غیب کا لفظ مصدر ہے۔ بطور مبالغہ اس کو ان چیزوں کی صفت بنایا گیا ہے جن کو نہ ہم اپنے حواس سے جان سکتے ہیں اور نہ ہی عقل کی ان تک رسائی ہے۔
ایسی چیزوں کی پھر دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم
وہ مغیبات جن کا تعلق دین و شریعت کے احکام سے ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفات کا، فرشتوں کا، جنت دوزخ کا، قیامت کے احوال کا، قیامت کی علامات کا، عبادات کی تفصیلات وغیرہ کا علم۔ ان کا جتنا علم ضروری تھا وہ اللہ تعالیٰ نے ابنیاء علیہم السلام کو بذریعہ وحی عطا فرمایا قرآن پاک میں اس کو یوں بیان فرمایا:
(سورہ جن: 26/27)
’’جاننے والا غیب کا سو نہیں خبر دیتا اپنے غیب کی کسی کو مگر جو پسند کر لیا کسی رسول کو ‘‘۔
(سورہ آل عمران: 179)
’’اور(اے مسلمانو) اللہ نہیں ہے کہ تم سب کو (بلاواسطہ خبر دے غیب کی لیکن اللہ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہے (یعنی جس کو چاہتا ہے اپنا رسول بنا لیتا ہے اور اسی کو وحی کے ذریعہ سے دین و شریعت سے متعلق اپنے غیب پر مطلع کرتا ہے‘‘۔
پھر انبیاء کے واسطے سے دوسروں کو غیب کی ان باتوں کا علم حاصل ہوتا ہے اور خدا خوفی والے ان پر ایمان لاتے ہیں۔
(یہ قرآن) ہدایت ہے (خدا سے) ڈرنے والوں کے لئے جو کہ ایمان (و یقین) رکھتے ہیں غیب کی چیزوں پر۔
اسی قسم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث ہے۔
تنبیہ: مفاتیح کو اگر مفتح بفتح المیم کی جمع قرار دی جائے تو مفاتیح الغیب کا ترجمہ بنے گا غیب کے خزانے اور اگر اس کو مفتح بکسر المیم کی جمع کیا جائے تو پھر ترجمہ ہو گا غیب کی کنجیاں۔
خزانے کا ترجمہ لیا جائے تب تو مطلب واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو دین کے امور و احکام کا اتنا وافر علم عطا فرمایا کہ اس کو خزانے کہنا درست ہے یعنی جنت و دوزخ سے متعلق علم کا خزانہ، فرشتوں سے متعلق علم کا خزانہ، احوال قیامت سے متعلق علم کا خزانہ، اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعلق علم کا خزانہ اور احکام شرعیہ سے متعلق علم کا خزانہ وغیرہ۔
اگر کنجیوں کا ترجمہ لیا جائے تو جس کے پاس خزانے کی چابی و کنجی ہو تو اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ جب چاہے کنجی کو استعمال کر کے خزانے میں سے جو چاہے لے لے۔ غیب کے علم کے خزانے کی کنجی تو وہ صلاحیت ہو گی جس کو بروئے کار لا کر آدمی جب چاہے غیب کی بات اگرچہ امور دینیہ سے ہو ازخود معلوم کر لے۔ ایسی صلاحیت اور ایسا وصف نہ تو از خود کسی کو حاصل ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے۔ قرآن پاک میں اس کی دلیل یہ قصہ ہے۔
اسلام سے پہلے مرد اگر اپنی بیوی کو کہتا کہ تو میری ماں ہے تو سمجھتے تھے کہ ساری عمر کے لئے اس پر حرام ہو گئی۔ پھر کوئی صورت ان کے ملنے کی نہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ایک مسلمان (اوس بن صامت رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی(خولہ بنت ثعلبہ) کو ایسا کہہ بیٹھے۔ عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور پورا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے اس وجہ سے کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی حکم نہیں دیا تھا فرمایا میں خیال کرتا ہوں کہ تم اپنے شوہر پر حرام ہو گئی ہو۔ اب تم دونوں نہیں مل سکتے۔ وہ شکوہ و زاری کرنے لگی کہ گھر ویران ہوتا ہے اور اولاد پریشان ہوتی ہے۔ کبھی آپ ﷺ سے جھگڑتی کہ یا رسول اللہ اس نے ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ کبھی اللہ کے آگے رونے لگتی کہ اے اللہ میں اپنی تنہائی اور مصیبت کی فریاد تجھ سے کرتی ہوں۔ ان بچوں کو اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مریں گے، شوہر کے پاس چھوڑوں تو یونہی کسمپرسی میں ضائع ہوں گے۔ اے اللہ تو اپنے نبی کی زبان سے میری مشکل کو حل فرما۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ظہار کا حکم اترا۔
’’سن لی اللہ نے بات اس عورت کی جو جھگڑتی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور شکوہ کرتی تھی اللہ کے آگے۔ اور اللہ سنتا تھا تم دونوں کی گفتگو۔ بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
اگر نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے از خود احکام کو جاننے کی صلاحیت حاصل ہوتی تو آپ پہلی ہی دفعہ میں اس کو ظہار کا حکم بتا دیتے۔ وہ تو جب اللہ تعالیٰ نے خود اس حکم کو اتارا تب نبی ﷺ کو علم ہوا۔
حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ کو نہ تو از خود اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی عطا سے ایسی کوئی صلاحیت اور صفت حاصل تھی جس سے آپ دین کے غیبی امور کو بلا کسی واسطہ کے از خود جان لیتے۔ اس لئے حدیث میں جو یہ فرمایا کہ مجھے ہر (دینی) بات کی کنجیاں دی گئی ہیں تو یہ مجاز ہے خزانوں سے کیونکہ جس کو خزانہ مل گیا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کو خزانے کی کنجی مل گئی برمحل ہے۔
دوسری قسم
وہ مغیبات ہیں جن کا تعلق عالم کے حوادث و واقعات کے ساتھ ہے۔ جب تک حوادث و واقعات کا وقوع نہیں ہوتا وہ غیب میں ہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک بدوی شخص (رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا میری بیوی حاملہ ہے تو آپ بتایئے کہ وہ کیا جنے گی اور ہمارے علاقے قحط زدہ ہیں تو آپ بتایئے بارش کب ہو گی اور مجھے یہ تو معلوم ہے کہ میں کب پیدا ہوا آپ مجھے یہ بتایئے کہ میں کب مروں گاتو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (سورہ لقمان کی) یہ (آخری) آیت نازل فرمائی: اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَّ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ (بے شک اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کی خبر اور اتارتا ہے بارش اور جانتا ہے جو کچھ ہے رحموں میں اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا)۔
فائدہ: سائل نے چونکہ پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھا تھا اس کی مناسبت سے آیت میں پانچ ہی باتوں کا ذکر ہے اور اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں غیب کی پانچ چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خاص کیا ہے۔ ان پر نہ تو کسی مقرب فرشتے کو مطلع کیا ہے اور نہ ہی کسی نبی مرسل کو۔ بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کی خبر ہے لہٰذا انسانوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب یعنی کس سال میں اور کس مہینے میں قائم ہو گی، رات میں ہو گی یا دن میں ہو گی۔ اور وہ بارش اتارتا ہے تو کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہو گی ؟ دن میں یا رات میں اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے تو کوئی نہیں جانتا کہ رحموں میں کیا ہے ؟ لڑکا ہے یا لڑکی ہے گندمی رنگ ہے یا سیاہ رنگ ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ؟ کیا بھلا کرے گا یا برا کرے گا ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کونسی زمین میں مرے گا ؟ کیا پانی میں یا خشکی میں پھر کیا میدان میں یا پہاڑ پر۔
انہی پانچ چیزوں کو مفاتیح الغیب (غیب کی کنجیاں یا غیب کے خزانے) کہا گیا ہے۔
(بخاری و مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیب کے خزانے پانچ ہیں۔ ان کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا اور اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی اور اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ رحموں میں کیا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہو گی اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا صرف اللہ ہی اس کو جانتے ہیں۔
کیا عالم کے واقعات و حوادث جو غیب ہیں وہ صرف مذکورہ بالا پانچ چیزوں میں منحصر ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں مفسرین بالا تفاق کہتے ہیں کہ ولیس المغیبات محصورۃ بہذہ الخمس و انماخصت لوقوع السوال عنھا او لانھا کثیرا تشتاق النفوس الی العلم بھا یعنی مغیبات کا انحصار صرف ان پانچ میں نہیں ہے۔ خاص ان پانچ کا ذکر تو محض اس وجہ سے ہوا کہ سوال ہی ان کے بارے میں تھا یا یہ کہ عام طور سے لوگوں کو یہی باتیں جاننے کا شوق ہوتا ہے۔
اس لئے عالم کے دیگر واقعات بھی غیب میں شامل ہیں مثلاً یہ کہ فلاں کا نکاح کب ہو گا؟ اس کی اولاد ہو گی یا نہیں ؟ بیماری کب دور ہو گی ؟ کاروبار کیسا چلے گا ؟ فلاں امتحان میں کامیاب ہو گا یا ناکام ہو گا ؟وغیرہ ایسے لامتناہی امور ہیں۔
البتہ مذکورہ بالا پانچ باتوں کے ساتھ دیگر لامتناہی امور کا یہ تعلق ہے کہ ان پانچ باتوں سے پانچ عمومی سوال پیدا ہوتے ہیں جن میں سے سب کا یا اکثر کا تعلق کسی بھی واقعہ کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ وہ پانچ عمومی سوال یہ ہیں:
-1واقعہ کیا ہے یا کیا ہو گا ؟
واقعہ کا تو علم ہے پھر
-2وہ ہو گا یا نہیں ہو گا ؟
-3کب ہو گا؟
-4کہاں ہو گا؟
-5کتنا اور کیسا ہو گا؟
آیت و حدیث میں مذکور پانچ باتوںکا ان پانچ عمومی سوالوں کے ساتھ تعلق
-1حاملہ بیوی کیا جنے گی ؟ یعنی کیا حمل ہے اور کیا بچہ جنے گی ؟ کیا لڑکا جنے گی ؟ وغیرہ
-2میں کل کیا کروں گا ؟ یعنی میں صبح و شام کا کھانا کھاتا ہوں۔ اپنے کاروبار کے لئے نکلتا ہوں۔ کیا یہ کام کل بھی ہوں گے یا نہیں ؟
-3قیامت کا تو علم ہے کہ ہونی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب ہو گی ؟
-4موجودہ حالات قحط سالی کے ہیں تو بارش کب ہو گی لیکن کب سے بڑھ کر یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ بارش کتنی اور کیسی ہو گی ؟
-5موت تو بے شک آنی ہے۔ سوال ہے کہ کہاں آئے گی ؟
امور دینیہ کی طرح واقعات عالم کے مذکور احوال خمسہ کو ازخود جاننے کی صفت و صلاحیت اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں دی یہاں تک کہ نبی ﷺ کو بھی نہیں دی۔ قرآن پاک میں اس کی دلیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ 6 ھ میں غزوہ بنی مصطلق سے واپس مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا۔ وہ اپنے ہودج میں پردہ ڈال کر بیٹھ جاتیںاور شتربان ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر باندھ دیتے۔ ایک جگہ قافلہ ٹھہرا ہوا تھا۔ کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی جس کے لئے قافلہ سے علیحدہ ہو کر جنگل کی طرف تشریف لے گئیں۔ وہاں اتفاق سے ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی تلاش میں دیر لگ گئی۔ یہاں پیچھے کوچ ہو گیا۔ شتر بان حسب عادت ہودج باندھنے آئے۔ اس کے پردے پڑے ہونے سے گمان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسی کے اندر ہیں۔اور چونکہ بہت ہلکے پھلکے بدن کی تھیں اس لئے شتربانوں کو ہودج اٹھاتے ہوئے بھی ان کے اندر نہ ہونے کا شبہ نہ ہوا۔ غرض قافلہ چل دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہاں سے اب جانا خلاف مصلحت ہے۔ جب آگے جا کر میں نہ ملوں گی تو یہیں تلاش کرنے آئیں گے۔رات کا وقت تھا، نیند کا غلبہ ہوا وہیں لیٹ گئیں۔حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ گرے پڑے کی خبر گیری کی غرض سے قافلہ کے پیچھے کچھ فاصلہ سے چلتے تھے۔ وہ صبح کے وقت اس جگہ پہنچے۔ دیکھا کوئی آدمی پڑا سوتا ہے۔ قریب آ کر پہچانا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاہیں کیونکہ پردہ کا حکم آنے سے پہلے ان کو دیکھ چکے تھے۔وہ دیکھ کر گھبرا گئے اور انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا جس سے حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی اور فوراًچہرہ چادر سے ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے ان کے قریب لا کر اونٹ بٹھایا اور یہ پردے کے ساتھ اس پر سوار ہو گئیں۔ انہوں نے اونٹ کی نکیل پکڑ کر دوپہر کے وقت قافلہ سے جا ملایا۔
عبد اللہ بن ابی بڑا منافق اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا دشمن تھا۔ اسے ایک بات ہاتھ لگ گئی اور اس نے حضرت عائشہ پر تہمت لگانی اور واہی تباہی بکنا شروع کی۔اور بعض بھولے بھالے مسلمان بھی اس کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے لگے۔عموماً مسلمانوں اور خود جناب رسول اللہ ﷺ کو اس قسم کے واہیات تذکروں سے سخت صدمہ تھا۔ ایک مہینہ تک یہی چرچا رہا۔ نبی ﷺ سنتے اور بغیر تحقیق کچھ نہ کہتے مگر دل میں خفا رہتے۔ ایک ماہ بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان باتوں اور چرچوں کی خبر ملی تو وہ شدت غم سے بے تاب ہو گئیں ۔ شب و روز روتی تھیں۔ ایک منٹ کے لئے آنسو نہ تھمتے تھے۔ آخر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی یہ آیتیں إِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْافْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ (سورہ نور: 11-16) جو لوگ لائے ہیں یہ بہتان تم ہی میں سے ایک جماعت ہے۔
غرض ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے عالم کے واقعات و حوادث کے غیبی امور کو از خود جاننے کی نہ تو کسی کو صلاحیت دی اور نہ ہی اس کو خود اپنی طرف سے وہ خزانے عطا کئے ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ
(1) غیب کے خزانوں کو ازخود جاننے کی صفت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔
(2)اللہ تعالیٰ غیب کی تمام باتوں کو مکمل تفصیل کے ساتھ جانتے ہیں۔ اس کا کوئی ذرہ بھی ان سے پوشیدہ نہیں۔
(3)اللہ تعالیٰ غیب کی باتوں کو کسی کو بتانے کے پابند نہیں ہیں ۔
مخلوق کو غیب کی بعض جزوی باتوں کا علم
قرآن پاک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حوادث عالم سے متعلق بعض جزوی باتوں کا علم اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں پر بھی کھول دیتے ہیں۔
مثلاً قرآن پاک میں ہے۔
’’مغلوب ہو گئے رومی قریب کی زمین میں اور وہ اس مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے نو برس کے اندر۔
اس آیت میں آئندہ نو سال کے اندر رومیوں کے غلبہ کی اطلاع دی۔
-2حضرت زکریا علیہ السلام کو بتایا گیا کہ ان کے بڑھاپے اور ان کی بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہو گی اور وہ بچہ لڑکا ہو گا۔
’’اے زکریا ہم آپ کو خوشخبری دیتے ہیں ایک لڑکے کی‘‘۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں … (جنگ بدر کے میدان میں) رسول اللہ ﷺ نے زمین پر اس اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا (جنگ کے دوران) یہ فلاں کے (قتل ہو کر) گرنے کی جگہ ہے (اور یہ فلاں کے گرنے کی جگہ )۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے ادھر ادھر نہ ہوا (بلکہ ٹھیک اسی جگہ گر کر مرا)۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے بعض کفار قریش کے مرنے کی جگہ بتائی۔
-4 عَنْ أُمِّ حَرامٍ بِنْتِ مَلْحَانَ قَالَتْ نَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا قَرِیْبًا مِّنِّیْ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ یَتَبَسَّمُ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا أَضْحَکَکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِیْ عُرِضُوْا عَلَیَّ یَرْکَبُوْنَ ظَھْرَ ہٰذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوْکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ قَالَتْ فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْھُمْ قَالَ فَدَعَا لَھَا ثُمَّ نَامَ الثَّانِیَۃَ فَفَعَلَ مِثْلَھَا ثُمَّ قَالَتْ مِثْلَ قَوْلِھَا فَأَجَابَھَا مِثْلَ جَوَابِھَا الْأَوَّلِ قَالَتْ فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّجْعَلَنِیْ مِنْھُمْ قَالَ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِیْنَ۔ (بخاری و مسلم)
حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا (جو رسول اللہ ﷺ کی محرم رشتہ دار تھیں) کہتی ہیں ایک دن (میں بیٹھی تھی) رسول اللہ ﷺ میرے قریب ہی سو گئے۔پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول کس بات سے آپ کو ہنسی آئی۔ آپ نے فرمایا (خواب میں) میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر پر (اپنے جہازوں پر) اس طرح سوار بیٹھے ہوں گے جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ میں نے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ نے ان کے لئے دعا کی۔ پھر آپ دوبارہ سو گئے۔ پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ حضرت ام حرام نے وجہ پوچھی تو آپ نے پہلی طرح کا جواب دیا۔ انہوں نے پھر درخواست کی آپ دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں سے بھی کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں جب جہاد کے لئے پہلی مرتبہ سمندری سفر ہوا تو واپسی میں شام کے علاقہ میں سواری سے گر کر ان کی وفات ہوئی)۔
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ نبی ﷺ کو معلوم ہو گیا تھا کہ ام حرام بحری سفر والے پہلے جہاد میں جائیں گی دوسرے میں نہیں۔ آئندہ کوئی کیا کرے گا اس کی آپ نے خبر دی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم پر ایک فرشتے کو مقرر فرما دیتے ہیں جو (ہر مرحلہ کے مطابق) کہتا جاتا ہے۔ اے میرے رب یہ (اب) نطفہ ہے۔ اے میرے رب یہ (اب) علقہ یعنی جما ہوا خون ہے۔ اے میرے رب یہ (اب) مضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ جنین کی خلقت کو پورا کرنے کا ارادہ (اس فرشتے پر ظاہر) کرتے ہیں تو وہ فرشتہ پوچھتا ہے (اے میرے رب) یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی۔ بدبخت ہو گا یا نیک بخت۔ (اس کا) رزق کتنا ہو گا اور اس کی عمر کتنی ہو گی۔جب کہ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت یہ باتیں (فرشتہ کو بتا کر) لکھوا دی جاتی ہیں۔ پس اس وقت ان باتوں کا اس فرشتے کو اور اللہ عزوجل کی مخلوق میں سے جس کو اللہ چاہتے ہیں علم ہوتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش سے پہلے رحم پر مقرر فرشتے کو یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں اور انسانوں میں سے بھی بعض کو کچھ جزوی باتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔
استخارہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیںرسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا اللہ تعالیٰ سے کثرت سے استخارہ کرنا اور جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے فیصلہ فرما دیا ہے اس پر راضی رہنا اس کی سعادت(و نیک بختی) ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ سے استخارہ نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو فیصلہ فرما دیا ہے اس پر راضی نہ ہونا اس کی بدبختی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمارے (اہم) کاموں میں ہم کو استخارہ (یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر کی صلاح لینے کا طریقہ) اسی اہتمام سے سکھایا کرتے تھے جس اہتمام سے ہمیںقرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو اہم کام پڑ جائے (مثلاً کسی عورت سے نکاح کرنا ہے تو کیا اس سے نکاح کرنے میں خیر ہے یا نہیں۔ یا حج پر جانا ہے تو اگر اپنے اختیار میں ہو تو یہ جاننا کہ آج نکلنے میں خیر ہے یا کل نکلنے میں ہے اور اس طرح اور کاموں میں) تو وہ دو رکعت نفل پڑھے پھر یہ کہے اللھم انی استخیرک … آخر تک یعنی اے اللہ میں آپ سے خیر کی صلاح لیتا ہوں آپ کے علم کے سبب سے اور (خیر والے کام پر) آپ سے قدرت طلب کرتا ہوں آپ کی قدرت کی وجہ سے اور آپ کے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں (جو یہ ہے کہ آپ خیر کو میرے لئے متعین اور آسان فرما دیں اور اس پر مجھ کو قدرت عطا فرما دیں) کیونکہ آپ (تمام) قدرت رکھتے ہیں جب کہ میں (ذاتی طور پر) کچھ قدرت نہیں رکھتا (جو تھوڑی سی قدرت ہے وہ بھی آپ کی عطا سے ہے) اور آپ (تو سب کچھ) جانتے ہیں جب کہ میں (کچھ) نہیں جانتا (مگر جوآپ نے سکھا دیا) اور آپ تو غیب کی تمام باتوں کو خوب جاننے والے ہیں۔ اے اللہ اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام (اس کام کو یہاں زبان سے کہے) میرے لئے خیر ہے میرے دین (و آخرت) کے اعتبار سے اور میری معاش (یعنی دنیوی زندگی) کے اعتبار سے اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے تو اس کو میرے مقدر میں کر دیجئے۔ اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے شر ہے میرے دین (و آخرت) کے اعتبار سے اور میری معاش (یعنی دنیوی) زندگی کے اعتبار سے اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے تو اس کام کو مجھ سے ہٹا دیجئے اور مجھے اس سے ہٹا دیجئے اور جہاں بھی ہو خیر کو میرے لئے مقدر فرما دیجئے پھر مجھے اس پر راضی بھی کر دیجئے۔
فائدہ: استخارہ سے صرف اتنی بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے میں مجموعی طور سے خیر ہو گی خواہ مطلوب حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ بھی من جانب اللہ الہام کا طریقہ ہے اور ظنی ہے اور خیر یا شر کا علم بھی جزوی ہے۔ اور چونکہ خود شریعت کا بتایا ہوا طریقہ ہے اس لئے اس میں کچھ حرج نہیں۔
الہام
الہام اس کو کہتے ہیں کہ غور و فکر کے بغیر کسی حقیقت کا دل میں القاء ہو جائے خواہ فرشتہ کے واسطہ سے ہو یا بلاواسطہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حق بات کو (الہام کے ذریعہ سے) عمر کی زبان اور قلب پر جاری کیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب کبھی لوگوں کو کوئی (نئی) بات پیش آئی پھر اس کے بارے میں لوگوں نے بھی اپنی رائے دی اور حضرت عمر نے بھی اپنی رائے دی تو قرآن (ہمیشہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہی نازل ہوا۔
کشف قبور
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی ﷺ کے ایک صحابی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر لگا لیا اور ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ قبر ہے۔ تو اس قبر میں (دیکھا کہ) ایک آدمی سورہ ملک (یعنی تبارک الذی بیدہ الملک) پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے وہ سورت پوری پڑھ لی۔ وہ صحابی نبی ﷺ کے پاس آئے اور یہ واقعہ آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا یہ سورت حفاظت کرنے والی ہے۔ یہ سورت نجات دینے والی ہے۔ یہ سورت مردے کو (قبر میں) عذاب الٰہی سے نجات دیتی ہے۔
فائدہ: کشف قبور کبھی تو بلا قصد و کسب کے ہوتا ہے جیسا کہ ان صحابی کو ہوا اور کبھی کسب و ریاضت سے ہوتا ہے یعنی کوئی وظیفہ اور عمل کر کے اس کو کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ٹیلی پیتھی وغیرہ کے ذریعہ لوگ اپنی بعض باطنی یا روحانی قوتوں کے واسطہ سے ایک دوسرے کے دل کے خیالات کو جان لیتے ہیں۔
ان نصوص سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں بلا کسی جبر کے عالم کے حوادث و واقعات میں سے بعض باتوں کو اپنے بندوں پر جزوی طور پر کھول دیتے ہیں۔
تنبیہ: کسی بھی شخص کو یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی عالم کے کل حوادث و واقعات کا علم نہیں دیا گیا:
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک سرخ خیمے میں تھے کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار آیا اور پوچھا آپ کون ہیں۔ آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس شخص نے (یہ خیال کر کے کہ آپ اتنے اونچے درجے کے ہیں تو آپ کو سب کچھ معلوم ہو گا) پوچھا قیامت کب ہو گی۔ آپ نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے (کیونکہ اللہ نے اس کا علم کسی کو بھی نہیں دیا) اور غیب کو تو صرف اللہ ہی جانتے ہیں (مگر جب کہ وہ خود ہی کسی پر اس کا کچھ جزوی علم کھول دیں)۔ اس شخص نے پوچھا میرے گھوڑے کے پیٹ میں کیا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے (کیونکہ مجھے اس کا علم نہیں دیا گیا) اور غیب کو تو صرف اللہ ہی جانتے ہیں۔ اس نے پوچھا بارش کب ہو گی۔ آپ نے فرمایا یہ (بھی) غیب کی بات ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم نہیں دیا) اور غیب کو تو صرف اللہ ہی جانتے ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ جو غیب کھولتے ہیں اس کے علم کی خصوصیات یہ ہیں۔
-1 اس کا حصول اس طرح نہیں کہ از خود یا خدائی عطا سے ایسی صلاحیت حاصل ہو گئی ہو کہ محض اس کی بنا پر کسی واسطے کے بغیر ہی ہو جائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے کھول دینے سے ہوتا ہے۔ خواہ وحی یا الہام سے ہو یا ظاہری و باطنی حواس یا عقل سے ہو۔
-2اللہ تعالیٰ اس کے بتانے کے پابند نہیں ہیں۔
-3 جزوی ہے کلی نہیں۔
-4 ذریعہ کی نوعیت سے یہ جزوی علم کبھی قطعی و یقینی ہوتا ہے اور کبھی ظنی ہوتا ہے مثلاً وحی کے ذریعہ سے معلوم ہو تو قطعی ہوتا ہے کسی ولی کا الہام یا وہ طبی تفتیش (Clinical Tests) یا دیگر تجربات جن میں انسانی خطا و چوک کا احتمال ہوتا ہے ان سے حاصل شدہ علم ظنی (یعنی گمان غالب کے درجہ میں) ہوتا ہے۔
تنبیہ: مخلوق کو غیب کی بعض جزوی کا باتوں کا علم چونکہ کسی نہ کسی واسطہ اور ذریعہ سے ہوتا ہے تو ایسے علم کو علم غیب نہیں کہتے اور ایسے علم رکھنے والے کو عالم الغیب کہنا بھی جائز نہیں۔ علم غیب تو صرف اس کو کہتے ہیں جو کسی بھی واسطہ کے بغیر ہو اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عالم الغیب کہا جائے گا۔
غیب کی بات کا وہمی علم
اوپر ذکر ہوا کہ غیب کی بعض جزوی باتوں کا علم بندوں کو قطعی یا ظنی ذرائع سے ہو سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بعض ذرائع محض وہمی ہیں جو اٹکل کے درجہ میں ہیں کہ ان سے حاصل کردہ علم کبھی صحیح ہوتا ہے اور بہت مرتبہ غلط ہوتا ہے۔ ایسے ذرائع سے تعلق رکھنے کو ہی دین نے منع کر دیا ہے کیونکہ یہ علم کہلانے کے قابل ہی نہیں ہے۔ یہ ذرائع بہت سے ہیں مثلاً علم نجوم، کہانت، دست شناسی، علم جفر و رمل، علم خط اور علم عدد۔
حدیث میں ان کی حقیقت کی طرف بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
کہانت
جنات کو اپنے قابو میں کر کے ان کے ذریعہ سے خفیہ یا آئندہ کی خبر حاصل کرنے کو کہانت کہتے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیںلوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا (جو کسی جن پر قابو پا لیتے ہیں کہ کیا ان کو علم ہوتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا (مجموعی طور پر) یہ بے بنیاد ہیں (اور قابل اعتماد نہیں)۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول کبھی کبھی تو وہ ایسی بات بتاتے ہیں جو بالکل صحیح (اور واقع کے مطابق) ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ بات تو صحیح (اور واقع کے مطابق) ہوتی ہے (اور ہوتا یہ ہے کہ دنیا کے انتظام پر مامور فرشتے جب آپس میں کوئی بات کرتے ہیں تو) جن ان کی بات کو اچک لیتا ہے۔ پھر وہ مرغی کی کٹ کٹ کی طرح اس بات کو اپنے دوست (یعنی کاہن) کے کان میں ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ کاہن اس کے ساتھ سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ملا لیتے ہیں۔ (اور اپنے ایک سچ کی وجہ سے سو سے زائد جھوٹ چلاتے ہیں)۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (کچھ) فرشتے بادل پر اترتے ہیں اور جن بعض کاموں کا فیصلہ آسمان پر ہو چکا ہے تذکرہ کرتے ہیں تو بعض شیطان جن ان کی بات اڑا لیتے ہیں اور اس کو سن کر پوشیدہ طریقے سے کاہنوں کو بتاتے ہیں پھر وہ کاہن اپنے پاس سے اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
علم نجوم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے (غیب سے متعلق) علم نجوم کا کوئی مسئلہ سیکھا تو اس نے (گناہ کے اعتبار سے) جادو کا مسئلہ سیکھا (کہ جو گناہ اس میں ہے وہی علم نجوم کا مسئلہ سیکھنے میں ہے)۔
(بڑے تابعی) حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیںاللہ تعالیٰ نے یہ ستارے صرف تین چیزوں کے لئے بنائے ہیں۔ آسمان کی زینت کے لئے اور شیطانوں کو مارنے کے لئے (جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ ملک میں ہے وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَائَ بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ۔(یعنی ہم نے بے شک قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے) اور راہ معلوم کرنے کی علامتیں بنایا ہے (جیسا کہ سورہ نحل میں ہے وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُونْ یعنی ستاروں سے وہ راہ پاتے ہیں) تو جو کوئی ان میں مذکور چیزوں سے ہٹ کر کوئی معنی نکالے (اور ان کو مستقبل کے واقعات جاننے کا ذریعہ سمجھے) تو اس نے غلطی کی اور (عمر کا) اپنا حصہ ضائع کیا اور ایسی چیز کے در پے ہوا جو اس طرح کے ذرائع سے معلوم نہیں ہو سکتی۔
فائدہ: عام لوگوں کی زبان میں آسمان پر چمکنے والی اور چھوٹی نظر آنے والی اشیاء کو ستارے کہا جاتا ہے خواہ وہ سائنسدانوں کی اصطلاح میں ستارے ہوں یا شہابئے ہوں یا کچھ اور۔ فضا میں جو پتھر ہوتے ہیں وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہو جاتے ہیں۔ فرشتے جب شیطان جنوں پر فضا کے کسی پتھر کو پکڑ کر مارتے ہیں تو وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہو جاتا ہے اور ٹوٹا ہوا ستارہ نظر آتا ہے قرآن نے اس کو شہاب کا نام بھی دیا ہے وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَائِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ إلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ (سورہ حجر 16-18)اور بالیقین ہم نے آسمان میں بڑے ستارے بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لئے ان سے آراستہ کیا۔ اور ہم نے اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ کر دیا ہاں مگر کوئی بات چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شہاب (شعلہ) ہو لیتا ہے۔
(تابعی) ربیع بن زیاد رحمہ اللہ نے (بھی حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی طرح فرمایا۔نیز یہ بھی) فرمایا اللہ کی قسم اللہ نے کسی ستارے میں نہ کسی آدمی کی حیات (یعنی ولادت اور بقاء) کا اور نہ اس کے رزق کا اور نہ اس کی موت کا تعلق رکھا ہے۔نجومی تو محض اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے ہیں (اور یوں کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کے طلوع کے ساتھ یہ واقعات وابستہ ہیں اور فلاں ستارے کے فلاں برج میں پہنچنے کے یہ اثرات ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے عالم کے حوادث کی اور لوگوں کی قسمت کی ستاروں کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں رکھی۔ کوئی بات اگر درست ہو جاتی ہے تو وہ محض اٹکل اور اتفاق ہے)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی کسی عراف (یعنی جو جاننے کا دعویٰ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کوئی بھی چوری کا مال کہاں ہے اور کوئی بھی گمشدہ شخص کہاں ہے) کے پاس جا کر اس سے (ایسی) کوئی بات پوچھتا ہے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں (یعنی اگرچہ فرض ادا ہو جاتا ہے لیکن آئندہ چالیس دن کی نمازوں پر ثواب نہیں ملتا)۔
علم خط
حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول … ہم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو خط کھینچتے ہیں اور (اس کے ذریعہ سے دور کی اور آئندہ کی باتوں کا حساب لگا کر) بتاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا نبیوں میں سے ایک خاص نبی (کو خط کا علم دیا گیا تھا اور وہ) خط کھینچ کر خبر معلوم کرتے تھے (یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں غیب کی بعض جزوی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ علم خط سکھایا تھا لیکن اب وہ علم باقی نہیں رہا بلکہ محض اٹکل ہے اور جو لوگ اب ایسا کرتے ہیں تو جس کا خط اٹکل اور اتفاق سے ان نبی کے خط کے موافق ہو جاتا ہے تو اس کی بات صحیح ہو جاتی ہے (لیکن چونکہ اب وہ علم رہا ہی نہیں لہٰذا اب جو کچھ ہے محض وہمی چیز ہے کبھی صحیح ہو گی اور بہت مرتبہ غلط ہو جاتی ہے)۔
فائدہ: دست شناسی اور علم عدداور علم رمل و علم جفر کا بھی یہی حکم ہے کہ یہ علوم کسی قطعی یا ظنی بنیادوں پر مبنی نہیں اور نہ ہی دین نے ان کو قابل اعتبار بتایا ہے لہٰذا وہمی چیز ہونے کی وجہ سے یہ شریعت میں قابل اعتبار نہیں۔ ان علوم کے دعویداروں کے پاس جا کر مخفی باتوں کو پوچھنا جائز نہیں اور نہ ہی ان علوم سے متعلق کوئی شغل اختیار کرنا چاہئے۔
فال اور شگون
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پرندوں کو اڑا کر شگون لینا (یا کسی اور طریقے سے فال نکالنا یا شگون لینا اسلام میں) نہیں ہے۔ البتہ اس میں جو درست چیز ہے وہ فال (کی صرف ایک ہی قسم )ہے۔ لوگوں نے پوچھا (اس) فال سے کیا مراد ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ عمدہ اور اچھا کلمہ ہے جو تم میں سے کوئی سنے (مثلاً کسی کام سے نکلے اور کامیابی یا سلامتی کا لفظ کان میں پڑا تو اس سے امید کرنا کہ اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائیں گے اور سلامتی رکھیں گے)۔