(امداد الاحکام جلد اول میں’’نہایۃ الادراک فی اقسام الاشراک‘‘ کے نام سے ایک مضمون ہے جو اگرچہ بہت وقیع ہے لیکن اس سے صحیح فائدہ اہل علم ہی اٹھا سکتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس مضمون کو موزوں ترتیب دے کر اور ضروری وضاحتیں کر کے عام فہم کر دیا جائے تاکہ کسی کی تکفیر کرنے میں غلو و مبالغہ نہ کیا جائے۔
قرآن پاک میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ (بلاشبہ اللہ اس کو معاف نہیں کریں گے کہ ان کے ساتھ شرک کیا جائے) سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرک کی کیا حقیقت ہے ؟ اور آیا شرک کے کچھ درجے بھی ہیں کہ ان میں سے کسی پر بالکل نجات نہ ہو اور کسی درجہ میں نجات ہو سکتی ہو ؟)۔
اس کا بیان یہ ہے کہ شرک کے دو درجے ہیں۔ایک اللہ تعالیٰ کی الوہیت یعنی خدائی میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ دوسرے خدائی میں تو شریک نہ ٹھہرائے لیکن کچھ چیزیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہونا قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہے ان میں دوسرے کو شریک کرنا۔پہلے درجہ کا شرک تو کبھی بھی معاف نہ ہو گا کیونکہ وہ حقیقی شرک ہے کہ خدا کی خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے اور چونکہ اس کے مرتکب نے خدا کو اس طرح نہیں مانا جیسے ماننا چاہئے تھا اس لئے یہ خدا کو نہ ماننے کے مترادف ہوا اور یہ شخص کافر ٹھہرا۔ اس درجہ کو ہم کفریہ شرک کا نام دیتے ہیں۔
دوسرے درجہ میں چونکہ حقیقتاً خدائی میں شریک نہیں ٹھہرایا اس لئے اس کا مرتکب کافر نہیں اور اس کو دائمی عذاب نہ ہو گا لیکن چونکہ شرک تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصیات میں شریک ٹھہرایا ہے لہذا اس کے دو اثر ہوں گے۔ ایک تو اس کا مرتکب اہل سنت و الجماعت سے خارج ہو گا کیونکہ اس نے ان کے خلاف عقیدہ اختیار کیا ہے۔ دوسرے آیت اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ کے بموجب اگر توبہ کئے بغیر مر گیا تو اس کو اس پر سزا ضرور ہو گی لیکن دائمی نہیں ہو گی اور بالآخر نجات ہو جائے گی۔ اس درجہ کو ہم فسقیہ شرک کا نام دیتے ہیں۔ آگے ان دو درجوں کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔
شرک کا پہلا درجہ:کفریہ شرک
اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں:
-1 اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرایا جائے مثلا دو یا زائد خدا ماننا جیسے عیسائی یا مجوسی مانتے ہیں۔
-2 جوصفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ان میں کسی کو شریک ٹھہرانا مثلاً:
-i اللہ تعالیٰ کی صفت علم غیب میں شریک ٹھہرانا
یعنی کسی بندے کے لئے وہ صلاحیت ماننا جس سے وہ کسی بھی بات کو کسی بھی واسطہ اور ذریعہ کے بغیر جان سکے پھر خواہ یہ عقیدہ ہو کہ اس بندے کو وہ صلاحیت از خود حاصل ہے یا اللہ تعالیٰ کی عطا سے حاصل ہے۔
-ii اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت و تصرف میں شریک ٹھہرانا
ا۔ یہ عقیدہ ہو کہ کسی مخلوق کو نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت ازخود حاصل ہے۔
ب۔ یا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی خاص مقرب بندے کو نفع و ضرر پہنچانے کی مستقل قدرت عطا فرما دی ہے اور وہ مقرب اپنے معتقد یا مخالف کو نفع یا ضرر پہنچا سکتا ہے اس طرح سے کہ کوئی سا بھی نفع یا ضرر پہنچانے میں وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت کا محتاج نہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ روکنا چاہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت غالب ہو گی جیسے کوئی حاکم اعلیٰ اپنے نائبین کو خاص اختیارات اس طرح دے دیتا ہے کہ ان کے اجراء کے وقت حاکم اعلی کی منظوری نہیں لی جاتی اگرچہ حاکم اعلیٰ روکنا چاہے تو پھر اسی کا حکم غالب رہے گا۔
-iii اللہ تعالیٰ کی صفت معبودیت میں شریک ٹھہرانا
معبود کہتے ہیں مستحق عبادت کو اور عبادت سے مراد ہے کسی کو انتہائی درجہ کی تعظیم کے قابل سمجھتے ہوئے اس کے سامنے انتہائی درجہ کی عاجزی و ذلت اختیار کرنا۔ اس میں شریک ٹھہرانے کی صورتیں یہ ہیں۔
ا۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرح کا انتہائی قابل تعظیم سمجھتے ہوئے اس کے سامنے رکوع و سجود جیسے افعال کرنا جو کہ انتہائی تذلل و عاجزی کے افعال ہیں۔
ب۔ جس چیز کی عبادت کافروں میں رائج ہو اور اس کی ذات میں فی الواقع تعظیم کا کوئی پہلو نہ ہو مثلاً بت ، صلیب ، پیپل کا درخت اور آگ ،سورج وغیرہ۔ جب کوئی مسلمان ایسی کسی چیز کو سجدہ کرے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اس کی عبادت کر رہا ہے محض تعظیم نہیں کر رہا (کیونکہ اس کی ذات میں فی الواقع تعظیم کا کوئی بھی پہلو نہیں ہے) اور ہم انسان اس کو مشرک و کافر سمجھنے پر مجبور ہوں گے۔ البتہ اگر کسی سجدہ کرنے والے کی قلبی تصدیق اور ایمان میں فی الواقع خلل نہ ہوا ہو اور اس نے عبادت کے طور پرنہیں محض لوگوں کی دیکھا دیکھی یا کسی اور حماقت سے سجدہ کر دیا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی مشرک اور کافر نہ ہو گا بلکہ محض فسقیہ شرک کا مرتکب قرار پائے گا۔
ج۔ کسی غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے اس غیر اللہ کا نام لے کر جانور کر ذبح کرے تو یہ بھی کفر ہے۔
شرک کا دوسرا درجہ: فسقیہ شرک
اس کی یہ صورتیں ہیں۔
-1 کسی بھی بندے کے لئے ان مغیبات کا علم اللہ تعالیٰ کی عطا سے ماننا جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کو نہیں جانتا مثلاً یہ علم کہ قیامت کب واقع ہو گی۔
-2 کسی بندے میں تصرف و قدرت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور یہ بھی عقیدہ ہو کہ اس بندے کا کوئی بھی ضرر یا نفع پہنچانا اس حالت میں ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص اس ضرر یا نفع پہنچانے کے ارادے اور مشیت پر موقوف ہے۔
-3 رکوع سجدہ وغیرہ افعال عبادت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مخلوق کی تعظیم کے لئے بھی ان کا ہونا ثابت ہے مثلاً قرآن پاک میں ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے سجدہ کیا جو تعظیم کے لئے تھا۔ ہماری شریعت میں کسی مخلوق کے لئے تعظیم کے طور پر بھی سجدہ کرنا بلکہ رکوع کی حد تک جھکنا بھی منع ہے ۔ اس لئے کسی مخلوق کو سجدہ وغیرہ کرنا محض ظاہر تعظیم کے طور پر ہو عبادت کے طور پر نہ ہو جیسے کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ فلاں بزرگ کو مستقل قدرت تو حاصل نہیں البتہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں قرب و قبولیت کا درجہ ملا ہوا ہے اور یہ بزرگ اپنے متوسلین کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں محض سفارش کرتے ہیں اور نفع و ضرر صرف اللہ تعالیٰ ہی پہنچاتے ہیں لیکن ان کی سفارش کبھی رد نہیں ہوتی اور اس سفارش کو حاصل کرنے کے لئے اس بزرگ کی تعظیم کے لئے یہ افعال کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اس سے برتر سمجھتے ہیں۔
-ii اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جانور کو ذبح کیا لیکن کسی بزرگ کی تعظیم کے لئے تاکہ ان بزرگ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش حاصل ہو سکے۔ یہ فسقیہ شرک ہے اور اس سے جانور حرام ہو جائے گا۔
-iii کسی امیر یا بڑے آدمی کے آنے پر اسکی تعظیم کے اظہار کے طور پر جانور ذبح کرنے کا عمل کرنا اگرچہ ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو۔ اس سے بھی جانور حرام ہو جاتا ہے۔
کسی مہمان کے آنے پر اس کے اکرام کی خاطر جانور ذبح کر کے اس کا گوشت پکاناشرک نہیں ہے۔
-4 غیر اللہ کے نام کی نذر و منت کے طور پر بزرگوں کے مزارات پر چڑھاوے چڑھانا جب کہ اس بزرگ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں محض سفارشی سمجھے۔