بعض حضرات عذاب قبر کے انکار کرنے والی کی علی الاطلاق تکفیر کوجائز کہتے ہیں۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں۔
۱۔ عذابِ قبر اور ضروریاتِ دین سے استدلال
عذاب قبر ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین کا انکار کرنے والے کی تکفیر مطلق جائز ہے اور اس کے ضروریات دین میں سے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
(جیسا کہ عقائد و کلام کی کتابوں میں مشہور ہے ضروریات دین سے وہ تمام قطعی اور یقینی امور دین مراد ہیں جن کا دین رسول اللہ ﷺ سے ہونا قطعی طور پر معلوم ہے اور حد تواتر و شہرت عام تک پہنچ چکا ہے حتی کہ عوام بھی ان کو دین رسول اللہ جانتے اور مانتے ہیں مثلاً توحید، نبوت، خاتم انبیاء پر نبوت کا ختم ہونا… اور مر کر دوبارہ زندہ ہونا اور جزا و سزا اور نماز و زکوۃ کا فرض ہونا اور شراب کا حرام ہونا وغیرہ…
ہو سکتا ہے کہ ایک حدیث حد تواتر کو پہنچ چکی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے اس کا ثبوت یقینی اور لابدی ہو لیکن اس حدیث میں جو حکم مذکور ہو وہ عقلی اعتبار سے محل نظر و فکر ہو اور یقینی طور پر اس کی مراد متعین نہ کی جا سکے جیسا کہ عذاب قبر کی حدیث کہ رسول اللہ سے ثبوت کے اعتبار سے تو یہ حدیث متواتر اور شہرت کو پہنچ چکی ہو مگر اس عذاب قبر کی کیفیت کو متعین کرنا دشوار ہے۔)
-ii علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ یہ بھی لکھتے ہیں۔
(اور اگر کوئی ایسی بات ہے جس کو سمجھنا اور سمجھانا دشوار ہو مثلاتقدیر کا مسئلہ اور عذاب قبر اور استواء علی العرش اور آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول وغیرہ جیسے متشابہات اور امور الہیہ۔ اگر یہ امور حد شہرت و تواتر کو پہنچ جائیں تو جو شخص ان سے واقف ہونے کے بعد سرے سے ان کا انکار کرے تو بلا تردد ہم اس کو کافر کہیں گے اور اگر بالکل انکار نہیں کرتا بلکہ ان کی کیفیت کی تحقیق میں ایک کیفیت کو مانتا ہے (جو اگرچہ اہل حق کے نزدیک باطل ہو) اور دوسری کی نفی کرتا ہے تو ہم اس کو معذور سمجھیں گے۔)
۲۔ فقہاء اور متکلمین کی عبارات اور فتاویٰ
-i خلاصۃ الفتاوی (ص 149 ج) میں ہے
-ii فتح القدیر میں ہے
-iii عبدالشکور سالمی کی تمہید (ص 125) میں ہے
-iv رسائل بحر العلوم (ص 99) میں ہے۔
۳۔ مؤلف کا تحقیقی موقف: قطعی الثبوت بمقابلہ بدیہی الثبوت
ان بعض حضرات کے برخلاف ہم کہتے ہیں کہ عذاب قبر کا ثبوت قطعی اور یقینی تو ہے لیکن بدیہی نہیں ہے یعنی وہ ضروریات دین میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا عذاب قبر کا انکار اگرچہ فی نفسہ کفر کی بات ہے لیکن اس کے منکر کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور جہاں کہیں علماء و فقہاء نے عذاب قبر کے منکر کو کافر کہا ہے تو اس سے فقط یہی مراد ہے کہ یہ انکار کفر ہے۔ دیکھئے
فتح القدیر میں ہے۔
واعلم ان الحکم بکفر من ذکرنا من اھل الاھواء مع ما ثبت عن ابی حنیفۃ والشافعی رحمھم اللہ من عدم تکفیر اہل القبلۃ من المبتدعۃ کلھم محملہ ان ذلک المعتقد نفسہ کفر، فالقائل بہ قائل بما ہو کفر وان لم یکفر بناء علی کون قولہ ذلک عن استفراغ وسعہ مجتھدا فی طلب الحق لکن جزمھم ببطلان الصلاۃ خلفہ لا یصحح ہذا الجمع اللھم الا ان یراد بعدم الجواز خلفھم عدم الحل ای عدم حل ان یفعل و ہو لا ینافی الصحۃ والا فھو مشکل۔
(شفاعت، رویت باری تعالی، عذاب قبر اور کراما کاتبین کے منکر کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ ان امور کے رسول اللہ ﷺ سے توارث و تواتر کے ساتھ منقول ہونے کی وجہ سے ان کا منکر کافر ہے۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کی وجہ سے اس کی رویت ممکن نہیں تو وہ بدعتی ہے۔
جان لو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ سے تمام بدعتیوں کی عدم تکفیر ثابت ہونے کے باوجود مذکور اہل ہوا پر کفر کا حکم لگانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ یعنی عذاب قبر یا رویت باری تعالیٰ کے انکار کا عقیدہ بذات خود کفر ہے لہٰذا انکار کا قول کرنے والا ایسی بات کا قول کرتا ہے جو کفر ہے لیکن اس کی تکفیر اس وجہ سے نہیں کی جاتی کہ اس نے طلب حق میں کوشش کر کے یہ کہا ہے۔)
علامہ شامیؒ کا حوالہ (منحۃ الخالق)
علامہ شامی منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں۔
یہ کہنا کہ انکار کا عقیدہ بذات خود کفر ہے اس کے بارے میں حلبی کہتے ہیں کہ بدعتی فرقوں کو اسی پر محمول کرنا واجب ہے ماسوائے غالی رافضیوں کے اور ان کے ہم مثل کے کیونکہ یہ لوگ اجتہاد نہیں کرتے۔ فرمایا کہ جو یہ کہے کہ حضرت علی ص خدا ہیںیا حضرت جبریل علیہ السلام نے وحی پہنچانے میں غلطی کی تو وہ شخص محض ہوا والا بدعتی ہے… اور فقہاء وغیرہ کا کلام اس شخص کے بارے میں ہے جس نے شبہ کی وجہ سے انکار کیا ہو اگرچہ تحقیق کی رو سے اس کا انکار فی ذاتہ کفر ہو جیسے وہ شخص جو رویت باری تعالیٰ اور عذاب قبر وغیرہ کا انکار کرتا ہے۔
ابن ہمامؒ کا قولِ فیصل (التحریر)
ابن ہمام رحمہ اللہ تحریر میں قول فیصل فرماتے ہیں۔
(تیسیر التحریر: ج:4 ص18 /217 ، ردالمحتار ج:1 ص 415)
(معتزلہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کو ذات سے زائد نہیں مانتے اور جو عذاب قبر اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں اور گناہ کبیرہ کے مرتکب کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور رویت باری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ان کی جہالت اور تشبیہ ثابت کرنے والوں کا شبہ کوئی عذر نہیں ہیں کیونکہ قرآن اور سنت کے واضح دلائل موجود ہیں لیکن پھر بھی ان تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کا تمسک قرآن یا حدیث یا عقل سے ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی گواہی قبول کرنے پر سب کا اجماع و اتفاق ہے حالانکہ مسلمان کے خلاف کسی کافر کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔ رہی یہ بات کہ خطابیہ کی گواہی کیوں قبول نہیں کی جاتی تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹی گواہی دینے کو دینداری سمجھتے ہیں۔)
۴۔ نفسِ عذاب اور کیفیتِ عذاب کے فرق کا محاکمہ
مذکورہ بالا بات کے برخلاف اگر کوئی یوں کہے کہ معتزلہ پر اس وجہ سے کفر کا فتویٰ نہیں لگا کہ وہ نفس عذاب قبر کے منکر نہیں تھے بلکہ جسم کے عذاب کے منکر تھے یا کسی کیفیت کے منکر تھے تو اسکا جواب یہ ہے کہ:
-i اول تو ایسی تفصیل عقائد کی معروف کتب میں نہیں ملتی۔
-ii دوسرے اس کو انکار نہیں کہتے بلکہ تاویل کہتے ہیں یعنی عذاب قبر کی نصوص کو مان کر ان کا ایسا معنی کرنا جو جمہور اہل سنت کے معنی سے ہٹ کر ہو جب کہ تمام کتب عقائد میں اور مذکورہ بالا حوالجات میں عذاب قبر کے انکار کا ذکر ہے۔ شرح مواقف میں تو واضح طور پر ان کے انکار مطلق کو ذکر کیا ہے۔
(قبروں میں مردوں کو زندہ کرنا اور منکر نکیر کا سوال کرنا اور کافر و فاسق پر قبر کا عذاب ہونا یہ سب باتیں ہمارے نزدیک حق ہیں اور امت میں اختلاف واقع ہونے سے پہلے اسلاف امت کا ان پر اتفاق تھا۔اختلاف کے بعد بھی اکثر امت کا یہی مذہب ہے البتہ معتزلہ میں سے ضرار بن عمرو اور بشر مریسی اور اکثر متاخرین نے ان کا مطلقا انکار کیا ہے۔)
-iiiتیسرے اہل بدعت کی طرف عذاب قبر کی طرح کچھ اور قطعی الثبوت باتوں کا انکار منسوب ہے مثلاً رویت باری تعالیٰ کا اور شفاعت کا اور مرتکب کبیرہ کے اسلام پر باقی رہنے کا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی تکفیر نہیں کی جاتی۔
۵۔ عذابِ قبر کے ضروریاتِ دین ہونے کے دعوے کی تحقیق
رہا یہ دعویٰ کہ عذاب قبر ضروریات دین میں سے ہے تو یہ دعویٰ صحیح نہیں کیونکہ علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن مذکورہ بالا کی ہم تکفیر نہیں کرتے تو اس وجہ سے کہ جن امور کا وہ انکار کرتے ہیں وہ ضروریات دین میں سے نہیں ہیں۔
علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
(قولہ منا من کفرہم) ای منا معشر اہل السنۃ والجماعۃ من کفر الخوارج ای اصحاب البدع أو المراد منا معشر الحنیفۃ و افاد ان المعتمد عندنا خلافہ۔ فقد نقل فی البحر عن الخلاصۃ فروعا تدل علی کفر بعضھم ثم قال والحاصل ان المذہب عدم تکفیر احد من المخالفین فیما لیس من الاصول المعلومۃ من الدین ضرورۃ۔(رد المحتار ج:1ص 415)
(ہم اہل سنت والجماعت میں سے یا حنفیہ میں سے بعض نے خوارج یعنی بدعتیوں کی تکفیر کی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک جو معتمد قول ہے وہ عدم تکفیر کا ہے۔ بحر رائق میں خلاصہ سے چند فروع نقل کیں جو ان کے بعض کے کفر پر دلیل ہیں لیکن پھر بھی صاحب بحر نے کہا کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو امور ضروریات دین میں سے نہیں ہیں ان میں کسی کے اختلاف کرنے پر اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔)
۶۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے کلام کی تفصیلی تشریح
رہی علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی بات تو اگر غور کیا جائے تو نہ تو علامہ نے عذاب قبر کے ضروریات دین میں سے ہونے کا دعوی کیا ہے اور نہ اس کے انکار پر تکفیر کی ہے۔
حضرت رحمہ اللہ نے ضروریات دین کی جو مثالیں ذکر کیں وہ یہ ہیں۔
ان میں حضرت کشمیری رحمہ اللہ نے عذاب قبر کو شمار نہیں کیا۔
پھر آگے فرماتے ہیں کہ فقد یکون حدیث متواترا و یعلم ثبوتہ عنہ ﷺ ضرورۃ و لا بد ویکون الحکم المتضمن فیہ نظریا من حیث العقل (یعنی کبھی حدیث متواتر ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے اس کا ثبوت بدیہی ہوتا ہے اور جس حکم کو وہ متضمن ہوتی ہے عقلی اعتبار سے وہ نظری ہوتا ہے)۔
پھر آگے جو مثال دیتے ہیں وہ اس طرح دیتے ہیں کہ کحدیث عذاب القبر ثبوتہ عنہ ﷺ مستفیض و فھم کیفیۃ العذاب مشکل (جیسے عذاب قبر کی حدیث کہ وہ مشہور ہے اور عذاب قبر کی کیفیت کو سمجھنا مشکل ہے) یعنی مثال ممثل لہسے کچھ مختلف ہے۔ ممثل لہ کے بارے میں بتایا کہ اس کا حکم نظری ہے اور وہ خود متواتر بلکہ بدیہی الثبوت ہے۔ لیکن مثال کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ حکم کے نظری ہونے میں تو ممثل لہ کے موافق ہے لیکن اس کا ثبوت مشہور و مستفیض کے درجہ تک ہے یعنی قطعی الثبوت تو ہے البتہ بدیہی الثبوت نہیں۔ غرض ممثل لہ اور مثال ہر اعتبار سے موافق نہیں۔
آگے حضرت کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
(اگر کوئی ایسی بات ہے جس کا سمجھنا سمجھانا مشکل کام ہے جیسے مسئلہ قدر اور عذاب قبر اور استواء علی العرش اور آسمان دنیا کی طرف اللہ تعالیٰ کا نزول اور دیگر متشابہات اور امور الہیہ۔)
ثم تواتر و استفاض (یعنی پھر ان میں سے کوئی بات متواتر اور مشہور ہو جائے) جس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا سب امور متواتر نہیں ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول بدیہی الثبوت ہونا تو کجا نہ متواتر ہے اور نہ مشہور ہے۔
فان جحد من بلغہ ذلک الامر اصل ماجاء اکفرناہ بلا خطر (غرض مذکورہ بالا امور میں سے جس کو تواتر اور شہرت حاصل ہو جائے پھر جس شخص کو اس کا قطعی الثبوت ہونا معلوم ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اس بات کے اصل وجود کا انکار کرے تم ہم بلا خوف و خطر اس کی تکفیر کریں گے۔ (یعنی اس کے انکار کو کفر کی بات سمجھیں گے اور اس کو کافر نہیں کہیں جیسا کہ اوپر فتح القدیر اور شامی کی عبارتوں سے واضح ہوا)۔