محفل قراء ت جس طرح سے ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکی ہے لوگوں کے ذہنوں میں اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھتا رہتا ہے۔ بعض وجوہ سے اس کے جواز پر اطمینان نہ تھا جس کا بعض حضرات کے سامنے اظہار بھی کیا۔ بعض اہل علم حضرات نے تقریباً دو سال قبل اس بارے میں ایک استفتاء بھی مرتب کر کے دیا لیکن دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس پر لکھنے کا موقع نہیں ملا۔ اس دوران جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ لاہور کی جانب سے محافل قراء ات کے عنوان سے حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ کا ایک مقالہ تقسیم کیا گیا۔ اس رسالہ کے بعض مندرجات سے اتفاق نہ ہوا لیکن پھر بھی کچھ لکھا نہ جا سکا۔ ابھی چند دن پہلے جامعہ صدیقیہ لاہور کے استاد قاری حبیب الرحمن سلمہ نے محفل قراء ت کے نام سے ایک رسالہ چھپوا کر تقسیم کیا۔ ایک نسخہ مجھے بھی دیا۔ اب اور کاموں کو مؤخر کر کے میں بنام خدا محض ضروری بات لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ واللہ یھدی السبیل۔
قاری حبیب الرحمن لکھتے ہیں۔
’’رسول اللہ ﷺ کے دور اقدس میں قراء ت قرآن، سماع قرآن اور مدارسہ قرآن کی مثالیں ملتی ہیں گو محفل قراء ت کی مروجہ صورت تو اس وقت نہ تھی مگر ایک جگہ جمع ہو کر ایک قاری تلاوت کرے اور باقی سنیں اور اسی طرح قرآن کریم کے حلقے لگیں اور حلقے میں شریک ہر ایک آدمی پڑھے اور باقی سنیںاس کا ثبوت حدیث سے ملتا ہے‘‘۔ (ص 2 محفل قراء ت)
قاری صاحب کی یہ بات درست ہے کہ محفل قراء ت کی مروجہ صورت رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہ تھی۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ زمانہ خیر القرون میں بھی نہ تھی۔ اس سے یہ سوال خودبخود پیدا ہوتا ہے کہ پھر محفل قراء ت کی مروجہ صورت کے جواز کی کیا دلیل ہے ؟
-1 ہم کہتے ہیں کہ محفل قراء ت کی مروجہ صورت کے جواز کی کوئی دلیل موجود نہیں اور دیگر مفاسد سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کے عدم جواز کی اصل دلیل یہ ہے کہ اس میں ایک مستحب کام کے لئے تداعی ہوتی ہے جو بذات خود صحیح نہیں۔
عدم جواز کی اس دلیل کے خلاف حضرت مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
-i تجوید کے ساتھ قرآن پاک کا لوگوں تک پہنچانا واجب ہے کیونکہ ارشاد الٰہی ہے یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اور ارشاد نبوی ہے بلغوا عنی ولو آیۃ
-ii قراء ت قرآن کی عملی تبلیغ ہے۔
مفتی جمیل احمد صاحب رحمہ اللہ کا مذکورہ بالا استدلال اس طرح ہے کہ لوگوں کے سامنے تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا واجب ہے کیونکہ وہ قرآن کی عملی تبلیغ ہے اور واجب کے لئے تداعی ہو سکتی ہے لہٰذا لوگوں کو اکٹھا کر کے مروجہ طریقہ پر محفل قراء ت کا انعقاد جائز ہے۔ قاری حبیب الرحمن سلمہ بھی اپنے رسالہ میں اس سے اتفاق کرتے ہیں۔
جواب میں ہم کہتے ہیں کہ قرآن پڑھنے اور سننے کی دو صورتیںہیں۔
-i تبلیغ کی۔ جیسا کہ قرآن پاک کے درس یا تجوید وغیرہ کی تعلیم میں ہوتی ہے کہ پڑھ کے بھی دکھایا جاتا ہے اور مشق بھی کرائی جاتی ہے۔
-ii ذکر کی۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ص کو کہا کہ تم مجھ کو قرآن پڑھ کر سنائو۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں آپ کو سنائوں حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں۔ (ص 20 محافل قراء ات )
اس صورت کو تعلیم و تبلیغ پر محمول کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔
ان دو میں سے پہلی صورت کی شرعی حیثیت واجب کی ہے جب کہ دوسری صورت کی حیثیت مستحب کی ہے۔
ہماری بات سے یہ نتیجہ نکلا کہ قرآن پاک کی جو تلاوت دوسرے کے سامنے کی جائے اس کو یہ سمجھنا کہ وہ لامحالہ تبلیغ و تعلیم ہے درست نہیں۔
اب ہم کہتے ہیں کہ محفل قراء ت میں قرآن پاک پڑھنے اور سننے کی صورت تعلیم و تبلیغ کی نہیں بلکہ ذکر کی ہوتی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک تو مشاہدہ بتاتا ہے کہ محفل میں اکثر تعداد ان علماء قراء اور طلبہ کی ہوتی ہے جو قرآن پاک کو صحیح طریقے سے پڑھنے کو پہلے ہی جانتے ہیں۔ دوسرے عوام بھی ہوں تو ان کے پیش نظر حسن صوت اور حسن لہجہ ہوتا ہے۔
اس پر محفل میں پڑھنے والے اگر یہ کہیں کہ ہم تو تعلیم و تبلیغ کی نیت سے پڑھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ بھی اپنی قراء ت کو بہتر بنانے کی نیت سے سنتے ہوں گے۔
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں قرآن پاک اور اس کی تجوید کی تعلیم کے طریقے متعین اور معروف ہیں۔ محفل قرا ء ت میں تعلیم کا تصور سرے سے معروف نہیں لہٰذا یکطرفہ نیت سے محفل کی شرعی حیثیت نہیں بدلے گی۔
-2 قراء ت قرآن کے لئے تداعی کے جواز کی ایک دلیل حضرت مفتی جمیل احمد رحمہ اللہ نے یہ ذکر کی کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی لوگوں کو جمع کر کے قرآن سنایا۔ وہ واقعہ یہ ہے۔
’’حضور نے لوگوں کو فرمایا کہ سب جمع ہو جائو۔ میں تم کو ایک تہائی 1/3 قرآن مجید سنائوں گا۔ جو جمع ہونے تھے ہو گئے۔ حضور ﷺ تشریف لائے اور سورۃ قل ہو اللہ احد تلاوت فرمائی۔ پھر اندر تشریف لے گئے تو ایک صحابی نے دوسروں سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی آسمانی حکم آیا ہوا ہے اسی لئے پھر اندر داخل ہو گئے۔ پھر حضور باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ تم کو ایک تہائی قرآن مجید سنائوں گا تو سن لو یہ سورۃ ایک تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔ (ص 20 محافل قراء ات)
حضرت مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ کا اس واقعہ سے استدلال تعجب خیز ہے کیونکہ اس حدیث سے واضح ہے کہ وہ اجتماع اس لئے کیا گیا تھا کہ امت کو ایک حکم یعنی سورۃ اخلاص کے ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہونے کی تعلیم دی جائے۔ مروجہ محفل قراء ت کے لئے تداعی و اہتمام کو حدیث میں مذکورہ مقصد کی خاطر اجتماع و اہتمام پر قیاس کرنا تو قیاس مع الفارق ہے۔
-3 حضرت مفتی جمیل احمد صاحب نے محفل قراء ت کا ایک فائدہ یہ شمار کرایا ہے کہ اس سے کلام پاک کو بے عیب طریقہ سے پڑھنے کا شوق دلایا جاتا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اس فائدے سے انکار نہیں لیکن جب ہمیں مروجہ محفل قراء ت کی شرعی حیثیت معلوم ہو گئی کہ ناجائز ہے تو اس فائدے کو حاصل کرنے کے لئے ناجائز کو ذریعہ بنانا درست نہیں۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے میلاد النبی کے سلسلہ میں مولانا تھانوی رحمہ اللہ کے ساتھ اپنی مکاتبت میں تحریر فرمایا کہ:
’’فی الحقیقت جو امر خیر کہ بذریعہ نا مشروع حاصل ہو وہ خود ناجائز ہے۔‘‘
ورنہ تو محفل میلاد جو تداعی کر کے منعقد کی گئی ہو اس میں بھی یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت و سنت معلوم کرنے کا شوق دلایا جا سکتا ہے۔
دارالافتاء خیر المدارس کی غلط فہمی اور اس کا ازالہ
جامعہ خیر المدارس ملتان کے دارالافتاء سے 19 اگست 2004ء کے فتوی نمبر 6/77 میں درج ہے کہ ’’مذکورہ مفاسد سے خالی ہونے کی صورت میں لوگوں کی ترغیب کے لئے محفل حسن قراء ت کا انعقاد درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ … حضور ﷺ سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن سنانا اور اس کے لئے جمع ہونا ثابت ہے۔
(حضرت ابوسعید خدری ص کہتے ہیں میں ضعفاء مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھا جن کی یہ حالت تھی کہ لباس کی تنگی کی وجہ سے ایک دوسرے کے ذریعہ ستر پوشی کر رہے تھے اور ایک قاری ہمارے سامنے قرآن پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ جب آپ آ کر کھڑے ہوئے تو قاری خاموش ہو گئے۔ آپ ﷺ نے سلام کیا پھر پوچھا تم کیا کر رہے تھے۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کی کتاب کو سن رہے تھے۔ آپ نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ بنائے کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ رکھوں)۔
اس حدیث پاک سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قرآن سننے کے لئے اجتماع ثابت ہوا‘‘۔
ہم کہتے ہیں کہ خیر المدارس کے دار الافتا ء نے نہ تو قراء ت کے بصورت تعلیم اور بصورت ذکر ہونے کے درمیان فرق کیا اور نہ ہی اس بات کو پیش نظر رکھا کہ حدیث میں مذکور اجتماع کے لئے تداعی ہوئی تھی یا نہیں۔ دوسری بات اس وجہ سے اہم ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے فارغ اوقات مسجد میں گزارتے تھے اور اس طرح مختلف حلقے خود بخود لگ جاتے تھے اور کسی بھی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ ذکر اور بصورت ذکر تلاوت کے لئے تداعی کی گئی ہو۔ لہٰذا اگر وہ قراء ت بصورت ذکر تھی تو خیر المدارس کے دارالافتاء کو اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے تداعی کو ثابت کرنا ہو گا کیونکہ مروجہ محفل قراء ت میں تداعی لازمی ہے۔ اور اگر وہ قراء ت بصورت تعلیم تھی تو ان کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ مروجہ محفل قراء ت میں تلاوت کی صورت بھی تعلیمی اور تبلیغی ہوتی ہے حالانکہ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ امر واقعہ ایسا نہیں ہے۔ ان دو باتوں کو ثابت کئے بغیر خیر المدارس کا فتوی سعی لا حاصل ہے۔
متبادل جائز طریقے
-1 مسجد کے امام و خطیب اگر خود اچھے قاری ہوں تو وہ کبھی کبھی نماز کے علاوہ بھی نماز سے متصل بعد لوگوں کو ایک دو رکوع اچھے انداز سے پڑھ کر سنا دیں۔
-2 کبھی کوئی مہمان قاری آئے ہوں تو ان سے پڑھوا لیں۔
-3 جن قاری صاحبان کے نزدیک اس طرح سے تبلیغ کی ضرورت ہے وہ وقتاً فوقتاً دوسری مساجد میں جا کر کسی تشہیر کے بغیر نماز کے بعد موجود لوگوں کو قرآن پاک سنائیں۔