ہمارے ہاں لڑکیوں کے درس نظامی کے گنتی کے دو تین مدارس ایک عرصہ سے چلے آ رہے تھے، لیکن اب کچھ مدت سے لڑکیوں کے ان مدارس کو نئی تحریک و ترغیب ملی ہے، اور جابجا یہ مدارس کھلنے لگے ہیں۔
پھر طلب علم کے مختلف درجات ہیں اور مسلمان عورت کے لئے ان کو حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جس درجے تک اس کو جائز اسباب و وسائل مہیا ہوں وہ علم حاصل کر سکتی ہے۔
چھوٹی بچیوں کے لئے چونکہ پردے اور حجاب کی پابندیاں نہیں ہیں، لہٰذا ان کے لئے قرآن پاک کے اور ابتدائی دینی تعلیم کے مدارس کا ہونا قابل فہم ہے۔
لیکن بڑی بچیاں جو کہ بالغ یا مراہق (قریب البلوغ ) ہوں ان کے لئے اور عورتوں کے لئے درس نظامی کے مدارس کا قیام خواہ وہ کل وقتی یعنی اقامتی ہوں یا ان میں جز وقتی تعلیم ہوتی ہو محل نظر ہے۔
بان یلازمن البیوت فی اغلب اوقاتھن ولا یکن خراجات ولاجات طوافات فی الطرق و الاسواق و بیوت الناس۔ وہذا لا ینا فی خروجھن للحج او لما فیہ مصلحۃ دینیۃ مع التستر و الابتذال (روح المعانی ص 9 ج 12)
عورتیں زیادہ سے زیادہ اوقات میں اپنے گھروں کو لازم پکڑیں اور ان سے نکل کر راستوں میں اور بازاروں میں اور لوگوں کے گھروں میں گھومتی پھرتی نہ رہیں۔ یہ حکم ان کے حج کے لئے اور پردے اور سادگی کے ساتھ دیگر دینی مصلحتوں کے لئے نکلنے کے منافی نہیں ہے۔
وما یجوز من الخروج کا لخروج للحج و زیارۃ الوالدین و عیادۃ المرضی و تعزیۃ الاموات من الاقارب و نحو ذلک (روح المعانی ص 6 ج 12)
مذکورہ بالا حکم کے باوجود حج اور والدین سے ملاقات اور مریضوں کی عیادت اور قریبی رشتہ داروں سے میت کی تعزیت کرنے کیلئے نکلنا جائز ہے۔
لیکن پھر جیسے جیسے حالات میں تغیر آتا گیا حکم میں شدت آتی گئی۔ سب سے پہلے عورتوں کا جماعت کے لئے مسجد میں جانا مکروہ ٹھہرا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
لو ان رسول اللہ ﷺ رای ما احدث النساء بعدہ لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل (مسلم)
اگر رسول اللہ ﷺ وہ کچھ (بے احتیاطیاں اور بے پردگیاں اور فتنے) دیکھ لیتے جو آپ کے بعد عورتوں نے ایجاد کر لی ہیں تو ان کو مسجد (میں حاضری) سے منع فرما دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں حاضری سے منع کر دیا گیا تھا۔
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں
(و یکرہ لھن حضور الجماعات) یعنی الشواب منھن لما فیہ من خوف الفتنۃ (ولا باس للعجوز ان تخرج فی الفجر و المغرب و العشاء) و ہذا عند ابی حنیفۃ وقالا یخرجن فی الصلوات کلھا لانہ لا فتنۃ لقلۃ الرغبۃ الیھا فلا یکرہ کما فی العید۔ ولہ ان فرط الشبق حامل فتقع الفتۃ
جو ان عورتوں کیلئے فتنہ کے خوف کی وجہ سے مسجد کی جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بوڑھی عورتیں فجر، مغرب اور عشا ء میں جماعت کے لئے آ سکتی ہیں کیونکہ فاسق اور اوباش عشاء اور فجر کے وقت سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور مغرب کے وقت کھانا کھانے میں مشغول ہوتے ہیں۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بوڑھی عورتیں تمام نمازوں کے لئے مسجد میں آ سکتی ہیں کیونکہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی طرف رغبت کم ہوتی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہوت کا غلبہ ان اوباشوں سے سب کچھ کروا لیتا ہے اور وہ بوڑھی عورتوں کو بھی نہیں چھوڑتے لہٰذا ظہر اور عصر کے اوقات میں فتنہ ہوتا ہے۔
لیکن جب فتنہ اور فساد اور بڑھ گیا اور اوباش لوگ زیادہ ہو گئے اور وہ راتوں کو بھی اپنی چھیڑ خانیاں کرنے لگے تو رات کے وقت عورتوں کا مسجد میں جانا مکروہ ہوا بلکہ متاخرین نے تو دن اور رات ہر وقت میں مسجد جانے کو مکروہ کیا۔ ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
لان الفساق فی زماننا اکثر انتشارھم و تعرضھم باللیل و علی ہذا ینبغی علی قول ابی حنیفۃ تفریع منع العجائز لیلا ایضا بخلاف الصبح فان الغالب نومھم فی وقتہ بل عمم المتاخرون المنع للعجائز و الشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائرالاوقات (فتح القدیر ص 366 ج 1)
کیونکہ ہمارے زمانے میں اوباش زیادہ ہو گئے ہیں اور رات کے وقت بھی ان کی چھیڑخانی جاری رہتی ہے۔ اس صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر بوڑھی عورتوں کا رات کے وقت مسجد جانا منع ہو نا چاہئے۔ برخلاف صبح کے وقت کے کہ اس وقت اوباش عام طور سے سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بلکہ متاخرین فقہاء نے تمام ہی اوقات میں غلبہ فساد کی وجہ سے تمام ہی نمازوں میں بوڑھی اور جوان عورتوں کی مسجد میں حاضری کو منع کیا ہے۔
لیکن پھر بھی کچھ گنجائش باقی تھی۔ ابن ھمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
لوکان لہ ام شابۃ تخرج الی الولیمۃ و المصیبۃ و غیر ھما لا یمنعھا ابنھا ما لم یتحقق ان خروجھا للفساد فحینئذ یرفع الامر الی القاضی فان اذن لہ بالمنع منعھا لقیامہ قیامہ۔ (فتح القدیر ص 438 ج 3)
اگر کسی شخص کی ماں جوان ہو جو غمی و خوشی وغیرہ کی تقریبات میں شرکت کے لئے گھر سے نکلتی ہو تو بیٹا ماں کو نہیں روک سکتا۔ ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ماں کا نکلنا کسی فاسد غرض سے ہوتا ہے تو بیٹا معاملہ کو قاضی کے پاس لے جائے اور قاضی اجازت دے تو اب قاضی کے قائم مقام ہو کر وہ اپنی ماں کو روک سکتا ہے۔
البتہ بیوی کے لئے شرط تھی کہ وہ اگر کسی غمی خوشی میں جانا چاہئے تو شہر کے حق کی وجہ سے اس سے اجازت لے کر جائے۔
ویضر بھا علی الخروج من منزلہ بلا اذن الا ان احتاجت الی الاستفتاء فی حادثۃ ولم یرض الزوج ان یستفتی لھا و ھوغیر عالم و ما لم تقع حاجۃ الی الاستفتاء لہ ان یمنعھا عن الخروج الی مجلس العلم والا ان یکون ابوھا زمنا و لیس لہ من یقوم علیہ مومنا کان اوکافرا فان علیھا ان تعصی الزوج فی المنع۔ (فتح القدیر ص 438 ج 3)
اگر بیوی شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلے تو شوہر اس کو اس پر مار سکتا ہے الا یہ کہ عورت کو کسی مسئلہ کی حاجت ہو اور شوہر خود عالم نہ ہو اور وہ اسی پر بھی راضی نہ ہو کہ بیوی کو مسئلہ کا حل معلوم کر کے بتائے تو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نکل سکتی ہے۔ البتہ جب تک مسئلہ کی حاجت نہ ہو اس وقت تک شوہر بیوی کو دینی مسائل کی مجلس میں جانے سے روک سکتا ہے۔ دوسرا استثناء یہ ہے کہ بیوی کا باپ اپاہج ہو اور پھر خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر کوئی اس کی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو تو عورت شوہر کے منع کرنے کے باوجود باپ کی دیکھ بھال کرنے کے لئے جا سکتی ہے۔
جب حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا تو فقہاء نے مجالس و عظ میں عورتوں کی حاضری کو مسجد میں جماعت کے لئے حاضری پر قیاس کر کے اس کو بھی مکروہ کیا۔ جیسا کہ علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں۔
قال المصنف فی الکافی و الفتوی الیوم علی الکراہۃ فی الصلوات کلھا لظھور الفساد و متی کرہ حضور المسجد للصلاۃ فلان یکرہ حضور مجالس الوغظ خصوصاً عند ھولاء الجھال الذی تحلوا بجلیۃ العلماء اولی ذکرہ فخر الاسلام۔ (البحر الرائق ص 358 ج 1)
جب حالات کچھ اور بگڑے تو عورتوں کی خوشی کی تقریبات میں شرکت کو بالکل ممنوع قرار دیا گیا اور غمی کی تقریبات میں مجلس علم میں شرکت کو بھی محدود کر دیا گیا۔ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
قال فی مجموع النوازل یجوز للزوج ان یاذن لھا بالخروج الی زیارۃ الابوین و عیادتھما و تعزیتھما او احدھما و زیارۃ المحارم۔ فان کانت قابلۃ او غاسلۃ اوکان لھا علی آخر حق او علیھا حق تخرج بالاذن و الحج علی ہذا و فیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب و عیادتھم والولیمۃ لا یاذن لھا ولا تخرج ولو اذن لھا و خرجت کانا عاصیین و تمنع من الحمام وان ارادت ان تخرج الی مجلس العلم بغیر رضی الزوج لیس لھا ذلک فان وقعت لھا نازلۃ ان سأل الزوج من العالم و اخبرھا بذلک لا یسعھا الخروج وان امتنغ من السوال یسعھا الخروج من غیر رضی الزوج۔ وان لم یقع بھا نازلۃ وارادت ان تخرج لمجلس العلم لتعلیم المسئلۃ من مسائل الوضوء و الصلاۃ ان کان الزوج یحفظ المسائل و یذکرھا معھا لہ ان یمنعھا وان کان لا یحفظھا الاولی ان یاذن لھا احیانا وان لم یاذن لھا فلا شئی علیہ ولا یسعھا الخروج مالم تقع نازلۃ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر ص 245 ج 1)
مجموع نوازل میں ہے کہ شوہر کو جائز نہیں کہ وہ بیوی کو گھر سے نکلنے کی اجازت دے سوائے والدین سے ملاقات کیلئے اور ان کی عیادت و تعزیت کے لئے اور محرم رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے۔ پھر اگرعورت بچہ جنانے والی ہو یا مردے کو غسل دینے والی ہو یا اس کا کسی پر کوئی حق ہو یا اس پر کسی کا حق ہو تو ان صورتوں میں وہ شوہر سے اجازت لے کر نکل سکتی ہے۔ حج کا بھی یہی حکم ہے۔ ان کے علاوہ اور باتوں کے لئے مثلاً غیروں سے ملاقات کے لئے اور ان کی عیادت کے لئے اور ولیمہ میں شرکت کے لئے شوہر عورت کو اجازت نہ دے اور نہ ہی عورت نکلے۔ اگر شوہر اجازت دے اور عورت نکلے تو دونوں نافرمان ٹھہریں گے اور عورت کو حمام میں جانے سے روکا جائے گا۔ اور اگر عورت شوہر کی اجازت کے بغیر کسی مجلس علم میں جانا چاہے تو اس کو اس کی اجازت نہیں۔ اور اگر عورت کو کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو اگر شوہر کسی عالم سے وہ پوچھ کر عورت کو بتا دے تو عورت کو نکلنا جائز نہیں۔ ہاں اگر شوہر پوچھ کر نہ بتائے تو وہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی نکل سکتی ہے۔ اور اگر عورت کو کوئی مسئلہ تو پیش نہیں آیا لیکن وہ چاہتی ہے کہ طہارت اور نماز کے کچھ مسائل سیکھے تو اگر شوہر کو وہ مسئلے معلوم ہوں اور وہ عورت سے ان کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ عورت کو نکلنے سے روک سکتا ہے اور اگر اس کو خود وہ مسئلے معلوم نہ ہوں تو بہتر یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی عورت کو اجازت دیدیا کرے کہ وہ جا کر وہ مسئلے معلوم کر لے لیکن اگر وہ اجازت نہ دے تو شوہر کو کچھ گناہ نہیں ہے اور عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ شوہر کی مرضی کے بغیر نکلے جب تک خود عورت کو کوئی مسئلہ پیش نہ آ جائے اور جب بیویوں پر یہ پابندیاں حالات کے بگاڑ کی وجہ سے ہیں تو دوسری عورتوں کے حق میں بھی یہی ہو گا۔
اس کے بعد حالات میں مزید بگاڑ ہی پیدا ہوتا گیا جیسا کہ مولانا تھانوی رحمہ اللہ کی اصلاح الرسوم وغیرو کتابوں سے واضح ہے بلکہ اب تو حالات بالکل الٹ ہو چکے ہیںبے پردگی اور زیب و زینت کا اظہار عام ہے، پردہ دار خواتین میں بھی مختلف عذروں سے نکلنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، جہالت اور بے دینی بلکہ بد دینی کا شیوع ہے اور عورتیں مجموعی طورسے مردوں پر حاوی و غالب ہیں۔
موجودہ حالات میں فکر مند لوگوں نے اصلاح احوال کے لئے اقدامات کئے ہیں مثلاً عورتوں کا تبلیغی جماعت میں وقت لگوانا، لڑکیوں کے لئے دینی مدارس قائم کرنا اور بعض صوفیاء کی طرف سے خواتین کو اپنے حلقہ بیعت اور اپنے مواعظ کی طرف راغب کرنا۔ ان اقدامات کے فوائد سے انکار نہیں لیکن ان میں ساتھ ساتھ مفاسد بھی ہیں مثلاً ایک سب سے بڑا مفسدہ تو یہ ہے کہ جو لڑکیاں اپنے دینی ماحول کی وجہ سے گھرووں میں رہتیں اور کالجوں میں پڑھنے نہ جاتیں وہ بھی دین کے نام پر چار پانچ سال تک روزانہ گھر سے نکلنے کو معمول بنا لیتی ہیں اور اس طرح سے گھروں میں قرار پکڑنے پر جس حد تک عمل پیرا تھیں اس میں کمی آتی ہے حالانکہ مدرسہ میں جا کر جو تعلیم وہ حاصل کرتی ہیں وہ سب ضروری اور ناگزیر نہیں ہوتی۔ آگے ہم صرف لڑکیوں کے مدارس سے بحث کرتے ہیں۔
درس نظامی کی تعلیم کے لئے لڑکیوں اور عورتوں کا نکلنا ضرورت شدیدہ میں نہیں آتا، کیونکہ بہرحال امت میں اس بات کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے کہ فرض کفایہ کے درجے کا جو علم ہے مرد اس کو حاصل کرتے ہیں اور کسی بھی زمانے میں یہ خیال بھی نہیں کیا گیا کہ عورتوں کی دینی ضرورت فقط عالم عورتوں سے پوری کی جائے اور نتیجتاً عالمات کی کھیپ تیار کی جائے اور پھر ان میں سے کچھ کو مفتی بھی بنایا جائے۔
بڑی لڑکیوں کے مدارس میں دل چسپی لینے والے حضرات ان مدارس سے حاصل ہونے والے فوائد ہی کو دلیل جواز بناتے ہیں لیکن ہمیں ایسے مدارس کے قیام کے جواز کی کوئی دلیل نہ ملی بلکہ عدم جواز کے مرجحات بہت سے نظر آئے جو درج ذیل ہیں۔
جز وقتی مدارس اور ان کے مفاسد
جز وقتی مدارس سے ہماری مراد وہ مدارس ہیں جہاں بالغ یا قریب البلوغ لڑکیاں پڑھائی کے لئے چار پانچ سال تک روزانہ جاتی ہیں اور چند گھنٹے سبق پڑھ کر گھروں کو واپس آ جاتی ہیں۔
-1 موجودہ دور کے فتنوں کے حساب سے گھروں میں قرار پکڑنے کا حکم ٹوٹتا ہے
-2 تمام لڑکیوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہو سکتی کہ ان کے پاس اپنی سواری ہو یا مدرسہ کی جانب سے سب کے لئے باپردہ سواری کا اہتمام کیا گیا ہو۔ اور اگر کیا بھی گیا ہو تو وہ اس کے اخراجات کا تحمل بھی کر سکتی ہوں۔ لہٰذا ایسی بہت سی لڑکیاں بسوں اور ویگنوں میں سفر کریں گی جس میں لامحالہ مردوں سے اختلاط ہو گا۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے بلکہ مشاہدہ کی ہوئی بات ہے۔
-3 چونکہ عام طور سے ان مدارس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ لڑکیاں کم از کم آٹھویں پاس ہوں لہٰذا اس تعلیم کی ابتداء عام طور سے لڑکیوں کی بلوغت کے بعد یا بلوغت کے قریب ہوتی ہے۔ اب یہ نصاب چار پانچ سال چلے گا تو پڑھنے پڑھوانے والوں کو ترغیب ہو گی کہ وہ تکمیل تعلیم کی خاطر نکاح کو مؤخر کریں حالانکہ حدیث میں جوڑ ملنے کے بعد دیر کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے۔
-4 جو لڑکیاں چار پانچ سال روزانہ گھر سے نکل کر مدرسہ جائیں گی تو گھر سے باہر نکلنا ان میں سے بعض کی عادت ثانیہ بن جائے گی۔ پھر بعد میں ان سے کیونکر توقع کی جا سکے گی کہ وہ گھر میں ٹک کر بیٹھیں۔
-5 یہ عمر عام طور سے گھر داری سیکھنے اور اس کی عادت ڈالنے کی ہوتی ہے۔ جب لڑکی کا بیشتر وقت پڑھائی میں لگے گا تو وہ گھر داری کے لئے وقت نہ نکال سکے گی۔ اس سے کبھی تو گھر داری کی تربیت میں خلل آتا ہے اور کبھی گھرداری سے متعلق خاندانی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
-6 یہ بھی مشاہدہ کی بات ہے کہ بعض لڑکیاںنکاح کے انتظار میں محض وقت گزارنے کے لئے مدرسہ میں داخلہ لے لیتی ہیں۔ وہ خواہ کچھ وقت تعلیم کو بھی دیتی ہوں، لیکن وہ غیر نصابی گفتگو کے لئے وقت اور موقع نکال ہی لیں گی اور پھر یہ بالغ لڑکیاں جنہوں نے پہلے ہی کچھ دنیا دیکھ رکھی ہے ان کی گفتگو سے دوسری لڑکیوں پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
اور اگر ایسی لڑکیاں نہ بھی ہوں تب بھی آپس میں مل بیٹھ کر غیر نصابی باتیں کرنے کا موقع ملے گا۔
یہاں اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ خرابیاں تو لڑکوں کے مدارس میں بھی ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں۔ تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے اور وہ یہ کہ لڑکوں کے لئے دین کا پورا علم سیکھنا فرض کفایہ ہے لڑکیوں کے لئے نہیں ہے۔ اس لئے لڑکوں کی تعلیمی سلسلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اصلاح کی کوشش کی جائے گی جب کہ لڑکیوں کا مروجہ تعلیمی سلسلہ واجب نہیں لہٰذا قابل ترک ہے۔
کل وقتی یا اقامتی مدارس اور ان کے مفاسد
-1 زوجین میں فرقت کے بعد نو سال کی عمر کے بعد لڑکی کی پرورش کا حق باپ کو ہوتا ہے اور یہ حق درحقیقت ایک ذمہ داری پر مبنی ہے جو یہ ہے کہ بچی کی حفاظت کی ذمہ داری باپ پر ہے۔ عورت چونکہ اس ذمہ داری کی اہل نہیں لہٰذا یہ ذمہ داری مرد یعنی باپ پر ڈالی گئی، عورت یعنی ماں پر نہیں۔
اقامتی مدارس میں چونکہ نگران اور ذمہ دار عورتیں ہوتی ہیں لہٰذا ان پر ایک ایسی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے جس کا شریعت ان کو اہل نہیں سمجھتی۔
-2 لڑکیوں کی فطری کمزوریوں کو پیش نظر رکھا جائے تو لڑکیوں کا مستقل اجتماع نامناسب ہے۔
-3 عورتوں میں کامل کم ہی ہوتی ہیں۔ اس دور انحطاط میں جہاں مردوں میں کمال کم ہوتا جا رہا ہے وہاں عورتوں میں بھی نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ صحیح تربیت کرنے والی استانیاں تو کبریت احمر ہیں۔ نتیجتاً اپنی استانیوں کی کمزوریوں کو اخذ کر لیں گی اور چونکہ عورتوں کا دیگر صاحب کمال سے ملنا شاذ و نادر ہوتا ہے لہٰذا وہ کمزوریاں ساری عمر کا روگ رہیں گی۔
-4 یہاں بھی یہ ترغیب رہے گی کہ تکمیل تعلیم کی خاطر نکاح کو مؤخر کیا جائے۔
دونوں قسموں کے مدارس کے ان مفاسد کے ہوتے ہوئے ہم نہیں سمجھتے کہ کسی بھی طور سے ان مدارس کی حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ ضروری ہے کہ ہر اعتبار سے ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
بالغ لڑکیوں اور عورتوں کی دینی تعلیم کا متبادل طریقہ
جو متبادل طریقہ ذکر کیا جا رہا ہے یہ وہ اسلم و احوط طریقہ ہے جس پر خیر القرون سے عمل ہوتا چلا آیا ہے۔وہ یہ ہے کہ اصحاب علم اپنی بچیوں اور عورتوں کو خود تعلیم دیتے تھے۔ پھر جس کی جتنی استعداد ہوتی تھی وہ اس کے بقدر تعلیم حاصل کرتی تھی۔ فرض تعلیم تو ہر لڑکی اور عورت کو حاصل کرنا ہی ہے۔ اس کے علاوہ عربی زبان کو اور عربی میں دینیات کو سیکھنا سکھانا ہوتا رہا۔ ہم نے خود بعض اہل علم حضرات کو اس جانب خصوصی توجہ کرتے دیکھا۔ لیکن اس دور انحطاط میں اب اس جانب سے بھی غفلت ہونے لگی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں دین کے اور شعبوں میں کام ہو رہا ہے اور اہل علم حضرات ان میں دلچسپی لے رہے ہیں وہیں اس شعبہ کو بھی ضروری خیال کریں اور اپنی ذمہ داری اور مسئولیت کو سمجھتے ہوئے مستقل طور پر کچھ وقت نکال کر اپنے گھر کی عورتوں اور لڑکیوں کو دینی تعلیم دیں اور ہر ایک کی قابلیت و استعداد اور شوق و دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان پر محنت کریں۔ آخر یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ دنیا کو تعلیم دینے کی فکر کریں اور اپنے گھر کے افراد کی تعلیم کو نظر انداز کر دیں۔ الا قرب فالاقرب کا قاعدہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ہر سال مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ یہ سب کے سب یا ان کی اکثریت اس طرف توجہ اور محنت کرے تو علم دین سے مزین عورتوں کی ایک بڑی تعداد نظر آنے لگے اور ظاہر ہے کہ ان ہی گھرانوں میں سے عربی علوم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی کثیر تعداد بھی نکل آئے گی۔ وہ تفسیر بھی پڑھیں حدیث بھی پڑھیں، فقہ بھی پڑھیں اور اصول فقہ کی بھی کچھ پہچان حاصل کریں۔ بہت کچھ کام ہو سکتا ہے۔ بس توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔ تھوڑا تھوڑا وقت بھی روزانہ دیتے رہیں تو بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح وہ حضرات جو اگرچہ علماء نہیں لیکن دین کے ساتھ قلبی و عملی تعلق رکھتے ہیں خواہ ان کی وابستگی اہل تصوف سے ہو یا اہل علم سے یا تبلیغی جماعت سے ان کے بڑے ان پر زور دیں کہ وہ خود بھی بنیادی دینی تعلیم علماء سے حاصل کریں اور اپنے گھر کی عورتوں کو بھی سکھائیں اس کے لئے آدھا گھنٹہ بھی روزانہ دیا جائے تو چند مہینوں میں ان کی عورتیں بنیادی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکتی ہیں۔
اب یہ لڑکیاں اور عورتیں آگے پاس پڑوس کی عورتوں اور بچیوں کو دینی تعلیم سکھانے کی ذمہ داری لیں۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا عورتوں کی تعلیم کے بارے میں قول فیصل
عورتوں کو علم دین گھر پر ہی پڑھنا چاہئے: اس کی روح دو امر ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو صرف علم دین پڑھایا جائے۔ دوسر ے یہ کہ تعلیم خاص طرز سے متفرق طور پر گھروں میں ہونا چاہئے۔ مدارس کے طرز پر مجتمع طور پر نہ ہونا چاہئے کہ شریعت نے بلا ضرورت شدیدہ ان کے اجتماع و خروج عن البیوت (گھروں سے نکلنے) کو پسند نہیں کیا اور واقعات نے بھی اس کے مفاسد ایسے دکھلا دیئے کہ بجز متعامی (خود اندھا بننے والے ) کے اعمیٰ (اندھے) نے بھی ان کو دیکھ لیا۔ اور راز اس میں یہ ہے کہ اس اجتماع کو جس درجہ نگرانی کی ضرورت ہے وہ عورتوں سے بن نہیں پڑتا کہ وہ خود مستور (پردے میں رہنے والی) اور مردوں کے دخل میں وہ نگرانی پھر کہاں رہی کہ اس نگرانی کا حاصل یہی عدم اختلاط بالرجال (مردوں سے میل جول نہ رکھنا) تو تھا۔ تو نگرانی تو کم اور خروج عن البیت کے بعد مواقع فساد میں وسعت ہو گئی۔
دوسرے معلمہ اگر شریف و متدین و شفیق و ذی اثر و باوجاہت و بارعب ہو تو اس کا نوکر رکھنے کے لئے میسر ہونا قریب بہ محال اور جو نوکر رکھنے کے لئے مل سکتی ہے وہ ان اوصاف سے معری جس کی صحبت مردوںسے زیادہ خطرناک‘‘۔ (ص 510 ، معارف حکیم الامت رحمہ اللہ۔ مولانا ڈاکٹر عبدالحئی رحمہ اللہ)۔
مولانا رحمہ اللہ کے اس قول فیصل سے ہماری بات کو بڑی تائید حاصل ہوئی۔ فللّٰہ الحمد والمنہ مولانا رحمہ اللہ کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو۔
تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مردوں میں علماء کا پایا جانا مستورات کی دینی ضروریات کے لئے کافی وافی نہیں۔ دو وجہ سے۔ اولا پردہ کے سبب سے سب عورتوں کا علماء کے پاس جانا تقریباً ناممکن ہے اور گھر کے مردوں کو اگر واسطہ بنایا جائے تو بعض مستورات کو گھر کے ایسے مرد بھی میسر نہیں ہوتے اور بعض جگہ خود مردوں ہی کو اپنے دین کا اہتمام نہیں ہوتا تو دوسروں کے لئے سوال کرنے کا کیا اہتمام کریں گے۔ پس ایسی عورتوں کو دین کی تحقیق دشوار ہے اور اگر اتفاق سے کسی کی رسائی بھی ہو گئی یا کسی کے گھر میں باپ بیٹا بھائی وغیرہ عالم ہیں تب بھی بعض مسائل عورتیں ان مردوں سے نہیں پوچھ سکتیں۔ ایسی بے تکلفی شوہر سے ہوتی ہے تو سب شوہروں کا ایسا ہونا عادتاً ناممکن ہے تو عورتوں کی عام احتیاج رفع ہونے کی بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ کچھ عورتیں پڑھی ہوئی ہوں اور عام مستورات ان سے اپنے دین کی ہر قسم کی تحقیقات کیا کریں۔ پس کچھ عورتوں کو متعارف طریقہ سے تعلیم دینا واجب ہوا (کیونکہ) واجب کا مقدمہ (ذریعہ ) واجب ہوتا ہے گو بالغیر سہی۔‘‘
(ص 263، اصلاح خواتین حوالہ اصلاح انقلاب، ص: 265، ج: 1)
اس عبارت میں یہ الفاظ کہ ’’… پس کچھ عورتوں کو متعارف طریقہ سے تعلیم دینا واجب ہوا…‘‘ ان سے کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ متعارف طریقہ سے مراد مدارس کانظام ہے کیونکہ اس کی تو مولانا رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ نفی فرما دی لہٰذا اس سے مراد وہ طریقہ ہے جو خود اس کتاب یعنی اصلاح خواتین صفحہ 270 پر مولانا رحمہ اللہ کا ایک اور اقتباس مذکور ہے۔
طریقہ لڑکیوں (کی تعلیم) کے لئے یہی ہے جو زمانہ دراز سے چلا آتا ہے کہ دو چار لڑکیاں اپنے اپنے تعلقات کے مواقع میں آئیں اور پڑھیں اور حتی الامکان اگر ایسی استانی مل جائے جو تنخواہ نہ لے تو یہ تعلیم زیادہ بابرکت ثابت ہوتی ہے اور بدرجہ مجبوری اس کا بھی (یعنی تنخواہ دے کر تعلیم کرانے کا) مضائقہ نہیں اور جہاں کوئی ایسی استانی نہ ملے اپنے گھر کے مرد پڑھا دیا کریں۔‘‘
موجودہ دور میں بالغ لڑکیوں اور خواتین کی فرض اور واجب درجہ کی دینی تعلیم کی ایک بہتر صورت
ہم نے ’’فہم دین کورس‘‘ کے نام سے اسلامیات کے ایک مکمل نصاب کی ترتیب و تالیف کی ہے جو ان کتابوں پر مشتمل ہے (1) اسلامی عقائد (2) اصول دین۔ (3) مسائل بہشتی زیور۔ 2 حصے مکمل (4) فہم حدیث 3 حصے مکمل (5) تفسیرفہم قرآن۔ 16 پاروں پر مشتمل 3 حصے۔
اہل علم حضرات اپنے گھر کی عورتوں کو یہ نصاب سبقاً سبقاً پڑھائیں ایک گھنٹہ روزانہ پڑھائیں تو ڈیڑھ سال میں یہ نصاب آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ پھر ان میں سے جو با صلاحیت ہوں وہ اپنے پاس پڑوس کی عورتوں کو پڑھائیں۔ یہ نصاب عورتوں اور مردوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
تنبیہ:
کسی کو خیال ہو کہ تم جو فہم دین کورس پڑھنے پڑھانے کا کہتے ہو تو اس میں اگر گھر کے مرد نہ پڑھائیں یا اس کا ماحول نہ ہو تو عورتیں لامحالہ اپنے گھروں سے نکل کر کسی دوسرے مقام پر پڑھنے جائیں گی۔ تو گھر سے نکلنا تو ہو گا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلے کی ضرورت پیش آئے اس کو پوچھنے کے لئے تو عورت نکل ہی سکتی ہے اور جتنا علم سیکھنا ضروری اور واجب ہے اس کے لئے بھی نکل سکتی ہے البتہ اگر شادی شدہ ہو تو شوہر کی اجازت سے نکلے جیسا کہ پیچھے مجموع نوازل کے حوالہ سے گزرا تھا کہ ’’اور اگر عورت کو کوئی مسئلہ تو پیش نہیں آیا لیکن وہ چاہتی ہے کہ طہارت اور نماز کے کچھ مسائل سیکھے تو اگر شوہر کو وہ مسئلے معلوم ہوں اور وہ عورت سے ان کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ عورت کو نکلنے سے روک سکتا ہے اور اگر اس کو خود وہ مسئلے معلوم نہ ہوں تو بہتر یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی عورت کو اجازت دے دیا کرے کہ وہ جا کر وہ مسئلے معلوم کر لے…‘‘ علاوہ ازیں ہمارا کورس مختصر ہے صرف ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ پڑھیں تو ایک سال سے زیادہ وقت نہ لگے۔ علاوہ ازیں یہ کورس گلی، گلی، محلہ، محلہ کی سطح پر پڑھایا جائے تو نہ زیادہ اجتماع ہو گا اور نہ وہ مفاسد پیدا ہوں گے جو عام طور سے زنانہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم سے ہوتے ہیں۔