہ آیا تو عدالت نے محکمہ کے خلاف فیصلہ سنا کر شام کے اوقات میں ہسپتال کھولنے کا حکم دیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کے عزم پر کسی اور آزمائش کے بغیر ہی معاملہ حل فرما دیا۔
صبح کے اوقات میں ملازمت کے حوالہ سے ایک اور واقعہ ایسا ہے کہ جو حضرت رحمہ اللہ کے اپنے اوپر مشقت جھیل کر دوسروں کی راحت رسانی سے متعلق ہے۔
ہوا یوں کہ ریٹائرمنٹ سے قبل حضرت رحمہ اللہ کا ملازمت کا ایک سال رہ گیا تھا۔ رعشہ کی تکلیف میں اتنی شدت آچکی تھی کہ خود آنا جانا دشوار ہو چکا تھا اور رعشہ کی تکلیف کی وجہ سے نیند کا نظام درہم برہم تھا جس کی بناء پر ساری رات جاگ کر صبح کی نماز کے بعد سونا کوئی اچنبھے کی بات نہ رہی تھی۔ دوسری طرف جامعہ مدنیہ سے تعلق ختم ہو کر جامعہ دار التقویٰ سے جڑ گیا تھا۔ وہاں پر اپنی علالت کے پیش نظر دیگر اسباق کی زیادہ ذمہ داری نہیں لی تھی، جبکہ تخصص کے طلباء سے سابقہ تجربات کی بنیاد پر حضرت رحمہ اللہ شروع سال میں طے کرتے تھے کہ وہ صبح آٹھ بجے سے عصر تک دار الافتاء کے پابند ہوں گے ، انہیں ظہر کے بعد رخصت نہ ہو گی۔(اس دوران سبق کسی بھی وقت بآسانی ہو سکتا تھا۔)
اس صورت حال میں صبح کے وقت ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر صاحب حضرت رحمہ اللہ کے پاس آئے اور اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ صبح کے اوقات میں شروع ہونے والے کسی ایک سالہ کورس میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ شام کے اوقات میں ڈیوٹی دینا چاہتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے ان سے کہا ہے کہ اگر حضرت رحمہ اللہ صبح کے وقت آنے پر آمادہ ہوں تو انتظامیہ ڈیوٹی تبدیل کر دے گی ورنہ انتظامیہ از خود حضرت کو مجبور نہیں کرے گی۔ اس وقت چونکہ مدرسہ کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اس لیے ان ڈاکٹر صاحب کی خواہش کو مدنظر رکھ کر حضرت رحمہ اللہ نے صبح کے وقت ڈیوٹی دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ جب حضرت رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی تو میں نے حضرت رحمہ اللہ پر ان کی صحت اور طبیعت کے پیش نظر بہت اصرار کیا کہ آپ پر یہ بہت دشوار ہو گا آپ ان سے ڈیوٹی کا وقت تبدیل کرنے سے معذرت کر لیں لیکن حضرت رحمہ اللہ یہی کہتے رہے ’’کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی عام سے آدمی کی کوئی بھی ضرورت(جبکہ وہ واقعی ضرورت مند ہو)حضرت رحمہ اللہ کے لیے ٹالنا آسان نہ تھا۔(اس لیے بندہ نے حضرت رحمہ اللہ کو کبھی بھی کسی کو ٹالتے نہیں دیکھا۔)
لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اس سال کورس کے شرکاء کی لسٹ میں ان ڈاکٹر صاحب کا نام خواہش کے باوجود نہ آیا لہذا شفٹ تبدیل کرنے کی نوبت اس دفعہ بھی نہ آسکی۔
جامعہ مدنیہ سے جامعہ دار التقویٰ تک
حضرت رحمہ اللہ کی دینی تعلیم کی ابتداء حضرت مولانا حامد میاں صاحب رحمہ اللہ سے تعلق کے بعد جامعہ مدنیہ میں ہوئی تھی۔ یہیں پڑھا، پھر تخصص کرنے کے بعد یہیں دار الافتاء میں کام شروع کیا۔ اپنے اساتذہ اور مادر علمی سے تعلق و لگاؤ فطری ہوتا ہے۔ لہذا حضرت رحمہ اللہ نے کبھی اس سے جدائی کا سوچا بھی نہ تھا خصوصاً جبکہ حضرت رحمہ اللہ کے مدرسہ میں اسباق پڑھانے سے لے کر دار الافتاء و تخصص تک کے تمام کام بغیر کسی مشاہرہ کے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ نے بارہا کوشش کی اور چاہا کہ یہاں تخصص اور دار الافتاء کا وسیع اور مضبوط نظم قائم ہو لیکن ایک طویل عرصہ تک کوئی ترتیب نہ بن سکی۔ حتیٰ کہ انفرادی طور پر بہت سے فارغ ہونے والے باہمت طلباء کو تیار بھی کیا لیکن تخصص شروع کرنے کے بعد وہ طلباء مختلف عوارضات کی وجہ سے درمیان میں رہ جاتے۔ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا یہاں تک کہ ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ جس کے بعد جامعہ مدنیہ میں تخصص کے اسباق مزید پڑھانا ممکن نہ رہا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر سال کی طرح حضرت رحمہ اللہ نے باصلاحیت طلباء کو تخصص پر آمادہ کیا جب داخلہ شروع ہوا تو باصلاحیت طلباء میں سے صرف ایک طالب علم آئے باقی آنے والے کمزور تھے۔ کمزور طلباء کے اصرار پر حضرت رحمہ اللہ نے دیگر درجات میں مدرسہ کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے کہ کمزور طلباء کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے تخصص میں بھی کمزور طلباء کو داخلہ دے دیا۔ البتہ یہ شرط ٹھہرائی کہ جب تک انہیں ان کی قابلیت کو دیکھ کر سند نہیں دی جائے گی وہ نہ تو اپنے کو مفتی کہلوائیں گے اور نہ اپنے نام کے ساتھ ’’مفتی‘‘ لکھیں گے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ انہیں ’’فقہیات‘‘ کے عنوان سے کورس میں داخلہ دیا جا رہا ہے، ’’تخصص فی الفقہ‘‘ میں داخلہ نہیں دیا جا رہا۔
خدا کا کرنا کہ وہ باصلاحیت طالب علم عیدالاضحٰی کی تعطیلات پر گئے تو انہوں نے واپس آنے کا نام ہی نہیں لیا، حضرت رحمہ اللہ نے ان کی طرف پیغامات بھی بھجوائے لیکن وہ دوبارہ سبق میں آنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اب یہ مشکل آن پڑی کہ ان کمزور طلباء کو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘، ’’اصول بزدوی‘‘، ’’مسلم الثبوت‘‘ اور ’’موافقات‘‘ جیسی کتابیں کیسے پڑھائیں۔ حضرت رحمہ اللہ نے ان طلباء سے کہا کہ یہ اسباق تو آپ کے بس کے نہیں ہیں لہذا یہ اسباق تو اب نہیں ہوں گے، آپ کچھ اور سوچ لیں۔ ان طلباء نے اصرار کیا کہ ہم آپ کے پاس مفتی بننے نہیں آئے بلکہ ہم وقت نکال کر استفادہ کرنے آئے ہیں لہذا آپ ہمیں جو بھی پڑھائیں گے ہمیں اعتراض نہیں ہو گا۔ حضرت رحمہ اللہ کو انہیں داخلہ دے دینے کے بعد خارج کرنے سے حیاء آئی لہذا حضرت رحمہ اللہ نے ان کی استعداد کے پیشِ نظر اردو میں ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ اور اردو میں کچھ عقائد و اصول پڑھانے شروع کر دیے۔ غرض یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے علاقے میں عوام کی روز مرہ کی دینی ضروریات میں رہنمائی کر سکیں۔ اور یہ مواد عوامی ضروریات کے لیے کافی و وافی ہے۔
جس شخص کے سامنے یہ سارا پس منظر نہ تھا اس کے لیے یہ حیران کن بات تھی کہ تخصص میں ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ پڑھائی جا رہی ہے۔ خدا جانے حضرت مہتمم صاحب مولانا رشید میاں صاحب تک یہ بات کس نے اور کس انداز میں پہنچائی کہ یہاں ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ پڑھا کر تخصص کروایا جا رہا ہے۔ پھر حضرت مہتمم صاحب باوجود وضاحتوں کے کچھ بھی ماننے پر آمادہ نہ ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ سارا قصور حضرت رحمہ اللہ کے سر آیا اور آئندہ کے لیے حضرت مہتمم صاحب نے جامعہ مدنیہ میں تخصص کے اسباق پر پابندی لگا دی۔
یہ وقت تھا کہ جس میں حضرت رحمہ اللہ کو مجبور ہو کر تخصص کے اسباق کہیں اور شروع کرنا تھے لیکن طلباء کی رہائش و انتظامات کے مراحل کوئی آسان نہ تھے۔ لاہور کے تبلیغی جماعت سے منسلک علماء کی ایک جماعت نے(جو کہ ایک عرصہ سے جامعہ دار التقویٰ کے نام سے مدرسہ چلا رہے تھے)اپنے مدرسہ میں اس واقعہ سے ایک سال قبل دار الافتاء کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اس دارالافتاء کا رئیس روز اول سے حضرت رحمہ اللہ کو بنایا تھا۔ اس موقع کو ان حضرات نے غنیمت سمجھا اور حضرت رحمہ اللہ نے بھی ان کی معاونت کو نعمت غیر مترقبہ جانا۔ لہذا جامعہ دار التقویٰ میں جبکہ وہ ابھی درجہ سادسہ سے اوپر نہ تھا تخصص کے اسباق شروع ہو گئے۔اس جماعت کی مجلس شوریٰ کے ایک اہم رکن حضرت مولانا محمد عثمان صاحب مدظلہم العالی امام تبلیغی مرکز لاہور، جو کہ حضرت رحمہ اللہ کے طالب علمی سے ساتھی ہیں اور زمانۂ طالب علمی سے حضرت رحمہ اللہ کی صلاحیتوں کے قدردان ہیںحضرت رحمہ اللہ کو یہاں لانے اور رئیس دار الافتاء بنانے میں ان کی خصوصی کاوِشیں شامل تھیں۔
جامعہ دار التقویٰ کے حضرات نے دار الافتاء اور تخصص کے نظام کو چلانے اور بڑھانے کے لیے جس طرح وسائل جھونکے، مکمل اعتماد کیا اور حضرت رحمہ اللہ نے بھی جس دلجمعی اور ذمہ داری کے ساتھ کام چلایا وہ قابل تقلید و تحسین ہے اگر حضرت رحمہ اللہ کچھ عرصہ اور پہلے یہاں تشریف لے آتے تو شاید جامعہ دار التقویٰ کے دار الافتاء اور نظام تخصص کا دیگر دار الافتاوؤں میں جو رتبہ آج ہے اس سے دو چند ہوتا۔
اگر جامعہ مدنیہ میں محنت و کام اور جامعہ دار التقویٰ میں محنت و کام کا موازنہ کیا جائے تو جامعہ مدنیہ میں حضرت رحمہ اللہ تن تنہا ایک کمرے میں کام کرتے رہتے تھے جبکہ جامعہ دار التقویٰ میں حضرت رحمہ اللہ اپنی دیرینہ خواہش(کہ کام والی ایک جماعت تیار ہو)کی تکمیل میں کامیاب ہوئے۔
جامعہ مدنیہ میں حضرت رحمہ اللہ سے ملاقات کے لیے حضرت مولانا سعید جلالپوری شہید رحمہ اللہ تشریف لائے اور وہاں حضرت رحمہ اللہ کی نشست، کمرہ اور دیگر چیزوں کو دیکھ کر بڑے حیران ہوئے کہ آپ یہاں بیٹھ کر اتنا کام کرتے ہیں۔(حضرت جلالپوری رحمہ اللہ کی یہ پہلی ملاقات تھی)۔
دارالتقویٰ سے دارالسلام(سفر آخرت)تک
جامعہ دارالتقویٰ میں آنے کے بعد تخصص کی باضابطہ جماعت منظم ہو گئی۔ دارالافتاء میں کل وقتی ساتھی حضرت مفتی رفیق صاحب مل گئے۔ جنہوں نے حضرت کا باضابطہ شاگرد نہ ہوتے ہوئے بھی شاگردوں سے بڑھ کر تعلق رکھا اور نبھایا۔
o یہاں آنے کے بعد حضرت کا پتے کا آپریشن ہوا جس کے بعد رعشہ کے مرض نے ظہور کیا۔
o ۲۰۱۰ء میں دربار ہسپتال سے ریٹائرمنٹ ہو گئی تو حضرت نے باقی ماندہ اوقات بھی اپنی علمی مصروفیات میں لگانا شروع کر دے۔
o ۲۰۱۳ء میں حضرت نے فتویٰ نویسی کی ذمہ داری حضرت مفتی رفیق صاحب کی نگرانی میں اپنے مخصوص تلامذہ کو سونپ دی۔
o ۲۰۱۶ء میں تخصص کے اسباق بھی حوالے فرما دیے۔ اور خود کو اپنی تالیفی مصروفیات میں یکسو ہو کر لگا دیا۔
o ۲۰۱۷ء میں اختصاص فی ابواب الفقہ کا شعبہ شروع فرمایا۔ اور اپنی نگرانی میں فقہ الحلال و الطب المعاصر اور فقہ المعاملات اور فقہ المناکحات کو فعال فرمایا۔
o اس کے بعد بتدریج حضرت کا ضعف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ وقت موعود آپہنچا جس کی تفصیل پیش آمدہ سطور میں ہے۔
مرض وفات
وفات سے تقریباً تیرہ سال پیشتر پتّے میں تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے پتے کا آپریشن کیا۔ آپریشن کے بعد صحت یابی ہوتے ہی ہاتھ میں لرزہ شروع ہو گیا۔ شروع میں خیال تھا کہ یہ لرزہ کمزوری کی وجہ سے ہے جو چند دنوں میں توانائی بحال ہونے پر ختم ہو جائے گا۔ لیکن لرزہ میں فرق نہ پڑا اور وہ بڑھتا گیا۔ ڈاکٹروں سے رابطہ ہوا تو علم ہوا کہ لرزہ کی وجہ آپریشن کے باعث ہونے والی کمزوری نہیں ہے بلکہ گردن کی رگوں میں قدرتی پروٹین بننا بند ہو گئی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ذیابیطیس کے مریضوں کا لبلبہ قدرتی طور پر کام کرنا بند کر دیتا ہے یا گردے کام چھوڑ دیں۔ ڈاکٹروں کی رائے میں اس کے علاج کے دو طریقے تھے:
۱۔ آپریشن:اس کے لیے دماغ سے آنے والی رگوں کو چھیڑا جاتا ہے۔ لیکن یہ مرحلہ نسبتاً خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں مریض کے ساتھ کوئی بھی حادثہ پیش آجانے کا امکان چالیس فیصد تک ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت رحمہ اللہ سے محبت رکھنے والے اعصاب کے تمام ماہرین متفق تھے کہ آپریشن نہ کروایا جائے۔
۲۔ دوسری صورت دوائیوں کے ذریعہ کنٹرول کی تھی۔ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ یہ صورت باقاعدہ کوئی علاج نہیں ہے البتہ اس سے بیماری کے باعث جسم کے اندر ہونے والے رعشہ اور اکڑاؤ میں صرف تخفیف ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی دوائیوں کے اپنے نقصان دہ اثرات بھی اچھے خاصے ہیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن مریضوں کو یہ تکلیف ساٹھ سال کی عمر سے قبل لاحق ہو جائے ان کی تکلیف میں شدت بھی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں دوائی بھی زیادہ مقدار میں لینی پڑتی ہے۔ حضرت رحمہ اللہ کو یہ تکلیف60سال سے قبل شروع ہو گئی تھی۔
حضرت رحمہ اللہ ہمیشہ اپنے اوقات کو قیمتی بنانے اور ان کی حفاظت کے عادی تھے لیکن اس تکلیف کے بعد تو گویا انہیں ایک دھن لگ گئی تھی اور ان پر ایک حال طاری ہو گیا تھا۔ عوارض جوں جوں بڑھتے جاتے تھے حضرت رحمہ اللہ کا حوصلہ اور عزم ویسے ویسے بلند ہوتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ صاف نظر آتا تھا کہ یہ چراغ سحری اب بجھا کہ جب بجھا۔
وفات سے ایک برس قبل عمرہ کے سفر پر تھے جہاں پر نقاہت زیادہ ہونے کی وجہ سے دو دفعہ خاصا وقت ہسپتال میں گذارنا پڑا۔ اس سفر میں چھوٹے بیٹے ہمراہ تھے۔ جن سے معلوم ہونے والی تفصیلات سے اندازہ ہوتا تھا کہ معاملہ کچھ معمول سے ہٹ کر ہے۔ عمرہ سے واپسی کے فوراً بعد کراچی جانا پڑا، جہاں میں بھی ساتھ تھا۔ وہاں مجھے اندازہ ہوا کہ صحت کا معاملہ زیادہ خراب ہے۔
واپسی پر جلد ہی حضرت رحمہ اللہ کو بھی اپنی تکلیف کی شدت کا اندازہ ہونے لگا۔ اس میں سرفہرست یکدم نظر کا بہت زیادہ کمزور ہو جانا تھا جوکہ تشویش کا باعث تھا۔ تکالیف کا ہجوم اس طرح تھا کہ ایک طرف توجہ کی جاتی تو دوسری طرف معاملہ قابو سے باہر ہوجاتا۔ جلد ہی حضرت رحمہ اللہ کو بھی اندازہ ہو گیا کہ وقت موعود آپہنچا ہے۔ اس لیے زیادہ تر وقت نصائح، دعاؤں اور نمازوں کی فکر اور آخرت کی یاد میں گذرنے لگا۔
حضرت رحمہ اللہ دوران تعلیم طلباء کو مارتے نہ تھے اپنے بچوں کے علاوہ شاید ہی کوئی ہو کہ جس نے حضرت رحمہ اللہ سے مار کھائی ہو۔ لیکن اس کے باوجود جن کے بارے میں کوئی بھی بات یاد تھی اس عرصہ میں ان سے بھی صراحتاً معافی مانگی۔ مولانا احمد بٹلہ صاحب مدظلہم تبلیغی مرکز رائے ونڈ والے حضرت رحمہ اللہ کے حقیقی خالہ زاد بھائی ہیں۔ ان کی والدہ ایک روز اپنے پوتے مولوی عمار احمد کو لے کر آئیں کہ یہ میری بات بالکل نہیں مان رہا اور مجھے بہت تنگ کر رہا ہے(ان کے والدین دونوں اس وقت جماعت میں گئے ہوئے تھے)مولوی عمار احمد اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ نے ان کو اس وقت ڈانٹا۔ شاید ایک آدھ تھپڑ بھی لگایا ہو۔ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے مرض وفات میں ایک دفعہ جمعہ کی نماز کے بعد انہیں دیکھ کر بلایا اور انہیں وہ واقعہ یاد کرا کر معافی مانگی(حالانکہ وہ واقعہ انہیں یاد بھی نہ تھا)۔
دل بدست آور کہ حج اکبر ست
اس عرصہ میں حضرت رحمہ اللہ پر جہاں دیگر لوگوں سے معافی مانگنے کا غلبہ تھا وہیں اپنے دل میں کسی کے بارے میں کوئی کدورت رکھنا بھی پسند نہ تھا۔ لہذا انہی دنوں میں حضرت رحمہ اللہ نے اہل خانہ کے آپس کے مشورے میں ایک گھریلو معاملے میں خاص ترتیب سے معاملہ سر انجام دینے کا حکم فرمایا۔ چند روز کے بعد اس معاملے میں نتیجہ الٹ نکلا جس سے سب گھر والوں کو دقت اٹھانی پڑی۔ حضرت رحمہ اللہ نے میرے سے پریشانی کا اظہار کیا کہ اللہ کا حکم کہ نتیجہ الٹ نکل آیا ہے مجھے معلوم تھا کہ اس معاملہ میں والدہ محترمہ کی جانب سے حضرت رحمہ اللہ کی بتائی ترتیب مکمل طور پر ملحوظ نہ رکھی جا سکی تھی۔ تو موقع کی مناسبت سے میں نے دبے لفظوں میں کچھ وجہ ذکر کر دی۔ حضرت رحمہ اللہ سن کر خاموش رہے، اگلے روز مجھ سے فرمایا کہ تمہاری ماں نے میرا بہت خیال رکھا ہے۔ اس لیے میں پسند نہیں کرتا کہ میں آخر میں ان کے بارے میں اپنے دل میں کوئی کدورت لے کر جاؤں اس لیے آئندہ تم مجھے ان کی کوئی غلطی نہ بتانا۔[انی ارید ان اخرج سلیم الصدر]
وقت موعود آنے لگا
اعصاب پر پڑنے والا برا اثر تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ تھوڑے عرصہ میں حضرت رحمہ اللہ کے پھیپھڑوں پر انفیکشن ہوا جس کی شدت اتنی تھی کہ اس نے پھیل کر سارے جسم پر غلبہ پا لیا اور حضرت رحمہ اللہ غنودگی میں چلے گئے۔ اس صورت حال میں ڈاکٹرز دیگر بیماریاں چھوڑ کر صرف انفیکشن کی فکر میں لگے۔ انفیکشن دوائی کے ایک کورس سے کم ہوتا تھا کہ دو روز کے بعد پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر جاتا تھا۔ یہ ادھیڑ بن تقریباً چھ ماہ چلی، چھ ماہ کے بعد یکدم انفیکشن بالکل ختم ہو گیا اور تمام رپورٹس بالکل ٹھیک تھیں۔ حضرت رحمہ اللہ کی غنودگی پر صرف اتنا فرق پڑا تھا کہ کسی وقت ہاتھ کو صرف ذرا سی حرکت دے پاتے تھے۔
ڈاکٹر پر امید تھے کہ عمر زیادہ نہیں ہے اس لیے توانائی بحال ہو سکتی ہے۔ وفات سے سات روز قبل حضرت رحمہ اللہ کے چہرے کے آثار بتاتے تھے کہ سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے، پھر جلد ہی بخار شروع ہو گیا۔ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ بخار کا اثر ہے۔ ڈاکٹروں نے تجویز دی کہ اگر دو روز تک فرق نہ پڑے تو ہسپتال منتقل کر دیا جائے۔ دو روز پورے ہونے سے پہلے ہی سانس کی تکلیف نمایاں ہونے لگی۔ تو ڈاکٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا(ڈاکٹرز ہسپتال کے معروف ڈاکٹر ہارون رسول صاحب چھ ماہ قبل حضرت رحمہ اللہ کی تکلیف کا سن کر خود گھر آئے تھے اور انہوں نے حضرت رحمہ اللہ کو علاج کے لیے چند روز ڈاکٹرز ہسپتال میں رکھا تھا)۔
چوبیس گھنٹے میں حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت اتنی سنبھل گئی تھی کہ ہمارا اندازہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب جلد ہی گھر بھیج دیں گے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے احتیاطاً ایک روز مزید ہسپتال میں رکھا اگلے روز صبح کے وقت اچانک سانس پہلے سے بھی زیادہ دشواری سے آنے لگا۔ اور چند گھنٹوں بعد ڈاکٹروں نے مجھے بلا کر مختلف کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا، جو کہ غیر معمولی صورت حال کی جانب پہلا قدم تھا۔ یہ جمعرات کا روز تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کا سانس اس زور سے چلنا شروع ہوا کہ جلد ہی سارے خاندان میں اور دوستوں میں تکلیف کی شدت کی خبر پھیل گئی۔ حضرت رحمہ اللہ مکمل غنودگی میں تھے لیکن سانس کی آواز ایسی تھی کہ سنی نہ جاتی تھی۔
جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد ڈاکٹروں نے جان بچانے والے آخری انجکشن بھی لگا دیے اور انہوں نے مجھے ایک طرف بلا کر اس انجکشن کے کام کے بارے میں بتایا۔
ساری رات حضرت رحمہ اللہ کو ہچکیاں آتی رہیں، ساتھیوں کی جانب سے تلاوت وغیرہ کا اہتمام بھی بڑھ گیا، ہفتہ کی صبح دس بجے کے بعد بلڈ پریشر گرنا شروع ہو گیا اور ہچکیوں کی شدت میں کمی آنے لگی، پیشانی عرق آلود تھی، جسم پر بخار کی حرارت تھی۔ ڈاکٹروں نے مکمل طور پر رجوع الی اللہ اور صبر کی تلقین کی۔ پاس موجود ہر شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رفق و یسر کی دعاء میں مشغول تھا۔
ظہر کی نماز تک نبض نہایت خفیف تھی اور ہچکیاں وقفہ وقفہ سے آرہی تھیں۔ تقریباً سوا دو بجے کے قریب حضرت رحمہ اللہ نے جو ہچکی لی تو اس کے بعد پاس بیٹھے محبین مزید ہچکی کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ ڈاکٹروں کو بلایا گیا تو انہوں نے روح کے قفس عنصری سے پرواز کر جانے کی تصدیق کی۔ اللھم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و اکرم نزلہ و وسع مدخلہ و ابدلہ دارا خیرا من دارہ و اھلاً خیراً من اھلہ و زوجاً خیراً من زوجہ و نقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔و باعد بینہ و بین خطایاہ کما باعدت بین المشرق و المغرب اللہم لا تحرمنا اجرہ و لا تفتنا بعدہ۔
ہسپتال اور حکومتی کاغذی کاروائی میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا، ساڑھے تین بجے کے قریب حضرت کے جسد مبارک کو گھر منتقل کیا گیا۔
حضرت رحمہ اللہ کے مرض وفات کی ابتداء سے ہی مدرسہ کے تمام طلباء و عملہ بلا استثناء شروع دن سے ہر طرح کی خدمت کو سعادت سمجھ کر ہر وقت مستعد رہا اور اس خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتا تھا۔ لہذا اس موقع پر وہ کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ حضرت متہمم صاحب مولانا اویس صاحب مدظلہم تبلیغی جماعت کے ساتھ بیرون ملک سفر میں تھے۔ انہوں نے اطلاع ملتے ہی وہیں سے اراکین شوریٰ اور نائب شوریٰ کو گھر پہنچنے اور تمام انتظامات کو بحسن و خوبی سنبھالنے کی تاکید فرمائی۔ اس موقع پر ہم اہل خانہ کا کام صرف مشورہ سے طے کر کے بتانا تھا باقی اس کام کو کیسے کرنا ہے اس کی ہمیں کوئی خبر نہ ہو سکی، سب کام اہل جامعہ اور طلبہ و دیگر محبین نے بحسن و خوبی سرانجام دیے۔ غسل و کفن تجہیز و تکفین، انتظام و انصرام غرضیکہ ہر معاملہ محبین کے سپرد تھا۔ فجزاھم اللہ عنا احسن ما یجازی بہ عبادہ الصالحین
حضرت کے شب و روز
بہتر ہو گا کہ اس عنوان کو صبح ۸ بجے سے شروع کر کے صبح ۸ بجے پر ختم کیا جائے۔ حضرت رحمہ اللہ کا تقریباً شروع سے اخیر تک یہی معمول تھا کہ صبح آٹھ بجے بیدار ہو کر ناشتہ کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ اگر ناشتہ اس سے مؤخر کیا تو دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا بھی مؤخر کرنا پڑے گا۔
ناشتہ میں عموماً ایک کپ چائے اور ایک پیس ڈبل روٹی انڈے یا بالائی وغیرہ کے ساتھ لیتے تھے۔ ناشتہ سے فراغت کے بعد مدرسہ احیاء العلوم جانے کی تیاری کرتے اور احیاء العلوم میں ’’مسلم شریف‘‘ کا سبق پڑھاتے۔ ساڑھے نو بجے وہاں سے واپسی ہوتی(موسم کے لحاظ سے بعض اوقات ناشتہ سے قبل بھی احیاء العلوم جانا ہوتا تھا)۔ وہاں سے واپسی پر ’’اسلام‘‘ اخبار دیکھتے اور آدھا گھنٹہ مزید آرام کرتے۔(پہلے گھر میں ’’نوائے وقت‘‘ اخبار آتا تھا، پھر ’’اسلام‘‘ اخبار آنے پر فرمایا کہ ’’نوائے وقت‘‘ میں تصویریں ہوتی ہیں اور ’’اسلام‘‘ اخبار بغیر تصویروں کے ہے اس لیے ’’اسلام‘‘ اخبار لگوا لیا۔)پھر دس بجے اٹھ کر تصنیفی و تالیفی کام شروع کر دیتے، تقریباً گیارہ بجے غسل وغیرہ کر کے جامعہ دار التقویٰ الہلال مسجد جانے کی تیاری کرتے اور غسل سے فراغت کے بعد ایک کپ چائے نوش فرماتے اور ساتھ ساتھ اپنا مطالعہ بھی جاری رکھتے، تقریباً ساڑھے گیارہ بجے جامعہ دار التقویٰ کے لیے روانہ ہوتے۔ وہاں پر دورہ حدیث اور تخصص کے اسباق اور ساتھیوں کے ساتھ علمی مجالس ہوتیں، مسائل پر علمی گفتگو اور نکات پر بحث کی ایسی بہاریں تھیں کہ جن کی یادیں دل پر انمٹ نقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔(جن کا کچھ نمونہ برادرم مفتی شعیب صاحب کی لکھی ہوئی تخصص کی دو سالہ یومیہ علمی ڈائری ’’مجالس علمیہ‘‘ میں ہے جو امید ہے کہ ترتیب و تہذیب کے بعد انشاء اللہ ارباب ذوق کے ہاتھوں میں ہو گی)
ایک بجے کے بعد دوبارہ گھر کے لیے روانہ ہوتے اور ڈیڑھ بجے ظہر کی نماز باجماعت مسجد میں ادا فرماتے، نماز کے بعد کھانا کھاتے جس میں دو چپاتی سے زیادہ روٹی نہ ہوتی تھی۔ اور پھر اپنا تصنیف و تالیف اور فتوے کی تصحیح و تصدیق کا کام لے کر بیٹھ جاتے، تقریباً تین سوا تین بجے تک جب کام کرتے تھک جاتے تو آرام کرتے مگر ایک گھنٹہ بعد اٹھ کر پھر دوبارہ کام لے کر بیٹھ جاتے۔ عصر کی نماز جماعت سے ادا کرنے کے بعد پھر دوبارہ کاغذ قلم ہاتھ میں ہوتا تھا۔ مغرب سے ایک گھنٹہ قبل اگر گھر میں آنے والی مستورات میں تفسیر ’’فہم قرآن‘‘ کا دن ہوتا تو درس دیتے، ورنہ پونا گھنٹہ قبل قرآن پاک لے کر تلاوت شروع کرتے جو کہ مغرب تک جاری رہتی۔ عصر کی نماز کے بعد ایک کپ چائے بھی ہوتی تھی۔ مغرب کی نماز کے بعد کا وقت عمومی ملاقات کا تھا۔ اخیر کے چند سالوں سے پہلے تک کسی پر کوئی پابندی نہ تھی کوئی بھی شخص کسی بھی وقت ملاقات کرنا چاہتا تو نہ صرف اسے اجازت دیتے تھے بلکہ خندہ پیشانی سے ملتے بھی تھے۔ لیکن اخیر کے چند سالوں میں مجھے فرما رکھا تھا کہ مغرب کے بعد سے عشاء تک ملاقات کی بالعموم اجازت دے دو۔ اس کے علاوہ کوئی آنا چاہے تو دن کے اوقات میں مجھے بتلا کر وقت دے دیا کرو، اور عشاء کے بعد اب میرے اندر ہمت نہیں ہے معذرت کر لیا کرو، اگر کوئی آجائے تب بھی خود دیکھ لیا کرو۔ لیکن عشاء تک اگر کوئی ملاقات کے لیے نہ آتا تو ایک منٹ کے لیے بھی فارغ نہ بیٹھتے تھے بلکہ مسلسل کام میں مصروف رہتے تھے۔
رات کے کھانے کا معمول رات نو بجے کا تھا، اگر نماز جلدی ہوتی تو عشاء کی نماز کے بعد کھانا کھاتے تھے ورنہ عشاء کی نماز سے پہلے کھانا کھا لیتے۔ کھانے سے فراغت کے بعد کچھ وقت گھریلو امور کی دیکھ بھال کے لیے رکھا ہوا تھا اس وقت میں دونوں بیٹوں کا پاس رہنا ضروری ہوتا تھا تاکہ مشاورت میں آسانی رہے، پھر اگر اپنی والدہ محترمہ سے ملاقات کے لیے جانے کا دن نہ ہوتا تو کچھ وقت چہل قدمی کے لیے تشریف لے جاتے، تقریباً دس سوا دس تک فارغ ہو کر پھر دوبارہ کتابیں اٹھا لیتے، تقریباً گیارہ بجے ایک کپ چائے دوبارہ ہوتی پھر آرام اس پر موقوف تھا کہ جسم میں کتنی ہمت و طاقت ہے۔ شروع دور میں ایک سے ڈیڑھ بجے رات تک عام طور سے ہمت ہوتی تھی پھر فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے اٹھتے تھے ، سونے سے پہلے عموماً دو نفل پڑھ کر سوتے تھے۔ بعد میں ضعف آنے پر اپنی والدہ کے اصرار پررات ڈیڑھ بجے سے وقت خاصا کم کر دیا تھا لیکن اس وقت حضرت رحمہ اللہ کو یہ عارضہ لاحق ہو گیا تھا کہ ذہن میں جب کسی بات کا ورود ہوتا اور اسے لکھ نہ لیتے تو نیند نہ آتی تھی اور لکھنے بیٹھتے تو جسم تھکتا تھا، اس کیفیت میں بارہا ایسا ہوتا تھا کہ بیچ رات میں کبھی اٹھ کر دیکھا تو کبھی لکھ رہے ہیں یا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی کہ اسی بیخ و بن میں فجر ہو جاتی تھی پھر فجر کے بعد بھی نیند نہ آتی تھی تو مجبور ہو کر اس کیفیت کے لیے دوائی لینی شروع کی۔
دوائی سے نیند آجاتی تھی، کچھ عرصہ بعد دوائی بھی بے اثر ہونا شروع ہو گئی۔ یہ وہ عرصہ تھا کہ جس میں رعشہ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی حضرت رحمہ اللہ کے پہلے سے نحیف و نزار جسم کے اعصابی نظام پر اپنے اثرات لائی۔
والدہ سے ملاقات
معمولات زندگی میں سے ایک معمول والدہ ماجدہ سے ملاقات و زیارت کا بھی تھا۔ حضرت رحمہ اللہ اپنی رحلت سے تقریباً ۳۰ سال پہلے تک والدہ کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے۔ بعد میں والدہ کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ گھر دے دیا۔ حضرت رحمہ اللہ اس وقت روزانہ ہسپتال سے ۸ بجے ملازمت کا وقت ختم ہونے کے بعد پہلے والدہ صاحبہ کی زیارت و ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے، وہاں آدھا گھنٹہ گذار کر گھر آتے تھے اور پھر کھانا کھا کر دیگر معمولات پورے کرتے تھے۔
آخری سالوں میں ہمت کم ہونے پر والدہ کے اصرار پر ایک ایک کر کے دن کم کرتے گئے حتیٰ کہ آخر میں اتوار کے روز مغرب کے بعد اور بدھ کے روز رات کو کھانے سے فراغت کے بعد یا جمعرات کے روز جاتے تھے اور اس دن والدہ صاحبہ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔
زندگی کے مذکورہ شب و روز جامعہ دار التقویٰ کے دور کے ہیں۔ اس سے قبل جامعہ مدنیہ کے زمانے میں ریٹائرمنٹ(۲۰۰۹ء)سے پہلے کے معمولات میں فرق اتنا ہوتا تھا کہ صبح ساڑھے نو بجے جامعہ مدنیہ آتے، بعض ایام میں ایک بجے گھر تشریف لے جاتے اور بعض ایام میں کھانا ساتھ لاتے پھر تین بجے جامعہ مدنیہ سے ہی ہسپتال پہنچ جاتے۔ معمولات یومیہ کی باقی ترتیب وہی ہے جو پہلے مذکور ہوئی۔ تین سے آٹھ ہسپتال کا وقت ہوتا تھا۔
شب و روز کے معمولات میں بڑی نمایاں بات یہ تھی کہ انہیں بے کار یا فالتو وقت ضائع کرتے ہوئے کبھی کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا، حضرت رحمہ اللہ اپنا ایک ایک لمحہ پورے طور پر قیمتی بناتے تھے۔ حضرت بلا مبالغہ ان دانشمند لوگوں میں سے تھے جو اپنی حیاتِ مستعار کا ایک منٹ بھی عبث ضائع نہیں کرتے۔
صلہ رحمی
زندگی کے اس معمول کا اثر یہ نہیں تھا کہ اعزہ و اقرباء کا کوئی پتا ہی نہ ہو۔ حضرت رحمہ اللہ اپنی تمام دنیاوی ذمہ داریاں جس میں اعزہ و اقرباء سے ملاقات کے لیے بھی جانا پڑتا تھا اور اعزہ گھر بھی آتے تھے پورے طور پر نبھاتے تھے بلکہ اعزہ و اقرباء سے میل ملاقات دیگر لوگوں کی بنسبت زیادہ تھی کیونکہ اعزہ و اقرباء میں سے بہت سے حضرات اپنے خانگی جھگڑوں یا کاروباری اختلافات کو ختم کرانے اور بعض حضرات اور مستورات طبی مشاورت کے لیے بھی بکثرت ملنے آتے تھے۔
اوصاف و خصوصیات
ذوقِ عبادت
حضرت رحمہ اللہ میں ہر نماز کو اس کے صحیح اوقات میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام شدت کے ساتھ تھا۔ اس پر حضرت رحمہ اللہ خود بھی پوری طرح عمل پیرا تھے اور اپنی اولاد سے بھی عمل کرواتے تھے۔ اور اس حوالے سے کسی رعایت کے قائل نہ تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کے ہاں نماز کے اہتمام ہی کا یہ اثر تھا کہ ہمیں پورا یقین تھا کہ اگر ہم نے سستی دکھائی اور نماز نہ پڑھی تو بلا مبالغہ حضرت رحمہ اللہ اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ہمیں گھر سے نکال دیں گے۔ نماز کی تیاری اذان ہوتے ہی شروع کر دیتے تھے اور ہمیں بھی تاخیر سے یعنی جماعت شروع ہونے کے بعد پہونچنے پر تنبیہ فرماتے تھے۔ رمضان المبارک میں افطاری کی وجہ سے جماعت میں کبھی تاخیر ہو جاتی تو ناراض ہوتے تھے۔ اخیر عمر میں جب خود مسجد جانے سے قاصر تھے تو اس وقت بھی ہمیں کبھی تاخیر سے جاتا دیکھ کر خفگی کا اظہار فرماتے تھے۔ جمعہ کی نماز کے لیے بالعموم بارہ بجے غسل کے لیے چلے جاتے تھے اور سوا بارہ بجے تک نہا کر خوشبو وغیرہ دیگر امور سے فارغ ہو کر ساڑھے بارہ بجے مسجد میں پہنچ جایا کرتے تھے جبکہ مسجد میں نماز سوا ایک بجے ہوتی تھی۔ ہم سے اگر فجر کی جماعت مسلسل دو دن رہ جاتی تو شدید ناراضگی کا اظہار کرتے تھے اور اگر ہم کسی کام کا عذر کرتے کہ اس کی وجہ سے سونے میں دیر ہو گئی تھی تو اور زیادہ غصہ ہو کر فرماتے تھے کہ ’’سارے کام چھوڑ دو۔ نماز جماعت کے ساتھ ہونی چاہیے۔‘‘
نماز کا یہ اہتمام حضر ہی میں نہ تھا سفر میں بھی یکساں تھا۔ ایک دفعہ ملتان کے ایک سفر سے واپسی پر میزبان نے ڈائیوو کمپنی کی بس کا ٹکٹ لے لیا۔ فجر کا وقت ختم ہو رہا تھا اور بس پتوکی کے قریب تھی، لاہور پہنچتے پہنچتے نماز یقینی طور پر قضاء ہو جانی تھی۔ حضرت رحمہ اللہ نے ڈرائیور سے نماز کا تقاضا کیا، ڈرائیور نے بس روکنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کمپنی کی طرف سے بغیر مقرر سٹاپ کے بس روکنے کی اجازت نہیں ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ ’’مجھے یہیں جنگل میں اتار کر چلے جاؤ‘‘ ڈرائیور نے بس نہ روکی اور نماز قضاء ہو گئی۔ اس کا حضرت رحمہ اللہ کو اتنا قلق ہوا کہ عرصہ تک احباب سے ڈائیوو کمپنی کی اس پالیسی کا تذکرہ کرتے رہے اور آئندہ کے لیے کوئی دوست حضرت رحمہ اللہ کے سامنے ڈائیوو میں سفر کرنے کا نام بھی نہ لے سکتا تھا۔
جب تک رعشہ کی تکلیف میں مبتلا نہ ہوئے نمازوں کو اتنے خشوع و خضوع سے ادا کرتے تھے کہ بہت کم افراد اتنے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرتے نظر آتے تھے۔ لمبی لمبی نماز پڑھتے تھے اور تعدیل ارکان کا بہت اہتمام تھا، ہر رکن کو نہایت اطمینان اور تسلی سے ادا فرماتے۔ رعشہ کی تکلیف کے دوران رعشہ کے ایک ملکی سطح کے اسپشلسٹ جو ریاض(سعودیہ)میں ہوتے تھے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ محترم ڈاکٹر ظفرنیاز صاحب(معالج حضرت رحمہ اللہ)کی درخواست پر انہوں نے حضرت رحمہ اللہ کے لیے خصوصی وقت دیا اور تقریباً آدھے گھنٹہ سے زیادہ وقت تشخیص پر لگایا۔ دوران تشخیص انہوں نے حضرت رحمہ اللہ سے ایک سوال یہ کیا کہ آپ کو بھولنے کا عارضہ تو لاحق نہیں ہوا؟ حضرت رحمہ اللہ نے سوچ کر فرمایا اور تو کچھ نہیں ہے لیکن اب کبھی کبھی پڑھی ہوئی رکعات کی تعداد بھول جاتا ہوں(ورنہ اس سے قبل حضرت رحمہ اللہ نماز میں رکعات کی تعداد نہ بھولتے تھے)۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ تو میں بھی بھول جاتا ہوں۔
زہد فی الدنیا
مدینہ منورہ کے ایک سفر میں وہاں کے رہنے والے دو نوجوان علماء نے عصر کی نماز کے بعد حضرت رحمہ اللہ سے استفادہ کی نیت سے آنا طے کیا۔ وہ حضرت رحمہ اللہ کے لیے گھر سے آتے ہوئے تھرماس میں چائے بنوا کر لے آئے، حضرت رحمہ اللہ نے قبول کر لی۔ اگلے دن وہ دوبارہ چائے بنوا کر لائے تو حضرت رحمہ اللہ نے قبول کر لی لیکن ساتھ فرمایا کہ
’’بھائی اس طرح تو ہم تمہارے مرید بن جائیں گے، ہمیں مراد ہی رہنے دو اور آئندہ چائے نہ لایا کرو‘‘۔
یعنی پھر چائے کی وجہ سے ہمیں تم سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہو جائے گا حالانکہ ابھی تمہیں ہم سے ملنے کی آرزو ہے۔(لیکن اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ ان کے لیے اکرام کا اہتمام خود سے کرتے تھے)۔
گھر والوں کے بار بار تقاضے کے باوجود گھر میں ٹیلی فون لگوانے پر آمادہ نہ ہوتے تھے لیکن جب ٹیلی فون کی سہولت زیادہ عام ہوئی اور مسائل پوچھنے والوں کا اصرار بڑھنے لگا کہ ہمیں کوئی وقت بتائیں جس میں ہم ٹیلی فون پر سہولت سے مسائل پوچھ سکیں تو حضرت رحمہ اللہ نے ان کی وجہ سے ٹیلی فون لگوایا۔ یہی صورت حال موبائل کی سہولت عام ہونے پر ہوئی کہ مسائل پوچھنے والوں کی سہولت کی غرض سے ان کے تقاضے پر موبائل لیا۔ورنہ اپنی ذات کے لیے یا خواہش کے لیے دونوں کام نہ کیے۔
رعشہ کی تکلیف شروع ہونے کے بعد جب موٹر سائیکل پر کسی کے ساتھ بیٹھ کر جانا آنا بھی دشوار ہونے لگا تو گاڑی بھی آگئی ورنہ اس سے قبل گھر والوں کے تقاضے کے باوجود یہی کہتے تھے کہ کیا ضرورت ہے؟ اس وقت والدہ اکثر کہتی تھیں کہ چلیں آپ نہ خریدیں لیکن لینے کی نیت تو کر لیں تو اس پر بھی کہتے تھے کہ کیا ضرورت ہے؟ تو والدہ دیگر اعزہ سے کہا کرتی تھیں کہ ’’لینا تو درکنار لینے کی نیت بھی نہیں کرتے۔‘‘
اصل بات یہ تھی کہ حضرت رحمہ اللہ دنیا کی چیزوں کے حصول میں شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کا ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ذکر کردہ ضابطہ ذہن میں رکھتے تھے اور اپنی ذات کے لیے اس پر اہتمام کے ساتھ کاربند رہتے تھے۔ لہذا اپنے لیے اے سی لگانے پر بھی وفات سے صرف دو سال قبل راضی ہوئے کہ جب تکلیف کی شدت ہو گئی تھی اور جسم میں تحمل بھی کم ہو گیا تھا اس سے پہلے راضی نہیں ہوئے۔
حضرت کی سادگی اور گذارے کے مزاج کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کے پاس ایک ویسکوٹ تھی جسے عرصہ دراز سے درمیانے موسم میں پہنتے تھے۔ پرانی ہونے کی وجہ سے اس کی وضع قطع خاصی تبدیل ہو گئی۔ ہم ایک نئی ویسکوٹ بھی لے آئے جسے ایک سال حضرت رحمہ اللہ نے شادی وغیرہ تقریبات میں پہن لیا۔ آئندہ سال ہم نے پرانی ویسکوٹ ہٹا دی اور موسم آنے پر نئی ویسکوٹ رکھ دی۔ لیکن حضرت مسلسل پرانی ویسکوٹ کا تقاضا کرتے رہے اور ہمارے عرض کرنے پر فرماتے تھے: ’’کیسے بدوضع ہو گئی تھی!تم لوگوں نے خواہ مخواہ ہٹا دی۔‘‘
معاملہ فہمی
حضرت رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے معاملہ فہمی کی دولت سے نوازا تھا لہذا کسی ایک جانب جھکاؤ کے بغیر بہت جلد لوگوں کے معاملات اور جھگڑوں کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔ پھر اس کے مطابق آپس کے اختلاف کو ختم کرواتے تھے۔
ایک صاحب کا اپنے بیٹوں کے ساتھ کاروباری معاملات میں جھگڑا ہوا۔ بیٹے چاہتے تھے کہ ان کے والد ان کی مرضی کے مطابق انہیں حصہ دیں۔ ان صاحب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ سارا کاروبار میرا ہے، میں کاروبار کا شرعاً مالک ہوں۔ بے شک ڈاکٹر صاحب سے جا کر فتویٰ لے لو(وہ صاحب حضرت سے فتویٰ پوچھ چکے تھے)لہذا میں تم کو جو کچھ اپنی خوشی سے دے رہا ہوں وہ رکھ لو۔ بیٹے کہتے تھے کہ اگر ہمارا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے آپ گھر، کاروبار وغیرہ سب کچھ سنبھالیں ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے ہم نئے سرے سے اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ ان صاحب کو یہ بھی منظور نہ تھا کہ ان کے بیٹے انہیں عمر کے اس حصہ میں اس طرح چھوڑ جائیں جبکہ جھگڑا صرف ایک حد تک مقدار کا تھا ورنہ وہ اپنے بیٹوں کو محروم نہ کرنا چاہتے تھے۔ ان باپ بیٹوں کی کشمکش طویل عرصہ تک جاری رہی۔ بالآخر ایک دن انہوں نے حضرت رحمہ اللہ کو ثالث بنایا کہ آپ ہمارے مناسبِ حال فیصلہ کریں۔ حضرت رحمہ اللہ نے ان صاحب سے پوچھا کہ جب تم نے اپنے والد صاحب سے کاروبار لیا تھا تو کاروبار کی حالت کیا تھی؟ انہوں نے بتایا کہ کاروبار نقصان میں تھا، بعد میں کاروبار بڑھا ہے۔ پھر ان کے دونوں بیٹوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کاروبار میں کب سے شریک ہو؟ انہوں نے بتایا کہ جب سے کاروبار والد صاحب کے پاس آیا ہے تقریباً اسی وقت سے۔ تو حضرت رحمہ اللہ نے یہ معلوم کرنے کے بعد کہ ابتدائً کاروبار نقصان میں تھا ان تینوں کی مشترکہ محنت سے کاروبار کو ترقی ہوئی ہے۔ تینوں کے لیے ایک ایک ثلث(تہائی)کا فیصلہ دیا۔ حضرت رحمہ اللہ کی یہ توجیہ تینوں کے لیے قابل قبول تھی جسے تینوں نے متفقہ طور پر قبول کیا۔
حضرت رحمہ اللہ کے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ حضرت رحمہ اللہ کے والد صاحب بھی حضرت رحمہ اللہ کی معاملہ فہمی کے قائل تھے، اس لیے اہم امور میں ہمیشہ انہیں ساتھ رکھتے تھے اگر انہیں کبھی کسی مسئلہ پر حضرت کی رائے سے اتفاق نہ ہوتا تو ناراضگی کے اظہار کے باوجود عمل کے وقت ہمیشہ حضرت کی رائے پر عمل کرتے تھے۔
سیاسی بصیرت
اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کو بالغ نظری سے نوازا تھا اس لیے کسی بھی معاملے کے کبھی ایک پہلو پر نگاہ نہیں رکھتے تھے بلکہ مثبت و منفی، نفع و نقصان دونوں پر یکساں نظر رکھتے تھے۔ اور سیاسی امور میں غور و فکر میں کبھی عقیدت کو آڑے نہ آنے دینے تھے۔ لہذا اگر کسی معاملے میں حضرت رحمہ اللہ کے رائے میں مضرت و نقصان کا پہلو غالب ہوتا تو بزرگوں کی بے ادبی سے بچتے لیکن دوستوں کے پوچھنے پر خوبصورت انداز میں اختلاف رائے کرتے۔ طلباء و اعزہ سے گفتگو کے دوران پیش آمدہ سیاسی امور کے حوالے سے پر مغز تبصرہ فرماتے تھے۔
چند تبصرے پیش خدمت ہیں:
o فرماتے تھے کہ جب امریکہ کو روس کی وجہ سے مذہبی شخصیت کی ضرورت تھی تو ضیاء صاحب مل گئے اور جب افغانستان میں طالبان کو ختم کرنا تھا تو مشرف صاحب مل گئے، یہ سب ڈالر کے بل بوتے پر ہوتا ہے۔ یہ تفصیل ذکر کرنے کے بعد ابوزید سروجی کا یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے ع
ترجمہ:اگر خوف نہ ہوتا تو میں کہتا کہ پیسہ ہی جل شانہ ہے۔ ع
o فرماتے تھے کہ ضیاء صاحب کے دور میں باقاعدہ فرقہ واریت کو ہوا دی گئی، اس سے قبل رؤیت ہلال کمیٹی وغیرہ دیگر سرکاری عہدوں کے حصول پر فرقہ واریت کی بنیاد پر اختلاف نہ ہوتا تھا بلکہ جو بھی بن جاتا کسی دوسرے کو اعتراض نہ ہوتا تھا ضیاء صاحب کے دور میں ہر فرقہ کو اس پر ابھارا گیا کہ یہ عہدہ انہیں ملنا چاہیے تھا۔
o فرماتے تھے کہ جب روس کو شکست ہو گئی اور ضیاء صاحب کا کام پورا ہو گیا تو امریکہ نے ضیاء صاحب کو مروا دیا۔ پھر فرماتے تھے امریکہ سب سے کام لیتا ہے صدام حسین ہو یا معمر قذافی یا کوئی اور حکمران ان سے کام لے کر انہیں مروا بھی دیتا ہے۔
o افغانستان میں طالبان کی آمد پر پاکستان کے مذہبی حلقوں کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہو گئی تھیں اور پاکستان میں احمد شاہ مسعود کانام لیوا کوئی نہ رہا۔ اس دور میں ہماری بعض وہ خانقاہیں کہ جن کی محنت کا میدان صرف اور صرف انسان کا باطن تھا وہ بھی طالبان کی حمایت میں پوری شد و مد کے ساتھ متحرک ہو گئی تھیں۔ اس پر حضرت رحمہ اللہ استفہامیہ انداز میں فرماتے تھے کہ انہیں کیا ہوا؟ یہ بوریہ نشین لوگ بھی طالبان کی حمایت میں نکل آئے ہیں؟ اور فرماتے تھے کہ طالبان کی آمد سے قبل ہمارے مذہبی حلقوں میں احمد شاہ مسعود کی بڑی آؤ بھگت ہوتی تھی، جبکہ اس کے مخالف حکمت یار کو جماعت اسلامی کا بندہ سمجھا جاتا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ سوال اٹھاتے تھے کہ ہمارے حلقے ایک دم احمد شاہ مسعود سے کٹ کیوں گئے ہیں؟ اور سب کے سب طالبان کی حمایت میں کیوں نکل آئے ہیں؟
تنبیہ:اس سے حضرت رحمہ اللہ کی غرض کسی پر طنز کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے دوستوں کو توجہ دلاتے تھے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے لوگ اخلاص و للہیت اور نیک نیتی کے باوجود اپنی سادہ لوحی سے کسی کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہوں۔ اسی لیے حضرت رحمہ اللہ کو طالبان اور احمد شاہ مسعود کی آپس کی لڑائی سے بڑا قلق ہوتا تھا، وہ چاہتے تھے کہ یہ دونوں ہمارے اپنے اور ہمارے مدارس سے تعلق والے ہیں لہذا دونوں کو ایسی تدبیر سوچنی چاہیے کہ آپس میں جنگ نہ ہونے پائے۔
جب صحافیوں کے روپ میں عربوں نے ایک حملہ میں احمد شاہ مسعود کو مارا تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ عربوں کی بڑی غلطی ہے کیونکہ احمد شاہ مسعود جیسا بھی تھا ماضی میں اہل حق کے ساتھ رہا ہے اور افغانستان میں ایسا شخص ہے کہ جس کا ایک حلقہ ہے، اسے اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔
o احمد شاہ مسعود والے واقعہ کے چند دنوں بعد امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا واقعہ پیش آیا، اس دن صبح کے وقت ہر طرف ایک جوش و خروش کا عالم تھا۔ حضرت رحمہ اللہ جب مدرسہ تشریف لائے تو ان کو اس وقت تک اس وقوعہ کا علم نہ تھا۔ طلباء کی ایک تعداد حضرت رحمہ اللہ کے کمرے میں جمع ہو گئی اور حضرت کو خبر سنائی گئی، اسی دوران کوئی طالب علم مٹھائی بھی لے آیا۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس واقعہ پر سب طلباء کی امیدوں کے برخلاف افسوس کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اگر یہ واقعہ عربوں نے کیا ہے جیسا کہ بتایا جا رہا ہے تو یہ عربوں کی غلطی ہے انہیں چاہیے تھا کہ پہلے طالبان کو مضبوط کرتے، جب طالبان کو افغانستان میں استحکام نصیب ہو جاتا تو پھر باہر کی سوچتے۔ اگر ان کی جلد بازی کی وجہ سے طالبان کی حکومت ہی ختم ہو گئی کہ جن سے خیر کی توقع ہے تو پھر توقع کس سے باندھی جائے گی؟
طالبان کو حضرت رحمہ اللہ نیک لوگ سمجھتے تھے لیکن حضرت رحمہ اللہ کسی بھی دینی تحریک کے لیے یہ بات خطرناک سمجھتے تھے کہ کوئی جب چاہے ان سے اپنے مقاصد کی برآری کر سکے۔ اس لیے حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ طالبان کو چاہیے کہ بغیر کسی سے کوئی مدد لیے آگے بڑھتے اور جنرل نصیر اللہ خان بابر کا یہ مقولہ ذکر کرتے تھے:
’’طالبان ہمارے بچے ہیں‘‘
حضرت کی طالبان یا دیگر تحریکات پر یہ تنقید داخلی اور اصلاح کے جذبہ سے کی جانی والی تنقید تھی جو بڑے حضرات کی ذمہ داری ہوتی ہے۔(یہی وجہ ہے کہ اس تنقید کے باوجود حضرت کو ان تحریکات کا مخالف نہیں سمجھا گیا بلکہ تمام تحریکات کے لوگ حضرت کو اپنا بڑا جانتے تھے۔ اور حضرت کی نکتہ رسی کو اپنے لیے مشعلِ راہ سمجھتے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ کی یہ سوچ چونکہ اکثریت کی سوچ کی عکاس نہ تھی اس لیے حضرت رحمہ اللہ پر یہ اشکال کیا جاتا تھا کہ کیا ہمارے ذمہ نتائج اللہ پر چھوڑ کر اپنی طاقت کے بقدر کوشش کرنا نہیں ہے؟
اس پر حضرت رحمہ اللہ حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی مثال دیتے تھے جب سید صاحب رحمہ اللہ نے جہاد کے لیے آزاد علاقوں کی طرف آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ہندوستان کے مقامی لوگوں نے ان سے کہا کہ یہاں کے لوگ آپ کو بھی جانتے ہیں اور آپ کے خانوادے کو بھی جانتے ہیں اور یہاں آپ کی عقیدت بھی ہے جس کی وجہ سے یہاں سے افرادی و مالی قوت کی فراہمی ممکن بھی ہے جبکہ آپ انگریز کی عملداری سے آزاد جس قبائلی علاقے میں جانا چاہتے ہیں وہاں کے لوگ آپ سے واقف بھی نہیںہیں۔ تو سید صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے :
’’کتنے لوگوں نے صلاح دی کہ اسی ملک(ہند)میں جہاد کرو، جو کچھ مال خزانہ سلاح وغیرہ درکار ہو ہم دیں گے۔ مگر مجھ کو منظور نہ ہوا اس لیے کہ جہاد سنت کے موافق چاہیے، بلوہ کرنا منظور نہیں۔‘‘ (تاریخ دعوت و عزیمت:۶/۴۲۶)
اور ساتھ میں فرماتے تھے کہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر بس اقدام کر دینا یہ ہمارے اکابر کا بھی مزاج نہ تھا۔
نیز یہ بھی ذکر کرتے تھے کہ جب ۱۸۵۷ء میں انگریز کو ہندوستان پر تسلط حاصل ہو گیا اور ہمارے اکابر کو انگریز کے ساتھ بلا واسطہ کسی عسکری کاروائی میں کامیابی کی امید نظر نہ آئی تو اکابر رحمہ اللہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دین و ایمان بچانے کے لیے تعلیمی میدان میں مدارس دارالعلوم دیوبند وغیرہ کے قیام کی طرف متوجہ ہوئے۔
خواص میں کام کی فکر
ایک دفعہ حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عموماً اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کی وہ محنت کامیاب ہوئی ہے جو عوام کے نچلے درجے سے پھیلتی ہے اور عروج پاتی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ لہذا یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ دنیا میں نظام جن کے ہاتھ میں ہے ان کو دعوتِ اسلام دی جائے، کیا خبر اللہ ان کوششوں کو بارآور کریں اور ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ کے مطابق اگر وہ لوگ دعوت قبول کریں تو دنیا میں اسلام کا پیغام عام ہو جائے۔
اپنے اس خیال کا تذکرہ حضرت رحمہ اللہ نے ایک ملاقات کے موقع پر رائے ونڈ کے حضرت مولانا احسان الحق صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے بھی کیا۔ اور بطور خاص یہ بھی ذکر فرمایا کہ میری رائے ہے کہ ایسی کوشش کے لیے ایک جماعت ہونی چاہیے اگرچہ تبلیغ کے پلیٹ فارم سے ہٹ کر ہی ہو۔
خود داری و اخفائے حال
حضرت کا ایک بڑا وصف خود داری تھا۔ اور یہ وصف ہر گذرتے دن اپنے معاملات اور پھر اپنی پریشانیاں لے کر آنے والے لوگوں کی سوچ اور نفسیات دیکھنے کے بعد غیر متزلزل ہو گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ استغناء اور اخفاء حال بھی مل گئے تھے تو شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو کہ حضرت رحمہ اللہ کے حالات اس کے سامنے کھلی کتاب ہوں۔ اگر کسی کو حضرت رحمہ اللہ کے علمی مقام و مرتبہ کا ادراک ہے تو ذوق عبادت کا پتہ نہیں ہو گا اگر عبادت کا پتہ ہو گا تو اصابت رائے کا علم نہیں ہو گا اگر اصابت رائے کا حال کھلا ہو گا تو حضرت رحمہ اللہ کے پریشانیوں و تکلیفوں پر صبر سے آگاہ نہ ہو گا۔ حضرت رحمہ اللہ میں اخفا اتنا تھا کہ جو لوگ حضرت رحمہ اللہ کی کسی صلاحیت کے بارے میں جانتے نہ تھے وہ بلا جھجک اس وصف کی نفی اس بنیاد پر کر دیتے تھے کہ اس بارے میں حضرت رحمہ اللہ سے کبھی بھی کوئی بھی بات سننے کو نہیں ملی۔ اسی اخفاء حال اور خودداری کا ایک اثر بندہ کے خیال میں یہ ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کے حالات زندگی پر کتاب لکھنا خاصا کٹھن کام ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے بندہ پر بھی اپنے بعض معاملات اخیر تک مخفی رکھے تھے ان میں سے کچھ حضرت رحمہ اللہ کی وفات کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے کھلے۔ اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو کہ کھلے ہی نہیں۔ اخفاء حال میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خاندان کے دیگر افراد کو حضرت رحمہ اللہ کی جملہ بیماریوں کا اور ان کی سنگینی کا مکمل علم نہ تھا۔ حضرت رحمہ اللہ نے ایک موقع پر بندہ کو سختی سے حکم فرمایا تھا کہ میں نے اپنے بارے میں جس کو جو بتانا ہو گا خود بتا دوں گا تمہیں معلوم ہونے کے باوجود بتانے کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا بعض اوقات خاندان کے افراد کسی بات کے بعد میں معلوم ہونے پر شکوہ کرتے تھے کہ مسئلہ اتنا سنگین تھا اور تم نے جاننے کے باوجود ہمیں نہیں بتایا۔ ایسی حالت میں اگر بندہ انہیں اپنی کچھ صفائی پیش کرتا بھی تو کیسے کرتا؟
بے نفسی
دوران ملازمت حضرت رحمہ اللہ اپنے نائب قاصد کو بیجا نہ تنگ کرتے تھے اور نہ ذاتی کام کرواتے تھے بلکہ نائب قاصد سے متعلق بہت سے کام از خود انجام دے لیتے تھے خاص کر جب دفتر والے کسی خاتون کو نائب قاصد لگا دیتے تو اسے کسی بھی کام کے لیے بالکل نہ بلاتے تھے جبکہ عام طور سے دفاتر میں نائب قاصد کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔ ایک خاتون نائب قاصد اکثر اوقات ہسپتال کے دفتر میں شکوہ کرتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب بالکل بھی کسی کام کے لیے نہیں بلاتے، اس طرح پتہ نہیں میری روزی حلال بھی ہوتی ہے یا نہیں؟
حضرت رحمہ اللہ کی تواضع، عبدیت اور رسمی پروٹوکولز سے دوری کا اثر تھا کہ نائب قاصد پہلے گھر چلا جاتا تھا اور حضرت رحمہ اللہ رات آٹھ بجے خود کمرہ کو تالا لگا کر جاتے تھے۔ اسی طرح کھولتے وقت بھی بہت سی مرتبہ نائب قاصد کہیں گیا ہوتا تو خود تالا کھول کر بیٹھ جاتے۔
یک گیر و محکم گیر
حضرت رحمہ اللہ کا مزاج علمی و تحقیقی تھا۔ علم و تحقیق سے منسلک لوگ جب تک دیگر کاموں سے یکسوئی اختیار نہ کریں ان کا نتیجۂ فکر اور خاطر خواہ کام سامنے نہیں آتا۔ اس لیے حضرت رحمہ اللہ تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانے کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ تعلیم میں لگنے سے پہلے حضرت رحمہ اللہ تبلیغ کے لیے جاتے تھے لیکن بعد میں یکسوئی کے پیش نظر ساتھیوں سے فرمایا کہ آپ ایسے سمجھ لیں کہ میری تشکیل خدمت میں ہے جیسے خدمت میں لگنے والے ساتھی اجتماعی اعمال میں شریک نہیں ہو پاتے اور ان کی عدم شرکت کا باعث خود پوری جماعت کے افراد کے تقاضے ہوتے ہیں اسی طرح آپ مجھے سمجھ لیں کہ میں جس علمی کام میں لگا ہوں وہ یکسوئی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور وہ کام بھی امت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دعوت کی محنت سے امت میں پیدا ہونے والے جذبات اور استعداد کو علمی رہنمائی کی بھی ضرورت ہو گی، اگر کچھ افراد اپنے آپ کو علم کے لیے یکسو اور مکمل فارغ نہ کریں گے تو بروقت علمی رہنمائی نہ ہو سکے گی اور یہ ایک بڑا نقصان ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کو دین و دنیا کا کوئی بھی کام محض خانہ پری کے لیے کرنا پسند نہ تھا ، فرماتے تھے کہ کوئی بھی کام کرو اس طرح سے کرو کہ تمہارا کیا ہوا کام نظر آئے لہذا ایک دور میں بندہ نے تبلیغی اعمال میں شرکت کافی زیادہ کر دی پھر بلا کسی وجہ کے کم کر دی، کبھی گشت میں شرکت کرتا اور کبھی نہ کرتا تو ایک دن حضرت رحمہ اللہ نے ڈانٹ کر فرمایا کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ کبھی گشت کر لیا اور کبھی نہ کیا پھر فرمایا کہ انسان جو بھی کام کرے صحیح طریقہ پر کرے۔
حضرت رحمہ اللہ خود بھی اسی تقاضے پر عمل کرتے تھے اور پوری یکسوئی کے ساتھ علمی کام میں جتے رہتے تھے ۔ یہ یکسوئی صرف تبلیغ کے حق میں نہ تھی بلکہ تمام غیر علمی مشاغل کے لیے تھی لہذا گھریلو یا خاندانی واجبات کے علاوہ بزرگوں کی زیارت اور بیانات سننے کے لیے جانا حضرت رحمہ اللہ کا عام معمول نہ تھا اگر کبھی موقع میسر آجاتا تو بزرگوں کی زیارت کو غنیمت سمجھتے تھے۔ مدرسہ کی تقریبات میں چونکہ مدرسہ کی طرف سے شرکت لازمی ہوتی تھی اس لیے وہاں ضرور شرکت کرتے تھے یا اپنے شیخ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں اکثر و بیشتر اہتمام سے حاضری دیتے تھے۔
البتہ خالص علمی و فنی شخصیات سے ملاقات و زیارت کا شوق تھا۔ اسلام آباد سے ایک دوست نے بندہ کو دوران گفتگو فون پر بتایا کہ ملک شام کے معروف فقیہ و صاحب تصانیف ڈاکٹر وہبہ زحیلی دو روز اسلام آبا گذار کر کل واپس گئے ہیں۔ بندہ نے برسبیل تذکرہ حضرت رحمہ اللہ سے ذکر کیا تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اچھا!اگر ہمیں پہلے پتہ چلتا تو ان کی زیارت کے لیے اسلام آباد جاتے۔‘‘
مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ آخری مرتبہ جب لاہور تشریف لائے تو حضرت رحمہ اللہ ان کی زیارت کے لیے اہتمام سے ان کے بیان میں گئے۔
کراچی کے ہر سفر میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کا ممکنہ حد تک اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت چشتی صاحب دامت برکاتہم اکثر اوقات لاہور تشریف لاتے تو ہر دفعہ اہتمام سے ان کی جائے قیام پر تشریف لے جاتے تھے اور ان کو اپنے گھر اور مدرسہ میں تشریف آوری کی دعوت دیتے تھے۔
بزرگوں کی زیارت کے موقع پر ہدیہ پیش کرنا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔
راولپنڈی تشریف لے جاتے تو مفتی رضوان صاحب(ادارہ غفران)سے ملاقات کا اہتمام کرتے تھے۔ یہ ملاقاتیں بھی علمی ذوق کی آبیاری کے لیے ہوتی تھیں کیونکہ ان ملاقاتوں میں کوئی نہ کوئی بات یا نکتہ سامنے آتا تھا۔ و العلم رحم بین اھلہ۔(اہل علم کے درمیان علم ایک رشتہ داری ہے)۔
رعب
حضرت رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے رعب و وقار کی دولت سے نوازا تھا۔ ملنے والوں سے خواہ طلبہ ہوں یا عامۃ الناس لطف اور شفقت سے بھرپور گفتگو فرماتے تھے جو کہ طنز و تشنیع سے خالی ہوتی تھی، مگر معلوماتی ہوتی تھی۔ عامۃ الناس سے ان کے مشغلہ کے بارے میں ایسے سوالات پوچھتے تھے کہ نہ صرف پاس بیٹھنے والوں کو ان سے فائدہ ہوتا تھا بلکہ ملاقات کرنے والے بھی متاثر ہوتے تھے کہ سوالات بچگانہ یا لا علمی پر مبنی نہیں ہیں بلکہ لگتا ہے کہ ان کے سامنے یہ سوال کبھی موضوع بحث رہا ہے۔ لیکن ساری گفتگو ظرافت کے باوجود وقار سے خالی نہ ہوتی تھی۔ کسی شخص کے فضول گفتگو فرمانے پر بالکل خاموشی اختیار فرماتے۔ اور اسے اگر سمجھا سکتے تو سمجھا دیتے ورنہ بالکل خاموش رہتے۔
حضرت رحمہ اللہ کے وقار کا اثر تھا کہ مدرسہ کا جو طالب علم حضرت رحمہ اللہ کے سبق میں کبھی شریک نہ ہو سکا ہوتا وہ دور سے حضرت رحمہ اللہ کو دیکھ کر مرعوب ہوتا تھا۔ اور جو سبق میں شریک ہوتا تو اسے شفقت کا بھی اندازہ ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ بلا جھجک آمد و رفت رکھتا تھا۔
حضرت رحمہ اللہ رعب و دبدبہ کے باوجود طلبہ پر تعلیم کے دوران داروگیر نہیں کرتے تھے اس لیے بہت سے طلباء سبق چھوڑ کر دیگر مشغلوں میں لگے رہتے۔
حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جب وہ استغناء برتتے ہیں تو میں ان کے پیچھے کیوں پھروں؟ اگر مجھے کبھی پیچھے پیچھے پھرنا پڑا تو طلباء کے پیچھے ایک مستحب درجہ کی تعلیم کے لیے پھرنے کے بجائے عامۃ الناس کے پیچھے تبلیغی جماعت کے ساتھ فرض درجہ کی تعلیم یعنی کلمہ نماز کے لیے پھروں گا۔
احقاق حق
حضرت رحمہ اللہ نے دینی تعلیم سے فراغت کے بعد ایک خواب دیکھا جو حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کو سنایا کہ لڑائی کا میدان گرم ہے جس میں حضور ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک ہیں اور میرے دل میں خوف سا ہے پھر جی کڑا کر کے میدان میں اترا ہوں۔(خواب کی تفصیل حضرت شاہ صاحب پر سوانحی مضمون میں ہے۔)
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس خواب کی تعبیر میں قلم سے علمی کام کرنے کا فرمایا اور سلسلۂ سید احمد شہید رحمہ اللہ میں اجازت سے بھی نوازا۔ پھر تو حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ اہل باطل کے لیے ایک تیغ بے نیام ثابت ہوئے۔ مداہنت اور کتمان حق سے کوسوں دور تھے۔ لیکن خوبی یہ تھی کہ اپنے قلم کو کبھی دوسرے فریق کی ایسی کی تیسی پھیرنے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ترتیب یہ تھی کہ دینی فکر و فلسفہ کے بارے میں کسی کو بھی اہل سنت کی راہ سے ہٹا دیکھتے تو اس کو خود جا کر سمجھاتے، بار بار جانا پڑتا تو باربار جاتے۔ تحریر لکھ کر سمجھانا پڑتا تو گریز نہ کرتے۔ لیکن اگر کوئی اس کے باوجود سمجھنے پر آمادہ نہ ہوتا تو اس کے فتنہ سے دوسروں کو بچانے کے لیے تحریر لکھ کر شائع کر دیتے۔ یعنی تنقید کسی شوق کو پورا کرنے کے لیے نہیں کرتے تھے بلکہ احقاق حق کے لیے اور امت کی خیر خواہی میں کرتے اور خود گمراہ کی بھی خیر خواہی پیش نظر ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے حقائق ایسے کھول دیے تھے اور ایسا انشراح صدر نصیب فرمایا تھا کہ خالص علمی انداز میں دوسرے فریق کی اصل بات کو کھول کر اسے قرآن و سنت کا کھلا مخالف ہونا اس طرح ثابت کرتے کہ دوسرے فریق کے پاس اپنی وضاحت و صفائی میں بھی کوئی بات نہ رہتی تھی۔ دوسرے فریق میں سے کوئی اس کے باوجود مزید تحریر لکھ دیتا تو ایک منصف مزاج شخص کے لیے دوسرے فریق کے جواب کو پڑھنے کے بعد دوبارہ حضرت رحمہ اللہ کی پرانی تحریر کو پڑھ لینا ہی کافی ہوتا تھا حضرت کی سابقہ تحریر دوبارہ پڑھنے سے اسے دوسرے فریق کے فکر و فلسفہ کے قرآن و سنت کے کھلے مخالف ہونے میں کوئی تامل نہ رہتا تھا۔ کم ہی ایسا ہوا کہ دوسرے فریق نے حضرت رحمہ اللہ کی لکھی تحریر پر کوئی علمی نقد وارد کیا ہو کہ جس کے لیے حضرت رحمہ اللہ کو جواب الجواب لکھنا پڑا ہو۔
دین کے عقائد و نظریات کی حفاظت کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی شخص خواہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو دینی فکر میں جب کجروی کا شکار ہو جائے تو اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے اغماض برتنا مداہنت کہلاتی ہے ۔ لہذا اگر قریبی شخص عالم دین کی فہمائش کو اختیار کرنے کے بجائے اپنی فکر پر قائم رہے تو یہاں سے عالم دین کی بڑی آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔ خاموش رہے تو دین خراب ہوتا ہے اور بولے تو تعلق خراب ہوتا ہے۔
حضرت رحمہ اللہ نے ہمیشہ مداہنت سے اپنا دامن بچایا اور اپنے اوپر عائد ہونے والی دینی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھایا۔
انار کلی بازار کے ایک بڑے دکاندار ریاض الدین شاپنگ مال کے مالک انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور ہماری خاندان و برادری میں اس موضوع سے متعلق لٹریچر پھیلانے لگے۔ حضرت رحمہ اللہ نے باربار ان کے پاس جا کر انہیں فہمائش کی اور ان کے خلجانات کے دفعیہ کی ذمہ داری لی۔ لیکن وہ صاحب باوجود وقت طے کرنے کے اپنی دکان پر نہ آتے یا ملنے سے گریز کرتے تو حضرت رحمہ اللہ نے اس موقع پر خاندان میں دیگر لوگوں سے ملاقاتیں کر کے مسئلہ سمجھایا اور اپنا کتابچہ ’’قرآن کو قرآن کے کہے کے مطابق سمجھیں‘‘ دیا، اس کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کے ذمہ داروں کو احساس دلایا کہ ہماری برادری کی بنیاد صرف دین ہے۔ جو غیر مسلم اسلام کے سایۂ عاطفت میں آتے تھے وہ باوجود مختلف قوموں سے ہونے کے محض اسلام کی بنیاد پر ایک برادری قرار دیے گئے۔
لہذا اب اگر کسی شخص میں سرے سے دین ہی نہ رہے اور وہ دین سے باہر نکل جائے تو وہ ہماری برادری کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ تو آپ کو چاہیے کہ برادری کے افراد کی جاری ہونے والی سالانہ فہرست سے فہیم صاحب(ریاض الدین شاپنگ مال والے)کا نام نکالیں۔ بار بار تقاضے کے باوجود جب ذمہ داران نے فہرست سے ان کا نام نہ نکالا تو حضرت رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر آپ میرا نام نکال دیں مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ جب میری رشتہ داری کی بنیاد دین ہو تو دین سے باہر نکل جانے والا شخص میرا رشتہ دار کہلائے۔(افسوس کہ حضرت رحمہ اللہ کے دباؤ پر کارپردازان نے جب نئی فہرست شائع کی تو اس میں سے فہیم صاحب کا نام تو نکال دیا لیکن ساتھ ہی افراد برادری میں سے حضرت رحمہ اللہ کا نام بھی نکال دیا۔)
غایتِ احتیاط
ریٹائرمنٹ کے موقع پر حضرت رحمہ اللہ کو محکمہ کی طرف سے پنشن کی رقم ملی جس میں حکومت کی طرف سے ہر ماہ تنخواہ میں سے کی جانے والی جبری کٹوتی کے ساتھ اس پر وہ اضافہ بھی شامل تھا جو سود کے نام سے دیا جاتا ہے۔ اگرچہ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اس پر تفصیلی رسالہ لکھا ہے کہ ایسی کٹوتی پر ملنے والا اضافہ سود کا نام ہونے کے باوجود سود نہیں ہوتا اور اسے لینا جائز ہے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے اس رسالے پر دیگر اکابر کے تائیدی دستخط بھی ثبت ہیں لیکن حضرت رحمہ اللہ نے سود کے نام سے ملنے والا اضافہ ہسپتال کو واپس جمع کروا دیا تھا اور اس کی دو وجوہات بیان فرمائیں۔ اولاً یہ کہ مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کوئی اس کے باوجود نام کی وجہ سے وہ اضافہ نہ لے تو بہتر ہے۔ دوم یہ کہ ملازمت کے اوقات میں کبھی کسی کام سے باہر جانا پڑ جاتا تھا یا کبھی تاخیر ہو جاتی تھی تو یہ پیسے اس کا بدل بن جائیں گے۔
حضرت رحمہ اللہ کی ملازمت چونکہ محکمہ اوقاف میں تھی اور اوقاف کی آمدنی کا بڑا حصہ درباروں میں آنے والے چندے اور نذرانے ہیں اس لیے ملازمت کی پیش کش کے وقت حضرت رحمہ اللہ کو اس حوالہ سے دل میں کافی خلش تھی کہ کیا اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہو گی یا نہیں؟ اس بابت تفصیل سے معلومات جمع کیں تو یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ ہسپتال محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے لیکن کثیر تعداد میں مریضوں کے آنے اور آپریشن وغیرہ دیگر مدات میں حاصل ہونے والی فیسیں اتنی ہیں کہ ہسپتال محکمہ اوقاف سے کوئی فنڈ نہیں لیتا۔
اس دور میں حضرت رحمہ اللہ نے فقط حاصل ہونے والی معلومات پر اکتفاء کر کے از خود آمدنی کو حلال نہ سمجھا بلکہ اپنے اساتذہ کرام خاص کر حضرت مولانا مفتی عبدالحمید صاحب سیتاپوری اور حضرت قاری عبدالرشید صاحب اور حضرت مولانا سید حامدمیاں صاحب رحمہم اللہ سے مکمل مشاورت کی اور ان کی تصویب کے بعد ملازمت کو اختیار فرمایا۔
اپنے معاملات میں از خود سوال اٹھانا اور جائز ناجائز کی تحقیق کرنے کا یہ وصف بھی ہمارے اکابر کی ایک امتیازی خصوصیت ہے، اوروں کے بجائے اپنے اوپر نگاہ رکھنا اصل کام ہے۔ قہر درویش برجانِ درویش۔
تعلیم و تربیت
انداز اور مزاج
حضرت رحمہ اللہ نے دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں ہی اعلیٰ درجہ کی حاصل کی تھی لیکن دونوں تعلیموں کو ایک ساتھ حاصل نہیں کیا تھا بلکہ دنیاوی تعلیم کے بعد صرف دینی تعلیم حاصل کی تھی۔ جب دینی تعلیم میں لگے تو اس وقت دینی تعلیم کے تقاضے کے پیش نظر یکسوئی اختیار کرتے ہوئے ایم بی بی ایس کے بعد اسپشلائزیشن کے لیے نام نکل آنے کے باوجود دو تعلیموں کو ایک ساتھ نہیں چلایا۔ میڈیکل کی تعلیم میں صرف ایم بی بی ایس پر اکتفاء کرنے پر حیران ہونے والوں کو فرماتے تھے کہ میں نے اسپشلائزیشن کے لیے یہ(دینی علوم کا)راستہ چنا ہے۔
اس لیے اس بارے میں حضرت رحمہ اللہ کی رائے محض حکیم(دانا)کی رائے نہیں ہے بلکہ مجرب(تجربہ کار)کی رائے بھی ہے۔ اس لیے اگر کوئی حضرت کی رائے سے اختلاف کرے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک دانا سے نہیں بلکہ تجربہ کار سے بھی اختلاف کر رہا ہے۔
حضرت رحمہ اللہ نے اعلیٰ دنیاوی تعلیم ملک کے مایہ ناز تعلیمی اداروں میں حاصل کی اور اس کے بعد انہیں ملک کے اعلیٰ سرکاری ادارے(فوج)میں ملازمت ملی جہاں پر ترقی کے مواقع بھی تھے۔ لیکن ان کی نگاہ نے بھانپ لیا تھا کہ یہ سب مادیت ہے اور مادہ کے لیے جتنی بھی تگ و دو کی جائے ملتا پھر بھی مقدر کا ہے۔ اور بسا اوقات انسان کی ساری جدوجہد ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک محنت اور جان ماری روحانیت اور دینی ترقی پر ہے۔ اس میں حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جتنی محنت کرو گے اتنا پاؤ گے، وہاں پر محنت ضائع ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ اس لیے حضرت رحمہ اللہ نے اپنی اولاد کے لیے بھی ابتداء سے یہ دوسرا راستہ ہی اپنایا اور ان کی دینی تعلیم و تربیت پر بہت محنت و کوشش کی، دینی تعلیم اور روحانیت کو ترجیح دینے کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ ان کی دنیاوی تعلیم کی پرواہ نہیں کی۔ دینی لائن میں رہتے ہوئے ایک عالم دین کو معاشرے میں جتنی دنیاوی معلومات اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سب سے حضرت رحمہ اللہ باخبر تھے۔ اس لیے اپنی تمام اولاد کو(بشمول لڑکیوں کے)ضروری انگریزی زبان، ریاضی، معلوماتِ عامہ و دیگر تعلیمات دیں۔ لیکن امتحانات نہیں دلوائے۔
جو طلباء دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی جاری رکھتے تھے ان سے فرماتے تھے کہ دنیاوی تعلیم حرام نہیں ہے لیکن عموماً دونوں تعلیموں کو بیک وقت چلانے سے آدمی امتحان میں تو پاس ہو جاتا ہے لیکن نہ تو دنیاوی تعلیم میں کمال حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی دینی تعلیم میں کمال حاصل ہوتا ہے۔
عصری تعلیم کے بارے میں رائے
حضرت دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والوں کو فرمایا کرتے تھے:
’’ اگر دنیا کی تعلیم حاصل کرنی ہے تو اس طرح سے حاصل کرو کہ تمہاری نمایاں کارکردگی سامنے آئے۔‘‘
دینی مدارس کے وہ طلباء جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی جاری رکھتے تھے، ان پر خفگی کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا حرام نہیں، وہ بھی ملک و قوم کے لیے فائدے اور ضرورت کی چیز ہے لیکن تم نے جو بھی کام کرنا ہے تو اس طرح سے کرنا ہے کہ تمہارا کیا ہوا کام سامنے آئے کہ تم نے واقعی کام کیا ہے جبکہ عام طور سے جو طلباء دونوں جانبوں کو اکٹھے چلا تے ہیں، ’’اس طریقے سے نہ تو ان کی دینی تعلیم کے اندر نمایاں کارکردگی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے واقعی کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی دنیاوی تعلیم کے اندر کوئی نمایاں کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔‘‘ اس بنیاد پر حضرت رحمہ اللہ دونوں تعلیمات بیک وقت حاصل کرنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھے اور خاص کر دینی تعلیم میں لگے ہوئے طلباء کو بیک وقت دونوں تعلیم حاصل کرنے سے روکتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ ’’چونکہ معاشرے کے لیے ڈاکٹر، انجنیئراور دیگر ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر شخص باقاعدہ آٹھ سالہ مدرسہ کی تعلیم حاصل کرے، ساتھ وہ ڈاکٹر اور انجنیئر بھی بنے بلکہ اگر کوئی ڈاکٹر اور انجنیئر بننا چاہتاہے اور اس نے اسی فیلڈ کو اپنانا ہے اور اسی حوالے سے کام کرنا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نیک مسلمان بنے اور اس کی روز مرہ کی جو دینی ضروریات ہیںخواہ وہ عقائد سے متعلق ہوں یا عبادات سے یا معاملات سے یا اخلاقیات سے متعلق ہوں اس کے بارے اسے معتدبہ علم ہونا چاہیے، تاکہ وہ اپنی زندگی دین کے مطابق گذار سکے۔‘‘ اور جو شخص دینی علوم میں مرجع بننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ دیگر مشغولیتوں سے گریز کرے۔
ایک دفعہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان، لاہور تشریف لائے تو ہمارے گھر بھی تشریف لائے اور دونوں حضرات کے مابین کافی دیر گفتگو رہی۔ اس وقت حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان کے دورے سے واپس آئے تھے، وہ طالبان کا دور تھا، طالبان کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقات کے بعد حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کے سامنے یہ بات کھلی کہ طالبان کو دنیاوی نظام اور مملکت کا نظام چلانے کے لیے دنیاوی پیشہ وارانہ تعلیم یافتہ لوگوں کے نہ ہونے کی وجہ سے خاصی دشواری پیش آرہی ہے۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ یہ ذہن لے کر آئے کہ ہمارے مدارس کے طلباء کو ڈاکٹر، انجنیئر اور اس طرح کی مختلف فیلڈز کے اندر تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ ایک ملک کا نظام چلانے کے لیے دینی طبقے کو مشکلات پیش نہ آئیں۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے جب یہ بات ذکر کی، تو حضرت ڈاکٹر صاحب کچھ دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے حضرت رحمہ اللہ سے یہ عرض کیا:
’’بجائے اس کے کہ مدرسہ کے طالب علموں کو ڈاکٹر، اور انجنیئر بنایا جائے، ایسا کیوں نہ کر لیا جائے کہ انجنیئروں اور ڈاکٹروں کو ہی مسلمان کر لیا جائے‘‘۔
حضرت رحمہ اللہ کی رائے یہ تھی کہ اولاً تو مدارس کے طلباء کی تعداد عوام کے اعتبار سے بہت تھوڑی ہوتی ہے، عوام کی جتنی تعداد ہے اس کے تناسب سے دینی تعلیم حاصل کرنے والے بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں، اگر وہ طلباء صحیح طرح سے دینی تعلیم حاصل کریں اور پھر اس کے بعد کام کریں تو عوام کی دینی ضرورت پھر بھی پوری نہیں ہو سکتی، چہ جائے کہ تعداد ہی تھوڑی ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ مدارس میں آنے والے طلباء میں سے بھی جو پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور جذبے اور لگن سے پڑھتے ہیں ان کی تعداد بھی کم ہوتی ہے تو فارغ ہونے والے وہ طلباء جن سے ہم دینی علوم میں مرجع بننے کی کوئی امید وابستہ کر سکتے ہیں کہ یہ طلباء آگے چل کر کوئی نمایاں دینی کام کر سکتے ہیں تو کیا ہم انہیں بھی دنیاوی اور مادیت کی تعلیم دے کر دنیا ہی میں کھپا دیں، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔
طالبان کی جو مشکلات تھیں ان سے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے اتفاق کرتے ہوئے یہ تجویز رکھی کہ جو ڈاکٹر اور انجنیئر ہوں ان پر محنت کی جائے کہ وہ لوگ بھی دین کا درد رکھنے والے بنیں، ان میں بھی دین کا شعور بیدار ہو، اور وہ دین کے تقاضوں کو سمجھیں، اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو کر ایک اچھے معاشرے کی تکمیل میں اپنا نمایاں حصہ ڈالیں۔
اس بنیاد پر ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ حضرت رحمہ اللہ جو کہ خود اعلیٰ دنیاوی تعلیم یافتہ شخص تھے اور انہوں نے اعلیٰ دینی تعلیم بھی حاصل کی، ان کی رائے اس حوالے سے ایک فیصلہ کن رائے ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کو بیک وقت دو تعلیمیں حاصل نہیں کرنی چاہئیں۔
ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایک عالم نے ذکر کیا کہ وہ ایم بی بی ایس کر رہے تھے، ایم بی بی ایس کی تکمیل کے مراحل میں تھے کہ ان کو شوق ہوا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں چنانچہ انہوں نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایم بی بی ایس کو خیر باد کہہ دیا اور اس کو مکمل نہ کیا۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس کو بھی ناپسند کیا اور فرمایا کہ ’’آپ کو چاہیے تھا کہ جب اتنی تگ و دو اور محنت کرنے کے بعد دنیاوی لحاظ سے ایک مقام پر پہنچ گئے تو آپ اسے مکمل کر لیتے‘‘۔ آپ کی تعلیم ایک کونے پرلگ جاتی، پھر اس کے بعد آپ دینی تعلیم حاصل کرتے۔ کیونکہ کبھی بھی کسی شخص کے ساتھ حالات یکساں نہیںرہتے، ضروری نہیں کہ ایک انسان دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں دینی تعلیم کی اہمیت سامنے رکھتے ہوئے آج قربانی دے رہا ہے تو ہمیشہ قربانی دیتا رہے گا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ زندگی میں اگر اس پر مسائل اور حالات آئیں تو اسے دنیاوی تعلیم چھوڑ کر دینی تعلیم میں لگنے پر افسوس ہونے لگ جائے جو کہ بڑی محرومی کی بات ہے۔ نیز کسی کام کو بغیر کسی شدید مجبوری کے ادھورا چھوڑنا بھی کوئی اچھا رویہ نہیں ہے۔ جب ایک کام شروع کیا ہے تو اسے پورا کرنا چاہیے۔
پھر پنکچر لگانا بھی سیکھو
اوپر یہ بات گذر چکی ہے کہ حضرت رحمہ اللہ بیک وقت دو تعلیموں کو ناپسند کرتے تھے اس حوالے سے مزید دو واقعات قابل ذکر ہیں جو دینی مدارس کے طلباء کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے پہلا واقعہ یہ ہے کہ مجھے شوق ہوا کہ میں کمپیوٹر خریدوں، حضرت رحمہ اللہ نے شروع سے میری ترتیب یہ رکھی تھی کہ مجھے ہاتھ میں بالکل واجبی سے پیسے دیتے تھے اور ان کا حکم یہ تھا کہ جس چیز کی ضرورت ہو اس کے پیسے بتا کر لے لو، حتیٰ کہ یہ بھی فرماتے تھے کہ سائیکل میں ہوا بھی بھروانی ہو تو اس کے پیسے بھی بتا کر لے لو، یوں پیسے نہیں دیتے تھے۔ تو میں نے حضرت رحمہ اللہ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت رحمہ اللہ نے فوراً پوچھا کہ ’’کیا ضرورت ہے؟‘‘ (یہ حضرت رحمہ اللہ کا مخصوص سوال ہوتا تھا، کیونکہ حضرت رحمہ اللہ دنیاوی چیزوں کو بلاوجہ یا دنیاوی کسی بھی کام کو بلاوجہ کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔)میں نے اپنے ذہن میں پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ میں یہ عرض کروں گا کہ کام آجاتا ہے، میں کمپوزنگ سیکھنا چاہتا ہوں، کمپوزنگ کی آگے ضرورت پڑ سکتی ہے جیسا کہ دینی کتابیں بھی کمپوز ہو رہی ہیں۔
میں نے عرض کیا میں کمپوزنگ سیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے کہا کہ ’’کمپوزنگ سیکھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ آگے چل کے کام آئی گی۔ تو حضرت نے بے ساختہ فرمایا کہ ’’پھر پنکچر لگانا بھی سیکھ لو، آگے چل کے کام آئے گا‘‘۔(حضرت رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ بعد کمپیوٹر دلوا بھی دیا لیکن)اس وقت ذہن کے اندر ایک بڑا عقدہ حل کر دیا کہ اگر اس بنیاد پر دنیاوی فنون کو سیکھنا ہے اور دنیاوی تعلیم کو حاصل کرنا ہے کہ آگے چل کر کام آئے گی تو ہر چیز سیکھو، اس میں یہ تفریق کرنا کیسا؟ کہ صرف ڈاکٹر بنو انجنیئر کیوں نہ بنو اور دنیا کی تمام تعلیمات کیوں نہ حاصل کرو۔ مقصد یہ تھا کہ اپنی زندگی میں پہلے یہ طے کرو کہ تم نے کرنا کیا ہے پھر اس کے لیے جو مفید ہے یا اس مقصد کے لیے جو معاون ہے وہ کرتے جاؤ اور جو مغائر ہے وہ چھوڑتے جاؤ بھلے وہ کتنا ہی مفید کیوں نہ ہو۔ ہر مفید کام کرنا تو کوئی دانشمندی نہیں۔
توکل علی اللہ
دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ ہومیوپیتھک کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کافی چھوٹ تھی حتیٰ کہ وہ لڑکے بھی ہومیوپیتھک کی تعلیم حاصل کر سکتے تھے جن کی میٹرک کی تعلیم بھی نہ ہو۔ میرا موقوف علیہ کا سال تھا میرے مہربان دوست ڈاکٹر امجد صاحب(جو حضرت قاری عبدالرشید صاحب رحمہ اللہ کے داماد بھی ہیں)انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ بہت جلد قانون آنے لگا ہے کہ آئندہ ہومیوپیتھک کی تعلیم وہی حاصل کر سکے گا جس نے سائنس کے اندر ایف ایس سی کر رکھی ہو۔ تو تمہیں چاہیے کہ تم میرے سے اردو میں کچھ کتابیں پڑھ لو اور فوراً دو سالوں کے ہومیوپیتھی کے امتحان دے لو اور اس کے بعد پھر تم ہومیوپیتھی کو موقوف کر دینا یا تھوڑا تھوڑا کر کے امتحان دے لینا، اس طرح تم ہومیوپیتھک کی تعلیم حاصل کر سکو گے، تاکہ دورہ اور تخصص سے فراغت کے بعد تمہیں دنیاوی اعتبار سے زیادہ مشکلات نہ ہوں اور تمہارے ہاتھ میں کوئی ہنر ہو۔ میں نے کتابیں دیکھیں، کتابیں کوئی مشکل نہیں تھیں۔ میں نے حضرت رحمہ اللہ سے اجازت مانگی، حضرت رحمہ اللہ نے دو وجوہات کی بناء پر اجازت نہیں دی۔ ایک وجہ تو پہلے گذر چکی ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کو پسند نہیں تھا کہ دنیا کا کوئی بھی کام یا دنیاوی تعلیم حاصل کی جائے تو اس طرح کی جائے کہ محض خانہ پری کے لیے کی جائے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی جب میں تمہاری معاش کی ذمہ داری لیے ہوئے ہوں اور میں آئندہ کے لیے بھی فکرمند ہوں تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ تم ابھی سے معاش کی فکر کرو۔ اور یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ جو شخص دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے معاش کے لیے اس کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہو۔ دیگر ذرائع سے اس کی معاشی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں؟ یعنی اگر کوئی شخص دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو کیا اس کے لیے صرف یہی ذریعہ رہ گیا کہ کل کو کوئی سرکاری ملازمت ملے گی تو اس کی معاشی ضروریات پوری ہوں گی کسی اور طریقہ سے پوری نہیں ہوں گی۔ یا اس کی گذر اوقات کسی کاروبار سے ہی ہو گی؟ کسی اور طریقے سے نہیں ہو سکتی؟ جب اس شخص نے آج تک اللہ پر توکل کیا ہے تو اسے آئندہ بھی اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ اگر کسی کے والدین اس کی موجودہ ضروریات کی ذمہ داری لے کر اس کو دینی تعلیم دلوا رہے ہوں تو اس شخص کو توکل چھوڑنا نہیں چاہیے اور اس کے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ایسا کام ڈھونڈیں کہ جس میں بچے کو دینی تعلیم دلوانے میں ان کے خرچ کیے ہوئے پیسے اور وقت کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہو سکے اور ان کے بچے کی آئندہ کی معاشی ضروریات بھی احسن طریقے سے پوری ہو سکیں۔
تادیب و تنبیہ
تعلیم کے دوران مارپیٹ میں حضرت رحمہ اللہ صرف تادیب کے قائل تھے جبکہ ضرب شدید نہ ہو اور وہ بھی اس وقت کہ جب بچہ نابالغ ہو۔ ورنہ حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ عالم بننا کونسا فرض ہے کہ جس کے لیے مارا جائے۔ اس لیے بندہ کے علاوہ شاید ہی کوئی طالب علم ہو جس نے حضرت رحمہ اللہ سے مار کھائی ہو۔
بندہ کی حفظ کے زمانے میں حضرت رحمہ اللہ کے ہاتھوں بہت شامت آئی ہے لیکن کبھی تکلیف، نیل پڑنا وغیرہ یاد نہیں ہے حضرت رحمہ اللہ کی مار کی آواز زیادہ ہوتی تھی جس سے رعب طاری ہوتا تھا لیکن تکلیف نہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ پٹائی کے دوران حضرت رحمہ اللہ میری کمر پر دھپہ لگانا چاہ رہے تھے جو میرے ہٹ جانے کی وجہ سے بجائے کمر کے کوکھ میں آلگا، درد تو کوئی خاص نہ تھا لیکن غیر ارادی طور پر میری آہ ایک دم زیادہ زور سے نکل گئی۔ حضرت رحمہ اللہ نے فوراً میری کوکھ سہلانی شروع کر دی اور ساتھ میں مسلسل ’’ائے ہئے، ائے ہئے‘‘ کہے جاتے تھے اور ان کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ ان کے اس طرح پریشان ہونے کی وجہ سے آئندہ میری کوشش ہوتی تھی کہ مار کے دوران حضرت کا نشانہ خطاء جائے کچھ عرصہ بعد میں اس میں کامیاب بھی ہو گیا، پھر دوبارہ وہی معاملہ پیش آیا، اس بار میری جزع فزع بھی جان بوجھ کر زیادہ تھی۔ اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے مارنا کم کر دیا تھا۔
گھر کی تعلیم کا اہتمام
تعلیم کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے مرض وفات میں کچھ ہدایات دیں، جن کے اوپر حضرت رحمہ اللہ نے مکرر تاکید کی۔ ان میں سے ایک ہدایت حضرت رحمہ اللہ نے مرض وفات سے قبل کی تھی لیکن مرض وفات میں اس کا داعیہ شدید تھا وہ یہ تھی کہ گھر میں بچوں کے لیے اپنی تعلیم و تربیت کا حلقہ لگاؤ، اس میں ان کے مناسب حال کوئی نہ کوئی کتاب پڑھو چاہے وہ ’’فہم دین کورس‘‘ میں سے ہو، فضائل اعمال ہو یا کوئی اور کتاب ہو جس سے بچوں کے اندر دین کا شوق اور جذبہ بیدار ہو، اور اس کا خوب اہتمام کرو۔ حضرت رحمہ اللہ اس حوالے سے وقتاً فوقتاً مجھ سے پوچھتے بھی رہتے تھے کہ تعلیم کر رہے ہو یا نہیں؟
بچوں کو خود تعلیم دو
دوسری اہم بات حضرت رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمائی کہ آئندہ اگر چاہتے ہو کہ تمہارے بچے کوئی تعلیم حاصل کریں تو تم کسی پر انحصار نہیں کر سکتے، جو بھی تعلیم دینی ہے وہ سمجھو کہ تمہیں خود ہی دینی پڑے گی کسی کے اوپر چھوڑ دو کہ وہ کرا دے گا(یعنی کسی سکول میں داخل کرا دیا، یا کسی مدرسے میں داخل کرا دیا)پھر بے فکر ہو جاؤ، اب ایسا نہیں ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس بات پر بہت زور دیا کہ آئندہ اپنے بچوں کے لیے تعلیم کا خود بندوبست کرو۔ شاید حضرت رحمہ اللہ کے پیش نظر یہ ہو کہ مخلص، محنتی اور سلیقہ مند مدرس حضرات عنقاء ہوتے جارہے ہیں۔
اخلاقیات میں سختی کرو
بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے حوالے سے یہ بھی بات فرمایا کرتے تھے کہ ان سے پوچھ گچھ کرو، یعنی ان سے بار بار پوچھو، ان کو جو تعلیم دلا رہے ہو اس کے بارے میں پوچھو، اس کے ساتھ ساتھ حضرت رحمہ اللہ نے ایک نکتہ کی بات یہ بھی فرمائی کہ جب بچوں کی دارو گیر کرنی ہو تو بدتمیزی کو برداشت نہ کرو لیکن پڑھائی پر داروگیر نہ کرو ،وہ نہیں پڑھتے، کمی دکھاتے ہیں تو اس پر ہرگز کوئی پکڑ نہ کرو ان کو چھوڑ دو۔ اس پر حضرت رحمہ اللہ نے کافی زور دیا کہ بدتمیزی کی بالکل اجازت نہ دو اور اس پر ان کی سخت داروگیر کرو ، باقی کسی بات پر خصوصاً نہ پڑھنے پر، چھٹی کرنے پر، تاخیر کرنے پر کچھ نہ کہو۔