﷽   |   ادارہ تعلیماتِ دینیہ، لاہور ✦ فقہی و تحقیقی مضامین ✦ حضرت اقدس ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحبؒ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
16 جمادی الاولیٰ 1448ھ Wed, 28 Oct 2026
فجر: 4:56 (بقیہ وقت: --:--:--)
فونٹ:

فساد و عدم فساد صوم کا معیار ایک تفصیلی مطالعہ

✍️ حضرت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ

علم تشریح البدن کی جدید تحقیقات کی روشنی میں روزے کے فساد و عدم فساد کے چند منقولہ مسائل میں اشکال ہوتا ہے اور اشکال ہونے کا مبنیٰ یہ ہے کہ فقہاء نے ان مسائل کی جو توجیہ کی ہے وہ موجودہ تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی مثلاً

(1)روزہ دار کے کان میں کسی مائع و سیال شے کے داخل ہونے پر فساد و عدم فساد صوم اور اس کی توجیہ کے بارے میں یہ تفصیل ہے۔

ومن…اقطر فی اذنہ افطر لقولہ علیہ السلام الفطر مما دخل لوجود معنی الفطر وھو وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف ولا کفارۃ علیہ لانعدامہ صورۃ ولو اقطر فی اذنہ الماء او دخلہ لا یفسد صومہ لانعدام المعنی والصورۃ بخلاف ما اذا دخلہ الدھن(ھدایہ)

جو کان میں قطرے ٹپکائے اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جسم میں کسی چیز کے داخل ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ روزہ توڑنے کا معنی پایا گیا ہے جو جوف میں ایسی چیز کا پہنچنا ہے جو بدن کے لئے مفید ہے اگرچہ اس سے کفارہ واجب نہیں ہوتا کیونکہ ظاہر صورت میں کھانا پینا نہیں پایا گیا۔ اور اگر اپنے کان میں پانی کے قطرے ٹپکائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ روزہ توڑنے کا معنی بھی مفقود ہے اور اس کی ظاہری صورت بھی مفقود ہے برخلاف کان میں تیل ٹپکانے کے۔

وبسطہ فی الکافی فقال: لان الماء یفسد بمخالطہ خلط داخل الاذن فلم یصل الی الدماغ شیٔ یصلح لہ فلا یحصل معنی الافطار فلا یفسد(فتح القدیر)

کافی میں اس کو تفصیل سے ذکر کیاہے۔ اس میں یہ وجہ مذکور ہے کہ کان میں موجود میل کی وجہ سے پانی خراب ہو جاتا ہے لہٰذا جوف دماغ میں وہ شے نہیں پہنچی جو دماغ کے لئے مفید ہو بلکہ خراب ہونے کی وجہ سے پانی مضر ہو گیا اور نتیجہ میں روزہ توڑنے کا معنی نہیں پایا گیا۔ اس وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ کان میں جو تیل ڈالا جائے وہ دماغ یعنی اس کے جوف تک پہنچتا ہے۔ جبکہ موجودہ تحقیق کے مطابق کان اور دماغ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے جس کے ذریعے سے دوا دماغ تک پہنچ سکے۔

(2)وفی التحقیق ان بین الجوفین منفذا اصلیا فما وصل الی جوف الراس یصل الی جوف البطن(2)

(تحقیق یہ ہے کہ جوف بطن اور جوف دماغ کے درمیان منفذ اصلی (Natural opening) ہے۔ تو جو شے جوف دماغ میں پہنچتی ہے وہ جوف بطن میں بھی جا پہنچتی ہے۔)۔

یعنی جوف دماغ اور جوف بطن کے درمیان منفذ اصلی ہے لیکن موجودہ تحقیق اس کے خلاف ہے۔

اشکال یہ ہے کہ فقہاء نے مسائل کی بنیاد جن تحقیقات پر رکھی تھی مشاہدہ اور جدید طرق تحقیق سے وہ معلومات اور تحقیقات ثابت نہ رہیں اور ان کے خلاف ثابت ہوا ہے تو کیا احکام بھی ان تحقیقات کے بدلنے سے بدل جائیں گے۔

مضمون کی ترتیب

ہماری اس تحریر کی ترتیب یوں ہوگی کہ اولاً جوف دماغ اور جوف بطن اور ان کے درمیان کسی منفذ اصلی کے ہونے کے بارے میں بحث کی جائے گی۔ ثانیاً فساد و عدم فساد صوم کیلئے چند اصول ذکر کئے جائیں گے اور ثالثاً مختلف احکام کے بارے میں علیحدہ علیحدہ تحقیق کی جائے گی۔

بحث اول: جوف بطن سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد معدے اور آنتوں کا جوف (Alimentary Canal)ہے اور اگرچہ بطن کا اطلاق اس جوف پر بھی ہوتا ہے جو سینے سے نیچے ہوتا ہے اور جس میں اعضائے رئیسہ مثلاً معدہ، آنتیں، مثانہ، رحم گردے وغیرہ قائم ہوتے ہیں یعنی وہ جوف جس کو(Abdominal Cavity)کہتے ہیں لیکن یہاں وہ مراد نہیں ہے۔ اس پر اگرچہ کوئی تصریح تو نظر سے نہیں گزری لیکن اول معنی مراد لینے کی تائید مندرجہ ذیل عبارات سے ہوتی ہے۔

(1) اما الحقنہ والوجور فلانہ وصل الی الجوف ما فیہ صلاح البدن(قاضی خان)

حقنہ کرنے اور منہ میں قطرے ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ جوف میں ایسی چیز پہنچی ہے جو مفید بدن ہے۔

(2)وھذا وما وصل الی الجوف او الدماغ من المخارق الاصلیۃ کالانف والاذن والدبر(بدائع الصنائع)

جوف بطن یا جوف دماغ میں ناک، کان اور مقعد جیسے قدرتی سوراخوں سے کوئی چیز پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

ان عبارتوں میں جوف کا جو قریبی معنی ہے وہ معدہ اور آنتوں کا جوف ہی ہے اور صلاح بدن کا تعلق بھی اسی جوف سے ہوتا ہے۔

ولو اقطر فی احلیلہ لم یفطر عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ و قال ابو یوسف یفطر

فکانہ وقع عند ابی یوسف رحمہ اللہ ان بینہ و بین الجوف منفذا ولھذا یخرج منہ البول و وقع عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ان المثانۃ بینھما حائل والبول یترشح منہ(ھدایہ)

اگر مرد نے اپنی پیشاب کی نالی میں قطرے ٹپکائے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا جب کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ گویا امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک مثانہ اور جوف بطن کے درمیان منفذ (Opening) ہے اس لئے جوف بطن سے پیشاب مثانہ میں اس منفذ کے ذریعہ جاتا ہے جب کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جوف بطن اور پیشاب کی نالی کے درمیان مثانہ حائل ہوتا ہے اور پیشاب اس سے قطرے بن کر ٹپکتا ہے۔

اگر جوف سے دوسرا معنی یعنیAbdominal Cavity مراد ہوتا تو پھر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف نہ ہوتا کیونکہ مثانہ تو بلا شک و شبہ اس میں واقع ہی ہے اور اس میں کسی شے کا داخلہ جوف بطن ہی میں داخلہ شمار ہوتا لیکن جب اختلاف واقع ہوا ہے تو معلوم ہواکہ جوف بطن سے فقہاء کی مراد معدہ اور آنتوں کا جوف ہے۔

(4)اس کو امداد الفتاوی ص:146ج:2میں جوف معدہ بھی کہا گیا ہے جوکہ جوف بطن کی گویا تفسیر ہے۔

(5)وھو مبنی علی انہ ھل بین المثانۃ والجوف منفذ ام لا وھو لیس باختلاف فیہ علی التحقیق فقالا و وصول البول من المعدۃ الی المثانۃ بالتر شح

یہ اختلاف اس پر مبنی ہے کہ آیا جوف بطن اور مثانہ کے درمیان منفذ ہے یا نہیں ورنہ فی ذاتہ اختلاف نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحہما اللہ کہتے ہیں کہ پیشاب معدہ سے مثانہ میں ترشح کے ذریعے پہنچتا ہے یعنی قطرے بن کر ٹپکتا ہے۔

جب یہ بات ثابت ہوئی کہ فقہاء کے کلام میں جوف یا جوف بطن سے مراد معدہ اور آنتوں کا جوف ہے تو اب یہ بات مزید جاننے کی ضرورت ہے کہ اس جوف بطن یا جوف معدہ کے درمیان اور مثانہ خواہ وہ مرد کا ہو یا عورت کا اور رحم اور دماغ کے درمیان جدید تشریح البدن کی رو سے کوئی منفذ نہیں پایا جاتا اگرچہ فقہاء ذکر کرتے ہیں کہ بعض صورتوں میں منفذ پایا جاتا ہے مثلاً

جوف دماغ اور جوف بطن کے درمیان منفذ ہونے کو بحر رائق میں یوں ذکر کیا ہے

وفی التحقیق ان بین الجوفین منفذا اصلیا

تحقیق یہ ہے کہ جوف بطن اور جوف دماغ کے درمیان اصلی منفذ ہوتا ہے۔

مثانہ اور جوف بطن کے درمیان منفذ کے بارے میں یوں ذکر ہے

(قولہ ان اقطر فی احلیلہ لا) ای لا یفطر.اطلقہ فشمل الماء والدھن وھذا عند ھما خلافاً لابی یوسف(رحمہ اللہ)وھو مبنی علی انہ ھل بین المثانۃ والجوف منفذ ام لا وھو لیس باختلاف فیہ علی التحقیق فقالا لا و وصول البول من المعدۃ الی المثانۃ بالترشح۔ (البحرالرائق)

اگر مرد اپنی پیشاب کی نالی میں قطرے ٹپکائے خواہ پانی کے یا تیل کے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ہے جب کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ اختلاف اس پر مبنی ہے کہ کیا مثانہ اور جوف بطن کے درمیان منفذ ہے یا نہیں۔ یہ اختلاف فی ذاتہ نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جوف بطن اور مثانہ کے درمیان منفذ نہیں ہے اور پیشاب معدہ سے قطرے بن کر مثانہ میں ٹپکتا ہے۔

واما الاقطار فی قبل المراۃ فقد قال مشائخنا انہ یفسد صومھا بالاجماع لان لمثانتھا منفذا فیصل الی الجوف کالاقطار فی الاذن (بدائع الصنائع)

رہا عورت کی پیشاب کی جگہ میں دوا کے قطرے ٹپکانا تو ہمارے مشائخ کا کہنا ہے کہ اس سے بالاتفاق اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس کے مثانہ کا منفذ ہے جس کے ذریعہ سے دوا جوف معدہ میں پہنچ جاتی ہے۔

البتہ فرج و رحم اور جوف معدہ کے درمیان کسی منفذ کے وجود کا ذکر اپنے پاس موجود فقہ کی کتابوں میں نہیں ملا۔

2 جوف دماغ سے کیا مراد ہے؟

فقہ کی کتابوں میں تو اس کی تفصیل نہیں ملتی البتہ قدیم تشریح البدن کے مطابق مسیحی کی کتاب المائہ میں یہ تفصیل مذکور ہے۔

وبطون الدماغ ثلاثۃ ثنتان فی مقدمہ و واحد فی مؤخرہ و بالبطنین المقدمین یکون استنشاق الدماغ التنفس واخراجہ ایاہ۔ وھما یعدان و ینضجان الروح النفسانی و یصیران آلۃ للشم بطرفیھما المنحدرین نحو المنخرین من سفل و یصیران مع ذٰلک شَبِیْھَیْنِ بالمجری الذی یصلح ان یخرج منہ الفضول۔ والبطن المؤخر یقبل الروح النفسانی بعد ان ینضج فی البطنین المقدمین وھناک مجری ینفذ فیہ ھذا الروح من البطنین المقدمین الی البطن المؤخر وشکل ھذہ البطون مستدیر۔

ویوجد فی المجری الذی فیما بین البطنین المقدمین و بین البطن المؤخر جسم علی شکل الصنوبرۃ من جوھر الغدد یملا الفضاء والخلل الذی فیما بین اقسام العرق العظیم الذی منہ ینتسج اکثر الشباک المشیمیۃ التی فی البطنین المقدمین من الدماغ

وکل واحد من المنخرین والثقبین النافذین فی طول المنخرین الذین بھما یکون التنفس واشتمام الروایح اذا ھو بلغ الراس انتھی الی عظم سخیف الجرم۔ وفی ھذا العظم الذی عندہ ینتھی اطراف البطنین المقدمین من بطون الدماغ۔ ہو العظم ثقب مختلفۃ المجاری شبیھۃ بالاسفنجۃ یستفرغ فیھا الفضول المنحدرۃ من الدماغ وھی المخاط … الخ (ص:57-56)

اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ دماغ کے اجواف و بطون(Cavities)تین ہیں۔ دو دماغ کے اگلے حصے میں اور ایک پچھلے حصے میں ۔اگلے دو اجواف سے دماغ سانس کو اندر اور باہر کرتا ہے اور ان ہی میں روح نفسانی پختہ ہوتی ہے۔ یہی اجواف نتھنوں کی طرف اترنے والے اپنے اطراف کے ذریعہ سے سونگھنے کا کام کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ فضلہ باہر نکالنے کا رستہ بھی مہیا کرتے ہیں۔ روح نفسانی پختگی کے بعد یہاں سے ایک نالی کے ذریعے پچھلے جوف میں منتقل ہوجاتی ہے۔ مذکورہ نالی میں غدود کے مادہ سے بنا ہوا صنوبری شکل کا جسم ہوتا ہے۔ یہ جسم اس نالی نما رستہ کے پورے خلا کو اور اس بڑی رگ کی شاخوں کے درمیان کے خلل کو بھرتا ہے جس سے دماغ کے اگلے دو جوفوں میں موجود مشیمہ کے جال کا اکثر حصہ بنا ہوتا ہے۔ نتھنوں کے طول میں سوراخ اور اگلے دو اجواف کے اطراف کے درمیان ایک کمزور سی کئی سوراخوں پر مشتمل ہڈی ہوتی ہے۔ ان سوراخوں میں دماغ سے اترنے والا فضلہ یعنی بلغم جمع ہوتا ہے۔

لیکن جدید معلومات اس تفصیل کی تائید نہیں کرتیں۔ جیسا کہ ذیل میں ہے

Olfactory nerves serving the sense of smell, have their cells of origin in the olfactory mucosa in the nasal cavity. This olfactory region comprises the mucosa of the superior nasal concha and the opposite post of the nasal septum. The nerve fibres originate as the central or deep processes of the olfactory cells and collect into bundles which cross in various directions, forming a plexiform net work in the mucosa, finally forming about 20 branches which traverse the cribriform plate in lateral and medial groups and end in the glomeruli of the olfactory bulb. the former continuing into the nasal periosteum, the latter into the perineural sheaths of the nerve bundles. Tissue spaces in these sheaths connect with those in the nasal mucous membrane and with

the subarachnoid space.

مندرجہ بالا انگریزی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ ناک کے اوپری حصے پر پائی جانے والی جھلی سے بہت سی حاسہ شم کی اعصابی تاریں شروع ہوتی ہیں۔ ان کے پھر تقریباً بیس مجموعے بن جاتے ہیں جو کہ چھلنی نما ہڈیCribriform Plate کے سوراخوں سے گزرتے ہیں ہر مجموعے کے اوپر Duramater اور Pia-arachnoidکے نام کی تہیں ہوتی ہیں ان میں سے اول الذکر ناک کی ہڈی کے اوپر کی جھلی (Nasal Periosteum)کے ساتھ متصل ہوجاتی ہے جبکہ مئوخر الذکر کا اتصال اس مجموعہ کا احاطہ کی ہوئی جھلی کے ساتھ ہوتا ہے۔

غرض قدیم تشریح کے مطابق چھلنی دار ہڈی کے سوراخوں میں سے دماغ سے اترنے والا بلغم ناک و حلق میں آکر گرتا ہے جبکہ جدید تشریح کے مطابق ان سوراخوں سے حس شامہ کو دماغ تک لے جانے والی اعصابی تاروں پر مشتمل بیس مجموعے گزرتے ہیں اور اس کے بعد ان سوراخوں میں مزید کوئی جگہ نہیں ہوتی کہ ان سے بلغم(اگرچہ وہ ہوتا بھی نہیں ہے) نیچے اترسکے کیونکہ ناک اور حلق پر چڑھی ہوئی تہیں اس کیلئے حاجب ہوتی ہیں بلکہ در حقیقت جو کچھ بلغم تیار ہوتا ہے وہ ان ہی تہوں میں تیار ہوتا ہے۔

جہاں تک کتاب المأۃمیں مذکور دماغ کے تین بطون کا ذکر ہے تو ان کے مقابلے میں جدید تحقیققات کی رو سے دماغ میں جو بطون و اجواف پائے جاتے ہیں وہ Ventricles کہلاتے ہیں۔ یہ تعداد میں کل چار ہوتے ہیں جن میں سے دوLateral Ventricles کہلاتے ہیں ان دو میں سے ایک ایک دماغ کے ہر نصفیے میں ہوتا ہے اس کا بڑا حصہ نصفیے کے وسط میں ہوتا ہے جس سے تین شاخیں نکلتی ہیں ایک آگے کو ایک پیچھے کو اور ایک نیچے۔ ہر ایکLateral Ventrcle ایک منفذ کے ذریعے سے ایک اور جوف جس کو Third Ventricle کہتے ہیں اس میں کھلتا ہے جو پھر آگے ایک اور جوف یعنی Ventricle Fourthمیں جاکر کھلتا ہے۔ ان بطون یعنی Ventricles کے چھت کی جانب باریک شریانوں کا جال سا ہوتا ہے جس کو Plexus Choroid کہتے ہیں۔ یہ جال اور انکو محیط خلیاتی تہہ دماغ کی جھلیوں کے مابین پائی جانے والی رطوبت (Cerebro-spinal fluid) کا منبع ہیں۔ اس رطوبت سے یہ تمام بطون (Ventricles) اور حرام مغز کے اندر پائی جانے والی وسطی نالی اور اسی طرح حرام مغز کے ارد گرد جھلیوں کے درمیان پائے جانے والے خلا بھرے رہتے ہیں۔

حوالے کے طور پر مندرجہ ذیل عبارات ملاحظہ فرمائیں۔

Ventricles of the Brain

The ventricles of the brain develop as expansions of the lumen of the embryonic neural tube from a continuous fluid-filled system in the brain. The roof of each ventricle is thin and does not contain neurons. Each ventricle does, however, have network of capillaries called a choroid plexus associated with its roof. These plexuses, together with the ependymal cells that cover them, are the sites of production of cerebrospinal fluid. The fluid fills the ventricles of the brain, the central canal of the spinal cord, and the

subarachnoid space

If air is injected into the ventricles, they become distinguishable on an X ray. This procedure is used to detect the presence of tumors or brain damage that distort the
normal outlines of the ventricles.

Lateral Ventricles

Within each cerebral hemisphere is a lateral ventricle that has its major portion located in the parietal lobe (anterior horn), the occipital lobe (posterior horn), and the temporal lobe (inferior horn). The lateral ventricles are separated from each other medially by a thin vertical partition called the septum pellucidum. Each lateral ventricle communicates with the third ventricle by a small opening called the foramen
of Monro (interventricular foramen).

Third Ventricle

The third ventricle is a narrow middle chamber in the diencephalon. The right and left masses of the thalamus form most of its lateral walls. The massa intermedia (intermediate mass) passes through the ventricle by means of the cerebral aqueduct (aqueduct of Sylvius) of the

mesencephalon.

Fourth Ventricle

The fourth ventricle is a pyramidal cavity located in the hindbrain just ventral to the cerebellum. There are two openings in the lateral walls of the fourth ventricle called the foramina of Luschka. In the roof is a single opening, the foramen of Magendie. The ventricles communicate through these three openings with a space surrounding the brain and spinal cord (subarachnoid space). The fourth ventricle is continuous with the narrow central canal that extends
the length of the spinal cord.

بحث ثانی: فساد و عدم فساد صوم کیلئے چند اصول و ضابطے۔

(1)شریعت کا مدار ان امو پر نہیں ہے جن کو معلوم کرنے کیلئے بہت کچھ تحقیقات و تدقیقات کی احتیاج ہو خصوصاً تشریحی طبی Anatomicalتحقیقات کی کہ جن کیلئے عام طور پر انسان کے مردہ جسم کی چیر پھاڑ کرنی پڑتی ہے جو کہ از روئے شرع خود ممنوع ہے۔ نماز روزے کیلئے شریعت نے اوقات اور مہینے معلوم کرنے کیلئے علم فلکیات کی تحقیقات و تدقیقات کا مکلف نہیں کیا بلکہ یہ کہہ کر کہ ہم تو امی امت ہیں روزوں کیلئے چاند کی رویت کو مدار بنایا اور نمازوں کیلئے سورج کے طلوع و غروب اور اشیاء کے سایہ کو مدار بنایا اور یہ ایسے امور ہیں کہ ہر زمانہ اور ہر معاشرہ و مقام کے لوگوں کی ان تک بآسانی رسائی ہوسکتی ہے۔

اسی طرح روزے کے فساد و عدم فساد کے بارے میں طرز شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسا معیار ہونا چاہیے جو تشریحی طبی تحقیقات و تدقیقات کا محتاج نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس میں یہ اندیشہ ہے کہ اگر کسی زمانہ میں پچھلی تحقیقات باطل ہوجائیں جیسا کہ اس دور میں ہوا ہے تو پھر ان پر مبنی احکام بھی بدلیں گے اور اس سے بڑا حرف آتا ہے۔

(2)حدیث پر نظر کرنے سے ہمیں وہ سادہ سا معیار مل جاتا ہے جس پر ہم فساد و عدم فساد صوم کے احکام کی بنا کرسکتے ہیں بلکہ فقہاء کے نزدیک بھی اصل معیار یہی ہے جیسا کہ کتب فقہ سے واضح ہے وہ حدیث یہ ہے۔

إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ (روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہو اس چیز سے نہیں جو جسم سے باہر آئے) اور اس عموم سے جن صورتوں کی تخصیص کی گئی ہے شریعت نے ان کو بھی خود ہی بیان کردیا ہے۔
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَا عَائِشَۃُ ھَلْ مِنْ کَسْرَۃٍ فَأَ تَیْتُہٗ بِقُرْصٍ فَوَضَعَہٗ عَلٰی فِیْہِ فَقَال یَا عَائِشَۃُ ھَلْ دَخَلَ بَطْنِیْ مِنْہُ شَیْئٌ ؟ کَذَلِکَ قُبْلَۃُ الصَّائِمِ إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ (مسند ابی یعلی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور پوچھا اے عائشہ کیا روٹی کا کوئی ٹکڑا ہے۔ میں آپ کے پاس ایک ٹکیہ لے آئی۔ آپ نے اس کو اپنے منہ پر رکھا اور پوچھا اے عائشہ کیا (اتنی بات سے) اس کا کچھ حصہ میرے پیٹ میں گیا (ظاہر ہے کہ نہیں) تو روزہ دار کے بوسہ لینے کا بھی یہی حال ہے (کہ چونکہ اس کے پیٹ میں کچھ نہیں جاتا لہٰذا اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا) روزہ تو اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہو اس سے نہیں جو جسم سے باہر نکلے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اَلْفِطْرُ فِی الصَّوْمِ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ۔
(بخاری)

حضرت عبداللہ بن عباس ص کہتے ہیں روزہ تو ان چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہوں ان چیزوں سے نہیں جو جسم سے خارج ہوں۔

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالََ إِنَّمُا الْوُضُوْئُ مِمَّا خَرَجَ وَلَیْسَ مِمَّا دَخَلَ وَالْفِطْرُ فِی الصَّوْمِ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ (عبدالرزاق)

حضرت عبداللہ بن مسعود ص کہتے ہیںکہ وضو تو محض ان چیزوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو جسم سے خارج ہوں جب کہ روزہ ان چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہوں ان سے نہیں جو جسم سے خارج ہوں۔ ان حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوا کہ جسم میں کوئی چیز بھی داخل ہو خواہ کسی قدرتی یا مصنوعی مخرق (Opening) سے داخل ہو یا مسام کے ذریعہ سے اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

مذکورہ بالا ضابطہ سے جن صورتوں کی تخصیص کی گئی ہے وہ یہ ہیں۔

-1 عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنِ اسْتَقَاء عَمَدًا فَلْیَقْضِ۔
(ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ص کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عمدا قے کرے وہ روزے کی قضا کرے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِِیِّ ﷺ قَالَ اِشْتَکَتْ عَیْنَیَّ أَفَأَکْتَحِلُ وَ أَنَا صَائِمٌ قَالَ نَعَمْ۔
(ترمذی)

حضرت انس بن مالک صکہتے ہیں کہ ایک صاحب نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ میری آنکھیں دکھنے آ گئی ہیں تو کیا میں روزے کی حالت میں سرمہ لگا سکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (لگا سکتے ہو)۔

(ii) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہٗ کَانَ یَکْتَحِلُ وَ ھُوَ صَائِمٌ۔
(ابوداؤد)

حضرت انس بن مالک صسے روایت ہے کہ وہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگاتے تھے۔

ظاہر ہے کہ سرمہ کا اثر حلق تک جا پہنچتا ہے لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ مسام کی طرح کے رستے سے گزرتا ہے۔ اسی طرح روزہ دار کو غسل کرنے اور جسم پر تیل کی مالش کرنے کی اجازت ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسام کے ذریعے سے جو چیز جسم میں داخل ہو وہ مفطر صوم نہیںہوتی لہٰذا یہ بھی مذکورہ عموم سے مخصوص ہوا۔

تخصیص کی رعایت کے بعد اب مفطر صوم یعنی روزے کو توڑنے والی بات جسم میں کسی شے کا وہ داخلہ ہوا جو معمول کے یا خلاف معمول کے راستوں (Natural and artificial openings سے مشہور و معلوم اجواف میں ہو۔ حاصل یہ ہے کہ فساد و عدم فساد صوم کیلئے جو سادہ سا معیار ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مخارق سے، اگر کوئی شے جسم کے جوف کے اندر داخل ہو تو وہ مفطر صوم ہے الا یہ کہ کسی موقع پر مجبوری کا تقاضا ہو جیسا کہ ہم آئندہ ذکر کریں گے۔

حدیث و آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہونے والا یہ معیار شریعت کے منشا و اصول کے عین مطابق ہے اور اس کیلئے ہمیں طبی تحقیقات کی پیچیدگیوں میں الجھنا نہیں پڑتا۔ البتہ اگر طبی تحقیقات و تدقیقات اس کے موافق ہوں تو یہ بات مزید اطمینان کاباعث ہوگی۔

نوٹ: اس موقع پر ہم ایک ممکنہ اعتراض کا جواب بھی دیتے ہیں۔

اعتراض یہ ہے کہ فقہاء کی عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مفطر یعنی روزہ توڑنے والی بات تو کسی شے کا جوف معدہ میں یا جوف دماغ میں داخل ہونا ہے۔

iقال فی البحر والتحقیق ان بین جوف الراس و جوف البطن منفذا اصلیا فما وصل الی جوف الراس وصل الی جوف البطن۔

بحر میں ہے تحقیق یہ ہے کہ جوف دماغ اور جوف بطن کے درمیان اصلی منفذ اور راستہ (Opening) ہے لہٰذا جو چیز جوف دماغ میں پہنچتی ہے وہ جوف بطن میں پہنچ جاتی ہے۔

ii اما الحقنۃ والوجور فلانہ وصل الی الجوف ما فیہ صلاح البدن و فی القطور و السعوط لانہ وصل الی الراس ما فیہ صلاح البدن(قاضی خان)

منہ میں اور مقعد میں قطرے ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ جوف بطن میں مفید بدن چیز پہنچی ہے اور ناک میں دوا ٹپکانے سے روزہ اس وجہ سے ٹوٹتا ہے کہ جوف دماغ میں مفید بدن چیز پہنچی ہے۔

IIIیفید انہ لا خلاف لو اتفقوا علی تشریح ھذا العضو فان قول ابی یوسف (رحمہ اللہ) بالا فساد انما ھو بناء علی قیام المنفذ بین المثانۃ و الجوف فیصل الی الجوف ما یقطر فیھا و قولہ بعدمہ بناء علی عدمہ والبول یترشح من الجوف الی المثانۃ۔ فیجتمع فیھا(فتح القدیر)

اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر اس عضو کی تشریح پر اتفاق ہوتا تو متعلقہ شرعی حکم میں اختلاف نہ ہوتا کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا جو روزہ ٹوٹنے کا قول ہے وہ اس پر مبنی ہے کہ ان کے نزدیک مثانہ اور جوف بطن کے درمیان منفذ ہے لہٰذا جو دوا پیشاب کی نالی میں ٹپکائی جاتی ہے وہ جوف بطن میں پہنچ جاتی ہے اور جو کہتے ہیں کہ روزہ نہیں ٹوٹتا وہ اس وجہ سے کہ ان کے نزدیک منفذ نہیں ہے۔

لہٰذا اس مفطر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کیوں نہیں کہتے کہ جن اعضاء مثلاً مثانہ و رحم اور جوف بطن کے درمیان منفذ نہیں ہے چونکہ ان اعضاء کے واسطے سے کوئی شے جوف بطن تک نہیں پہنچتی لہٰذا ان اعضاء میں کسی شے کے داخل ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مثانہ میں کسی شے کے داخل ہونے پر روزہ نہ ٹوٹنے کا حکم لگاتے ہیں۔ اسی طرح چونکہ کان سے جوف دماغ تک کچھ نہیں پہنچتا لہٰذا اس کے جوف بطن میں داخل ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ لہٰذا روزہ توڑنے والی تو بس یہ بات رہ گئی کہ کوئی شے جوف معدہ میں حلق یا دبر کے ذریعے سے داخل ہو یا جائفہ (معدہ کے زخم) کے ذریعے سے اور بس۔ بلا شبہ اس میں روزے دار کیلئے بڑی آسانی ہے جو کہ شریعت کا منشاء بھی ہے۔

پھر ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے۔

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنھا قَدْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَا عَائِشَۃُ ھَلْ مِنْ کِسْرَۃٍ فَأَتَیْتُہٗ بِقُرْصٍ فَوَضَعَہٗ عَلٰی فِیْہِ فَقَالَ یَا عَائِشَۃُ ھَلْ دَخَلَ بَطْنِیْ مِنْہُ شَیْئٌ کَذٰلِکِ قُبْلَۃَ الصَّائِمِ إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَ لَیْسَ مِمَّا خَرَجَ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور پوچھا اے عائشہ کیا روٹی کا کوئی ٹکڑا ہے۔ میں نے ایک ٹکیہ پیش کی۔ آپ نے اس کو اپنے منہ پر رکھا اور پوچھا اے عائشہ کیا اس طرح کرنے سے میرے پیٹ میں کچھ چیز گئی۔ (ظاہر ہے کہ نہیں) تو اسی طرح روزہ دار کے بوسہ کا معاملہ ہے۔ روزہ تو محض اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہو اس سے نہیں جو جسم سے باہر نکلے۔

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ روزہ توڑنے والی اصل چیز جوف معدہ میں کسی شے کا داخل ہونا ہے۔

جواب

خود اسی حدیث میں اور دیگر روایات میں جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں قانون قاعدے میں ابہام ہے کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ اَلْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ میں مدخول فیہ سے کیا مراد ہے۔آیا صرف جوف معدہ ہے جیسا کہ عام طور پر فقہی عبارات سے مفہوم ہوتا ہے یا جسم کے تمام اجواف ہیں مثلا جوف معدہ، جوف مثانہ، جوف قبل و رحم، جوف مجری النفس و غیرہ کہ جن کیلئے ظاہر جسم پر مخارق (openings)ہیں۔

اگرچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کا اول حصہ پہلے معنی پر کسی درجے میں قرینہ بن سکتا ہے لیکن دیگر قرائن اور خود احتیاط کا پہلو دوسرے معنی کا تقاضا کرتے ہیں مثلاً

(1)حضرت عبد اللہ بن عباس ص کا قول ہے

إِنَّمَاالْوُضُوْئُ مِمَّا خَرَجَ وَلَیْسَ مِمَّا دَخَلَ وَالْفِطْرُ فِی الصَّوْمِ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ۔

وضو اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم سے باہر نکلے اس سے نہیں جو جسم میں داخل ہو جب کہ روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہو اس سے نہیں جو جسم سے باہر نکلے۔

اس تقابل کا تقاضا یہ ہے کہ مدخل Way of entranceو مخرج Way of exit وضو اور روزے میں یکساں ہوں اور وضو میں مخرج تنہا جوف معدہ نہیں ہے بلکہ مثانہ بھی ہے اور فرج داخل اور رحم بھی ہے وغیرہ۔

(2)ممکن ہے کہ فقہی توجیہات بعد کے فقہاء کی ہوں اور مجتہدین نے مسائل کی بناء صرف تشریحی تحقیقات پر نہیں بلکہ اور امور پر کی ہو۔

(3)امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں یہ ملتا ہے۔

و بعضھم جعل المثانۃ نفسھا جوفا عند ابی یوسف رحمہ اللہ

بعض حضرات نے کہا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک خود مثانہ مستقل جوف ہے

اس سے معلوم ہوا کہ بعض فقہاء کے نزدیک مثانہ بھی ایسے ہی بنیادی طور پر جوف ہے جیسا کہ جوف معدہ۔

حاصل یہ ہے کہ صرف جوف معدہ میں کسی شے کا داخل ہونا مفطر صوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی جوف میں داخلہ و استقرار مفسد صوم ہے۔

رہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث تو اس کے اول حصہ کا یہ جواب ہے کہ محض جوف معدہ کے ذکر سے دیگر اجواف کا غیر معتبر ہونا لازم نہیں آتا۔

بحث ثالث۔ علیحدہ علیحدہ اعضاء کے احکام۔

(1) آنکھ کے بارے میں

آنکھ اور ناک کے درمیان ایک باریک سا منفذ ہوتا ہے جس کو Naso- Lacrimal Duct کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جب ہم آنکھ میں دوا کے قطر ے ٹپکائیں تو وہ اس باریک سی نالی سے گزرتی ہوئی حلق میں آجاتی ہے اور دوا کا مزہ محسوس ہوتا ہے۔ اس سے خیال ہوتا ہے کہ جب دوا حلق تک پہنچتی ہے تو اس کے بعد لا محالہ معدہ تک بھی پہنچتی ہوگی لہٰذا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے۔

(1)شریعت نے اس کو قاعدہ ’’إِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ وَ لَیْسَ مِمَّا خَرَجَ‘‘ سے مستثنی کیا ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَکْتَحِلُ وَھُوَ صَائِمٌ (رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں سرمہ لگاتے تھے) اور ظاہر ہے کہ سرمہ کا اثر بھی حلق میں محسوس ہوتا ہے اور تھوک و بلغم میں سرمہ کی سیاہی نظر آتی ہے۔

(2)مذکورہ بالا منفذ اتنا باریک ہوتا ہے کہ عام نظر سے اس کا ادراک بھی نہیں ہوسکتا لہذا یہ مثل مسام کے ہے اور مسام سے گزرنے والی چیز مفطر صوم نہیں ہوتی۔ علامہ زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

ولئن کان عینہ فھو من قبیل المسام فلا یفطرہ۔ (تبیین الحقائق)۔

اگر وہ بعینہ سرمہ ہے تو چونکہ وہ مسام کے ذریعہ سے پہنچا ہے لہٰذا روزہ نہیں ٹوٹتا۔

نوٹ:بعض اوقات اس باریک سی نالی میں ایک نلکی داخل کرکے پانی گزارا جاتا ہے تاکہ صفائی ہوجائے اس صورت میں چونکہ وہ نالی اب مسام کی صورت میں نہیں رہی لہٰذا اب جو پانی حلق میں گر کر معدہ میں جائے گا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

کان کے بارے میں

کان کے تین حصے ہوتے ہیں بیرونی، وسطی اور اندرونی ۔ بیرونی اور وسطی کے درمیان ایک پردہ ہوتا ہے اور اسی طرح وسطی اور اندرونی کے درمیان بھی۔ باہر کے پردے سے کوئی تیل و غیرہ دماغ تک پہنچ جائے ایسا نہیں ہوتا کیونکہ کان اور جوف راس کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہوتا۔ وسطی حصے اور حلق کے درمیان ایک نالی نما منفذ یعنیEustachian tube ہوتی ہے جو عام حالتوں میں تو کھلی ہوتی ہے لیکن کان کے بیرونی پرد ے کے پھٹنے کی صورت میں بند ہوجاتی ہے اور اس سے بالفرض اگر کچھ دوا نفوذ بھی کرے گی تو وہ مسام میں سے نفوذ کرنے کے مثل ہوگی۔

لہٰذا کان میں ڈالا گیا کوئی تیل وغیرہ نہ تو جوف راس میں داخل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے واسطے سے جوف بطن میں جیسا کہ پہلے تفصیل گزرچکی ہے۔ اس طرح فقہاء کی اپنی تعلیل کے مطابق تو روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔

ہم نے جو معیار ذکر کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ کان میں کسی بھی شے کے داخل ہونے سے رزہ ٹوٹ جانا چاہیے خواہ وہ تیل ہو یا پانی ہواور خواہ پانی خود بخود داخل ہوا ہویا عمداً داخل کیا گیا ہو اور خواہ وہ جامد کی ایسی شکل ہو کہ جس کو جوف کان میں استقرار بھی حاصل ہو جاتا ہے مثلاً سفوف وغیرہ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں بطن کا لفظ ہے جو سینے کے نیچے کے نرم حصے(Abdomen)پر بھی بولا جاتا ہے لہذا ہم محض ان اجواف میں کسی شے کے داخلہ اور استقرار کو کیوں نہ مفطر ٹھہرائیں جو بطن میں واقع ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بطن میں موجود اجواف کے علاوہ باقی بدن میں صرف دو جوف رہ جاتے ہیں یعنی مجری النفس (Respiratory tract)اور کان کے اجواف۔ حدیث میں موجود لفظ بطن میں احتمال ہے کہ اس سے مراد جوف معدہ ہو جیساکہ سباق سے معلو م ہوتا ہے۔ اس احتمال کے ہوتے ہوئے پھر پیٹ و بطن کے دیگر اجواف اور کان کے جوف کے درمیان کچھ فرق نہیں رہتا۔ نیز احتیاط بھی اسی کی مقتضی ہے کہ ان کے ما بین فرق نہ کیا جائے کیونکہ ائمہ حنفیہ کان میں تیل پڑنے پر روزے کے ٹوٹنے کے بالاتفاق قائل ہیں۔

ہمارے نزدیک کان میں تیل ڈالنے یا پانی ڈالنے سے روزہ کے فاسد ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ علت دونوں میںیکساں ہے البتہ خود بخود پانی داخل ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ پانی کے بارے میں قاضی خان بھی تفصیل کے قائل ہیں اگرچہ علت میں فرق ہے۔

قال(القاضی خان) اذا خاض الماء فدخل اذنہ لا یفسد صومہ وان صب الماء فیھا اختلفوا فیھا والصحیح الفساد لانہ موصل الی الجوف بفعلہ فلا یعتبر فیہ صلاح البدن کما لو ادخل خشبۃ و غیبھا الی آخر کلامہ وبہ تندفع الاشکالات ویظھر ان الاصح فی الماء التفصیل الذی اختارہ القاضی رحمہ اللہ(فتح القدیر)

قاضی خان رحمہ اللہ نے فرمایا جب آدمی پانی میں اتر جائے اور پانی خود بخود اس کے کان میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر کوئی اپنے کان میں خود پانی ٹپکائے تو اس بارے میں اختلاف ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس نے اپنے فعل سے پانی پہنچایا ہے لہٰذا اس وقت اس کے مفید بدن نہ ہونے کا اعتبار نہ ہو گا جیسا کہ اس صورت میں نہیں ہوتا جب کوئی شخص اپنے پاخانے کی راہ میں لکڑی داخل کرے اور اس کو اس کے اندر غائب کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پانی میں وہ تفصیل جو قاضی خان نے اختیار کی ہے وہی زیادہ ظاہر اور راجح ہے۔

کان میں خود بخود پانی کے داخل ہونے کی صورت میں عدم فساد کی یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ایسا ہونا آدمی کے اختیار سے باہر ہوتا ہے اور روزے میں نہانے کی ضرورت ہوسکتی ہے فرض بھی اور سنت بھی۔ ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے بھی اباحت ہے۔ پس غیر اختیاری ہونے کے باعث فساد کا حکم نہیں لگائیں گے جیسا کہ مکھی اگر خود بخود روزہ دار کے پیٹ میں چلی جائے تو ازروئے استحسان اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

جامد چیزوں کو کان میں داخل کرنے کی صورت میں حکم یہ ہوگا کہ اگر وہ کان میں جاکر چھپ جائیں اور باہر سے نظر نہ آئیں اور خود بخود باہر بھی نہ نکلیں تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ البتہ اگر کوئی چھوٹا کنکر یا اس جیسی کوئی شے داخل ہونے کے بعد خود بخود یعنی آلات و اوزار کی مدد کے بغیر باہر نکل آئے تو عدم استقرار کے باعث فساد صوم کا حکم نہ لگائیں گے۔

مثانہ کے بارے میں

گردوں تک جو خون جاتا ہے اس میں سے پیشاب چھن کر دائیں بائیں کی نالیوں(Ureters)کے ذریعے مثانہ میں جمع ہوتا ہے اور وہاں سے بوقت ضرورت خارج ہوتا ہے۔ مثانہ اور جوف معدہ کے درمیان قطعی طور پر کوئی منفذ نہیں ہوتا اور اس میں قدیم خیال کے بر عکس مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

لہٰذا ہمارے پیش کردہ معیار کے مطابق کسی دوا وغیرہ کے مثانہ میں خواہ وہ مرد کا ہو یا عورت کا داخل ہونے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یہی قول امام ابویوسف رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ البتہ توافق علت نہیں ہے لیکن مضر نہیں۔ مزید براں بعض حضرات کا یہ قول بھی موجود ہے کہ’’ وبعضھم جعل المثانۃ نفسھا جوفا عند ابی یوسف رحمہ اللہ (بعض حضرات نے بتایا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مثانہ خود مستقل جوف ہے)۔

آلہ تناسل (Penis) کے بارے میں

مرد میں مثانہ سے لے کر پیشاب کی نالی کے سوراخ تک ایک لمبی سی نالی (Urethra) ہوتی ہے جس کا کچھ حصہ قصبۃ الذکر میں ہوتا ہے یعنی (Penile Urethra)اور کچھ حصہ پیٹ کے اندر ہوتا ہے یعنیProstatic and Membranous urethra عورت میں یہ نالی نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے اور جتنی بھی ہوتی ہے یعنی 4سم۔ وہ سب پیٹ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ بات معلوم رہے کہ عورت میں فرج خارج کے اندر جیسے فرج داخل کا سوراخ ہوتا ہے اسی طرح اس کے ذرا اوپر پیشاب کی نالی کا علیحدہ سوراخ ہوتا ہے۔

پیشاب کی نالی بھی چونکہ ایک مستقل جوف ہے لہٰذا وہ خواہ مرد کی ہو یا عورت کی اس میں کچھ داخل ہوکر چھپ جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس کی تائید اس تصریح سے بھی ہوتی ہے۔

وما نقل عن خزانۃ الاکمل فیما اذا حشا ذکرہ بقطنۃ فغیبھا انہ یفسد کاحتشائھا مما یقضی ببطلان حکایۃ الاتفاق علی عدم الفساد فی الاقطار ما دام فی قصبۃ الذکر و لا شک فی ذلک(فتح القدیر)

خزانہ اکمل میں مذکور یہ مسئلہ کہ کوئی مرد اپنے آلہ تناسل میں روئی بھر دے اور روئی کو اس کے اندر چھپا دے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ مثانہ کے اندر چھپانے سے ٹوٹتا ہے اس بارے میں یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ کہنا کہ پیشاب کی نالی میں ٹپکایا ہوا قطرہ جب تک اسی میں رہے اس سے بالاتفاق روزہ نہیں ٹوٹتا غلط بات ہے۔

خزانہ الاکمل کی اس جزئی کے علاوہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ یا کم از کم امام ابویوسف رحمہ اللہ کا یہی قول ہے کہ آلہ تناسل میں قطرے ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی اس کے موافق ایک روایت موجود ہے۔ بدائع میں علامہ کاسانی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں

واما الاقطار فی الاحلیل فلا یفسد فی قول ابی حنیفۃ و عندھما یفسد وروی الحسن عن ابی حنیفۃ مثل قولھما وعلی ھذہ الروایۃ اعتمد استاذی رحمہ اللہ۔ وذکر القاضی فی شرحہ مختصر الطحاوی و قول محمد مع ابی حنیفۃ (ص:93 ج:2)

پیشاب کی نالی میں قطرے ٹپکانے سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا جب کہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ حسن رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے صاحبین کے قول کی مثل روایت کیا اور اسی روایت پر میرے استاد رحمہ اللہ کا اعتماد تھا۔

بعد کے فقہاء نے ان اقوال کی جو بھی توجیہ و تعلیل کی ہو ہمارے لئے اتنا کافی ہے کہ ہمیں ہمارا مطلوبہ حکم ائمہ احناف ہی سے حاصل ہے کہ آلہ تناسل میں قطرے ٹپکانا مفسد صوم ہے اور ایسا ہر حال میں ہے مثانے میں داخل ہونے کی قید کے ساتھ مقید نہیں ہے البتہ ابن عابدین رحمہ اللہ کا یہ کہنا

وافاد انہ لو بقی فی قصبۃ الذکر لا یفسد اتفاقاً ولا شک فی ذلک و بہ بطل ما نقل عن خزانۃ الاکمل لو حشا ذکرہ بقطنہ فغیبھا انہ یفسد لان العلۃ من الجانبین الوصول الی الجوف و عدمہ بناء علی وجود المنفذ و عدمہ لکن ھذا یقتضی عدم الفساد فی حشو الدبر و فرجھا الداخل ولا مخلص الا باثبات ان المدخل فیھا تجذبہ الطبیعۃ فلا یعود الا مع الخارج المعتاد و تمامہ فی الفتح۔ قلت الاقرب التخلص بان الدبر والفرج الداخل من الجوف بینھما و بین الجوف حاجزا الا ان الشارع اعتبرھما فی الصوم من الخارج وھذا بخلاف قصبۃ الذکر فان المثانۃ لا منفذ لھا علی قولھما وعلی قول ابی یوسف وان کان لھا منفذ الی الجوف الا ان المنفذ الآخر لمتصل بالقصبۃ منطبق لا ینفتح الا عند خروج البول فلم یعط للقصبۃ حکم الجوف (ص:109 ج:2 ردالمحتار)

’’جب تک دوا وغیرہ پیشاب کی نالی میں رہے اس سے بالاتفاق روزہ نہیں ٹوٹتا اس میں کچھ شک نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خزانہ اکمل والی بات درست نہیں کیونکہ دونوں جانبوں کی علت جوف میں پہنچنا نہ پہنچنا ہے جو خود اس پر مبنی ہے کہ مثانہ اور جوف بطن کے درمیان منفذ ہے یا نہیں۔ لیکن اس کا تو یہ مطلب ہو گا کہ مقعد یا اندرونی شرمگاہ میں کچھ ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹنا چاہئے اور اس سے خلاصی کی صرف یہی صورت ہے کہ ان میں داخل ہونے والی شے کو طبیعت جذب کرتی ہے اور یہ عادۃً باہر آنے والی شے کے ساتھ واپس نکلتی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس اعتراض سے خلاصی کی زیادہ قریب صورت یہ ہے کہ مقعد اور اندرونی شرمگاہ ان کے اور جوف بطن کے درمیان حائل موجود ہے البتہ شارع نے روزے کے لئے ان دونوں کو جسم سے خارج شمار کیا ہے۔ یہ حکم پیشاب کی نالی سے مختلف ہے کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مثانے کا منفذ نہیں ہے جب کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر منفذ ہے لیکن دوسرا منفذ جو پیشاب کی نالی کے ساتھ متصل ہے وہ صرف پیشاب کے نکلنے کے وقت کھلتا ہے لہٰذا پیشاب کی نالی کو مثانہ والا حکم نہیںدیا جا سکتا۔

اگرچہ تشریح البدن کے اعتبار سے تو انکا یہ کہنا صحیح ہے کہ

الا ان المنفذ الآخر المتصل بالقصبۃ منطبق لا ینفتح الا عند خروج البول۔

مثانہ کا منفذ جو پیشاب کی نالی کے ساتھ متصل ہے وہ بند رہتا ہے اور صرف پیشاب باہر نکلنے کے وقت کھلتا ہے۔

لیکن جو مسئلہ انہوں نے ذکر کیا ہے وہ ائمہ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ اس صورت میں آلہ تناسل میں قطرے ٹپکانے میں اختلاف کا ذکر ہی بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے بلکہ اختلاف صرف اسی صورت میں رہ جاتا ہے کہ شے مثانہ میں داخل ہوا ور اس کا علم بھی ہوجائے کہ وہ مثانہ میں داخل ہوگئی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بھی ہر ہر ٹپکائے ہوئے قطرے میں انتہائی دشوار ہے بلکہ ابن عابدین رحمہ اللہ کے مطابق آلہ تناسل کے راستے مثانے میں کوئی شے داخل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں۔

الا ان المنفذ الآخر المتصل بالقصبۃ لا ینفتح الا عند خروج البول۔۔

مثانہ کا منفذ جو پیشاب کی نالی کے ساتھ متصل ہے وہ بند رہتا ہے اور صرف پیشاب باہر نکلنے کے وقت کھلتا ہے۔

اس صورت میںامام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک آلہ تناسل میں قطرے ٹپکانے کے ذکر کا بے فائدہ ہونا اظہر ہے۔ اورجب یہ بات باطل ہے تو اس کا موجب بھی باطل ہو گا یعنی اللازم باطل فالملزوم مثلہ۔ لہذا امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک آلہ تناسل میں قطرے ٹپکانے کو ہر حال میں مفسد صوم سمجھنا ناگزیر ہے۔

فرج داخل اور رحم کے بارے میں

اگرچہ اپنے پاس موجود فقہ کی کتابوں میں یہ تصریح تو نہیں ملی کہ فرج داخل اور رحم اور جوف معدہ کے درمیان منفذ ہے لیکن فرج داخل اور رحم میں سے کسی شے کے داخل و مستقر ہونے سے فساد صوم کا قول ضرور ملتا ہے۔

وکذا(ای الم یفسد صومہ) لو ادخل اصبعہ فی استہ او ادخلت المراۃ فی فرجھا ھو المختار الا اذا کانت الاصبع مبتلۃ بالماء او الدھن فحینئذ یفسد لوصول الماء او الدھن وقیل ان المراۃ اذا حشت الفرج الداخل فسد صومھا (البحر الرائق)

اگر اپنی خشک انگلی اپنے پاخانے کے مقام میں داخل کی یا عورت نے اپنی شرمگاہ میں داخل کی تو مختار بات یہ ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر پانی یا تیل لگی انگلی داخل کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ پانی یا تیل اندر پہنچ گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورت اگر اپنی اندرونی شرمگاہ میں کوئی چیز بھر دے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

اسی طرح امداد الفتاوی میں یہ مسئلہ لکھا ہے

’’خود روزہ کی حالت میں(رحم میں) یہ چھلا چڑھانا مفسد صوم ہے‘‘۔

جدید تحقیقات کی رو سے اگرچہ ان کے اور جوف معدہ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے لیکن چونکہ یہ بھی ایک جوف ہے لہذا اس میں کسی شے کے دخول و استقرار سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

-2 آمہّ و جائفہ کے بارے میں

جائفہ یعنی پیٹ کا وہ زخم جو معدہ یا آنت میں کھلتا ہو اس میں دوا ڈالی جائے اور وہ جوف معدہ تک پہنچ جائے تو اس سے روزہ کے ٹوٹنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

آمہ سر کے اس زخم کو کہتے ہیں جو ہڈی کو توڑ کر دماغ کے گرد جھلیوں (Meninges) تک پہنچ جائے۔ یہ جھلیاں دماغ کا ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہوتی ہیں اور نیچے حرام مغز پر محیط جھلیوں کے ساتھ متصل ہوتی ہیں جوف دماغ کی تحقیق ہم پہلے کرچکے ہیں۔

موجودہ دور میں کھوپڑی کے اندر دماغ کی جگہ کو کھوپڑی کا جوف(Cranial cavity)کہتے ہیں لیکن چونکہ یہ دماغ سے بھری ہوتی ہے اور اس کو جوف سمجھنا یا کہنا محض ایک طبی اصطلاح ہے لہذا احکام شرعیہ میں اس کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ آمہ میں دوا لگانے سے چونکہ دوا کسی معہود و معروف جوف میں داخل نہیں ہوتی لہٰذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ صاحبین رحہما اللہ بھی یہی حکم لگاتے ہیں اگرچہ انکے قول کی جو توجیہ کی گئی ہے وہ مختلف ہے یعنی

لعدم التیقن بالوصول لانضمام المنفذ مرۃ و اتساعہ اخریٰ۔

کیونکہ جوف تک پہنچنا یقینی نہیں ہے اس لئے کہ منفذ کبھی کھلتا ہے اور کبھی بند رہتا ہے۔

اسی طرح اگر زخم کی وجہ سے پیٹ کی کھال کٹ جائے لیکن زخم معدہ یا آنت تک نہ اترا اور اس زخم میں دوا لگائی ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ دوا کسی معہود و معروف جوف میں داخل نہیں ہوئی ہے اگرچہ موجودہ دور میں علم تشریح والے اس کو بھی جوف پیٹ یعنی (Abdominal cavity)کہتے ہیں۔ یہ اصطلاحی جوف بھی معدہ اور آنتوں وغیرہ سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔

-7 مجری النفس (سانس کی نالی) کے بارے میں

مجری نفس یعنی سانس کی نالی سینے میں داخل ہو کر مرحلہ وار کئی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ یہ خود ایک مستقل جوف ہے۔ اس کے بر عکس مُری(کھانے کی نالی) سینے میں سے گزر کر پیٹ میں داخل ہو کر معدہ میں کھلتی ہے مجری نفس کا مُری یا جوف معدہ کے ساتھ کچھ اتصال نہیں ہوتا۔

مجری نفس میں کسی شے کو داخل کرنے سے فساد صوم کا قول فقہاء کرتے ہیں۔

ومفادہ انہ لوادخل حلقہ الدخان افطرای دخان کان ولوعودا او عنبرا لو ذاکرا لامکان التحرز عنہ(ردالمحتار)

اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر روزہ دار نے اپنے حلق میں کوئی سا بھی دھواں داخل کیا خواہ وہ عود کا ہو یا عنبر کا ہو تو روزہ یاد ہوتے ہوئے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔

ای بای صورۃ کان الادخال حتی لو تبخر ببخور فاواہ الی نفسہ واشتمہ ذاکرا لصومہ افطر لامکان التحرز عنہ وھذا مما یغفل عنہ کثیر من الناس ولا تتوھم انہ کشم الورد ومائہ والمسک لوضوح الفرق بین ھواء تطیب بریح المسک وشبھہ و بین جوھر دخان وصل الی جوفہ بفعلہ امداد وبہ علم حکم شرب الدخان و نظمہ الشرنبلالی فی شرحہ علی الوھبانیۃ بقولہ ویمنع من بیع الدخان وشربہ وشاربہ فی الصوم لا شک یفطر(ردالمحتار)

(دھواں کسی صورت میں بھی داخل ہو) حتیٰ کہ اگر دھونی سلگائی اور اس کو اپنے قریب کیا اور سونگھا تو روزہ یاد ہوتے ہوئے ایسا کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن تھا۔ یہ ایسی بات ہے جس سے بہت سے لوگ غفلت کرتے ہیں۔ یہ خیال نہ ہو کہ یہ تو گلاب کا پھول یا عرق گلاب یا مشک سونگھنے کی طرح ہے کیونکہ مشک سے معطر ہونے والی ہوا سونگھنے میں اور دھوئیں کے جوہر کو اپنے فعل سے جوف میں لے جانے میں واضح فرق ہے۔ اسی سے حقہ، بیڑی اور سگریٹ پینے کا حکم بھی معلوم ہوا۔

اور ظاہر ہے کہ دھواں یا دھونی یا بھاپ عام طور سے پیٹ میں نہیںداخل کی جاتی بلکہ مجری نفس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل کی جاتی ہے اور قاعدہ ہے کہ سانس لینے کے دوران کھانے کی نالی بند ہوتی ہے اور جس وقت کچھ چیز نگل رہے ہوں تو سانس کی نالی کا مدخل بند ہوجاتا ہے۔ یہ مسئلہ بھی ہمارمے ذکر کئے ہوئے معیار کی تائید کرتا ہے۔

یہ قاعدہ جو ابھی ہم نے ذکر کیا اس کیلئے حوالہ ملاحظہ ہو۔

The upper end of the oesophagus is normally shut off from the pharynx, and there is resistance to the passage of a gastroscope. Normally this sphincter opens 0.2-0.3 seconds after beginning of a swallow, remain open for 0.5-1.0 seconds, and then closes. (Applied Physiology by Samson

Wright).

-8 پاخانے کا مقام (Anus)

دبر یعنی پاخانے کے مقام کے اندر کوئی چیز داخل ہونے کے بارے میں بظاہر متعارض (Contradictory)احکام ملتے ہیں۔

(الف) ادخل اصبعہ مبلولۃ بماء اودھن فی دبرہ اواستنجی فوصل الماء الٰی داخل دبرہ (یفسد الصوم) ۔۔۔والحد الفاصل الذی یتعلق بالوصول الیہ الفساد قدر المحقنۃ وقلما یکون ذلک۔

پانی یا تیل لگی انگلی کو اپنے دبر میں داخل کیا یا استنجا کیا اور پانی دبر میں داخل ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وہ حد فاصل جس تک پہنچنے سے روزہ ٹوٹتا ہے وہ آلہ حقنہ کی مقدار ہے اور وہاں تک کم ہی پہنچنا ہوتا ہے۔

(ب) ادخل قطنۃ اوخرقۃ اوخشبا اوحجرا فی دبرہ وغیبھا(یفسد الصوم) لانہ تم الدخول(مراقی الفلاح)

کسی نے اپنے دبر میں روئی یا کپڑے کا ٹکڑا یا لکڑی یا پتھر داخل کیا اور اس میں اس کو چھپا دیا تو اندر داخلہ ممکن ہونے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

بظاہر تعارض کی وجہ یہ ہے کہ پہلے مسئلے میں آلہ حقنہ کی مقدار چوڑائی میں (جو پانچ سے چھ انگلیوںکی چوڑائی ہے اس کی) کی قید لگائی ہے جبکہ دوسرے مسئلے میں ایسا نہیں ہے۔ مزید بریں جب آلہ حقنہ کی مقدار کے برابر پاخانے کے مقام کو شارع کی جانب سے منہ کی طرح خارج کا حکم حاصل نہیں ہے اور وہ جوف کے ساتھ متصل و متعلق بھی ہے تو اس مقدار کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

البتہ ان مسائل کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے کہ روزہ میں بھی پانی سے استنجا کرنے کا شرعی حکم موجود ہے اور دبر میں استنجے کے کچھ پانی کے داخل ہونے سے مکمل احتراز ناممکن ہے۔ کبھی اجابت کے بعد دبر کے سوراخ کے زیادہ کشادہ ہونے کی بنا پر بھی پانی داخل ہوجاتا ہے۔ اس مجبوری و ضرورت کیلئے حد فاصل آلہ حقنہ کی مقدار کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی ضرورت کے تحت اگر بواسیری مسے لٹک گئے ہوں اور استنجا کے بعد خشک کئے بغیر ان کو اوپر چڑھا لیا گیا ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

اس ضرورت کے علاوہ اور صورتوں میں یعنی دوا یا تیل لگانے یا دبر کے اندر نلی کے ذریعے سے بواسیری یا کوئی اور مرہم لگانے یا روئی، پتھر، لکڑی کا ٹکڑا داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

ذرا غور تو کیجئے

کراچی کے دارالعلوم کے رسالہ البلاغ میں ہمارے مذکورہ بالا مضمون کے بہت پہلے چھپنے کے باوجود کراچی کے دارالعلوم اور کراچی ہی کے دارالافتاء والارشاد کے مفتیوں پر مشتمل مجلس تحقیق مسائل حاضرہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ:

’’کان میں اور مثانہ و فرج داخل میں روزہ کی حالت میں کوئی دوا وغیرہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا‘‘

اس بارے میں ان کے کلام کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے۔

’’یہ بات کہ کان میں دوا ڈالنے سے روزہ کیوں فاسد ہو گا ؟ کسی بھی فقہی کتاب میں اس کی کوئی دلیل حدیث مرفوع، موقوف یا مقطوع کی صورت میں بیان نہیں کی گئی۔ اس کی فقہی وجہ بیان کرنے سے بھی بعض عبارات میں تو سکوت کیا گیا ہے اور بعض عبارات میں الفطر مما دخل لا مما خرج کو بنیاد بنایا گیا ہے اور بعض عبارات میں یہ تصریح ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے اگر دوا حلق میں چلی جائے تو روزہ فاسد ہو گا ورنہ نہیں۔

اور بعض عبارات بلکہ کئی عبارات میں اس کی صراحت ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے دوا دماغ میں منتقل ہو جاتی ہے اور دماغ یا تو بعض ائمہ کے نزدیک خود جوف معتبر ہے اس لئے دماغ میں دوا پہنچنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور بعض دوسرے حضرات کے نزدیک دماغ اس لئے جوف معتبر ہے کہ دماغ سے حلق کی طرف راستہ ہونے کی بناء پر دوا حلق یا معدے میں جائے گی اور حلق یا معدے میں جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

اس سے معلوم ہوا کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کے نزدیک کان میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ دوا جوف معتبر یعنی دماغ یا حلق تک پہنچ جاتی ہے وہو الاصل فی الافطار۔ ( اور یہی روزہ توڑنے کی بنیاد ہے)۔

اب رہی یہ بات کہ کان میں دوا ڈالنے سے کیا دوا واقعۃً حلق یا دماغ کی طرف کسی منفذ کے ذریعہ منتقل ہوتی ہے یا نہیں ؟ تو یہ مسئلہ فقہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ طب اور فن تشریح الابدان سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘ ( اور چونکہ موجودہ طب اور فن تشریح الابدان سے یہ بات ثابت ہے کہ کان ، مثانہ اور فرج داخل کا جوف معدہ یا جوف دماغ سے اتصال نہیں ہے اس لئے ان میں کوئی دوا وغیرہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ناقل) (تحریر مجلس تحقیق مسائل حاضرہ۔ ص 2)۔

ہم کہتے ہیں:

مجلس تحقیق کا مذکورہ بالا فتوی اور اس کے دلائل تعجب خیز ہیں۔ روزے سے متعلق مسائل جو چودہ صدیوں سے چلے آ رہے تھے انہوں نے ان کو یکدم تبدیل کر دیا جب کہ ان کے دلائل بھی کمزور ہیں۔

مجلس تحقیق والوں کا یہ کہنا کہ ’’کسی بھی فقہی کتاب میں اس (بات) کی (کہ کان میں دوا ڈالنے سے روزہ کیوں فاسد ہو گا) کوئی دلیل حدیث مرفوع، موقوف یا مقطوع کی صورت میں بیان نہیں کی گئی‘‘

قابل تسلیم نہیں ہے اور مرفوع حدیث بھی ہے اور مقطوع حدیث یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول بھی موجود ہے۔

-1 مرفوع حدیث کے لئے خود مجلس کی ذکر کردہ عبارت نمبر19 میں یہ ہے

و فی الھدایۃ:

و من احتقن او استعط او اقطر فی اذنہ افطر لقولہ ﷺ الفطر مما دخل

ہدایہ میں ہے جس شخص نے حقنہ لیا یاناک میں دوا ڈالی یا کان میں قطرے ٹپکائے تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے جسم میں داخل ہونے والی چیز سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ صاحب ہدایہ اقطار فی الاذن (کان میں قطرے ٹپکانے) کی صورت میں افطار کا فتویٰ دے رہے ہیں اور اس کی دلیل میں مرفوع حدیث کو ذکر کر رہے ہیں۔ اتنی ظاہر اور بدیہی بات کا مجلس تحقیق سرے سے انکار کر دے تو تعجب کیوں نہ ہو۔ صاحب ہدایہ کی ذکر کردہ نقلی دلیل یعنی مرفوع حدیث کو صاحب اعلاء السنن نے بھی من و عن اختیار کیا ہے جو کہ مزید تائید ہے۔

و دلت ہذہ الاحادیث علی ما فی الھدایۃ ان من احتقن او استعط او اقطر فی اذنہ افطر (اعلاء السنن ص 126 ج 9)

یہ احادیث ہدایہ کے اس مسئلہ کی دلیل ہیں کہ جس شخص نے حقنہ لیا یا ناک میں دوا ڈالی یا کان میں قطرے ڈالے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

رہا اس مرفوع حدیث سے طریق استدلال تو وہ ہم آگے ذکر کرتے ہیں۔

لیکن مجلس تحقیق والے اس کو یوں کہہ کر گزر گئے ہیں کہ ’’بعض عبارات میں الفطر مما دخل لا مما خرج کو بنیاد بنایا گیا ہے‘‘۔ اور اس طرح سے انہوں نے ان الفاظ کے مرفوع حدیث ہونے کی حیثیت کو بالکل مٹا کر رکھ دیا۔

-2 مقطوع

حدیث یہ ہے

قال ابوحنیفۃ السعوط والحقنۃ فی شھر رمضان یوجبان القضاء ولا کفارۃ علیہ و کذلک ما اقطر فی اذنہ (کتاب الاصل لمحمد)

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رمضان کے روزے میں ناک میں دوا ڈالنے سے اور مقعد میں دوا ڈالنے سے (روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور) قضا واجب ہوتی ہے کفارہ نہیں آتا۔ یہی حکم اس وقت ہے جب کان میں قطرے ٹپکائے۔

لیکن مجلس تحقیق نے اس کی طرف بھی کچھ توجہ نہ کی۔

مرفوع حدیث کے ذکر کے بعد صاحب ہدایہ اپنے معمول کے مطابق عقلی دلیل ذکر کرتے میں جو یہ ہے ولوجود معنی الفطر و ہو وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف۔ (اور اس لئے کہ روزہ ٹوٹنے کی وجہ پائی جاتی ہے جو جوف میں مفید بدن چیز کا پہنچنا ہے)۔

صاحب ہدایہ کی ذکر کردہ عقلی دلیل وہی ہے جس کو مجلس تحقیق والوں نے یوں ذکر کیا ہے ’’اور بعض عبارتوں میں یہ تصریح ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے اگر حلق میں جائے تو روزہ فاسد ہو گا ورنہ نہیں اور بعض عبارات بلکہ کئی عبارات میں اس کی صراحت ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے دوا دماغ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔‘‘

اب ہم مسئلہ کی اصل دلیل کی مزید وضاحت کرتے ہیں:

ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں بے اعتنائی برتنے کے باوجود دارالعلوم اور دارالافتاء والارشاد کے حضرات حدیث الفطر مما دخل کو تو مانتے ہیں البتہ ہماری طرح وہ بھی اس کو مقید مانتے ہوں گے۔ اب قید کیا ہے ؟ اس میں نزاع ہے۔

عام طور سے فقہا چونکہ جوف معدہ یا جوف دماغ میں وصول کو علت بتاتے ہیں اور اس پر انہوں نے بعض اختلافات کا مدار رکھا ہے اس لئے دارالعلوم اور دارالافتاء والارشاد نے اسی کو وہوالاصل فی الافطار مان کر حدیث کو یوں مقید کیا ہے:

الفطر مما دخل جوف البطن او جوف الدماغ

اور جوف بطن سے ہماری طرح ان کی مراد بھی ہے حلق سے لے کر دبر تک کا جوف Gastro-Intestinal Tract)) اب انہوں نے دیکھا کہ کان، احلیل، مثانہ اور فرج داخل ان میں سے کوئی بھی جوف بطن یا جوف دماغ میں نہیں کھلتا تو انہوں نے ان میں کوئی چیز ڈالنے کو مفسد صوم نہیں مانا۔

لیکن اس صورت میں ان حضرات پر لازم آئے گا کہ سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں میں جانے والی کسی چیز مثلاً سگریٹ نوشی، انہیلر (Inhaler)، عمداً گرد و غبار اور دھوئیں کو اندر کرنے سے بھی روزہ نہ ٹوٹے کیونکہ فم (منہ) سے آگے دوجوف ہیں ایک جوف معدہ یا جوف بطن جو کھانے کی نالی کی ابتداء سے شروع ہوتا ہے اور اس میں اترنے سے روزہ ٹوٹتا ہے، دوسرا سینہ کا جوف (Respiratory Cavity) جو سانس کی نالی سے شروع ہوتا ہے اور سینہ کے اندر پھیپھڑوں تک ممتد ہے۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جوف سینہ کا جوف بطن سے کوئی اتصال نہیں ہے اور ان حضرات کے نزدیک الاصل فی الافطار جوف معدہ یا جوف دماغ میں وصول ہے جوف سینہ میں نہیں۔ رہیں اس سے متعلق کچھ باریکیاں تو وہ قابل التفات نہیں۔

ان حضرات کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں کہ حدیث الفطر مما دخل میں مَا دَخَلَ عام بھی ہے اور مطلق بھی ہے جس کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ جسم میں کسی طرح سے بھی کوئی بھی چیز داخل ہو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

لیکن مسام سے داخل ہونے والی شے سے روزہ نہ ٹوٹنا نص سے ثابت ہے۔ یعنی ان رسول اللہ ﷺ کان یکتحل وھو صائم (رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں سرمہ لگاتے تھے) اور سرمہ کے ذرات جو حلق تک جاتے ہیں تو ایک مسام نمانلی (Naso lacrimal duct)کے ذریعہ جاتے ہیں۔

علامہ زیلعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ولئن کان عینہ فھومن قبیل المسام فلا یفطرہ (اگر سرمہ ہی حلق میں جاتا ہے تو چونکہ وہ مسام سے جاتا ہے اس لئے روزہ نہیں ٹوٹتا)۔

اس کی وجہ سے ما دخل عام مخصوص البعض بھی ہوا اور مطلق بھی نہ رہا بلکہ مقید ہو گیا۔ اس کو ہم یوں تعبیر کرتے ہیں:

الفطر مما دخل ایّ جوف من اجواف البدن من منفذ ایّ منفذ کان

(یعنی جو کسی منفذ سے کسی جوف میں داخل ہو اس سے روزہ ٹوٹتا ہے)۔

ہمارے اس دعوے پر دلائل یہ ہیں:

(1) حدیث میں جوف معدہ یا جوف دماغ میں وصول کی قید پر کوئی الفاظ یا قرائن دلالت نہیں کرتے۔ فقہاء کا فہم تو مسلم ہے لیکن ائمہ احناف نے تو کہیں اس حدیث کے اس طرح مقید ہونے کی تصریح نہیں کی جس طرح کراچی کے دارالعلوم اور دارالافتاء والارشاد (غالباً) کرتے ہیں۔ اور یہ قوی احتمال ہے کہ بعد کے فقہاء حضرات کو اپنے دور کی طبی تحقیقات کے مطابق نقلی و عقلی دلائل میں تو افق نظر آیا تو انہوں نے عقلی دلائل پر پورا زور ڈال دیا لیکن اس میں خفا نہیں کہ اصل اعتبار نقلی دلیل کا ہوتا ہے۔

(2) امام محمد اپنی کتاب الاصل میں ذکر کرتے ہیں:

قال ابو حنیفۃ السعوط والحقنۃ فی شہر رمضان یوجبان القضاء ولا کفارۃ علیہ و کذلک ما اقطر فی اذنہ۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حلق تک یا دماغ تک وصول اور عدم وصول کا اعتبار نہیں کیا بلکہ مطلق اقطار فی الاذن کو مفسد صوم کہا اور اس کی دلیل میں صاحب ہدایہ نے مذکورہ بالا مرفوع حدیث ذکر کی۔

(3) دارالعلوم کراچی اور دارالافتاء والا رشاد والوں نے جس قید کے ساتھ حدیث کو مقید مانا ہے اس کے لئے تشریح بدن کی ضرورت ہو گی۔ کان میں بھی احلیل میں بھی، مثانہ میں بھی اور فرج داخل میں بھی بلکہ جوف سینہ میں بھی۔ حالانکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ شریعت نے ہمیں امۃ امیۃ کہہ کر تشریح بدن جیسی تدقیات کا مکلف نہیں بنایا بلکہ تشریح بدن عام طور سے انسانی لاش کی کانٹ چھانٹ پر موقوف ہے جب کہ ہمیں اس موقوف علیہ کی اجازت ہی نہیں دی۔ اور جس چیز کی نہ ہمیں اجازت دی اور نہ ہمیں اس کا مکلف بنایا اس کے لئے ہم ابنائے زمانہ کی تحقیقات و تدقیقات کے محتاج ہوں یہ بات بھی قابل قبول نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔