﷽   |   ادارہ تعلیماتِ دینیہ، لاہور ✦ فقہی و تحقیقی مضامین ✦ حضرت اقدس ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحبؒ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
16 جمادی الاولیٰ 1448ھ Wed, 28 Oct 2026
فجر: 4:56 (بقیہ وقت: --:--:--)
فونٹ:

تجویز امارت شرعیہ فی الہند کی تاریخ

✍️ حضرت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
بسم اللہ حامدا و مصلیا

تاریخ کا خلاصہ

مولانا ابوالکلام آزادؒ کے سامنے کل ہند امارت شرعیہ کا منصوبہ کئی برس سے تھا۔ 1914ء میں شیخ الہند کو پہلا امیر الہند بنانے کا پروگرام تھا جس پر شیخ الہندؒ راضی ہو گئے تھے لیکن ان کے حجاز چلے جانے سے وہ منصوبہ ملتوی ہو گیا اور خود مولانا آزادؒ نظر بند کر دیئے گئے، رہا ہونے سے پہلے اور بعد میں بھی کوششیں برابر جاری رکھیں لیکن حالات موافق نہ ہوئے۔ لہٰذا مولانا آزادؒ نے فیصلہ کیا کہ پہلے کم از کم صوبہ وار تنظیم کا کام شروع کیا جائے اور اس سلسلہ میں صوبہ بہار کے بعض علماء مثلاً مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب کی دلچسپی و تعاون سے وہاں امارت شرعیہ قائم ہو گئی، لیکن اس کے بعد اس پروگرام کی مخالفت شروع کر دی گئی جو (جیسا کہ ہم آج بھی دیکھتے ہیں) عوامی اخبارات و رسائل کے ذریعے سے عوام میں پھیلا دی گئی۔ اس پر جمعیت العلماء کو اس معاملہ کے سلجھانے میں با صلاحیت دیکھ کر مولانا آزاد نے یہ مسئلہ جمعیت کے حوالے کر دیا۔ اخبارات میں مخالفت ابوالکلام کو امیر الہند بنانے یا نہ بنانے سے متعلق نہیں تھی کیونکہ انہوں نے اس منصب کے لئے کبھی بھی اپنے آپ کو پیش نہیں کیا بلکہ نفس امارتِ شرعیہ کے بارے میں تھی۔ دہلی میں منعقدہ خاص مجلس شوریٰ میں امارت شریعہ قائم کرنے پر سب کا اتفاق ہوا اور نومبر 1921ء میں منعقدہ اجلاس میں یہ تجویز رکھی گئی کہ تنظیم مسلمین قائم کی جائے اور امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے انتخاب سے پہلے ایک سب کمیٹی کو امیر شریعت کے اختیارات و فرائض پر ایک مسودہ پیش کرنا تھا لیکن اس کے بعد تاخیر ہوتی چلی گئی جس کی تفصیل مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے اپنے خطبہ صدارت میں بیان کی اور اس کے کچھ اسباب بیان کئے۔ اسباب بہرحال جو بھی ہوں یہ بات اپنی جگہ قابل افسوس ہے کہ ایک انتہائی مفید منصوبہ ختم ہو کر رہ گیا۔

تفصیلی مطالعہ

مولانا ابوالکلام آزادؒ نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس سوئم منعقدہ لاہور (نومبر 1921ء) میں اپنے خطبہ صدارت میں یہ تذکرہ کیا۔

’’1914ء کے لیل و نہار قریب الاختتام تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ حقیقت اس عاجز پر منکشف کی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک(امارت شرعیہ کا) یہ عقدہ حل نہ ہو گا ہماری کوئی سعی و جستجو بھی کامیاب نہ ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت سے میں سرگرم سعی و تدبیر ہو گیا۔ حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ سے میری ملاقات بھی در اصل اسی سعی و طلب کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے پہلی ہی صحبت میں کامل اتفاق ظاہر فرمایا اور یہ معاملہ بالکل صاف ہو گیا تھا کہ وہ اس منصب کو قبول کر لیں گے اور ہندوستان میں نظم جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا جائے گا مگر افسوس ہے کہ بعض زود رائے اشخاص کے مشورہ سے مولانا نے اچانک سفر حجاز کا ارادہ کر دیا اور میری کوئی منت و سماجت بھی انہیں سفر سے باز نہ رکھ سکی۔ اس کے بعد میں نظر بند کر دیا گیا لیکن ایام نظر بندی میں بھی اس کی فکر و تبلیغ سے غافل نہ تھا، چنانچہ صوبہ بہار کے بعض احباب و مخلصین کو اسی زمانے میں اس طرف توجہ دلائی گئی اور وہاں ابتدائی بنیاد اس کی ڈال دی گئی۔ اسی زمانے میں میرے عزیز و رفیق مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب رانچی میں مجھ سے ملے تھے اور اسی وقت سے سعی و تدبیرمیں مشغول ہو گئے تھے۔ جنوری 1920ء میں جب میں رہا ہوا اور موجودہ تحریک خلافت کی تنظیم شروع ہوئی تو اس وقت بھی میں نے بار بار کوششیں کیں اور تمام کارکن طبقہ کو اس طرف توجہ دلائی مگر حالات موافق و مساعد نہ ہوئے اور مجھے مجبوراً انہی اصلاحات پر قناعت کر لینی پڑی جو اس تحریک کے اندر رہ کر میں انجام دے سکتا تھا۔ گزشتہ موسم گرما میں جب اس طرف سے مایوسی ہو گئی کہ تمام ملک کے لئے کوئی متفقہ و متحدہ نظم قائم ہو تو پھریہ ارادہ کیا۔ اولاً صوبہ وار تنظیم کا کام شروع کر دیا جائے۔ چونکہ صوبہ بہار میں تین چار سال سے ابتدائی بنیاد کام کر رہی تھی اس لئے سب سے پہلے اسی کی طرف توجہ ہوئی اور میں نہیں جانتا کہ کن لفظوں میں میں علمائے بہار کو مبارک باد دوں کہ انہوں نے سبق بالخیرات کا مقام اعلیٰ حاصل کیا اور جمعیت العلماء بہار کے جلسہ میں تین سو مجمع علماء نے بالاتفاق اپنا امیر شرع منتخب کر لیا۔ اس کے بعد ارادہ تھا کہ فوراً دوسرے صوبوں میں بھی کام شروع کر دیا جائے لیکن یکایک بعض حضرات نے اس مسئلہ کی نسبت اخبارات میں قیل و قال شروع کر دی اور بلا ضرورت علمائے ملت کا انتظام عوام میں بصورت اختلاف و جدل نمایاں کر دیا گیا۔ یہ چیز مجھ کو اس کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں روک سکتی تھی مگر جب میں نے دیکھا کہ اب یہ مسئلہ منظر عام پر آچکا ہے اور جمعیت العلماء اس کا آخری اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے تو یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے جمعیت کے حوالے کر کے بالفعل خود سبکدوش ہو جائوں، چنانچہ ارکان جمعیت کی ایک خاص مجلس شوریٰ منعقدہ دہلی میں یہ مسئلہ پیش ہو کر بالاتفاق منظور ہوا اور اب اس کا آخری فیصلہ اس اجلاس کے ہاتھ میں ہے۔ (ص: 114/15 جمعیت العلماء ہند دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام۔ جلد اول)

مذکورہ بالا اجلاس کی تجاویز میں سے دو درج ذیل ہیں۔

(1) جمعیۃ العلماء ہند کا یہ اجلاس تجویز کرتا ہے کہ تنظیم جماعت مسلمین کے لئے ضروری ہے کہ امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے، امیر شریعت کے اختیارات و فرائض کے تعین کے لئے ایک سب کمیٹی بنا دی جائے جو جلد از جلد اس کا مسودہ تیار کر کے جمعیۃ العلماء کے اجلاس مجوزہ دسمبر میں بمقام بدایوں پیش کرے۔ سب کمیٹی کے ارکان یہ ہوں گے۔

مولانا خلیل احمد صاحب، مولانا شبیر احمد صاحب، مولانا محمد سجاد صاحب، مولانا محمد فاخر صاحب، مولانا محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا عبدالباری صاحب، مولانا سبحان اللہ صاحب، مولانامحمد دائود صاحب، مولانا حبیب الرحمن صاحب، مولانا عبدالماجد صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب، مولانا انور شاہ صاحب، مولانا مرتضیٰ حسن صاحب، مولانا ثناء اللہ صاحب، مولانا احمد اللہ صاحب۔

(2) 11, 10 دسمبر کو بدایوں میں جمعیۃ کا ایک عام اجلاس خصوصی منعقد ہو جو سب کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنے کے بعد انتخاب امیر کی کارروائی عمل میں لائے۔ (ص: 132۔ ایضاً)

اس کے بعد سب کمیٹی کے جلسہ منعقدہ 9 دسمبر 1921ء بمقام بدایوں کی رو داد یوں ہے۔ اس اجلاس میں سب کمیٹی کے ارکان کے علاوہ مندرجہ ذیل حضرات بھی موجود تھے۔

حکیم حافظ محمد اجمل خاں صاحب، مولانا سید سلیمان صاحب ندوی، سید ظہور احمد سیکرٹری مسلم لیگ مولانا غلام محمد صاحب شملوی، مولانا احمد مختار صاحب صدیقی، مولانا نذیر احمد صاحب خجندی، مولانا یعقوب بخش صاحب بدایونی، مولانا اعجاز احمد صاحب، مولانا سراج احمد صاحب، مولانا عبدالوہاب صاحب، مولانا عبدالودود صاحب، مولانا نور الحسن صاحب، مولانا فرخندہ علی صاحب۔ سب کمیٹی نے موافق تجویز منظور شدہ اجلاس جمعیۃ علماء ہند منعقدہ 22 نومبر 1921ء بمقام لاہور امیر الہند کے فرائض و اختیارات کا حسب ذیل مسودہ تیار کیا… الخ (ص 468 ایضاً)

(نوٹ: مسودہ اس مضمون کے آخر میں دیا گیا ہے۔)

اس رپورٹ کے بارے میں تعارفی کلمات میں مولانا محمد میاں رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔

’’اگرچہ متعدد مشکلات کے باعث کوشش اور جدوجہد کے باوجود امارات شرعیہ کا خاکہ اب تک رنگ آمیزیٔ عمل سے خالی ہے مگر چونکہ شرعی نقطہ نظر سے اس کی اہمیت کو کسی وقت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیز اس مسودہ کے مضامین سے بہت سے ان شکوک کا ازالہ ہو سکتا ہے جو قیام امارت کے مخالف حضرات پیش کیا کرتے ہیں۔

(مطبوعہ41ھ بمطابق 1922ء ص: 267ایضاً)

جمعیت علماء ہند کا اجلاس خاص بمقام اجمیر شریف مارچ 1922ء زیر صدارت مولانا عبدالباری فرنگی محلی۔

تجاویز

تجویز نمبر 1 جمعیت العلماء ہند کے اجلاس منعقدہ لاہور نے طے کر دیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تنظیم و اقامت محاکم شریعت و بیت المال کے لئے امیر الہند کا انتخاب کیا جائے۔ چونکہ امیر الہند کا انتخاب بظاہر اس وقت تک مشکل ہے جب تک صوبہ وار امراء منتخب نہ ہو جائیں لہٰذا جمعیت العلماء ہند کا یہ جلسہ تجویز کرتا ہے کہ جلد امراء صوبہ کا انتخاب عمل میں آئے اور ہر صوبہ کی جمعیت کو توجہ دلاتا ہے کہ جلد از جلد اس غرض کے لئے جمعیت صوبہ کے عام اجلاس کر کے اپنے صوبہ کے واسطے امیر الشریعت انتخاب کر لے، انتخاب امیر سے قبل اس کے فرائض و اختیارات و قواعد مرتب کر کے جمعیۃ العلماء ہند سے منظور کرا لئے جائیں۔

تجویز نمبر 4: مولانا عبدالحلیم صدیقی نے امیر شریعت کے اختیارات و فرائض کے متعلق سب کمیٹی اجلاس بدایوں کا مرتب کردہ مسودہ پیش کیا مگر یہ مسودہ مولانا عبدالقدیر صاحب بدایونی کی تحریک و مولانا شاہ سلیمان صاحب کی تائید سے آئندہ اجلاس کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔ (ص: 36/ 135 ایضاً)

جمعیت العلماء ہند کے اجلاس چہارم بمقام گیارہ دسمبر 1923ء میں مولانا حبیب الرحمن دیو بندی رحمہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا۔

’’ایسی حالت میں کہ مسلمان ایک غیر مسلم طاقت کے زیر حکومت ہیں اور نہ ان کو اپنے معاملات میں مذہبی آزادی حاصل ہے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے لئے والی اور امیر مقرر کریں۔ دارالقضاء قائم کر کے قضاۃ و مفتیین کا تقرر کریں۔ جمعیۃ العلماء میں یہ تجویز منظور ہو چکی ہے اور جمعیۃ العلماء کے اجلاس لاہور میں یہ طے ہوا تھا کہ ایک سب کمیٹی کا اجلاس بدایوں میں منعقد کیا جائے جس میں امیر شریعت کے شرائط و فرائض و اختیارات وغیرہ مسائل کو طے کر لیا جائے اور اس کے بعد انتخاب امیر کا مسئلہ پیش کیا جائے۔

اس قرار داد کے موافق 8 ربیع الثانی 40 ھ (9 دسمبر 1921ء) کو سب کمیٹی کا اجلاس ہوا اور مختلف مسودے پیش ہوئے مگر ابھی تک ان کا نتیجہ مرتب ہو کر مجلس منتظمہ میں پیش نہیں ہوا۔ امید ہے کہ جلد از جلد اس کے قواعد مرتب ہو کر انتخاب امیر کا وقت آ جائے گا۔ یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ ہندوستان کے امیر شریعت کے تحت میں صوبہ وار امیر مقرر ہوں گے، میرے نزدیک مجلس منتظمہ کو اس امر کا فیصلہ بھی کر لینا چاہئے کہ ترتیب مناسب کیا ہے ؟ آیا اول امیر عام کا انتخاب کیا جائے اور امراء صوبہ جات کا یا صوبہ جات کے امراء منتخب ہو جانے کے بعد امیر الہند کا انتخاب کیا جائے، مسلمانوں کے تشتت و افتراق اور ضروریات دین سے غفلت و جمود کا خیال کرتے ہوئے میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ اول صوبہ جات کے امراء کا انتخاب کیا جائے اور جب ہم کو صوبہ جات کی حالت سے اطمینان ہو جائے اس وقت امیر عام کا انتخاب ہونا چاہئے۔ اگر ہم کو صوبہ جات کے انتخابات میں کامیابی ہو گئی تو ہمارے لئے شاہراہ عمل کھل جائے گی۔ ایک صوبے میں خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو دوسرے صوبہ میں عمل کے لئے موقع باقی رہے گا اور امیر الہند کے معاملہ میں ایک دفعہ ناکامی ہوئی تو ہمیشہ کے لئے اس تجویز کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک کے حالات سے واقف کار حضرات ناکامی کے خطرہ سے کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے، بہرحال اب اس تجویز کی تکمیل کی جلد از جلد ضرورت ہے۔‘‘

(ص: 185 ۔ ایضاً)

جمعیت العلماء ہند اجلاس خصوصی ششم ، مراد آباد جنوری 1925ء میں مولانا ابو المحاسن محمد سجاد نقشبندی رحمہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں یہ تذکرہ کیا ’’مسلمانوں کی حیات اور اجتماعی زندگی بلکہ محض با عزت زندگی کے لئے اگر کوئی چیز ہندوستان میں ضروری اور لازم ہے تو مسلمانوں کا شرعی اصولوں کے ساتھ باضابطہ منظم ہونا ہے، مگر افسوس کہ یہ چیز جتنی ضروری اور اقدم واہم ہے اسی قدر اس کے ساتھ بے اعتنائی اور لاپروائی برتی گئی اور آج تک باوجود ادراک و احساس کے وہی غفلت اور وہی جمود ہے۔

پیہم مصائب اور متواتر آلام کا یہ ثمرہ ہے کہ پہلے اس کا ادراک و احساس افراد تک محدود تھا پھر مقتدر اور مہتم بالشان جماعت کو ہُوااور آج بحمد اللہ یہ حالت ہے کہ ہندوستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس سے یہ خوش آئندہ آواز سنائی نہ دیتی ہو کہ مسلمانوں کی تنظیم کی ضرورت ہے…

چنانچہ انہوں نے (یعنی جمعیت علمائے ہند کے ارباب حل و عقد اور اس کے کارکنان نے) اجلاس جمعیت العلماء ہند 1921ء امارت شرعیہ فی الہند کی تجویز منظور کی جو زیر صدارت حضرت علامہ ابو الکلام صاحبؒ آزاد منعقد ہوا تھا۔ اور اسی اجلاس میں امیر شریعت کے اصول کو منضبط کرنے اور بعض امور کی تشریحات کے لئے ایک مجلس بنائی گئی اور اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ایک ماہ بعد فوراً ایک دوسرا خصوصی اجلاس اس مسودہ کی منظوری اور انتخاب امیر الہند کے لئے منعقد کیا جائے مگر جس ہفتہ میں اجلاس خصوصی تھا وہی وقت حکومت کے جبر و استبداد کے کامل مظاہرہ اور قوم کے دلیرانہ مقابلہ کا تھا اور مولانا ابوالکلام صاحب آزاد اور دوسرے علماء وغیرہ بھی گرفتار ہوئے اور شاید دشمنان اسلام کی طرف سے جابجا عنوانوں سے یہ مشہور کیا گیا کہ اجلاس ملتوی ہو گیا۔ بات بھی لگتی ہوئی تھی کیونکہ خاص خاص مراکز میں گرفتاریاں عام تھیں۔ جن اراکین کے کانوں تک التواء کی غلط آواز پہنچی انہوں نے قرائن پر قیاس کر کے صحیح سمجھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اتنے ارکان نہ پہنچ سکے جن کی موجودگی میں اجلاس منعقد ہو سکتا مگر پھر بھی بعض حضرات علمائے اکابر و بعض ارکان زعمائے ہند پہنچ گئے تھے۔ مثلاً مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب، مولوی ظہور احمد صاحب سیکرٹری آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ، آخر ان حضرات کا باہمی مشورہ ہوا اور اس مجلس نے جو ترتیب مشورہ کے لئے مرتب ہوئی تھی، مسودہ مرتب کیا۔

بعدہٗ کچھ ایسے واقعات و حوادث پیش آئے کہ اس مسودہ پر مجلس منتظمہ کو غور کرنے کاموقع نہیں ملا اس بناء پر جمعیت علمائے ہند کے اجلاس اجمیر میں یہ غور کیا گیا کہ امارت شرعیہ ہند کے قیام میں چونکہ بہ ہمہ وجوہ متعددہ تعویق ہے اس لئے جب تک صوبہ وار امارت شرعیہ کی جائے اور اس لئے جمعیت علمائے ہند نے صوبہ وار جمعیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک تجویز کے ذریعے سے ان کو ہدایت کی کہ جلد از جلد صوبہ وار امارت شریعہ قائم کریں، مگر صوبوں کے ناظم اس دور میں اپنے صوبہ کے کاموں کے ذمہ دار تھے، اس لئے غالباً اس تجویز پر عمل نہ کر سکے، پھر فروری 1922ء میں بمقام دہلی جلسہ منتظمہ میں مسودہ فرائض و اختیار امیر شریعت اور نظام نامہ امارت شرعیہ فی الہند کو طبع کرا کر تمام ارکان انتظامیہ جمعیۃ علمائے ہند اور دیگر اہل الرائے کی خدمت میں بھیجنے کی تجویز منظور ہوئی چنانچہ اس تجویز کے مطابق عمل بھی ہوا۔ یہ ہیں جمعیت علمائے ہند کے مساعی جمیلہ جو اس نے ہندوستان کے اندر سب سے پہلے اجتماعی زندگی کے اصول کے قیام اور اجرائے نظام کے لئے آج تک انجام دیئے ہیں، لیکن افسوس کہ حالات نے مساعدت نہ کی اور عملی شکل اختیار نہیں کی۔ شاید اس تعویق اور تاخیر میں یہ مصلحت ہو کہ اس وقت ہندوستان کے بہت سے ارباب حل و عقدعلماء وغیرہ قید خانوں میں محبوس تھے۔ اس لئے امارت کے قیام و استحکام کے لئے ان اصحاب کے باہر آ جانے کی ضرورت تھی تاکہ تمام یا اکثر ارباب حل و عقد علماء و غیر علماء غور و فکر کے بعد ایک مضبوط بنیاد پر اس کو قائم کریں۔ کیونکہ اس کی بنیاد تو انسانی قلوب کی زمین پر ہوتی ہے نہ کہ مٹی کے ڈھیر، یا پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور اس کا حصار و اسلحہ خانہ تو صرف حقیقی ایمان ہے نہ کہ توپ و تفنگ اس لئے قلوب کے انشراح کی ضرورت ہے اور انشراح کامل شاید کچھ سکون ہی کی حالت میں ہو سکتا ہے بشرطیکہ تدبر و تفکر سے کام لیا جائے۔

اب وقت ہے کہ علماء و غیر علماء اس مسئلہ پر غور کریں کیونکہ دونوں اہل علم و اہل الرائے … موجود ہیں جو ارباب حل و عقد ہیں اور انہیں کا فرض ہے کہ اس مسئلہ پر غور کریں اور جس قدر ممکن ہو اس کو انجام دیں ۔ (ص: 306۔305 ایضاً)

جمعیت علمائے ہند اجلاس ہشتم۔ پشاور۔ دسمبر 1927ء۔ اس اجلاس میں اپنے خطبہ صدارت میں مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فرمایا۔

جمعیت علمائے ہند نے اپنے گزشتہ اجلاسوں میں بھی اس مسئلہ پر متعدد مرتبہ زور دیا ہے اور اس نے دارالامارۃ اور دارالقضاۃ کے اصول و قواعد بنانے کے لئے ایک خاص کمیٹی مقرر کر کے مسودے بھی تیار کر لئے ہیں لیکن چونکہ امیر کا انتخاب جمہور مسلمین کے اتفاق سے ہی ہو سکتا ہے اس لئے آج تک بوجہ خوف افتراق اس کے عمل پر اقدام نہیں کیا گیا۔ ہندوستانی صوبوںمیں سے صوبہ بہار قابل مبارکباد ہے کہ اس نے امارت شرعیہ کا ایک نظام قائم کر رکھا ہے اور اس کے ماتحت بہت سے مفید قومی اور مذہبی کام انجام پاتے ہیں۔ اگر ہندوستان کے دوسرے صوبے بھی اس فرض کو ادا کریں تو پھر ان کی اجتماعی قوت سے صوبہ کی مقامی حیثیت بھی بہت قوی ہو جائے گی اور تمام ہندوستان میں ایک منظم محکمہ شرعیہ قائم ہو جائے گا اور اس حالت میں گورنمنٹ سے تنفیذی اختیارات حاصل کر لینا بھی آسان ہو گا۔‘‘ (ص: 433۔ ایضاً)

کئے جانے والے بعض اعتراض اور ان کے جواب

-1 مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا:

بعض حضرات کا بیان ہے کہ اس سے ممکن ہے کہ کوئی نیا فساد اٹھ کھڑا ہو۔

میں عرض کروں گا کہ اگر یہ طریقہ احکام شریعت سے ماخوذ ہے تو ہمارے سامنے یقین و برہان آ گیا۔ اب کیا آپ یقین کو شک کی خاطر چھوڑ دیں گے ؟ آپ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی فساد پیدا ہوجائے میں کہتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ فوز و فلاح حاصل ہو گی، پھر کیا شک لے کر آپ یقین کے مقابلے کے لئے اٹھے ہیں۔

(خطبہ صدارت، مولانا آزاد، نومبر 1921ء )

-2 مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ کا بیان

حضرات ! مجھے معلوم ہے کہ اس دور میں اس قدیم اصول نظام پر کیا کیا اعتراضات اور شبہات ہیں اسی کے ساتھ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے شبہات تو صرف علائق خارجہ کے جذبہ و کشش سے پیدا ہو گئے ہیں اور بہت سے ترددات ماحول کے واقعات اور اخوان زمان کی کیفیات نفسیہ سے حادث ہوئے ہیں۔ ان مترددین اور مشککین میں بہت سے ایسے حضرات ہیں کہ ان کے دل و دماغ پر خارجی اثرات نے اتنا گہرا اثر جما دیا ہے کہ اب شاید ان کے دل و دماغ میں حقیقی نظام اسلام کی تجسس کے لئے بھی کوئی جگہ باقی نہیں ہے اور بہت سے حضرات ایسے ہیں کہ اگرچہ وہ بھی کسی حد تک خارجی اثرات سے متاثر ہیں لیکن مجھے یقین کامل ہے کہ وہ اصل نظام کی مکمل صورت کے متجسس ہیں اور اگر یقین ہو جائے کہ شرعی اصول سے نظام اسلام کی یہی واحد شکل ہے تو یقینا اس کے آگے جبین نیاز رکھنے کو تیار ہیں۔

اس لئے مجھے یقین ہے کہ ایسے حضرات کی کامل تشفی اس وقت ہو جائے گی جب کہ نظام اسلام کے متعلق جمعیت علماء تالیف و تصنیف کا محکمہ قائم کر کے اس ضرورت کو پورا کرے گی۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی علمائے ربانیینسے علمی مجالس اور خاص صحبتوں میں گفتگو کر کے تشفی حاصل کی جا سکتی ہے اس لئے اگر علمائے کرام کا ایک طرف یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی تشفی و تسکین کا سامان مہیا کریں اور حقائق کے سمجھانے کی کوشش کریں تو دوسری طرف ان کا فرض یہ ہے کہ وہ بھی نہایت اخلاص کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہ ضروری نہیں کہ ایک دو صحبتوں میں اگر کسی مسئلہ کے متعلق انشراح نہ ہو تو اس کو خلاف حق سمجھ لیا جائے۔ ایسا خیال کرنا ہی ضلالت کا باعث ہے۔ کیا معلوم نہیں کہ ائمہ کرام کو ایک ایک مسئلہ کے انشراح کی طلب میں برسوں لگتے تھے۔ ایک ایک بات کی تفکر میںحضرت صدیق اکبر ص شب بھر بستر مبارک پر بے چینی کے عالم میں کروٹیں بدلا کرتے تھے۔ پس اگر آج چند گھنٹوں میں کسی مسئلہ کا انشراح نہ ہو تو اس کی تحقیق سے پہلو تہی نہ کرنی چاہئے۔

(خطبہ صدارت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب۔ اجلاس جمعیۃ العلماء ہند جنوری 1925ء)

-3 حضرت سید سلیمان ندویؒ کا بیان

حضرات ! دوسری چیز یہ ہے کہ ہم انہی تمام قوتوں کو ایک مرکز پر جمع کریں۔ ہمارے خیالات و اعمال میں جو ایک طوائف الملوکی پیدا ہے وہ دور ہو۔ حالت یہ ہے کہ ہم کو مذہبی، تعلیمی، سیاسی، اقتصادی، اصلاحی، تبلیغی ہر قسم کی ضرورتیں ہیں اور ان ضرورتوں کے لئے ہم نے الگ الگ انجمنیں قائم کر لی ہیں جن میں روزانہ تصادم رہتا ہے اور ہر ایک کمی سرمایہ سے نالاں ہے اور ہر ایک اپنی مرکزیت کے لئے کوشاں ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ اونچے طبقے کے لوگ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کی جماعت اس سپردگی کے ننگ کو گوارا نہ کرے گی لیکن بہرحال ملت کی کثیر تعداد جو عام طبقوں پر مشتمل ہے ضرور اس میں شرکت پر آمادہ ہو گی۔

ہندوستان میں اب اور اب سے زیادہ آئندہ مسلمانوں کو اپنی بقا کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک امارت شرعی کے ماتحت اپنے کو منتظم کریں۔ تعلیم یافتہ اصحاب کو شبہ ہے کہ علماء اس پردہ میں اپنی کھوئی ہوئی وجاہت کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں اس لئے یہ صاف کر دینا چاہئے۔ ترکی میں مصطفی کمال، مصر میں سلطان فواد، عرب میں ابن سعود، ریف میں محمد بن عبدالکریم ریاست اسلامی کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور ہم لوگ اس کو قبول کرنے کو تیار ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ہندوستان میں ایک غیر مسلح اہل اور صاحب لیاقت قائد کے ہاتھ پر بیعت نہ کر سکیں۔ اس کے لئے باقاعدہ بوریا نشین ہونے کی ضرورت نہیں، صرف اس کے دل کو اسلام سے آشنا ہونے کی حاجت ہے اس کے لئے اپنے مذہب اور مذہبی احکام سے ایک حد تک واقف ہونے کی ضرورت ہے… الخ

چند سال پہلے جب اس کے لئے موسم مناسب تھا محض اس لئے بعض اکابر نے اس سے پہلو تہی کی کہ تمام مسلمان اس پر متفق نہیں ہو سکتے، اس لئے جب تک اتفاق عام نہ ہو جائے اس کو قائم نہ کیا جائے۔ میری رائے میں حد درجہ غلطی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی طاقت کے بغیر تمام مسلمان از خود ایک مرکز پر متفق ہو جائیں۔ اس لئے اس خیال خام سے ہٹ کر ہم کو صرف یہ کرنا چاہئے کہ صوبوں میں اس کے متعلق کوشش کریں۔ جن صوبوں میں مسلمان بالکل صفر ہیں جیسے مدراس ممالک متوسط وغیرہ وہاں اس کی سب سے پہلے ضرورت ہے اور جس قدر مسلمان بھی اس مسئلہ پر متفق ہو سکیں اور اس تحریک پر آمادہ ہو سکیں ان کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہئے۔ آئندہ اس سلسلہ کی خود وسعت ہوتی رہے گی تا آنکہ کسی وقت تمام مسلمان اس حلقہ میں آ جائیں۔ اسلام کے عقیدہ میں نظم و جماعت کے بغیر ہم صحیح اسلامی زندگی پر یقینا قائم نہیں ہیں کہ نصب الائمۃ واجب۔

جو لوگ اس حقیقت کی تسلیم سے اختلاف کرتے ہیں کیا وہ امامت کے اصولی مسئلہ پر اعتقاد نہیں رکھتے ؟ کیا ان کے نزدیک مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی میں کسی امامت کی ضرورت نہیں، یہ کہنا کہ امامت کے لئے نفوذ و اقتدار ضروری چیز ہے صحیح ہے لیکن یہ کامل امامت کی شرط ہے، مسئلہ کی صورت تو یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی امر واجب کے ادا کرنے کی کما حقہ اور اس کو پورے شرائط کے ساتھ ادا کرنے پر قادر نہیں ہے تو آیا وہ واجب اس سے ساقط ہو جائے گا یا حسب استطاعت جہاں تک اس کی وسعت و قدرت میں ہو اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔

(خطبہ صدارت مولانا سید سلیمان ندوی اجلاس جمعیۃ العلماء ہند۔ مارچ 1926ء)

-4 مولانا انور شاہ کشمیری کی وضاحت

اگرچہ حکومت برطانیہ کے قیام اور تسلط کی وجہ سے ان صوبہ وار امراء اور امیر اعظم کی کوئی سیاسی حیثیت نہ ہو گی مگر مذہبی ضروریات کے فیصلے اور ان کے احکام اس سے صحیح طور پر واقع اور نافذ ہو سکیں گے اور مسلمانوں کا ایک بڑا مذہبی فرض (نصب امارت) ادا ہو جائے گا اور ان کی تمام مصیبتوں کا حل نکل آئے گا جن میں وہ آج کل مبتلا ہیں۔

(خطبہ صدارت مولانا انور شاہ کشمیری اجلاس جمعیۃ العلماء ہند دسمبر 1927ء)۔

مولانا معین الدین اجمیری کے ایک خط کی وضاحت

مولانا اجمیری نے مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے نام اپنے مکتوب میں لکھا۔

’’لیکن دہلی کے جلسہ جمعیت العلماء کی شرکت نے اس سفر میں ایک جدید مانع پیش کر دیا کیونکہ اس کی تجویز کے مطابق 18,17 ستمبر کو جلسہ منتظمہ قرار پایا ہے، اس میں ضبطی فتویٰ و مسئلہ امامت پیش ہو گا جس کی طرف جناب مولوی ابوالکلام صاحب کو بے حد رجحان ہے، چونکہ ان کو اس مسئلہ سے زیادہ دلچسپی ہے اس وجہ سے خالی الذہن علماء ان کی تقریر سے متاثر ہوئے اگر منجانب فقیر اس کے التوا کے متعلق مختصر و جامع تقریر نہ ہوتی تو کچھ عجب نہ تھا کہ حاضرین علماء اسی وقت اس مسئلہ کو طے کر دیتے۔ اس وجہ سے علماء دہلی کا یہ خیال ہے کہ فقیر خصوصیت کے ساتھ اس جلسہ میں شریک ہو‘‘۔(ص: 57 جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی)

مولانا نے یہ خط اگست 1921ء میں لکھا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ ضبطی فتویٰ کے اگست 1921 میں ہونے کے بارے میں ’’جمعیت العلماء ہند۔ دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام‘‘ میں یوں ہے۔

’’جمعیت العلماء ہند نے اپنے دوسرے اجلاس عام منعقدہ 1920ء بمقام دہلی ترک موالات کا فتویٰ جس پر 373 علماء کرام نے دستخط کئے جاری کیا کہ ایسی ملازمت جس میں دشمنان دین کی امداد اور اعانت ہو اور اپنے بھائیوں کو قتل کرنا پڑے وہ قطعاً حرام ہے۔ یہ فتویٰ اور اس کا خلاصہ شائع کروا کر تقسیم کروا دیا۔ 8 اگست 1921ء کو متفقہ فتویٰ اور اس کا خلاصہ حکومت نے ضبط کر لیا لیکن جمعیت نے اسے بار بار شائع کروا کر قانون شکنی کی۔ اس جرم کی پاداش میں وسط ستمبر 1921ء میں بہت سی گرفتاریاں ہوئیں۔ مولانا شوکت علیؒ، مولانا محمد علیؒ مولانا حسین احمد مدنی، پیر غلام مجدد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور مولانا نثار احمد گرفتار ہونے والوں میں سے تھے۔ ان پر کراچی کا مشہور مقدمہ چلا۔ (ص: 20)

خود شیخ الہند رحمہ اللہ کا خطبہ صدارت جو 1920ء کے اجلاس عام میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ترک موالات کی بحث کو شامل تھا اور شیخ الہندؒنے کھل کر موالات کو حرام کہا۔

حاصل یہ ہے کہ مولانا اجمیری نے اپنے مکتوب میں دہلی کے جس جلسہ جمعیت العلماء کا ذکر کیا ہے وہ اگست 1921ء میں منعقد ہوا تھا۔ وہ کوئی اجلاس خاص تھا جس میں اور امور کے علاوہ مسئلہ امامت بھی زیر غور آیا یا ممکن ہے کہ خود مولانا آزاد کی تحریک پر یہ اجلاس بلایا گیا ہو۔ اس کی طرف مولانا آزاد کے اس جملے میں اشارہ ہے۔

’’جب میں نے دیکھا کہ اب یہ مسئلہ منظر عام پر آ چکا ہے اور جمعیۃ العلماء اس کا آخری اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے تو یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے جمعیت کے حوالے کر کے بالفعل خود سبکدوش ہو جائوں، چنانچہ ارکان جمعیت کی ایک خاص مجلس شوریٰ منعقدہ دہلی میں یہ مسئلہ پیش ہو کر بالا تفاق منظور ہوا۔‘‘

اسی اجلاس میں مولانا آزاد نے اپنا مافی الضمیر بیان کیا اور اپنی تقریر سے موجود علماء کو متاثر کیا جو امارت شرعیہ فی الہند کو قائم کرنے پر نہ صرف متفق ہو گئے ہوں بلکہ ممکن ہے کہ ان میں سے بہت سے اس پر بھی آمادہ ہو گئے ہوں کہ کسی کے ہاتھ پر اسی وقت بیعت ہی کر لیں۔مولانا اجمیری نے یہ دیکھ کر وہ کلمات کہے جو اجمیری سلسلہ کے مولانا منتخب الحق قادری صاحب نے نقل کئے یعنی :

’’علماء کے اس مؤقر اجتماع میں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف اشارہ کافی ہے میں جملہ علماء کی توجہ حضرت عمر ص کی اس تقریر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو آپ ص نے حج سے واپسی پر اس قسم کا چرچا سن کر کی تھی کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر حضرت عمر ص کا انتقال ہو گیا تو ہم فوراً اور دفعتہ فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ حضرت عمر ص نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو حکم دیا کہ لوگوں کو جمع کریں اور پھر فرمایا کہ فلتۃ بیعۃ امت کے حق میں کبھی مفید نہیں ہو گی۔ اگر لوگ حضرت ابوبکر کی بعیت سے استدلال کریں گے تو بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کریں گے اس لئے کہ حضرت ابوبکر ص واحد شخصیت ہیں جن کے لئے اس قسم کی بیعت خالی از مضرت تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ایسا موجود نہیں ہے‘‘۔

(بحوالہ جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی)۔

مولانا اجمیری کی اس توجہ دلانے پر جلسے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔ مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اور مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے بھی غور و فکر کرنے کی تائید کی۔ نفس امارت شرعیہ کے قیام پر وہ بھی متفق تھے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے حق میں تقریر بھی کر چکے ہوں، البتہ سوچ سمجھ کر کسی خاص شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بارے میں انہوں نے بھی مولانا اجمیری کی تائید کی۔

معلوم ہوتا ہے کہ 18,17 ستمبر 1921ء کو جو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا اس میں بات اس حد تک رہی کہ امیر الہند کا انتخاب ہونا چاہئے اور یہ انتخاب نومبر 1921ء کو لاہور میں ہونے والے اجلاس عام میں کر لیا جائے گا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ نومبر 1921ء کے اجلاس عام میں کسی کے امیر الہند منتخب کئے جانے کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن مخالفین کی جانب سے اعتراض کئے جانے کی بناء پر یا از خود ضرورت محسوس کرنے کی بناء پر انتخاب سے پہلے ایک سب کمیٹی بنا کر اس سے امیر شریعت کے اختیارات و فرائض کی تعیین طلب کی گئی۔ اس کے بعد انتخاب کی تاخیر کی وجوہات مولانا محمد سجاد صاحب کے خطبہ صدارت میں ذکر ہو چکی ہیں۔

انتخاب کے مسلسل التواء سے ممکن ہے کہ مولانا آزاد نے اپنے سابقہ تجربات کی بناء پر سمجھ لیا ہو کہ جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے بھی یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے۔

مسودہ فرائض و اختیارات امیر الشریعت فی الہند

8 ربیع الثانی 1340ھ مطابق 9 دسمبر 1921ء

یہ مسودہ جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس لاہور کی تجویز کے بموجب ماتحت مجلس (سب کمیٹی) نے مرتب کیا تھا اگرچہ متعدد مشکلات کے باعث کوشش اور جدوجہد کے باوجود امارت شرعیہ کا خاکہ اب تک رنگ آمیزی عمل سے خالی ہے مگر چونکہ شرعی نقطہ نظر سے اس کی اہمیت کو کسی وقت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیز اس مسودہ کے مضامین سے بہت سے ان شکوک کا ازالہ ہو سکتا ہے جو قیام امارت کے مخالف حضرات پیش کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا اس سلسلہ تجاویز میں اس مسودہ کو شائع کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ (محمد میاں عفی عنہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

روداد جلسہ سب کمیٹی

منعقدہ 8 ربیع الثانی 1340ھ 9 دسمبر 1921ء بمقام بدایوں

اسمائے حاضرین

مولانا مولوی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیۃ علمائے ہند۔ مولانا سبحان اللہ صاحب مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب، مولانا محمد فاخر صاحب، مولانا عبدالماجد صاحب، مولانا محمد سجاد صاحب، مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی نائب ناظم جمعیۃ علماء ہند۔

8 ربیع الثانی 1340ھ، 9 دسمبر 1921ء روز جمعہ کو بعد نماز جمعہ سب کمیٹی کے ارکان موجودہ نے اجلاس کیا۔ اس اجلاس میں علاوہ ارکان سب کمیٹی کے حضرات ذیل بھی موجود تھے۔

حکیم حافظ محمد اجمل خان صاحب، مولانا سید سلیمان صاحب ندوی۔ سید ظہور احمد صاحب سیکرٹری مسلم لیگ، مولانا غلام محمد صاحب شملوی، مولانا احمد مختار صاحب صدیقی، مولانا نذیر احمد صاحب خجندی، مولانا یعقوب بخش صاحب بدایونی، مولانا اعجاز احمد صاحب، مولانا سراج احمد صاحب، مولانا عبدالوہاب صاحب، مولانا عبدالودود صاحب، مولانا نور الحسن صاحب، مولانا فرخندہ علی صاحب

(1)

سب کمیٹی نے موافق تجویز منظور شدہ اجلاس جمعیۃ علماء ہند منعقدہ 22 نومبر 1921ء بمقام لاہور امیر الہند کے فرائض و اختیارات کا حسب ذیل مسودہ تیار کیا۔

امیر الہند کے فرائض

دفعہ 1: فرائض اسلامیہ کی تعمیل کرانا۔ منہیات شرعیہ سے روکنا یعنی احکام شرعیہ کو بقدر استطاعت عملاً نافذ کرنا۔

تشریح: فرائض اور منہیات اور احکام شرعیہ سے مراد وہ فرائض اور منہیات اور احکام ہیں جو متفق علیہ ہیں۔

دفعہ 2 : اقامت بیوت مال۔

دفعہ 3:اقامت محکمہ جات قضا

دفعہ 4: اقامت نظارۃ اوقاف اسلامیہ

دفعہ5 : اقامت نظارۃ التعلیمات

دفعہ 6: اقامت نظارۃ التبلیغ والارشاد

دفعہ 7: اقامت نظارۃ منافع عمومیہ

دفعہ 8: اقامت محکمہ احتساب

نوٹ: امیر کو ان تمام فرائض میں سے کل یا بعض کو جاری کرنے یا مقدم و مؤخر کرنے کا حسب تفویض جمعیۃ علماء ہند اختیار ہو گا۔

اختیارات امیر الہند

دفعہ9: امیر اپنے فرائض میں سے ان فرائض کو جن کی تنفیذ اصولاً جمعیۃ علماء ہند اس کے سپرد کرے گی نافذ کرنے کا مجاز ہو گا۔

دفعہ 10: صوبجات کے امراء شریعت اور محاکم شرعیہ کے نظارو اعلیٰ افسر مقرر کرنے یا معزول کرنے کا اختیار امیر الہند کو ہو گا۔

دفعہ 11: امیر الہند بشرکت جماعت انتظامیہ جمعیۃ علماء ہند سالانہ بجٹ تیار کرے گا۔ اس کے موافق خرچ کرنے کا مجاز ہو گا۔

دفعہ 12: امیر الہند اپنے تمام اختیارات کو اس مجلس شوریٰ کے مشورے کے مطابق استعمال کریگا جو جمعیۃ علماء ہند معین کرے گی۔

دستخط محمد کفایت اللہ غفرلہ

محمد سبحان اللہ گور کھپورفقیر سید محمد فاخر بے خود محمدی الہ آبادی غفرلہ

بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ: امیر کی مدت امارت مقرر ہونی چاہئے۔

فرائض و اختیارات کے بعد بغرض سہولت کار سب کمیٹی مناسب سمجھتی ہے کہ امارت شرعیہ کے دیگر متعلقات کی نسبت بھی اپنے خیالات کا اظہار کر دے۔

……(2) ……

امیر الہند کے اوصاف لازمہ

دفعہ 1: امیر الہند کی منزلت شرعیہ ’’امیر الناحیہ‘‘ کی ہو گی اور مسلمانان ہند پر ان کی اطاعت لازم ہو گی۔

دفعہ 2: علوم شرعیہ بالخصوص تفسیر و حدیث و فقہ میں مبتحر عالم ہو۔

دفعہ 3: اعمال و اخلاص کے لحاظ سے امت کے لئے اسوہ حسنہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

دفعہ 4: سیاسیات میں حسب ضرورت وقت واقفیت رکھتا ہو۔

دفعہ 5: اس کی انتظامی قابلیت اور ایمانی جرأت کا تجربہ ہو چکا ہو۔

دفعہ 6: ذاتی قابلیت اور اسلامی خدمات کی وجہ سے عوام و خواص کے اکثر طبقات کی معتدبہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔

نصب و عزل امیر الہند

جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس عام ہی امیر الہند کا تقرر و عزل کر سکتا ہے۔

امیر الہند کی مجلس شوریٰ

جمعیۃ علماء ہند ایک مجلس منتخب کرے گی جس کے ارکان کی تعداد کم از کم سات ہو گی اور جس میں پانچ عالم اور دو غیر عالم ماہرین سیاست ہوں گے۔ یہ مجلس امیر الہند کی مجلس شوریٰ کہلائے گی اور امیر الہند اس کے مشورہ کے مطابق کام کرنے کے پابند ہوں گے۔

(3)

یہ صرف اصولی طور پر خاکہ مرتب کیا گیا ہے۔ فرعیات کے ابواب جداگانہ جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت کے بموجب جمعیۃ التشریح مرتب کرے گی۔

مسودہ امیر الشریعت فی الہند

از حضرت مولانا سجاد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز

تشریح امیر الہند

(1)تمام مسلمانان ہند خصوصاً اہل سنت والجماعت کی سیادت و قیادت و تنفیذ و اجرائے احکام شرعیہ و انتظام و انصرام امور مذہبی کے لئے ایک شخص واحد والی با اختیار امیر الشریعۃ للہند ہونا ضروری ہے جس کا منصب امیر الہند ہو گا اور اس کی تمام مسلمانوں پر پابندی اصول مقررہ پیروی لازم ہو گی اور اس سے انحراف معصیت۔ لیکن اس کے ہر خیال اور ہر عمل کی اتباع ہر شخص کے لئے ضروری نہیں۔

امیر کے لئے حسب ذیل صفات کا ہونا لازمی ہے اور یہی صفات اس کی شرائط ہوں گی۔

شرائط امیر الہند

الف۔ مسلم مرد عاقل بالغ آزاد ہو۔

ب ۔ عالم باعمل ہو۔ یعنی کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ کے معانی اور حقائق کا معتدبہ علم رکھتا ہو۔ اغراض و مصالح شریعت اسلامیہ و علم الفقہ وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شرعیہ پر عمل کرنا اس کا شیوہ ہو۔

ج۔ سیاسیات ہند و سیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت تامہ رکھتا ہو اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صائب الرائے ثابت ہو چکا ہو۔

د۔ ذاتی قابلیت و وجاہت کی وجہ سے عوام و خواص کے طبقات کی ایک معتبد بہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔

ہ۔ حق گو، حق شنو، قوی القلب، صاحب عزیمت ہو اور اس کی ذات سے مادی طاقتوں سے کسی حال میں مرعوب ہونے کا اور حکومت کافرہ سے ساز باز کرنے کا بظاہر اندیشہ نہ ہو جس کا اندازہ اس کے گزشتہ و موجودہ زندگی سے کیا جائے گا۔

و۔ سییٔ الخلق، غلیظ القلب، سریع الغیظ نہ ہو۔

فرائض امیر الہند

(2) امیر الہند حقیقتاً شرعاً نائب خلیفۃ المسلمین ہو گا۔ اس لئے ازروئے احکام شرع جتنے فرائض خلیفۃ المسلمین کے ہیں وہ سب امیر الہند کے ہوں گے اور اس طرح کی تفصیل و تجدید کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

مگر ہندوستان کے مسلمانوں کی حدیث النوعیت زندگی اور باہم مختلف الخیال فرق کا اجتماع، حکومت کافرہ کا تسلط، غیر مذہبوں کی بحالت بے چارگی ہمسائیگی اس امر کی مقتضی ہے کہ نظر بحالت موجودہ بغرض حصول مقصود شرعی و سدباب مفاسد و فتن فرائض امیر الہند اصولاً حسب ذیل امور تک محدود رہیں گے۔

الف۔ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنا اور اس کے لئے اصلح وسائل و اسباب مہیا کرنا۔

ب۔ عالم اسلامی کے داخلی و خارجی تغیراتِ احوال کے وقت مذہبی نقطہ نظر سے بمشاورت اہل شوری ایسے احکام جاری کرنا جس سے مسلمانان ہند اور اسلام کا فائدہ متصور ہو اور جس کا ماخذ کتاب و سنت و آثار صحابہ کرام و فقہ ائمہ عظام ہو گا۔

ج۔ مسلمانان ہند کو (باوجود مذہباً مختلف الخیال ہونے کے ان کی مذہبی آزادی کو قائم رکھتے ہوئے) متحد رکھنا۔

د۔ حقوق مسلمین و احکام شرع و وقار اسلام کو کلیۃً محفوظ رکھتے ہوئے بہ نظر تکمیل مقاصد شریعت ہندوستان کی دیگر اقوام کے ساتھ صلح و آشتی کا برتائو کرنا۔

ہ۔ بشرط امکان غیر مسلم المذاہب جماعتوں کے ذمہ دار قائم مقاموں سے موافق سنت اسلام تحریری موادعت نامہ مکمل کرنا۔

و۔ بنا براخوت اسلامی و احکام شرع ممالک اسلامیہ کے ذمہ دار اصحاب کے ساتھ موثق و مستحکم طریقہ پر ارتباط و تعلقات قائم کرنا۔

ز۔ مسلمانوں کی مذہبی و اخلاقی و تعلیمی و اقتصادی حالت کے درست ہونے کی کوشش کرنا۔

ح۔ مسلمانوں کو احکام منصوصہ متفق علیہا پر عمل کرنے کے لئے مجبور کرنا۔

ط۔ جن احکام شرع کا نفاذ حکومت کافرہ کی وجہ سے اس وقت تک مسدود ہے ان سب کو جاری کرنے کی کوشش کرنا۔

ی۔ مسلمانوں کے باہمی مذہبی منافرت تحریری و تقریری جس سے محض اظہار حق ہو جاری رکھتے ہوئے اس کے ان عنوانوں و کارروائیوں کو روکنا جن سے نفاق و شقاق بین المسلمین پیدا ہوا اور تفریق جماعت ہو۔

یا

نظام محکمہ شرعیہ قائم کرنا، جس سے مفصلہ ذیل شعبے ہوں گے اور حسب ضرورت دیگر شعبے قائم کئے جائیں گے۔

-1 بیت المال المرکزی للہند جس کے ماتحت صوبہ وار بیت المال ہو گا۔

-2 انفصال خصومات کے لئے محکمہ دارالقضاء قائم کرنا۔

-3 نظامت التعلیمات

-4 دائرۃ التبلیغ والاشاعت

-5 دائرۃ الاحتساب

-6 نظارت الاوقاف

-7 نظارت المساجد و الائمہ

-8 دائرہ منافع عامہ

(ب) آزادی ہند و جمہوریت ہند کے قائم ہونے کے بعد ملکی انتظام میں صدر جمہوریت سے کامل اتحاد و اتفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا اور اسلامی محکمہ شرعیہ کے نظام کو مستقلاً محض مسلمانوں کے اختیار میں رہنے کو جمہوریت سے تسلیم کرانا۔

اصول کار

(3) محکمہ امارت میں تین قسم کی مجلسیں ہوں گی۔

(الف) مجلس دارالخواص جس کے اندر کم از کم چار ارکان ہوں گے تین جید عالم متورع، مدبر اور ایک انگریزی داں قابل دیندار۔

(ب) مجلس دارالعوام جو جمعیۃ علماء کے ارکان منتطمہ و اصحاب الرائے صوبہ ہائے ہندو وزرائے شعبہ ہائے دوائر سے مرکب ہو گی۔

(ج) مجلس قوانین جس کے پانچ ارکان ہوں گے۔

(4) ہر صوبہ میں ماتحت امیر الہند ایک ایک حاکم شریعت ہو گا۔ بطریق امیر البلد، امیر الناحیہ، جس کا لقب امیر صوبہ ہو گا اور اس کے تمام کام بھی ان ہی اصولوں پر مبنی ہوں گے جو امیر الہند اور اس کے نظام کے متعلق طے پا چکے ہیں یا آئندہ طے پائیں۔

-5 نظام محکمہ شرعیہ کے ہر شعبہ میں ایک ایک افسر ہو گا جس کا لقب وزیر (ناظر) ہو گا اور ہر وزیر کی وزارت اسی شعبہ کی طرف منسوب ہو گی۔

-6 ارکان مجلس دارالخواص و مجلس قوانین کو جمعیۃ العلماء اپنے اجلاس میں منتخب کرے گی اور ان دونوں مجلسوں کو اختیار ہو گا کہ حسب اجازت امیر الہند کسی اہل الرائے و العلم کا اپنی مجلس میں اضافہ کر لیں۔

-7 جب تک امراء صوبہ و وزراء کا تعین نہ ہو صرف ارکان منتظمہ جمعیۃ علماء مجلس دارالعوام رہے گی اور جن جن صوبوں میں امراء کا تعین اور وزراء کا تقرر ہوتا جائے گا دارالعوام کے ارکان میں وہ شامل ہوتے جائیں گے۔

-8 تقرر قضات میں حنفی المذہب کے علاوہ جس علاقہ میں اہل حدیث وغیرہ کی ایک معتدبہ جماعت ہو گی وہاں حسبِ ضرورت اہلِ حدیث وغیرہ بھی قاضی مقرر کئے جائیں گے۔

طریق کار

-9مجلس قوانین شعبہ ہائے محکمہ شرعیہ کے لئے مفصل قواعد و ضوابط مرتب کرے گی۔

-10 مجلس قوانین کے مرتب کردہ قوانین مجلس دارالعوام میں پیش ہوں گے اور دارالعوام کی رائے ظاہر ہونے کے بعد دارالخواص میں پیش ہوں گے اور وہاں جو فیصلہ ہو گا۔ وہی منظور شدہ سمجھا جائے گا اور اسی پر عمل درآمد ہو گا۔

-11 تمام شعبوں اور تمام قومی و مذہبی کاموں کے مصارف کا متحمل صرف بیت المال ہو گا حتیٰ کہ جمعیۃ العلماء کے مصارف بھی اسی سے ہوں گے۔

-12 جس مقام میں دارالامارت شرعیۃ الہند ہو گا امیر الہندو ارکان مجلس دارالخواص کا قیام وہیں رہے گا اور جہاں جہاں حسب ضرورت امیر کی نقل و حرکت ہو ارکان دارالخواص اس کے ساتھ ہوں گے۔

اختیارات

-13 امیر الہند تمام کام حسب قواعد و اصول مجلس دارالخواص سے مشورہ کر کے انجام دیں گے اور احکام صادر فرمائیں گے، لیکن مہمات امور میں دارالعوام سے بھی مشاورہ کے بعد احکام صادر کئے جائیں گے۔

-14 مجلس دارالخواص و دارالعوام کے اندر مسائل شرعیہ کا فیصلہ کثرت رائے سے نہ ہو گا بلکہ دلائل کے بعد قوت یا ترجیح دلیل کی بناء پر جو فیصلہ ہو گا وہی قولِ فیصل ہو گا اور حق فیصلہ صدر مجلس کو ہو گا۔

-15 انتظامی قواعد و مصالح کے متعلق بناء بر کثرت آراء صدر مجلس کو حق فیصلہ ہو گا۔

-16 امیر الہند کو اختیار ہو گا کہ مجلس دارالخواص کے علاوہ جمعیۃ علماء صوبہ وار سے مشورہ کر کے صوبہ کا والی کسی کو مقرر کر دے یا مقرر شدہ کو معزول کر دے لیکن اگر جمعیۃ علماء صوبہ باتفاق کسی کے عزل سے اختلاف کرے یا کسی کو والی مقرر کرنے کے خلاف ہو تو اس صورت میں امیر الہند جمعیۃ العلماء صوبہ کے مشورہ پر عمل کریں گے۔

-17 شعبہ ہائے محاکم شرعیہ کے تمام ملازمین کا تقرر و برخواست مجلس دارالخواص سے مشورہ کر کے کلیۃً امیر الہند اور ان کے نائبین (امرائے صوبہ) کے اختیار میں ہو گا۔

-18 اگر کسی مختلف فیہ مسئلہ کے متعلق کلیۃً حکم صادر کرنے کی ضرورت ہو تو مجلس دارالعوام میں کامل گفتگو اور بحث کے بعد امیر الہند باصول نمبر 14 فیصلہ کر کے حکم دیں گے۔

-19 امیر الہند اگر منصب امارت سے علیحدہ ہونا چاہے تو اعلان عزل سے پہلے دارالعوام سے مشاورت ضروری ہو گی۔ اگر دارالعوام باتفاق یا بکثرت آراء عدم عزل کی رائے قائم کرے یا بصورت تعلقات خلافت خلیفہ بھی عزل پر رضا مند نہ ہوں تو امیر کو اپنا ارادہ فسخ کرنا ہو گا۔

-20 اگر امیر الہند از خود اپنے عزل کا فیصلہ کرے اور دارالعوام اس میں متفق ہو جائے اورخلافت سے تعلقات قائم نہ ہوں اور عزل سے پہلے اپنا قائم مقام کسی جامع الشروط کو امیر الہند نامزد کرنا چاہے تو یہ اختیار ہو گا مگر جمعیۃ علماء و دارالعوام سے مشورہ لینا ضروری ہو گا۔

حق انتخاب و نصب و عزل

-21 امیر الہند کے انتخاب و نصب و عزل کا حق کلیۃً جمعیۃ علماء ہند کو حاصل ہو گا اور اس وقت تک رہے گا جب تک کہ خلیفۃ المسلمین کلیۃً غیروں کے اثر سے آزاد اور با اقتدار خود مختار نہ ہو۔

جس وقت خلیفۃ المسلمین غیروں کے اثر سے آزاد و با اختیار و اقتدار ہو جائیں گے اور جمعیۃ علماء ہند براہ راست ان سے تعلق قائم کرلے گی اس وقت خلیفۃ المسلمین جمعیۃ علماء الہند کے مشورہ سے جس شخص کو نامزد کر دیں گے اور اس کے نام سند امارت عطا فرمائیں گے وہی شخص امیر الہند ہو گا اور اس صورت میں امیر الہند کا عزل بھی خلیفۃ المسلمین کے اختیار میں ہو گا جس میں حضرت خلیفۃ المسلمین بمشاورۃ جمعیۃ العلماء للہند عمل میں لائیں گے۔

وجوہ عزل

-23 امیر الہند بوجوہ ذیل معزول یا مستحق عزل ہو گا۔

الف: اگر امیر الہند سے خدانخواسۃ کُفر بواح کا ظہور ہو (نعوذ باللہ منہ) توفی الفور معزول ہو گا۔

ب: امیر الہند کے ذاتی اعمال میں اس حد تک تغیر ہو جائے کہ محارم متفقہ علیہ کا ارتکاب کرنے لگے لئے تو مستحق عزل ہو گا۔ تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو اس صورت میں معزول کیا جائے گا۔

ج: اگر امیر الہند کے رویہ و طریق عمل سے فساد دین یا افتراق جماعت مسلمین کا نہایت سخت اندیشہ ہو تو ان صورتوں میں اصلاح نہ ہونے پر مستحق عزل ہو گا۔

ج: اگر امیر الہند اپنے فرائض کی انجام دہی سے قاصر و عاجز ثابت ہو بسبب عدم اہلیت یا بسبب غفلت اور اس سے بہتر شخص ملک کے اندر متصف بجمیع صفات مذکورہ دفعہ نمبر 1 الف تا وائو موجود ہو تو اس صورت میں بھی مستحق عزل ہو گا۔ بشرطیکہ بغیر اس کے عزل میں اثارت فتنہ واختلال جماعت مسلمین کا غالب اندیشہ نہ ہو۔

ہ: جو اختیارات شریعت اسلامیہ سے امیر کو حاصل ہیں اگر اس سے تجاوز کرے یا جو طریق کار ماتحت علماء نے اصولاً اس کے لئے متعین کر دیئے ہیں ان کی خلاف ورزی خود رائی سے کرے اور بعد تنبیہ بھی اس سے باز نہ آئے تو اس صورت میں بھی مستحق عزل ہو گا۔

طریق عزل

-24 امیر الہند منتخب یا نامزد ہونے کے بعد خدا نخواستہ عزل کی وجوہات میں سے کوئی وجہ پائی جائے تو حسب ذیل طریق پر اس کا عزل عمل میں آئے گا۔

الف۔ جس وقت تک امیر الہند کا عزل و نصب کلیۃً مستقلاً جمعیۃ علماء کے اختیار میں ہے اس وقت تک جمعیۃ علماء اس کے عزل کا یہ طریق اختیار کرے گی۔

کہ وجوہ عزل کے محقق و مبرہن ہونے کے بعد جمعیۃ علماء ہند ایک خاص اجلاس کسی مقام پر منعقد کرے گی اور کامل غور و خوض کے بعد اگر اس کے عزل کا فیصلہ علماء کے خاص اجلاس میں ہو تو اجلاس عام میں اس کا اعلان کر دے گی اور اسی اجلاس میں کسی دوسرے شخص کو حسب شرائط امیر الہند منتخب کر کے اس کا اعلان کر دے گی۔

ب: جس وقت عزل و نصب کا اختیار خلیفۃ المسلمین کو بمشاورت جمعیۃ علماء حاصل ہو گا تو اس وقت بصورت تحقیق وجوہ عزل بمشاورت جمعیۃ علماء خلیفۃ المسلمین معزول فرمائیں گے۔

-25 جس وقت خلیفۃ المسلمین کو عزل و نصب کا اختیار ہو گا تو اس صورت میں بوجوہات عزل متذکرہ صدر بھی اور کسی مصلحت یا کسی ضرورت سے خلیفۃ المسلمین معزول کر سکتے ہیں مگر اس وقت بھی حضرت خلیفۃ المسلمین کو جمعیۃ علماء الہند سے مشورہ کر لینا مناسب ہو گا۔

انتخاب یا تقرر امیر

-26 جس وقت تک جمعیۃ العلماء کو حق انتخاب امیر کلیۃً حاصل ہے اس وقت تک جمعیۃ علماء ہند انتخاب امیر کے لئے ایک خاص (اسپیشل) اجلاس منعقد کرے گی اور اس اجلاس کے مجلس شوریٰ میں غور و خوض کے بعد جس شخص کو انتخاب کرے گی اس کا نام اجلاس عام میں ظاہر کیا جائے گا اور تمام اراکین جمعیۃ علماء و اعیان جو اس وقت موجود ہوں و دیگر حاضرین کو اسی وقت بیعت سمع و طاعت کرنی ہو گی۔

-27 جمعیۃ علماء ہند کی مجلس شوریٰ میں جس شخص کے متعلق اکثر رائیں ہوں گی وہی شخص منتخب ہو گا۔ اور اس صورت میں بعد انتخاب اختلاف کرنے والوں پر بھی اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضروری ہو گا۔

-28 اجلاس انتخاب امیر کا اعلان تاریخ اجلاس سے کم از کم پندرہ روز قبل ہو گا۔

جب جمعیۃ کا اجلاس عزل امیر پر غور کرنے کے لئے منعقد ہو گا تو اس کا اعلان بھی پندرہ روز قبل ہو گا اور اس وقت اس امر کا بھی اعلان کرنا ضروری ہو گا کہ بشرطیکہ فیصلہ عزل امیر کا جدید انتخاب بھی ہو گا۔

-29 امیر الہند از خود معزول ہونے سے پہلے یا مرض الموت میں کسی جامع الشروط کو حسب دفعہ 20 امیر الہند نامزد کر دیں تو وہی شخص امیر الہند ہو گا۔

-30 جس وقت امیر الہند کا عزل و نصب خلیفۃ المسلمین کے اختیار میں ہو گا تو اس وقت جمعیت علماء کے مقرر کردہ امیر الہند کے لئے جمعیۃ کی سفارش کی درخواست پر خلیفۃ المسلمین سند امارت مرحمت فرمائیں گے اور جدید تقرری کے وقت (حسب ضرورت) جمعیۃ علماء اپنے اجلاس میں حسب قاعدہ کسی ایک شخص کو متعین کر کے خلیفۃ المسلمین سے تقرر امیر الہند کی سفارش کرے گی اور سند آنے پر جمعیۃ اس کا اعلان کرے گی۔

جمعیۃ علماء کا منصب

جمعیۃ علماء امارت کی ایک زبردست طاقت ہو گی اس کا طریق عمل بعد انعقاد امارت حسب ذیل ہو گا۔

الف: فرامین و احکام امیر پر عمل درآمد کرانے میں اپنی تمام اجتماعی قوت صرف کرے گی۔

ب: ضروریات دینی و ملکی پر غور کر کے امیر الہند کے سامنے تجاویز پیش کرتی رہے گی۔

ج: ابواب عبادات و معاملات میں جدید تالیفات کا سلسلہ بزبان عربی اس طرح پر شروع کرے گی کہ ہر باب کے مسائل نمبر وار ہوں۔

ماخذ: مولانا سید محمد میاںؒ جمعیۃ العماء کیا ہے ؟ حصہ دوم دہلی 1946ء ص 93-79