تمہید
جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت اور نماز کے منافی ہر کام کو چھوڑ کر مسجد میں آنا واجب ہے لیکن لوگوں میں اس کا اہتمام بہت کم ہے اور عام طور سے اس واجب کے ترک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لوگ اس معصیت سے بچ جائیں اس کے لئے بعض حضرات نے یہ صورت اختیار کی ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کو تاخیر سے کہتے ہیں مثلاً زوال کا وقت سوا بارہ بجے کا ہے تو پہلی اذان سوا بارہ بجے دینے کے بجائے سوا ایک پر دیتے ہیں۔ اردو کی تقریر اس سے پہلے کرا لی جاتی ہے۔ پہلی اذان کے بعد پانچ چھ منٹ کا وقفہ کرتے ہیں تاکہ لوگ سنتیں پڑھ لیں پھر دوسری اذان کہی جاتی ہے۔
ہم اس طریقہ کو غلط سمجھتے ہیں اور رجب 1415ھ کے انوار مدینہ کے شمارہ میں اس بارے میں ہمارا تفصیلی اور مدلل فتوی بھی شائع ہوا تھا۔ حضرت مولانا مفتی عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ نے 15 شوال 1415ھ کو جو فتویٰ لکھا اس میں ہمارے دیئے ہوئے حوالے نقل کر کے ہمارے ساتھ مکمل موافقت ظاہر کی۔ لیکن اب ضرب مومن ج7 شمارہ 24 میں مولانا مفتی محمد صاحب کا فتویٰ شائع ہوا ہے جس میں موجودہ حالات میں اصل علاج یہی قرار دیا گیا ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کو اس کے اصل وقت سے مؤخر کر کے کہا جائے۔ ہم نے مفتی محمد صاحب کو اپنا مضمون بھی بھیجا تاکہ وہ اپنے فتوے پر نظرثانی کر سکیں لیکن انہوں نے 26 رجب 1424 کو لکھے گئے جواب میں اپنی بات پر ہی اصرار کیا۔
ہم پہلے اصل مسئلہ کو دلائل سے ثابت کرتے ہیں پھر اس کے بعد دارالافتاء والارشاد کے مولانا مفتی محمد صاحب کے فتوے کا جواب دیں گے۔
جمعہ کی پہلی اذان کا وقت زوال ہوتے ہی ہے
-1 معارف السنن میں مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
اذان اول خطیب کے سامنے والی اذان سے پیشتر ہوتی تھی اور ظہر کے اول وقت میں زوال کے ساتھ متصل ہوتی تھی۔
-2 مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے
جمعہ کے لئے سعی اور ترک بیع زوال کے پیچھے اذان اول سے واجب ہوتی ہے۔
-3 علامہ عینی رحمہ اللہ عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں
لان الاول ہو الاذان عند جلوس الامام علی المنبر … والثالث عند دخول وقت الظھر (ص 211 ج 6)
(حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) پہلی اذان وہ تھی جو امام کے سامنے ہوتی ہے جب وہ منبر پر بیٹھا ہوتا ہے (دوسری سے مراد اقامت ہے) اور تیسری اذان وہ تھی جو ظہر کا وقت شروع ہونے پر ہوتی ہے۔
پہلی اذان سے غرض یہ تھی کہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ جمعہ کی نماز کا وقت شروع ہو گیا ہے اور وہ مسجد میں آ جائیں
-1 فتح الباری میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
و تبین بما مضی ان عثمان احدثہ لاعلام الناس بدخول وقت الصلاۃ … (ص 394 ج 2)
سابقہ کلام سے ظاہر ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پہلی اذان اس لئے شروع کی کہ لوگوں کو نماز کے وقت کے شروع ہونے کی اطلاع ہو جائے۔
-2 فتح الباری میں ایک اور روایت ہے
فاذن بالزوراء قبل خروجہ لیعلم الناس ان الجمعۃ قد حضرت۔
(ص 394ج 2)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے نکلنے سے پیشتر مقام زوراء پر اذان دلوائی تاکہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ جمعہ کا وقت ہو گیا ہے۔
-3 علامہ عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زوراء پر پہلی اذان شروع کرائی تاکہ (اس کو سن کر) لوگ (مسجد میں) جمع ہو جائیں۔
تنبیہ: جمعہ کی پہلی اذان اول وقت پر ہو اس پر شروع ہی سے بلا اختلاف امت میں عملی توارث اور تواتر چلا آیا ہے۔
تنبیہ: حضرت مولانا مفتی سید عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ نے 16 شوال 1415ھ کو اپنے فتوے میں ہمارے دیئے گئے مذکورہ بالا حوالجات نقل کر کے فرمایا:
’’جمعہ کی اذان اول کا وقت زوال سے متصل بعد کا ہے۔ اسی پر عملی توارث چلا آ رہا ہے۔ … مذکورہ بالا حوالجات میں فتح الباری کی عبارت سے واضح ہے کہ اذان اول کی مشروعیت کی غرض ہی یہ بتلائی گئی ہے کہ لوگوں کو نماز جمعہ کے داخل ہونے کی اطلاع ہو جائے اور دوسرے حوالوں میں بھی اس اذان کو ’’عند الزوال‘‘ ’’عقب الزوال‘‘ کے ساتھ مقید کیا گیا ہے کیونکہ عرف میں عند اور عقب کو گھنٹہ کے بعد کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا اور علامہ بنوری رحمہ اللہ نے تو فی اول وقت الظھر متصلاً بالزوال لکھ کر کسی دوسرے احتمال کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔
جمعہ کی پہلی اذان کو اول وقت کہنے کی شرعی حیثیت کیا ہے
اگرچہ اس بارے میں ہمیں کوئی تصریح تو نہیں ملی لیکن مذکورہ بالا امور کہ:
-1 پہلی اذان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو جمعہ کی نماز کے وقت کے شروع ہونے کا علم ہو جائے اور وہ مسجد میں اکٹھے ہو جائیں۔
-2 اس پر امت کا عملی توارث چلا آیا ہے۔
ان کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ جمعہ کی پہلی اذان کو اول وقت کہنا سنت مؤکدہ تو ضرور ہے کیونکہ مؤکدہ نہ ماننے کی صورت میں اذان کو اول وقت سے مؤخر کرنا جائز ہو گا جس میں مذکورہ بالا دونوں ہی امور فوت ہوتے ہیں۔
دارالافتاء والارشاد کے مفتی محمد صاحب کے فتوے کی بنیاد اس پر ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان اول وقت کہنا محض مستحب ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’یہ تو ظاہر ہے کہ جس طرح اذان جمعہ میں تعجیل اور بعد الزوال متصلا ہونا مستحب ہے‘‘۔
نیز ’’تعجیل جمعہ و اذان مستحب ہے‘‘
لیکن اس کی شرعی حیثیت کے محض مستحب ہونے پر اور اس سے زائد نہ ہونے پر انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔
تعجیل جمعہ کے مستحب ہونے کو یہ تو لازم ہے کہ اذان ثانی کی تعجیل بھی مستحب ہو لیکن اذان اول کی غرض اور اس سے متعلق عملی توارث چونکہ مختلف نوعیت رکھتے ہیں اس لئے یہ لازم نہیں آتا کہ اذان اول کی تعجیل بھی محض مستحب ہو۔
پہلی اذان کے اول وقت ہونے پر تاکید کے لئے اسلاف کا یہ قول بھی مؤید ہے کہ روی عن مسروق و الضحاک و مسلم بن یسار ان البیع یحرم بزوال الشمس (مسروق، ضحاک اور مسلم بن یسار رحمہم اللہ سے روایت ہے کہ بیع کی حرمت سورج کے زوال کے وقت سے شروع ہو جاتی ہے)۔ تائید اس طرح سے ہے کہ اذان اول کا اصل وقت زوال ہوتے ہی ہے۔ اور اگر اسی وقت اذان کہی جائے تو حرمت بیع کی نسبت اذان اول اور سورج کے زوال دونوں کی طرف یکساں ہو گی۔
حاصل کلام
یہ ہے کہ لوگوں کو معصیت سے بچانے کے لئے بعض حضرات نے جو صورت اختیار کی ہے اور جس کو مفتی محمد صاحب نے اپنے فتوے سے سہارا دینے کی کوشش کی ہے یہ بالکل ناجائز ہے۔
ضرب مومن میں شائع ہونے والا مفتی محمد صاحب کا فتویٰ
’’دور حاضر میں خصوصاً برصغیر میں یہ وباء عام ہے کہ جمعہ قدرے تاخیر سے پڑھتے ہیں اور اذان بہت پہلے دے دیتے ہیں اور اذان کے بعد لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں یا فارغ بیٹھے باتیں کرتے رہتے ہیں اور گنہگار ہوتے ہیں اور چونکہ اس کا سبب مسجد کی منتظمہ ہے اس لئے وہ بھی سخت گناہگار ہے اس کی اصلاح بقدر استطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے اور علماء و ائمہ اور انتظامیہ مسجد اس کے اولین مخاطب و ذمہ دار ہیں اور ان پر مسلمانوں کی کثیر تعداد کو گناہ سے بچانے کے لئے مندرجہ ذیل تین امور کا اہتمام لازم ہے۔
-1 جمعہ زوال کے بعد جلد پڑھنے کا اہتمام کیا جائے …
-2 ائمہ و خطباء حضرات عوام کو عام خطاب میں بھی بار بار اس اہم مسئلہ کی تبلیغ کریں…
-3مندرجہ بالا دونوں امور کا اہتمام عملاً اس زمانہ میں مشکل ہے۔ نیز ان پر عمل کے بعد بھی چونکہ سستی کا غلبہ عام ہے جس کی مکمل اصلاح کی امید نہیں اس لئے اس وقت لوگوں کو گناہ سے بچانے کی بہترین اور مؤثر تدبیر (جس پر عمل کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں) یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان خطیب صاحب کی اردو تقریر کے بعد کہی جائے۔ اذان اول کے بعد لوگ سنتیں پڑھیں اور سنتوں کے بعد دوسری اذان اور خطبہ ہو۔‘‘
اس فتوے کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں زوال کے بعد اردو کی تقریر ہو۔ اس دوران اکثر و بیشتر لوگ جمع ہو جائیں گے۔ تقریر کے بعد اذان اول ہو۔ لوگ جمعہ سے پہلے کی سنتیں پڑھیں۔ اس کے بعد خطیب منبر پر آئے اور دوسری اذان کہی جائے۔
مفتی محمد صاحب کے فتوے پر تبصرہ
اس فتوے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد صاحب کے نزدیک جمعہ کی پہلی اذان زوال ہوتے ہی دینا محض مستحب ہے اس لئے 26 رجب 1424ھ کے ان کے تصدیق کردہ دارالافتاء والارشاد کے فتوے میں اس طرح سے شدت کا اظہار کیا گیا ہے:
’’اس صورت میں اگرچہ ایک مستحب پر عمل نہیں ہو پاتا لیکن دوسری طرف اس میں لوگوں کو ایک حرام سے بچانے کا حل موجود ہے … بلکہ ایسی صورت میں مستحب پر عامل رہنے پر اصرار کرنا اور اس کے نتیجے میں عامۃ الناس کے ارتکاب حرام سے صرف نظر کرنا فقہی رو سے جہل باحوال الناس اور شریعت کی روح و اساس سے متصادم ہے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں من اصر علی امر مندوب ولم یعمل بالرخصۃ فقد اصاب منہ الشیطان یعنی جو مندوب و مستحب کام پر اصرار کرے اور رخصت پر عمل نہ کرے تو اس نے شیطانی کام کیا (مرقات)
ظاہر بات ہے کہ مذکورہ صورت میں ایک مستحب پر ایسا عمل کرنا جس سے حرام میں وقوع لازم ہو اس کے اندر داخل اور غلو فی الدین ہے۔‘‘
مفتی محمد صاحب کے فتوے کی اصل اساس و بنیاد کے خلاف ہم دلائل کے ساتھ پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں کہ وہ محض مستحب نہیں بلکہ وہ تو تاکیدی حکم ہے۔
اسی وجہ سے حضرت مولانا مفتی سید عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ نے ہماری مکمل موافقت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس لئے جن مساجد میں اذان اول کو اس کے اصل وقت سے مؤخر کر کے کہنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس کو ختم کر دینا ضروری ہے۔‘‘
تنبیہ: علاوہ ازیں جب اردو کی تقریر زوال کے بعد اذان اول سے پہلے کی جائے گی اور اذان اول تک عام طور سے لوگ جمع ہی ہو چکیں گے کیونکہ اذان اول کے بعد ان کو صرف چار سنتیں پڑھنے کی مہلت ملے گی تو پہلی اذان کی ضرورت ہی کیا رہ گئی۔ پہلی اذان تو اس لئے تھی کہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ نماز کا وقت شروع ہو گیا اور وہ مسجد میں حاضر ہونے اور جمع ہونے کی سعی کریں۔ جب وہ پہلے ہی مسجد میں جمع ہوں گے تو پھر اذان کی ضرورت ہی کیا رہ گئی۔ بے موقع اور بے ضرورت ہونے کی وجہ سے اب یہ اذان سنت تو کیا بدعت ہو کر رہ جائے گی۔
حضرت مولانا تقی عثمانی مدظلہ کا فتویٰ
16 ذوالحجہ 1415 کو حضرت مولانا تقی عثمانی مدظلہ نے جو تحریر لکھی وہ بھی اس حد تک ہماری بات کی تائید کرتی ہے کہ اذان اول زوال ہوتے ہی ہو۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’اذان اول اور اذان ثانی کے درمیان طویل فصل نہ ہو جس کی صورت یا تو یہ ہے کہ تقریر زوال سے پہلے کی جائے اور زوال کے متصل بعد اذان اول اور دس پندرہ منٹ بعد اذان ثانی ہو یا پھر (اردو کی) تقریر اذانین کے درمیان ہو تو وہ پندرہ بیس منٹ سے زائد نہ ہو۔‘‘