حروف سبعہ سے متعلق حدیثوں کو اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جن میں قرآن پاک کے حروف سبعہ پر نازل کئے جانے کی تصریح ہے۔ دوسری وہ ہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امت کی خاطر سات کے عدد تک رعایت کی درخواست فرمائی جو منظور ہوئی اور سات تک مراد فات میں پڑھنے کی اجازت حاصل ہوئی لیکن یہ مرادفات نازل نہیں ہوئے۔ نزول صرف اصل حرف و لفظ پر ہوا جو قریش کی لغت میں تھا۔
پہلی قسم
وہ حدیثیں جن میں قرآن پاک کے سبعہ احرف پر نازل ہونے کی تصریح ہے۔
-1 حافظ ابویعلی اپنی مسند کبیر میں لکھتے ہیں۔
ایک دن حضرت عثمان ص نے جب کہ وہ منبر پر تھے کہا میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جس نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا اور وہ تمام حروف کافی و شافی ہیں کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ تو بے شمار لوگ کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے اور وہ سب حروف کافی و شافی ہیں تو عثمان ص نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔
-2 بخاری اور مسلم کی روایت ہے (الفاظ بخاری کے ہیں)
حضرت عمر ص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی حیات میں ہشام بن حکیم ص کو سورت فرقان پڑھتے سنا۔ میں نے جب ان کی قراء ت کی طرف کان لگائے تو وہ ایسے بہت سے حروف پر پڑھ رہے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں نماز ہی میں ان پر جھپٹ پڑوں لیکن میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر لیا۔ پھر میں نے ان کو ان کی (یا فرمایا اپنی) چادر سے کھینچا اور پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سورت مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم غلط کہتے ہو۔ اللہ کی قسم یہ سورت جو میں نے تمہیں پڑھتے ہوئے سنی ہے مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے۔ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ میں نے ان کو سورت فرقان ان حروف پر پڑھتے ہوئے سنا جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے حالانکہ آپ ہی نے مجھے سورہ فرقان پڑھائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر ان کو چھوڑ دو۔ پھر فرمایا اے ہشام تم پڑھو۔ تو انہوں نے وہی قرا ء ت پڑھی جو میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یہ سورت) اسی طرح نازل کی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے تو جو چاہو پڑھو۔
-3 امام احمد روایت کرتے ہیں
حضرت عمرو ص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے قرآن کی ایک آیت پڑھی۔ اس شخص سے عمرو ص نے کہا یہ آیت تو اس طرح ہے۔ پھر اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے جو حرف بھی ہو تم پڑھو وہ درست ہے۔ لہٰذا آپس میں جھگڑا مت کرو۔
-4 ابن جریر طبری نقل کرتے ہیں
حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا۔ پس (جس حرف پر چاہو) بلا کسی حرج کے پڑھو، البتہ رحمت کے ذکر کو عذاب کے ساتھ اور عذاب کے ذکر کو رحمت کے ساتھ ختم نہ کرو۔
ان حدیثوں میں سبعۃ احرف (سات حروف) سے اختلاف قراء ات کی سات مندرجہ ذیل نوعیتیں مراد ہیں۔
-1 اسماء کا اختلاف جس میں افراد، تثنیہ و جمع اور تذکیر و تانیث دونوں کا اختلاف داخل ہے جیسے تَمَّثْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ اور تَمَّتْ کَلِمَاتُ رَبِّکَ۔
-2 افعال کا اختلاف کہ کسی قراء ت میں صیغہ ماضی ہو کسی میں مضارع اور کسی میں امر مثلاً رَبَّنَا بَاعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا اور رَبُّنَا بَعَّدَ بَیْنَ اَسْفَارِنَا۔
-3 وجوہ اعراب کا اختلاف یعنی حرکتیں مختلف ہوں مثلاً لَا یُضَارَّ کَاتِبٌ اور ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ اور ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ۔
-4 الفاظ کی کمی بیشی کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ کم اور دوسری میں زیادہ ہو مثلاً وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَوَ الْاُنْثٰی اور مَا خَلَقَ کے بغیر صرف وَالَّذکَرِ وَالْاُنْثٰی۔
-5 تقدیم و تاخیر کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ہے وَجَائَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ اور دوسری قراء ت میں حق کا لفظ مقدم ہے۔ وَجَائَ تْ سَکْرَۃُ الْحَقِّ بِالْمَوْتِ۔
-6 بدلیت کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ایک لفظ ہے اور دوسری قراء ت میں اس کی جگہ دوسرا لفظ ہے مثلاً نُنْشِرُھَا اور نُنْشِزُھَا اور طَلْحٌ و طَلْعٌ۔
-7 لہجے کا اختلاف جس میں تفخیم، ترقیق، امالہ، قصر، اخفاء، اظہار اور ادغام وغیرہ کے اختلاف شامل ہیں مثلاً موسیٰ امالہ کے ساتھ اور بغیر امالہ کے۔
دوسری قسم
وہ حدیثیں جن میں آسانی و تسہیل کی خاطر سات کے عدد کا ذکر ہے۔
-1 بخاری اور مسلم میں ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے ایک حرف پر قرآن پڑھایا تو میں نے ان سے مراجعت کی اور میں مزید طلب کرتا رہا اور وہ (قرآن کے حرفوں میں) اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچ گئے۔
-2 امام احمد اپنی مسند میں حضرت ابوبکرہ ص سے روایت کرتے ہیں
کہ جبرئیل (علیہ السلام)نے کہا کہ اے محمد قرآن کو ایک حرف پر پڑھیئے۔ میکائیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺسے کہا اس میں اضافہ کروایئے۔ یہاں تک کہ معاملہ سات حروف تک پہنچ گیا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ان میں سے ہر ایک شافی کافی ہے تاوقتیکہ آپ عذاب کی آیت رحمت سے یا رحمت کو عذاب سے مخلوط نہ کر دیں۔ یہ ایسا ہی ہو گا جیسے تعال کے معنی کو اقبل ھلم اذھب اسرع اور عجل کے الفاظ سے ادا کریں۔
-3 صحیح مسلم میں ہے۔
حضرت ابی بن کعب ص کہتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ اس نے ایک ایسی قراء ت پڑھی جو مجھے اجنبی معلوم ہوئی۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے پہلے شخص کی قراء ت سے مختلف ایک اور قراء ت پڑھی۔ جب ہم نے نماز ختم کر لی تو ہم سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ میں نے عرض کیا کہ اس شخص نے ایک ایسی قراء ت پڑھی ہے جو مجھے اجنبی معلوم ہوئی۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا۔ اس نے پہلے کی قراء ت کے سوا ایک دوسری قراء ت پڑھی۔ اس پر آپ نے دونوں کو پڑھنے کا حکم دیا۔ ان دونوں نے قراء ت کی تو حضور ﷺ نے دونوں کی تحسین فرمائی۔ اس پر میرے دل میں تکذیب کے ایسے وسوسے آنے لگے کہ جاہلیت میں بھی ایسے خیالات نہیں آئے تھے۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے میری حالت دیکھی تو میرے سینے پر (اپنا ہاتھ) مارا جس سے میں پسینہ میں شرابور ہو گیا اور خوف کی حالت میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے ابی پروردگار نے میرے پاس پیغام بھیجا تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں میں نے جواب میں درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمایئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ پیغام بھیجا کہ میں قرآن دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے جواب میں درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمایئے تو اللہ تعالیٰ نے تیسری بار پیغام بھیجا کہ میں اسے سات حرفوں پر پڑھوں۔
-4 صحیح مسلم میں ہے۔
نبی ﷺ بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اللہ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کی امت قرآن کو ایک حرف پر بڑھے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا ہوں۔ میری امت میں اس کی طاقت نہیں ہے۔ پھر جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کی امت قرآن کو دو حرفوں پر پڑھے۔ آپ نے فرمایا میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا ہوں۔ میری امت میں اس کی طاقت نہیں ہے۔ پھر وہ تیسری بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کی امت قرآن کو تین حرفوں پر پڑھے۔ آپ نے پھر فرمایا میں اللہ سے معافی اور مغفرت مانگتا ہوں میری امت میں اس کی طاقت نہیں ہے۔ پھر وہ چوتھی بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کی امت قرآن کو سات حرفوں پر پڑھے۔ پس امت کے لوگ جس حرف پر پڑھیں گے ان کی قراء ت درست ہو گی۔
-5 ترمذی میں بھی ہے۔
حضرت ابی بن کعب ص کی روایت ہے کہ مروہ کے پتھروں کے پاس رسول اللہ ﷺ کی ملاقات جبرئیل علیہ السلام سے ہوئی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا مجھے ایک ان پڑھ امت کی طرف بھیجا گیا ہے جن میں بوڑھے بھی ہیں، بوڑھیاں بھی ہیں اور بچے بھی ہیں۔ حضرت جبرئیل نے کہا آپ ان کو حکم دیجئے کہ وہ قرآن کو سات حرفوں پر پڑھیں۔
-6 اور حضرت حذیفہ ص کے الفاظ میں یوں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جبرئیل سے کہا کہ میں ایک ان پڑھ امت کی طرف بھیجا گیا ہوں جس میں مرد، عورتیں، بچے، بچیاں اور ایسے لب گور بوڑھے جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی یہ سب ہی ہیں۔ تو جبرئیل علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا دو قسموں کے مضمون مختلف ہیں
ان دو قسموں کی حدیثوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دونوں کے مضمون مختلف ہیں۔ پہلی قسم کی حدیثوں میں اختلاف قراء ت کا ذکر تو ہے، لیکن رسول اللہ ﷺنے اس بارے میں فقط یہ فرمایا کہ قرآن پاک سبعۃ احرف پر نازل کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسری قسم کی احادیث میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی درخواست و مطالبہ پر یہ فرمایا گیا کہ آپ کی امت سات طریقوں سے پڑھے یا آپ اپنی امت کو سات طریقوں سے پڑھایئے۔ پھر وہ سات طریقے کیا ہیں ؟ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ وہ سات تک مرادفات ہیں۔ فرمایا جیسے تعال، اقبل ھلم، اذہب، اسرع، عجل، ان دوسری قسم کی حدیثوں میں ان سات طریقوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصریح نہیں ہے سوائے حضرت حذیفہ ص کی روایت کے جس میں ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ اسلام نے نبی ﷺ کے یہ فرمانے پر کہ میری امت تو امی ہے اور اس میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی کچھ پڑھا ہی نہیں ہے کہا ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف لیکن اس واقعہ سے متعلق جب حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوبکرہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کی روایتوں کو دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حذیفہ ص والی روایت بالمعنی ہے اور اس میں راوی کی جانب سے سات حروف یا سات طریقوں سے پڑھنے کی اجازت کو انزل القرآن علی سبعۃ احرف کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے یا پھر مجاز پر محمول ہے۔
عام طورسے علماء و قراء حضرات ان سب حدیثوں کا ایک ہی مضمون مانتے ہیں اس لئے ان کو ایک دوسرے پر محمول کرتے …… لیکن اس صورت میں حروف سبعہ کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ ایسی نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض و اشکال باقی نہ رہتا ہو مثلاً
-1 جب دونوںطرح کی حدیثوں میں سبعۃ احرف سے مراد سات لغات ہوں
ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے سبعہ احرف سے قبائل عرب کی سات لغات مراد لی ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ص کے دور تک قران ان ساتوں حروف پر پڑھا جاتا تھا، لیکن حضرت عثمان ص کے زمانے میں جب اسلام دور دراز ممالک تک پھیلا تو ان حروف سبعہ کی حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے لوگوں میں جھگڑے ہونے لگے۔ مختلف لوگ مختلف حروف پر قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور ایک دوسرے کی تلاوت کو غلط ٹھہراتے۔ اس فتنہ کے انسداد کے لئے حضرت عثمان ص نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے پوری امت کے لئے صرف ایک حرف یعنی لغت قریش کے مطابق سات مصاحف مرتب فرما کر مختلف صوبوں میں بھیج دیئے اور باقی تمام مصاحف کو نذر آتش کرا دیا تا کہ کوئی اختلاف پیدا نہ ہوسکے۔ لہٰذا اب صرف لغت قریش کا حرف باقی رہ گیا ہے اور باقی چھ حروف محفوظ نہیں رہے اور قراء توں کا جو اختلاف آج تک باقی چلا آتا ہے وہ اسی ایک حرف قریش کی ادائیگی کے مختلف طریقے ہیں۔
اس قول پر ایک اعتراض یہ ہے کہ حافظ ابن جریر طبری ؒایک طرف تو یہ فرماتے ہیں کہ ساتوں حروف منزل من اللہ تھے اور دوسری طرف یہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ص نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مشورے سے چھ حروف کی تلاوت کو ختم فرما دیا حالانکہ یہ باور کرنا مشکل ہے کہ حضرت عثمان ص نے کسی دلیل کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ چھ حروف کو یکسر ختم کر دیا ہو۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے چھ حروف تو اختلاف کے ڈر سے ختم فرما دیئے اور قراء تیں جوں کی توں باقی رکھیں۔ افتراق و اختلاف کا جو اندیشہ مختلف حروف کو باقی رکھنے میں تھا وہ قرا ء ت کے اختلاف میں بھی تو ہے؟
۲۔ جب دونوں قسم کی حدیثوں سے مراد سات مراد فات ہوں
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک صرف قریش کی لغت پر نازل ہوا تھا، لیکن چونکہ اہل عرب مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور ہرایک کے لئے اس ایک لغت پر قرآن کریم کی تلاوت بہت دشوار تھی اس لئے ابتدائے اسلام میں یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ اپنی علاقائی زبان کے مطابق مرادف الفاظ کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرلیا کریں، چنانچہ جن لوگوں کے لئے قرآن پاک کے اصلی الفاظ سے تلاوت مشکل تھی ان کے ئے خود نبی ﷺ نے ایسے مرادفات متعین فرما دیئے تھے جن سے وہ تلاوت کرسکیں۔ یہ مرادفات قریش اور غیر قریش دونوں کی لغات سے منتخب کئے گئے تھے۔
لیکن یہ اجازت صرف اسلام کے ابتدائی دور میں تھی۔ پھر جب رفتہ رفتہ اس قرآنی زبان کا دائرہ اثر بڑھتا گیا اہل عرب اس کے عادی ہو گئے تو نبی ﷺ نے وفات سے پہلے رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام سے قرآن کا آخری دور کیا جسے عرضہ اخیرہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر مرادفات سے پڑھنے کی یہ اجازت ختم کر دی گئی اور صرف وہی طریقہ باقی رہ گیا جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔
اس قول پر یہ الجھن ہے کہ قرآن پاک کی جو مختلف قراء تیں آج تک متواتر چلی آ رہی ہیں اس قول کے مطابق ان کی حیثیت واضح نہیں ہوتی۔
-3 جب دونوں قسم کی حدیثوں سے مراد قراء ات کے سات قسم کے اختلافات ہوں
اس قول پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ قران پاک کو سات حروف پر اس لئے نازل کیا گیا تا کہ امت کے لئے تلاوت قرآن میں آسانی پیدا کی جائے۔ یہ بات کلمات کے لب و لہجہ سے تعلق رکھنے والے اوصاف تفخیم و ترقیق، مدوامالہ وغیر ہ میں تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن الفاظ کی تقدیم و تاخیر اور حذف و اثبات میں سمجھ نہیں آتی۔ مثلاً سورہ توبہ میں اعد لھم جنت تجری تحتھا الانھٰر اور تجری من تحتھا الانھٰر دو قراء تیں ہیں۔ یہاں صرف من کی ادائیگی میں کونسی دشواری ہے اور اگر ہے تو یہ اختلاف اسی جیسی تمام آیات میں ہونا چاہئے۔ صرف ایک مقام میں کیوں ہے؟ پھر حضرت ابوبکر ص کی روایت میں جو مرادفات ذکر ہیں ان کی توجیہ بھی نہیں کی جاسکتی۔
غرض اوپر ذکر کی گئیں دو قسم کی حدیثوں کو ایک دوسرے پر محمول کرتے ہوئے سبعۃ احرف کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ اعتراض اور الجھن سے خالی نہیں۔
-4 ان دو قسم کی حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ مضمون پر محمول کریں
البتہ اگر حدیثوں کی مذکورہ بالا دو قسموں کو علیحدہ علیحدہ مضمون پر محمول کیا جائے تو پھر انشاء اللہ کوئی اعتراض وارد نہ ہوگا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلی قسم کی حدیثیں جن میں یہ مضمون ہے کہ انزل القرآن علی سبعۃ احرف تو ان میں سبعۃ احرف سے مراد قراء ات میں سات قسم کے اختلافات ہیں۔ قرآن پاک انہی اختلافات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا۔ یہ اب تک باقی ہیں اور ان کا نسخ نہیں ہوا۔
دوسری قسم کی حدیثوں میں مرادفات کا ذکر ہے۔ یہ مرادفات عرضہ اخیرہ میں منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ ان کے نسخ کے بارے میں:
-1 امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم کا نزول تو صرف قریش کی لغت پر ہوا تھا، لیکن چونکہ اہل عرب مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور ہر ایک کے لئے اس ایک لغت پر قرآن کریم کی تلاوت بہت دشوار تھی اس لئے ابتداء اسلام میں یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ اپنی علاقائی زبان کے مطابق مرادف الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرلیا کریں، چنانچہ جن لوگوں کے لئے قرآن کریم کے اصلی الفاظ سے تلاوت مشکل تھی۔ ان کے لئے خود آنحضرت ﷺ نے ایسے مرادفات متعین فرما دیئے تھے جن سے وہ تلاوت کر سکیں۔ یہ مرادفات قریش اور غیر قریش دونوں کی لغات سے منتخب کئے گئے تھے اور یہ بالکل ایسے تھے جیسے تعال کی جگہ ھلم یا اقبل یا ادن پڑھ دیا جائے معنی سب کے ایک ہی رہتے ہیں، لیکن یہ اجازت صرف اسلام کے ابتدائی دورمیں تھی، جبکہ تمام اہل عرب قرآنی زبان کے پوری طرح عادی نہیں ہوئے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ اس قرآنی زبان کا دائرہ اثر بڑھتا گیا۔ اہل عرب اس کے عادی ہو گئے اور ان کے لئے اسی اصل لغت پر قرآن کی تلاوت آسان ہو گئی تو آنحضرت ﷺ نے وفات سے پہلے رمضان میںحضرت جبرئیل علیہ السلام سے قرآن کریم کا آخری دور کیا جس عرضہ اخیرہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ مرادفات سے پڑھنے کی اجازت ختم کر دی گئی اور صرف وہی طریقہ باقی رہ گیا جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔‘‘
(مشکل الآثار للطحاوی، بحوالہ علوم القرآن مولانا تقی عثمانی ص: 104)
-2 محقق ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
ترجمہ: ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ عرضہ اخیرہ کے موقع پر قرآن پاک میں نسخ اور تبدیلی ہوئی ہے۔ اس کی تصریح متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ ہم تک صحیح سند کے ساتھ زر بن حبیش رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول پہنچا ہے کہ مجھ سے ابن عباس ص نے پوچھا تم کونسی قراء ت پڑھتے ہو۔ میں نے کہا آخری قراء ت۔ زربن حبیش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ ہر سال ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سنایا کرتے تھے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سنایا اس موقع پر جو کچھ منسوخ ہوا اور جو تبدیلی کی گئی حضرت عبداللہ بن مسعود ص اس کے شاہد تھے۔
ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس قول میں اگرچہ مرادفات کے عرضہ اخیرہ میں منسوخ ہونے کی تصریح تو نہیں کی لیکن ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول مرادفات کے نسخ پر اس طرح سے دلیل ہے کہ انہوں نے عرضہ اخیرہ میں نسخ کے واقع ہونے کے تصریح کی ہے اور مرادفات ہی اس نسخ کا مصداق ہیں کیونکہ مرادافات کا وجود حدیث سے ثابت ہے اور ان کی بقاء بالا جماع ثابت نہیں اور کسی اور موقع پر ان کا منسوخ ہونا بھی ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا ء قرین قیاس یہی ہے کہ عرضہ اخیرہ میں مرادفات ہی منسوخ ہوئے ہوں گے۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت عثمان ص کے دور میں لغت قریش کے علاوہ باقی لغات موقوف کر دی گئیں۔ یہ قول بلا دلیل ہے کیونکہ حضرت عثمان ص نے جب مصاحف لکھنے کے لئے ایک جماعت تشکیل دی تو اس جماعت سے فرمایا:
اذا اختلفتم انتم و زید بن ثابت فی شئی من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانھم۔
’’جب تمہارے اور زید بن ثابت کے درمیان قرآن کے کسی حصہ میں اختلاف ہو تو اسے قریش کی زبان پر لکھنا کیونکہ قرآن صرف ان کی زبان پر نازل ہوا ہے۔
حضرت عثمان ص کے اس ارشاد سے صاف معلوم ہوا کہ قرآن پاک کا نزول صرف لغت قریش پر ہوا۔ اگر اور لغات پر بھی ہوتا جیسا کہ بعض وہ حضرات کہتے ہیں جو سبعۃ احرف سے سات لغات مراد لیتے ہیں تو حضرت عثمان ص یوں حصر کے ساتھ نہ فرماتے کہ انما نزل بلسانھم یعنی قرآن پاک محض قریش کی لغت پر نازل ہوا ہے۔
بعض حضرات نے حضرت عثمان ص کے باقی لغات کو منسوخ نہ کرنے کی یہ دلیل دی ہے کہ روایت حفص کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لغت قریش کے سو اور لغات بھی موجود ہیں۔
اس دلیل سے خیال ہو سکتا ہے کہ شاید قرآن کا نزول سات لغتوں پر ہوا ہو یا سات نہیں تو بہر حال متعدد لغتوں پر ہوا ہو۔ اس خیال کے صحیح نہ ہونے کی یہ وجوہات ہیں:
-1 حضرت عثمان ص کا مذکورہ بالا ارشاد اس خیال کے منافی ہے۔
-2 کسی کلام میں چند ایک الفاظ کسی دوسری لغت کے آ جانے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کلام دو لغتوں میں وارد ہوا ہے بلکہ وہ ایک ہی لغت پر شمار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ وہ الفاظ اگرچہ اصالۃً دوسری لغت کے ہوں، لیکن اس لغت میں بھی ان کا استعمال ہونے لگا ہو بالکل غیر معروف نہ ہو۔
قرآن کو سبعۃ احرف (اقسام اختلاف) پر نازل کئے جانے کی حکمتیں
-1 امت کے لئے خصوصاً اہل عرب کے لئے سہولت و آسانی
-2 حکم کا بیان
قرآن پاک میں ہے وان کان رجل یورث کلالۃ أوامرأۃ ولہ أخ أواخت فلکل واحد منھما السدس اور حضرت سعد بن ابی وقاص ص کی قراء ت میں ہے۔ ولہ اخ اواخت من ام اس قراء ت میں من ام کے زائد ہونے سے ظاہر ہوا کہ مذکورہ حکم میں بھائی بہنوں سے ماں شریک بھائی بہن مراد ہیں۔
-3 دو مختلف حکموں کو جمع کرنا۔
مثلاً قرآن پاک میں ہے فاعتز لوا النساء فی المحیض ولا تقربو ھن حتی یطھرن۔ یطھرن ایک قراء ت میں طاء کے سکون کے ساتھ ہے اور دوسری قراء ت میں طا کی تشدید کے ساتھ ہے۔ مشدد کا صیغہ عورتوں کے حیض سے طہارت میں مبالغہ کا معنی دیتا ہے جس سے یہ بات حاصل ہوئی کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت جب غسل کر لے اس وقت اس سے قربت کی جائے۔
-4 دو مختلف حالتوں میں دو مختلف شرعی حکموں پر دلالت۔
قرآن پاک میں ہے۔ فاغسلوا وجو ھکم و ایدیکم الی المرافق و امسحوا برؤسکم وارجلکم الی الکعبین اس آیت میں ارجلکم کی لام پر ایک قراء ت میں نصب ہے، اور دوسری قراء ت میں جر ہے۔
نصب کی صورت میں پائوں دھونے کا حکم ہے جس وقت پائوں ننگے ہوں اور جر کی صورت میں مسح کرنے کا حکم ہے جب کہ پائوں پر چمڑے کے موزے پہنے ہوئے ہوں۔ نبی ﷺ نے ان دونوں حکموں کو اسی طرح بتایا ہے۔
-5 جو مراد نہ ہو اس کے وہم کا دفعیہ
آیت ہے یا ایھا الذین آمنوا اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ اور دوسری قراء ت میں ہے فا مضوا الی ذکر اللہ۔
فاسعواسے یہ وہم ہو سکتا تھا کہ تیز تیز چلنے کا حکم ہے حالانکہ وہ مراد نہیں ہے۔ اس وہم کا دفعیہ فامضوا کے لفظ سے ہو گیا۔ کیونکہ اس کے معنی میں تیزی اور سرعت شامل نہیں ہے۔
-6 ایسے لفظ کا بیان جو بعض پر مبہم ہو۔
و تکون الجبال کالعھن المنفوشاور ایک اور قراء ت میں ہے کالصوف المنفوش دوسری قراء ت سے معلوم ہوا کہ عھن سے مراد صوف (اون) ہے۔
-7 ایسے عقیدے کی وضاحت جس میں بعض لوگ گمراہ ہوئے۔
جنت کے بارے میں آیت ہے و اذا رأیت ثم رأیت نعیما و ملکا کبیرا۔
ایک قراء ت میں ملکا کی میم کا ضمہ اور لام کا سکون ہے جب کہ دوسری قراء ت میں میم کا فتحہ اور لام کا کسرہ ہے۔ دوسری قراء ت سے جنت میں مومنین کے لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہونا ثابت ہوتا جس کا بعض بدعتی فرقے انکار کرتے ہیں۔
تنبیہ: اس موضوع سے متعلق وہ روایات جن میں کوئی ایسی تصریح یا قرینہ موجود نہیں جس کی وجہ سے ان کے کسی ایک قسم میں داخل ہونے کا حتمی قول کیا جا سکے تو ایسی روایات بہرحال انہی دونوں قسموں میں سے کسی قسم میں داخل ہیں مثلاً
حاکم اور ابن حبان روایت کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حٰمٓ والی ایک سورت سکھائی۔ پھر میں مسجد میں گیا اور میں نے ایک شخص کو وہی سورت پڑھنے کو کہا تو وہ اس کو ان حروف پر پڑھنے لگا جو میں نہیں پڑھتا تھا اور اس نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف نے ہلاک کیا۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت علی سے کچھ سرگوشی کی تو علی ص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح قرآن پڑھے جس طرح اس کو سکھایا گیا ہے۔ تو ہم چلے آئے اور ہم میں سے ہر شخض ان حروف پر پڑھتا تھا جن پر دوسرا نہیں پڑھتا تھا۔