عورت کو سربراہ حکومت بنانا جائز نہیں کیونکہ
پہلی وجہ
عورت کے لئے پردے اور حجاب کا حکم ہے جب کہ کسی ملک کی سربراہی کے لئے جو کام ضروری ہیں ان کو پردے اور حجاب میں رہتے ہوئے کرنا ممکن نہیں۔
-i لان النساء امرن بالقرار فی البیوت فکان مبنی حالھن علی الستر و الیہ اشار النبی ﷺ حیث قال کیف یفلح قوم تملکھم امرأۃ۔ (ص 405ج 1 ردالمحتار)
کیونکہ عورتوں کو گھروں میں ٹھہرنے کا حکم ہے لہٰذا ان کی حالت کا مدار پردے پر ہے۔ اسی کی طرف نبی ﷺ نے اشارہ فرمایا جب آپ نے کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جس پر عورت حکمران ہو۔
(ii) و فی الاشباہ من احکام الانثی اختار فی المسایرۃ جواز کونھا نبیَّۃ لا رسولۃ لبناء حالھن علی الستر (396ج 4 ردالمحتار)
اشباہ کے احکام الانثی میں ہے کہ (عقائد کی کتاب) مسایرہ میں اس بات کو اختیار کیا ہے کہ عورت نبی ہو سکتی ہے رسول نہیں کیونکہ عورتوں کی حالت کا مدار پردے پر ہے۔
اشباہ میں مذکور اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رسول اپنے وقت کے حاکم بھی ہوتے ہیں جب کہ نبی کے لئے حاکم ہونا ضروری نہیں۔
دوسری وجہ
عورت ناقص عقل و ناقص دین ہے۔
(الف) شرح المقاصد میں علامہ تفتازانی رحمہ اللہ عورت کی سربراہی کے خلاف دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔
والنساء ناقصات عقل و دین ممنوعات عن الخروج الی مشاہد الحکم و معارک الحرب۔
عورتیں عقل و دین میں ناقص ہیں اور حکم کے مواقع اور جنگ کے معرکوں کی طرف ان کا نکلنا منع ہے۔
(ب) والمرء ۃ تقضی فی غیر حد و قود و ان أثم المولی لھا لخبر البخاری لن یفلح قوم و لوا امرھم امرأۃ۔
حدود اور قصاص کے علاوہ دیگر مقدمات میں عورت فیصلہ دے سکتی ہے اگرچہ اس کو قاضی و جج مقرر کرنے والا گناہ گار ہے کیونکہ بخاری کی حدیث ہے کہ وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پا سکتی جو کسی عورت کو اپنا حکمران بنا لے۔
عورت کی سربراہی کے خلاف مذکورہ دو وجہوں میں سے جہاں تک پہلی وجہ کا تعلق ہے تووہ تو واضح ہے کسی بیان کی ضرورت نہیں۔
رہی دوسری وجہ تو اس بارے میں حدیث نبوی ما رأیت من ناقصات عقل و دین … الخ بطوردلیل کے کافی ہے اور اگرچہ فرمان نبوی کے ہوتے ہوئے کسی قیل و قال کی گنجائش نہیں، لیکن چونکہ اس بارے میں بعض لوگوں میں خاصی غلط فہمی پائی جاتی ہے، لہٰذا اس پر کئے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا جاتا ہے۔
اعتراض نمبر 1
فتح الملہم شرح صحیح مسلم ص 136 ج 1 میں مذکور ہے۔
یعارضہ قولہ ﷺ کمل من الرجال کثیر و لم یکمل من النساء الا مریم بنت عمران و آسیۃ بنت مزاحم و فی روایۃ اربع و ہو ما رواہ الترمذی و احمد من حدیث انس ؓ قال قال النبی ﷺ حسبک من نساء العالمین باربع مریم بنت عمران و آسیۃ امرأۃ فرعون و خدیجۃ بنت خویلد و فاطمۃ بنت محمد ﷺ۔
قلت اجاب بعضھم بان بعض الافراد خرج عن ذلک لانہ نادر قلیل۔ والجواب السدید فی ذلک ہو ان الحکم علی الکل بشیٔ لا یستلزم الحکم علی کل فرد من افراد بذلک الشیٔ قالہ العینی۔
اس کے معارض رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے جب کہ عورتوں میں کامل نہیں ہوئیںمگر مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم اور ترمذی او مسند احمد کی روایت میں چار عورتوں کا ذکر ہے کہ حضرت انس ص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جہانوں کی عورتوں میں چار کافی ہیں۔ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ اور خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ۔
(اس روایت سے معلوم ہوا کہ سب عورتیں ناقص عقل اور ناقص دین نہیں ہیں)
میں کہتا ہوں کہ بعض لوگوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ عورتوں کے چند ایک افراد نادر اور قلیل ہونے کی وجہ سے ناقص عقل و ناقص دین ہونے کا حکم سے خارج ہیں اور صحیح جواب یہ ہے کہ کل پر کسی شے کا حکم اس کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کل کے ہر ہر فرد پر وہ حکم ہو۔
جواب
ہمارے نزدیک یہ معارضہ مسلم نہیں ہے کیونکہ جن خواتین کا حدیث میں ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نقصان عقل و دین کی جو تشریح فرمائی قلن و ما نقصان دیننا و عقلنا یا رسول اللہ قال ألیس شھادۃ المرأۃ مثل نصف شھادۃ الرجل قلن بلی قال فذلک من نقصان عقلھا قال ألیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن بلی قال فذلک من نقصان دینھا عورتوںنے پوچھا یا رسول اللہ ہمارے دین اور ہماری عقل کے نقصان کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے پوچھا کہ کیا ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف کے برابر نہیں ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا یہ اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔ عورتوں نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا تو یہ ان کے دین کا نقصان ہے۔
مذکورہ بالا چار خواتین ان باتوں سے مستثنیٰ نہیں ہیں کیونکہ ان کے نقصان عقل کے بارے میں اگرچہ تردد ہو سکتا ہے لیکن ان کا نقصان دین تو بلا تردد ثابت ہے۔ ان دونوں حدیثوں کو جمع کریں تو حاصل یہ ہوا کہ عورتوں میں معہود خلقی نقص ان کے ولی ہونے کے منافی نہیں ہے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی وہ ولی کامل ہو سکتی ہیں۔
اعتراض نمبر 2
البتہ کمال کی حدیث سے صرف نظر کر کے اگر تنہا اس قاعدے کو مد نظر رکھیں جو فتح الملہم میں مذکور ہے۔ یعنی ’’ان الحکم علی الکل بشیٔ لایستلزم الحکم علی کل فرد من افرادہ بذلک الشیٔ‘‘ توخیال ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ عورتیں ناقص العقل ہونے کے حکم سے مستثنیٰ ہوں اور اس خیال کی تائید اس مشاہدہ سے ہوتی ہے کہ زمانہ قدیم و جدید میں ایسی عورتیں گزری ہیں جنہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ حکومت کی یا جو بہت سے انتظامی شعبوں کو عمدہ طریقے پر چلاتی رہی ہیں۔
جواب
(الف )ناقص العقل ہونے کی تنہا اگر یہی وجہ ہوتی کہ عورتوں میں نسیان کا غلبہ ہوتا ہے۔ (لما ان النسیان غالب علی طبع النساء لکثرۃ الرطوبۃ فی امزجتھن۔ روح المعانی) تب بھی جب قرآن پاک میں شہادت کے مسئلہ پر عورتوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی گئی بلکہ تمام عورتوں کے لئے ایک ہی حکم دیا گیا ہے، تو دیگر احکام میں تفریق کیونکر روا رکھی جائے گی۔
(ب) نیز عورتوں اور مردوں کے مزاج اور طبیعت کے درمیان بہت کچھ فرق ہے۔ دیکھئے اسی حدیث میں مذکور ہے۔
ما ر أیت من ناقصات عقل و دین اذھب للب الرجل الحازم من احدا کن۔ (میںنے تم سے زیادہ کسی ناقص عقل و دین والی کو نہیں دیکھا جو انتہائی سمجھ دار مرد کی عقل کو لے جانے والی ہو) اس میں عورت کے مخصوص مزاج اور طبیعت کی طرف اشارہ ہے کہ جس کو کام میں لا کر وہ بسا اوقات انتہائی سمجھ دار مرد کو بھی پھسلا دیتی ہے اور جب وہ اپنی مخصوص طبیعت کی بناء پر حازم شخص سے جس کسی معاملہ میں بے عقلی کروا لیتی ہے تو خود اس معاملہ میں وہ بھی تو کم عقلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اعتراض نمبر 3
اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ عورت ناقص العقل ہے، لیکن مولانا تھانوی رحمہ اللہ نے امداد الفتاوی صفحہ 92 جلد 5 میں ذکر کیا کہ ’’پس قرآن سے ظاہراً ثابت ہو گیا کہ سلطنت جمہوری عورت کی ہو سکتی ہے … اور راز اس میں یہ ہے کہ حقیقت اس حکومت کی محض مشورہ ہے اور عورت اہل ہے مشورہ کی۔‘‘
جواب
(i) حدیث میں یہ الفاظ ملتے ہیں لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ۔
عدم فلاح کی علت عورت کا پردے میں رہنا بھی ہو سکتا ہے۔ ا س کا ناقص العقل ہونا بھی ہو سکتا ہے اور اس کا عورت ہونا بھی کیونکہ اس کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر کمزور بھی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ کچھ فطری عوارض بھی لگے ہوئے ہیں)۔ ان عوارض کی بنا ء پر عورت ملک کی سربراہی کے کام احسن طریقے پر پورے نہیں کر سکتی اور اس طرح امور احسن احوال پر نہیں رہیں گے۔
(ii) لفظ قوم نکرہ ہے جو نفی کے تحت آیاہے۔ لہٰذا اس میں عموم ہے کہ جو بھی قوم اپنی حکمرانی عورت کے سپرد کرے وہ فلاح نہیں پائے گی۔ اس بارے میں یہ خیال کرنا کہ سلطنت شخصی میں ایک شخص تنہا اپنی رائے پر عمل کرواتا ہے صحیح نہیں کیونکہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ کوئی بھی حاکم ہو پھر خواہ وہ کتنا بڑے سے بڑا آمر کیوں نہ ہو مشیروں اور وزیروں کے بغیر ہو۔ وہ آمر اہم امور میں ان سے مشورہ لیتا ہی ہے اگرچہ یہ ممکن ہے کہ وہ آمر کی رائے ہی کو مقدم رکھیں۔ ایسے ہی ملکہ ایران کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ اپنی انفرادی رائے پر ہی عمل کراتی ہو گی مناسب نہیں اور اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جمہوری اور شخصی حکومتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
(iii) جمہوریت میں یہ نہیں ہوتا کہ پارلیمنٹ ہر ہر کام کا فیصلہ کرے بلکہ امور جزئیہ کا اختیار حکمران کو ہوتا ہے۔
(iv) آیت ماکنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون میںاحتمال ہے کہ امر مہتم بالشان مراد ہو کیونکہ یہ بعید ہے کہ ملکہ سباہر ہر معاملہ میں خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو شوریٰ کا اجلاس بلاتی ہو گی۔ حاصل یہ کہ أمْراً میں تنوین تعظیم کے لئے ہو۔
(v) عورت کے لئے پردے کا حکم اس کی تولیت کے منافی ہے کیونکہ جمہوری حکومت بھی ہو تب بھی حکمران کو باہر آنا پڑتا ہے۔ پردے میں رہ کر ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا عملاً محال ہے۔
(vi) مولانا تھانوی رحمہ اللہ نے اگرچہ امداد الفتاوی میں اس طرح لکھا ہے۔
حضرت بلقیس کی سلطنت کا قصہ قرآن مجید میں مذکور ہے، اس میں آیت ہے ما کنت قاطعۃ أمرا حتی تشھدون جس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلطنت کا طرز عمل خواہ ضابطہ سے خواہ بلقیس کی عادۃ مستمرہ سے سلطنت جمہوری کا ساتھا اور بعد میں ان کے ایمان لے آنے کے کسی دلیل سے ثابت نہیں کہ ان سے انتزاع سلطنت کیا گیا ہو پس ظاہر حکایت سلطنت اور عدم حکایت انتزاع سے اس سلطنت کا بحالہا باقی رہنا ہے اور تاریخ صراحۃ اس کی موید اور قاعدہ اصولیہ ہے کہ ’’اذا قص اللہ و رسولہ علینا امرا من غیر نکیر علیہ فھوحجۃ لنا‘‘ پس قرآن سے ظاہراً ثابت ہو گیا کہ سلطنت جمہوری عورت کی ہو سکتی ہے۔
لیکن خود مولانا نے بیان القرآن میں فرمایا۔
’’ہماری شریعت میں عورت کو بادشاہ بنانے کی ممانعت ہے۔ پس بلقیس کے قصہ سے کوئی شبہہ نہ کرے۔ اول تو یہ فعل مشرکین کا تھا۔ دوسرے اگر شریعت سلیمانیہ نے اس کی تقریر بھی کی ہو تو شرع محمدی میں اس کے خلاف ہوتے ہوئے وہ حجت نہیں۔‘‘
اور اگرچہ بیان القرآن کی عبارت پہلے وقت کیہے، لیکن دلائل کے اعتبار سے قوی ہے کیونکہ شریعت اسلامیہ میں اس کے معارض مندرجہ ذیل دلائل ہیں جو نکیر پر دلالت بھی کرتے ہیں جیسے
-1 حدیث نبوی لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ۔
-2 حدیث نبوی و اذاکان امرائکم شرارکم و اغنیائکم بخلائکم و امورکم الی نسائکم فبطن الارض خیر لکم من ظھرھا۔ (مشکوۃ ص 459)
-3 حجاب کے احکام
اعتراض نمبر 4
کچھ لوگ اس موقع پر غیر مسلم حکمران عورتوں یا ایک دو مسلم حکمران عورتوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے دور میں عدم فلاح کی کوئی بات نظر نہیں آتی۔
جواب
یہ بڑی جہالت کی بات ہے۔ کیا ایک جوان عورت کا بے پردہ مردوں کے سامنے آنا فلاح کے منافی نہیں اور الناس علی دین ملوکھم کے تحت کیا بے پردگی کو رواج نہیں ملے گا ؟ نیز یہ سوچ تو فلاح کے دائرہ کو محدود کرنے کے مترادف ہے کیونکہ فلاح صرف معاش اور مروجہ سیاست تک محدود نہیں بلکہ فلاح کا دائرہ تو لوگوں کے اخلاق، ان کی تہذیب، ان کی دینداری اور ان کے ایمان کی حفاظت کو بھی محیط ہے۔
اعتراض نمبر 5
گزشتہ اعتراض کے جواب سے یہ ایک اور اعتراض پیدا ہوا کہ اوپر جس فلاح کا ذکر کیا گیا وہ تو بہت سے مرد حکمرانوں کے دور میں بھی نصیب نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود بھی فاسق ہوتے ہیں اور فسق کو رواج دیتے ہیں اور جب فاسق مرد کی حکمرانی کو قبول کیا جا سکتا ہے تو عورت کی حکمرانی کو کیوں قبول نہیں کیا جا سکتا ؟
جواب
فاسق مرد کی حکمرانی فاسق بے پردہ عورت کی حکمرانی کے مقابلے میں اَہْوَنْ ہے کیونکہ مرد میں تو صرف فسق کا عیب ہوا جب کہ عورت میں اس کے عورت ہونے کی کمزوری بھی شامل ہو گئی ہے۔
تنبیہ: کسی شخص کے حکمران بننے کی دو صورتیں ہیں۔ (الف) اشراف و اعیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ (ب) اس کو قہر و غلبہ حاصل ہو جس کے خوف سے لوگوں میں اس کا حکم نافذ ہو۔
ان السلطان یصیر سلطانا بامرین بالمبایعۃ معہ من الاشراف والاعیان و بان ینفذ حکمہ علی رعیتہ خوفا من قھرہ۔ (ردالمحتار ص 318ج 4)
فاسق کے ہاتھ پر بیعت کرنا جائز نہیں۔ ہاں اگر غلبہ و قہر کی بناء پر کوئی فاسق حکمران بن جائے اور اس کے مقابلے کی قوت نہ ہو تو اس کو برداشت کیا جاتا ہے قبول نہیں کیا جاتا اور ظاہر ہے کہ کسی ظالم و فاسق کو حاکم بنانا یا حاکم قبول کرنا اور بات ہے اور اس کو برداشت کرنا اور بات ہے۔
اگر کہا جائے کہ جمہوریت میں تو لوگ ووٹ ڈال کر خود حاکم بناتے ہیں یا بطور حاکم قبول کرتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حاکم بنانے میں عوام کی رائے کا اعتبار نہیں ہے۔ حاکم مقرر کرنے میں اہل علم و فہم اور اہل تجربہ کی رائے معتبر ہوتی ہے عوام کو کسی بھی طریقے سے ورغلا کر اور پھسلا کر ان سے ووٹ لے کر شریعت کی رو سے نا اہل کا حکومت حاصل کرنا بھی شریعت کی رو سے تغلب اور آمریت کا طریقہ ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی نا اہل حکومت پر قبضہ کر لے تو اگر اس کو قہر و غلبہ حاصل ہو اور اس کو ہٹانے کی کوشش میں مزید فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو اور اس کو ہٹانے کی کافی قوت نہ ہو تو اس کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ حکمران کافر ہو یا فاسق و فاجر ہو یا عورت ہو خاص طور سے جب کہ وہ عورت فاسق بھی ہو، لیکن جیسے کافر و فاسق کی حکمرانی کو جائز نہیں کہہ سکتے اسی طرح عورت کی حکمرانی کو بھی جائز نہں کہہ سکتے اور جیسے کافر اور فاسق و ظالم کو ہٹانے کا موقع ہو اور بھر پور قوت ہو تو اس کو استعمال میں لانا چاہئے۔ اسی طرح عورت کی حکمرانی کے خلاف بھی جو کچھ اپنے اختیار و قوت میں ہو اس کو استعمال میں لانا ضروری ہے۔