فہم دین کورس
تعارف
خواتین و حضرات!آپ کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو یا آپ ابھی طالب علم ہوں، دین کے صحیح علم و فہم سے آپ بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ اس کا حصول آپ کا دینی فریضہ بھی ہے اور آپ کی فطری پیاس بھی۔ جامعہ مدنیہ لاہور کے ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب(ایم بی بی ایس)نے آپ کی اس دینی اور فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فہم دین کے نام سے اردو میں ایک مستند علمی معیار کا حامل اور جامع،لیکن مختصر کورس مرتب کیا ہے۔ اس سے آپ کے بہت سے اشکالات حل ہوں گے، بہت سی الجھنیں دور ہوں گی اور اس میں آپ کو اپنے بہت سے سوالات کا جواب ملے گا۔ اس کورس کے دو درجے ہیں:
1- درجہ عام (O'Level)
اس زمانہ کے حالات کے اعتبار سے اس درجہ کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ضروری ہے۔ یہ درجہ مندرجہ ذیل تین کتابوں پر مشتمل ہے:
اس کتاب کے تمام مندرجات قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ مزین ہیں۔ چند مندرجات کے عنوان یہ ہیں:
- 1 وجود باری تعالیٰ پر قرآن کا طریق استدلال
- 2 اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ اور صفات فعلیہ
- 3 اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات کا تفصیلی بیان
- 4 خیر و شر دونوں کے ساتھ ارادہِ خداوندی کا تعلق ہے
- 5 عالم و کائنات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تعلق
- 6 صفاتِ متشابہات
- 7اللہ تعالیٰ کی تنزیہات
- 8 وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت
- 9نبوت و رسالت
- 10عصمت انبیاء علیہم السلام
- 11ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کا رد
- 12معجزات یا دلائل نبوت
- 13حضرت محمد ا کے امتیازات اور ختم نبوت
- 14عقیدۂ حیات النبیا
- 15بدعتیوں کا نبی ا کی شان میں غلو اور اس کا جواب
- 16فرشتوں کا بیان
- 17کتب الٰہیہ کا بیان
- 18جنات کا بیان
- 19علامات قیامت
- 20قیامت کے احوال اور جنت و دوزخ
- 21قبر میں عذاب و راحت اور فرشتوں کا سوال ثابت ہے
- 22تقدیر کا بیان اور پیدا ہونے والے اشکالات کا جواب
- 23صحابہ کرامؓ سے متعلق عقائد کا بیان
- 24امامت و خلافت
- 25ایمان اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
- 26شرک اور اس کی اقسام کا بیان
قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ بیان کئے گئے اس کے مباحث یہ ہیں:
- 1 مباحث وحی
- 2 اصول تفسیر
- 3اصول حدیث و سنت
- 4اجماع امت
- 5قیاس
- 6علم فقہ کس کو کہتے ہیں
- 7علم اصول فقہ کا تعارف
- 8چند قواعد فقہیہ
- 9اجتہاداور تقلید کے اصول
- 10اصول سنت و بدعت
- 11اصول ایمان و کفر
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی یہ کتاب نئی ترتیب اور بہت سے مفید اضافوں کے بعد مسائل کی جامع کتاب ہے۔ جس میں طہارت اور عبادات کے مسائل کے علاوہ ازدواجی مسائل، معاملات ، حدود و قصاص اور وصیت و میراث کے بہت سے ضروری مسائل ہیں۔ جدید دور کے مسائل میں سے چند ایک یہ ہیں:
- 1پوسٹ مارٹم
- 2انسانی اعضاء کی پیوند کاری
- 3سرکاری بینکوں سے زکوۃ کی سرکاری کٹوتی
- 4روزہ ٹوٹنے نہ ٹوٹنے کا معیار
- 5ٹیلی فون پر نکاح
- 6ضبط ولادت
- 7تولید کے جدید طریقے
- 8انسانی دودھ کا بینک
- 9عدالتی خلع
- 10حلال و حرام کا ضابطہ
- 11شیئرز(حصص)
- 12حقوق(Rights)کی اقسام اور اُن کی بیع
- 13غیر سودی بینکاری
- 14مختلف کرنسیوں کا تبادلہ
- 15انعامی بانڈ اور مروہ بیمہ کی شکلیں
ان کے علاوہ عام روز مرہ کے یہ مسائل بھی ہیں:
- 1نشہ کی چیزوں کا بیان
- 2کمائی کی اقسام
- 3تصویر و مجسمہ کے احکام
- 4کافروں اور فاسقوں کے ساتھ مشابہت کرنے کے احکام
- 5لباس اور زیورات کے احکام
- 6حجاب کے مسائل
- 7علاج معالجہ اور عملیات و تعویذ کے احکام
- 8بدعات
- 9رشوت لینے دینے کے مسائل
- 10جوئے کے مسائل
- 11سلام، مصافحہ اورمعانقہ کے مسائل
- 12کھیل اور تفریح کے مسائل
2- درجہ اعلیٰ: (A, Level)
درجہ عام کے بعد اس درجہ کی کتابیں پڑھ لیں تو اُردو میں دینیات کا کورس مکمل ہو جائے گا۔ اس درجہ میں دو کتابیں ہیں:
اس کتاب کا بنیادی ماخذ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ ہے۔ ترجمہ علیحدہ لکھا گیا ہے جس میں الفاظ کی رعایت کی گئی ہے تاکہ لفظی ترجمہ کے شوقین حضرات اس سے استفادہ کر سکیں۔ تفسیر کو رواں انداز میں لکھا گیا ہے، نمبر وار حاشیہ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ آیات کے درمیان ربط کو واضح کیا گیا ہے اور پیدا ہونے والے اشکالات کو حل کیا گیا ہے۔ پہلی جلد سوا پانچ پاروں پر مشتمل ہے اور دوسری جلد سورۂ ھود تک مشتمل ہے، دونوں جلدیں چھپ کر بازار میں دستیاب ہیں۔ باقی حصے بھی ان شاء اللہ کچھ عرصے میں دستیاب ہوں گے۔
ہر موضوع کی احادیث پر مشتمل مجموعہ جو تین جلدوں میں دستیاب ہے۔ حدیثیں با حوالہ ہیں، ان پر اعراب لگائے گئے ہیں اور ترجمہ و تشریحی نوٹ میں بریکٹ کے ذریعے امتیاز کیا گیا ہے۔
یہ مجموعہ اس قابل ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے طلباء و طالبات اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ آسان مثبت انداز کے حامل اور مختصر ہونے کے علاوہ علمی معیار برقرار ہے اور اس کے اہم مباحث بھی قابل دید ہیں۔
- جلد اول:عقائد، شمائل، حقوق و اخلاق وغیرہ
- جلد دوم:عبادات
- جلد سوم:معاملات(نکاح تا میراث)