اردو بازار لاہور کے مشہور ناشر و تاجر کتب ’’الفیصل‘‘ نے چند سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب ’’حیات سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ ترجمہ ہے انگریزی کتابMohammad(Based on Earliest Sources) کا جو ایک انگریز نو مسلم مارٹن لنگز (Martin Lings) نے لکھی ہے۔ مصنف کا اسلامی نام ابوبکر سراج الدین ہے اور انگریزی میں اصل کتاب لاہور کے مشہور ناشر کتب سہیل اکیڈمی نے شائع کی ہے۔
مغرب کا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ا سلام قبول کر لے تو مسلمانوں کو بجا طور پر اس سے خوشی ہوتی ہے اور وہ اس کی عقیدت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی عقیدت کے تحت ’’سہیل اکیڈمی‘‘ اور ’’الفیصل‘‘ نے یہ کتاب شائع کی ہوگی لیکن اس خوشی اور عقیدت کے باوجود مسلمانوں کو ان کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے کیونکہ ان حضرات کا اسلام کے بارے میں علم عام طور سے محض اپنے مطالعہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اہل حق علماء سے ان کا رابطہ کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ حضرات بعض ایسی غلطیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جب وہ غلطیاں سامنے آتی ہیں تو وہ خوشی اور عقیدت کافور ہو جاتی ہے اور مسلمانوں کی حسرتوں میں ایک اور حسرت کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہم نے سیرت کی اس کتاب کا ازاول تاآخر مطالعہ کیا۔ اس کی وجہ ہم بعد میں ذکر کریں گے۔ پہلے ہم اس کتاب سے متعلق چند باتیں ذکر کرتے ہیں :
1۔ ص 55 پر ہے۔
’’ورقہ عیسائی ہو گئے تھے اور اس علاقے کے عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ قریب آ لگا ہے… جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے جن کے لیے اس کا قائل ہونا آسان تر تھا۔ کیونکہ انبیاء کا سلسلہ مسیح علیہ السلام پر ختم ہو چکا تھا… ایک نبی کا انتظار کرنے کے بارے میں تقریباً وہ سب کے سب متفق تھے۔ ان کے ربی اور دانش مند انہیں یہ یقین دلاتے تھے کہ ایک نبی بس آنے ہی والا ہے۔ اس کی آمد سے متعلق بیشتر علامات جن کی پیشین گوئی ہو چکی تھی ظاہر ہو چکی تھیں۔ یہ ربی یہودیوں کو یہ بھی یقین دلاتے تھے کہ آنے والا نبی یہودی ہی ہوگا۔ کیونکہ وہی برگزیدہ امت ہیں… عیسائی… اور ورقہ ان میں سے ایک تھے اس مسئلے میں اپنے شکوک رکھتے تھے۔ انہیں کوئی وجہ نظر نہ آتی تھی کہ آخر وہ نبی قبائل عرب میں سے کیوں نہ ہو۔ یہودیوں سے بڑھ کر عربوں کو ایک نبی کی حاجت تھی۔ یہودی کم از کم اس حد تک تو دین ابرہیمی کے پیرو تھے کہ ان کے یہاں بت نہ تھا اور وہ خدائے واحد کے پرستار تھے اور ایک نبی کے سوا کون تھا جو عرب کے بادیہ نشینوں کو معبودان باطل کی پرستش سے نجات دلا سکتا تھا۔‘‘
بادی النظر میں تو ہر پڑھنے والا یہی سمجھے گا کہ مصنف نے امر واقع کو ذکر کیا ہے لیکن اگر کچھ غور کیا جائے تو پڑھنے والا ضرور چونکے گا مثلاً یہ کہ:
’’انہیں (یعنی عیسائیوں کو) کوئی وجہ نظر نہ آتی تھی کہ آخر وہ نبی قبائل عرب میں سے کیوں نہ ہو۔‘‘
’’یہودیوں سے بڑھ کر عربوں کو ایک نبی کی حاجت تھی۔‘‘
ہم کہتے ہیں کہ جب نبی کی ضرورت کو بیان کیا جا رہا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ وہ نبی تمام قوموں کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے ہو تو ضرورت تو ہر قوم کو تھی۔ پھر مصنف کا یہ طرز عمل کہ عربوں کی ضرورت کو تو تفصیل سے بیان کیا اور ان کی بت پرستی کے تمام گوشوں کو آگے پورے ایک پیرے میں بیان کیا۔ لیکن عیسائیوں کی ضرورت کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور یہود کی ضرورت کو عربوں سے کمتر خیال کیا حالانکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے جو دینی حالات تھے وہ آخرت کے اعتبار سے مشرکین عرب سے کچھ بھی بہتر نہ تھے۔ قرآن پاک میں مغضوب علیہم اور ضالین یہودیوں اور عیسائیوں ہی کو کہا گیا ہے۔
پھر مصنف کا یہ کہنا کہ ’’یہ ربی یہودیوں کو یہ بھی یقین دلاتے تھے کہ آنے والا نبی یہودی ہی ہوگا۔‘‘ یہ بات بھی حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ تو یہودیوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا تب یہ بہانہ بنا لیا ورنہ اس سے پہلے وہ کوئی ایسا دعویٰ نہ کرتے تھے بلکہ وہ جانتے تھے اور بتاتے بھی تھے کہ نئے آنے والے نبی مکہ مکرمہ کی طرف سے ظاہر ہوں گے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کریں گے۔
سیرت ابن ہشام میں ہے ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ جو کہ اصحاب بدر میں سے ہیں۔ انہوں نے بنی عبدالاشہل میں سے اپنے ایک یہودی پڑوسی کا قصہ ذکر کیا کہ اس نے ایک مرتبہ مجمع عام میں قیامت اور حساب کتاب اور جنت اور دوزخ کا ذکرکیا۔ لوگوں کے کچھ سوال کرنے پر اس نے بتایا۔
نبی مبعوث من نحوہذہ البلا د واشار بیدہ الی مکۃ والیمن
یعنی ان علاقوں کی طرف سے ایک نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور اپنے ہاتھ سے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا۔
سیرت ابن ہشام ہی میں ہے ابن اسحاق نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے ایک بڑے آدمی سے یہ واقعہ ذکر کیا کہ شام کا ایک یہودی مدینہ منورہ آکر آباد ہو گیا۔ وہ بہت ہی عبادت گار تھا۔ اپنی وفات کے وقت اس نے مدینہ منورہ کے یہودیوں کو نصیحت کی کہ میں نے شام کا زرخیز علاقہ چھوڑ کر تنگی اور بھوک کا یہ علاقہ محض ایک نبی کے انتظار میں اختیار کیا ہے کیونکہ ان کا زمانہ آچکا ہے اور وہ اسی شہر کی طرف ہجرت کر کے آئیں گے…‘‘
اسی طرح ابن اسحاق نے مدینہ منورہ کے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی یہ وجہ ذکر کی کہ انصار کا مدینہ کے یہودیوں سے مستقل جھگڑا رہتا تھا۔ یہودی ان کو کہتے تھے کہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ قریب آ گیا ہے ہم ان کے ساتھ ہو کر تمہیں خوب قتل کریں گے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو انصار کو یہودیوں کی دھمکی یاد آئی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی اور یہود نے کفر کیا۔ (سیرت ابن ہشام ص:225تا 228)
ہم کہتے ہیں کہ اگر مصنف کے کہنے کے مطابق علمائے یہود نے لوگوں کو باور کرایا تھا کہ آنے والا نبی یہود میں سے ہوگا تو انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے پہلے آپ کے غیریہودی ہونے پر یقینا تردد اور پس و پیش کرتے۔
مصنف کی بات اس اعتبار سے بھی غلط ہے کہ قرآن پاک میں ہے یہود آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔اگر یہودی علماء اور عوام کے دماغوں میں یہی بات بھری ہوتی کہ آنے والے نبی کی پہچان یہ ہے کہ وہ یہود میں سے ہوگا تو قرآن کا یہ دعویٰ غلط ٹھہرتا۔
غرض مصنف مارٹن لنگز یا ابوبکر سراج الدین کی یہ کوشش نظر آتی ہے کہ وہ اپنے قارئین کو یہ بتائیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے لیے نبی نہ تھے بلکہ اصلاً صرف عربوں کے لیے تھے البتہ جیسے آگے واضح ہوگا۔ ان کے نزدیک آپ کی نبوت اور آپ کا دین اس اعتبار سے عالمی ہے کہ اور اقوام کے لوگ اس کو قبول کر سکتے ہیں۔
2۔ ص 116 پر مصنف لکھتے ہیں:
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تسلی دیتے ہوئے ورقہ بن نوفل نے کہا ’’بالیقین محمد (This people) اس قوم کے نبی ہیں۔‘‘
وانہ لنبی ہذہ الامۃ یعنی بلاشبہ یہ اس امت کے نبی ہیں۔
پھر دوبارہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے کہا:
والذی نفسی بیدہ انک لنبی ہذہ الامۃ
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ اس امت کے نبی ہیں۔
امت اور قوم میں جو فرق ہے وہ محتاج بیان نہیں لیکن مصنف نے یہاں قوم کا لفظ استعمال کر کے اپنے مخصوص فکر کا اظہار کیا ہے۔
-3ص 690 پر لکھا:
’’غزوہ حنین پر زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ شہنشاہ ہرقل نے مقدس صلیب یروشلم واپس پہنچا دی اور یہ کارروائی رومیوں کی ایرانیوں پر آخری فتح کی تکمیل کی علامت بن گئی۔ وہ فتح جس کی وحی نے پیشین گوئی کی تھی اور جس کے بارے میں کہا تھا کہ اس دن اہل ایمان خوشی منائیں گے۔ واقعی یہ خوشی منانے کا دن تھا۔ ایرانیوں کو شام اور مصر دونوں مقامات سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنا پڑا۔‘‘
مصنف کی اس عبارت سے عام قاری یہی سمجھے گا کہ رومیوں کی فتح ہی اہل ایمان کی خوشی کا اصل سبب تھی حالانکہ قرآن پاک میں ہے:
یومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ
اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد ہی کی وجہ سے اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی مدد دو طرح سے حاصل ہوئی۔
-i اسی دن مسلمانوں کو بھی مشرکین عرب پر جنگ بدر میں فتح حاصل ہوئی۔
-iiمشرکین عرب کے خلاف قرآن کی پیشین گوئی کے پورا ہونے کی وجہ سے۔
-4 ص 691 پر لکھتے ہیں:
مدینے میں افواہ کی گرم بازاری تھی کہ ہرقل نے یثرب کے خلاف اپنی لمبی مہم کے پیش نظر فوج کو ایک سال کی پیشگی تنخواہ دے دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رومی جنوب میں بلقاء پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے عاملہ، غسان، جزام اور لخم کے قبائل کو جمع کر لیا ہے۔ یہ خبریں جزوی طور پر مبالغہ آمیز اور جزوی طور پر خلاف حقیقت تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ اب تک عام طور پر معلوم نہ تھا کہ ایرانی مہم کے دوران ہرقل نے یہ خواب دیکھا تھا کہ پورے شام پر ایک مختون شخص کی حکومت کا غلبہ ہے جس کو اس نے وہ مکتوب نگار قرار دیا جس نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ یہ خواب اتنا زوردار اور اتنا واضح تھا کہ جنوب کی جانب اس کے کوچ اور ایک حد تک خود شام کے دفاع کو اس نے متاثر کیا۔ وہ اب یروشلم سے حمص لوٹ چکا تھا اور اپنے اس یقین کی بنا پر کہ پورا صوبہ ہی بالآخر اسلامی فوجوں کے ذریعے پامال ہو جائے گا اپنے جنرلوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ صلح کر لیا جائے اور شام کا صوبہ اس شرط پر دے دیا جائے کہ شمالی سرحدوں کے آگے مزید پیش قدمی نہ ہوگی۔ اس تجویز پر ان کی حیرت اور اس سے ان کی شدید ناگواری اور عدم اتفاق کے سبب اس نے اس تجویز کو ترک کر دیا مگر وہ اپنا خواب کبھی نہ بھولا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ ان کی اسلامی فوجوں کے لیے شام کا دروازہ کھول دے گا اور خواہ اس لیے کہ آپؐ کے نزدیک وقت آ گیا تھا یا اس لیے کہ آپ چاہتے تھے کہ اپنی فوجوں کو ناگزیر شمالی مہم کے لیے کچھ تربیت دیں۔ آپؐ نے رومیوں کے خلاف مہم کا اعلان کر دیا اور اب تک کی ہمیشہ سے زیادہ مسلح اور بھاری فوج یکجا کرنے کے بندوبست میں لگ گئے۔‘‘
پھر ص 695 پر لکھا:
فوج نے بیس دن تک تبوک میں قیام کیا۔ یہ واضح تھا کہ رومیوں کی جانب سے خطرے کی افواہ بالکل بے بنیاد تھی اور دوسری طرف شام کی موعود فتح کا وقت بھی نہیں آیا…‘‘
ہم کہتے ہیں کہ مصنف نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام کی خاصی تحقیر کی ہے جس کا بیان یہ ہے۔
1۔ مصنف نے یہ تاثر دیا کہ محض ایک بے بنیاد افواہ پر مسلمانوں نے اقدام کیا حالانکہ ہرقل کی شام پر قبضہ میں دلچسپی نہ رہی تھی۔
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی فتح کے وقت کے بارے میں اندازہ کرنے میں خطا کی۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر تربیت دینے کا ارادہ تھا تو وہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ محض سازوسامان اکٹھا کرنا اور فوج کو جمع کرنا کوئی کارنامہ نہ تھا کیونکہ مسلمان تو جنگجو لوگ تھے جن کو بہت سی جنگوں کا تجربہ ہو چکا تھا اس سے پہلے جنگ موتہ کا تجربہ بھی ہو چکا تھا۔
ہم نے اس کتاب کا مطالعہ کیوں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تقریباً تیرہ چودہ سال پیشتر امریکہ میں مقیم چند مسلمانوں کی طرف سے کیے گئے ایک سوال کی خاطر ہم نے مارٹن لنگز اور ان کے دیگر ساتھیوں مثلاً Frithjof Schuon اور Eaton وغیرہ کی کچھ کتابوں کا مطالعہ کیا اور معلوم ہوا کہ یہ لوگ درحقیقت وحدت ادیان کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو نہ ماننے والا بھی اسلام میں داخل ہے۔ ان لوگوں نے تصوف کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہے لیکن اپنے گمراہ اور غیر اسلامی فکر کی وجہ سے قرآن پاک کی تحریف معنوی پر بھی جری ہیں۔ سیرت کی مذکورہ کتاب دیکھ کر ہمیں ڈر ہوا کہ انہوں نے اپنے فکر کو اس میں بھی سمویا ہوگا اور خصوصاً عیسائیت کے بارے میں جو ان کے اندر نرم گوشہ ہے اس کی وجہ سے ہم مذکورہ بالا اقتباسات تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اب آپ ان کی تحریروں کے اقتباسات سے ان کی گمراہی فکر کو ملاحظہ فرمائیے۔ ان پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔
will be among the losers."
مارٹن لنگز لکھتاہے
the other religions.
اس سیاق میں وہ آیات جن میں یہ دعویٰ ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے بھیجے گئے ان کو اجارہ داری سے کمتر طریقے پر سمجھنے کی ضرورت ہے بنسبت اس کے جو صدیوں سے مسلمان سمجھتے چلے آئے ہیں حالانہ ان کو دیگر ادیان اور ان کے پھیلائو کے بارے میں عام معلومات بھی یا تو بہت کم تھیں یا سرے سے نہ تھیں۔ قرآن ہمیں جو بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہودیت اورہندمت کے برخلاف اسلام ایک عالمی دین ہے لیکن قرآن بدھ مت اور عیسائیت کے عالمی دین ہونے کی نفی نہیں کرتا جیسا کہ کم از کم اصولی طور پر ہر ایک کے سامنے عیاں ہے۔ یہ آخری الفاظ ’’اللہ جو ارادہ کرتے ہیں اس کو کر گزرتے ہیں۔‘‘ بہت اہم ہیں اور یہاں اللہ کے ارادے کو صرف اس کے نتائج اور اثرات ہی سے جانا جا سکتا ہے۔ پچھلے دو ہزار سال میں مختلف اقوام کی جغرافیائی تقسیم کے اعتبار سے جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو ایک تیزنگاہ عیسائی کی طرح ایک تیزنگاہ مسلمان کی نظر سے یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ دنیا میں ایک حصہ ایسا ہے جہاں فضل خداوندی نے بدھ مت کی بہت مدد کی اور دیگر ادیان کے لیے خواہ وہ عیسائیت ہو یا اسلام ہو بہت کم مدد کی۔ وہی مسلمان اس بات کا بھی مشاہدہ کرے گا کہ دنیا میں ایک اور حصہ ایسا ہے جس میں خدا کے فضل نے عیسائیت کی دیگر ادیان کی بنسبت بہت زیادہ مدد کی ہے۔
ہوالذی ارسل رسولہ الہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔
(وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں)
اس آیت کے بارے میں Martin Lings کا تبصرہ پڑھیے۔
matter may be said to lie.
globe.
فہم سلیم زیادہ سے زیاہ جو بات قبول کر سکتا ہے وہ وہ دعوے ہیں جو اس حقیقت کے قدرتی نتائج ہیں کہ اسلام روئے زمین پر سب سے جدید تصرف الٰہی ہے۔ یہ دعوے اگرچہ معتدبہ ہیں لیکن مطلق نہیں بلکہ اضافی ہیں۔ جدید دنیا کا ایک مسلمان دانشور اس بات کو تسلیم کیے بغیر بے چین رہے گا۔ اور اس کو تسلیم کرنا اس کے لیے دشوار بھی نہیں ہے کیونکہ قرآن کی وہ آیات جن پر علماء دینیات کی عدم وحدت ادیان کی فکر مبنی ہے ان پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ زیربحث آیات کی جو تاویل عام طور سے کی جاتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ عمیق اور عالمگیر تفسیر و تاویل کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ آیت ہے۔
ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون۔
وہ اللہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔
اس آیت کا محدود مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے اور وسیع مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے۔ بادی النظر میں اس کا جو معنی سامنے آتا ہے وہ وہ ہے جو محدود ہے یعنی یہ کہ محمد رسول ہیں اور دین حق قرآنی پیغام ہے اور مشرکین سے مراد بت پرست عرب، آتش پرست‘ بربر اور بعض دیگر جاہلی اقوام ہیں۔
لیکن پھر ان الفاظ کا کیا مطلب ہوگا کہ وہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ اصل مسئلہ اور عقدہ تو یہی ہے۔
جدید تعلیم کے جو بھی نقصان ہوں لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ تنہا اور خودبینی میں مشغول روایتی تہذیب کے افراد دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ کا جو تصور رکھتے ہیں جدید تعلیم اس سے بڑھ کر عالمی تصور دیتی ہے۔ وسعت علمی اگرچہ ایک ملی جلی نعمت ہے لیکن اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ جدید دنیا میں رہنے والا دانشور مسلمان جلد یا بدیر اچانک یا تدریجاً اس حقیقت کو سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ قرآنی پیغام کو دیگر تمام ادیان پر غلبہ نہیں دیا گیا اور اس کوتاہی کی براہ راست ذمہ دار خود فضل خداوندی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صدمہ بن کر شاید اس کے عقیدے کو بکھیر کر رکھ دے اگر وہ یہ سمجھنے کے قابل نہ ہو کہ اس آیت کا مطلب اتنا محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ ہاں محدود معنی میں یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ ’’دنیا کے تمہارے حصے میں دیگر تمام ادیان پر غلبہ دیا گیا ہے لیکن اگر دیگر ادیان کو مطلق لیا جائے اور بت پرستوں میں جرمنوں اور Celts وغیرہ قوموں کو بھی شمار کیا جائے کہ جن میں سے بہت سے ابتدائے اسلام کے وقت بت پرستی میں مبتلا تھے پھر دین حق کا اطلاق وسیع تر رکھنا پڑے گا اور آیت کے الفاظ کو دوبارہ سمجھنا پڑے گا ’’اس طرح سے‘‘ کہ خدا نے ہی پہلے بھی رسولوں کو بھیجا ہے اور صرف دین حق ہی دے کر بھیجا ہے۔ لفظ اسلام کی طرح ان چار الفاظ ارسلہ رسولہ بالہدی و دین الحق کا بھی عالمی مفہوم لیا جا سکتا ہے تاکہ ان میں تمام سچے ادیان شامل ہو جائیں۔ قرآن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ( حضرات ) آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے ادیان کے لغوی معنی یعنی خدا کی تابعداری کے اعتبار سے اسلام کہا جا سکتا ہے اس طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو دیگر تمام ادیان پر غلبہ دیا گیا ہے جبکہ محدود تر معنی کے اعتبار سے اسلام کو دنیا کے دیگر تمام ادیان پر صرف ایک محدود علاقے میں غلبہ دیا گیا ہے۔ قرآن کو نازل ہوئے چودہ سو سال ہو چکے ہیں اور خود فضل خداوندی نے دین حق کے غیر قرآنی طریقوں کو نصف سے زیادہ دنیا میں قرآنی پیغام کے لیے حجاب و رکاوٹ بنا کر رکھا ہے۔
Martin Lings لکھتا ہے:
دین کے بارے میں یہ دعویٰ کہ تنہا وہی موثر ہے اس کو صرف نصف حقیقت قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک عظیم اکثریت کے لیے حقیقت میں کوئی متبادل مذہب اختیار کرنے کیلئے نہیں ہوتا۔
Frithjof Schuon لکھتا ہے۔
جن لوگوں کا سابقہ ایک نئے دین کے بانی سے ہوتا ہے تو چونکہ ان کے سامنے کوئی متبادل اختیار نہیں ہوتا اور رسول کی عظمت مطلقہ ان کے ذہنوں میں چھائی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ یہی دین مطلق ہے۔ مطلقیت (یعنی مطلق سمجھنے) کے اس مختصر زمانے میں ہی دین کے بارے میں ایسے دعوے وجود میں آتے ہیں۔ لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو نئے اور پرانے ادیان کے درمیان ناگزیر طور پر ایک توازن قائم ہو جاتا ہے۔ خصوصاً اس اعتبار سے کہ پرانے ادیان بھی بعض قوموں پر اپنی خصوصیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔
مارٹن لنگز وغیرہ کے فلسفہ وحدت ادیان کا دلائل سے رد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قرآنی اسلام ہی میں نجات منحصر ہونے کے دلائل:
(سورہ بقرہ1 تا 5)
ترجمہ: یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔ راہ بتلانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کوجو ایسے لوگ ہیں کہ یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں پر اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہی لوگ ہیں کامیاب۔
اس آیت میں خدا سے ڈرنے والوں کی صفات بیان کر کے ہدایت و فلاح کو ان میں منحصر ہونا ذکر کیا ہے۔ ان کے اوصاف میں سے ایک وصف ایسا مذکور ہے جو مسلمانوں کے علاوہ کسی اور اہل مذہب میں نہیں پایا جاتا یعنی قرآن پر ایمان۔
(سورہ بقرہ)
اور (اے بنی اسرائیل) ایمان لے آئو اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) ایسی حالت میں کہ وہ تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے اور مت بنو تم سب میں پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے۔
یہود و نصاریٰ کو حکم ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لائیں اور انکار کرنے سے منع کیا اور انکار کرنے کو کفر بتایا۔
(سورہ بقرہ: 135 تا 137)
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہو جائو یا نصرانی ہو جائو تم بھی ہدایت پر ہو جائو گے۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہم تو ملت ابراہیم پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں اور ابراہیم علیہ السلام مشرک بھی نہ تھے۔ کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس پر بھی جو حضرات ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام اور اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا اور اس پر بھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا اور اس پر بھی جو کچھ اور انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں سو اگر وہ بھی اسی طریق سے ایمان لے آئیں جس طریق سے تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی ہدایت پر لگ جائیں گے اور اگر وہ روگردانی کریں تو وہ لوگ تو برسر مخالفت ہیں ہی تو آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔
ان آیات میں مسلمانوں کی زبانی ان کے عقائد و ایمانیات کہلوائے گئے اور پھر ان کو معیار بنا کر یہودو نصاریٰ کو اس معیار کے مطابق ایمان لانے کی دعوت دی اور واضح طور پربتا دیا کہ اگر انہوں نے اس معیار کو اختیار کیا تو ہدایت پائیں گے۔ ورنہ اس سے روگردانی کی صورت میں ہدایت سے ہٹے ہوئے ہوں گے۔
بلاشبہ دین (حق و مقبول) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا ایسی حالت کے بعد کہ ان کو (اسلام کے حق ہونے کی) دلیل پہنچ چکی تھی۔ محض ایک دوسرے پر بڑا بننے کی وجہ سے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرے گا (جیسا کہ ان لوگوں نے کیا) تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والے ہیں۔
(اسلام کے حق ہونے کی دلیل قائم ہونے کے بعد) پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے حجتیں نکالیں تو آپ فرما دیجیے کہ (تم مانو یا نہ مانو) میں تو اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کر چکا اور جو میرے پیرو تھے وہ بھی (اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کر چکے۔ یہ کنایہ ہے اس سے کہ ہم سب اسلام اختیار کر چکے) اور کہیے اہل کتاب سے اور عرب سے کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو۔ سو اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ پر آ جائیں گے اور اگر وہ لوگ روگردانی کریں تو آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔
اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آئے جو مصداق ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب و شریعت میں) ہے (یعنی معتبر شرعی دلائل سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو ضرور تم اس رسول پر ایمان بھی لانا اور اس کی طرفداری (و مدد) بھی کرنا۔ (پھر) فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا وہ بولے ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ رہنا اور میں بھی اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں (یعنی واقعہ کی اطلاع اور علم رکھنے والا ہوں)۔
تنبیہ: انبیاء سے یہ عہد ان کی امتوں سے بھی ہے۔
سو (امتوں میں سے) جو شخص اس (عہد) کے بعد پھرا تو ایسے ہی لوگ بے حکمی کرنے والے ہیں۔ کیا پھر دین خداوندی کے سوا کسی اور طریقہ کو چاہتے ہیں۔ حالانکہ حق تعالیٰ (کی یہ شان ہے کہ ان) کے (حکم کے) سامنے سب سرافگندہ ہیں۔ جتنے آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور بے اختیاری سے اور سب خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
آپ فرما دیجیے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس پر جو ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا اور اس پر بھی جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان رکھیں اور کسی پر نہ رکھیں) اور ہم تو اللہ ہی کے مطیع ہیں۔ اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور ہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔
(آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو۔ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دیں گے۔)
اس آیت میں خطاب عام ہے کہ تمام انسانوں سے ہے جن میں یہود و نصاریٰ بھی آ گئے اور دیگر اہل ادیان بھی۔ سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع لازم ہے۔ اس کے علاوہ اللہ کی محبت اور اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔
ولو کان موسیٰ حیّا ما وسعہ الا اتباعی۔
اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے علاوہ چارہ نہ ہوتا۔
اے ایمان والو اگر تم کہنا مانو گے کسی فرقہ کا ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے تو وہ لوگ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے کافر بنا دیں گے۔
اہل کتاب کے کسی بھی گروہ کی اطاعت کا موجب کفر ہونا محض اسی بنا پر ہے کہ وہ خود کفر میں مبتلا ہیں لہٰذا قابل اعتبار ایمان و ہدایت کا انحصار صرف اسلام میں ہوا۔
اے تمام لوگو تمہارے پاس یہ رسول سچی بات لے کر تمہارے پروردگار کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو تم یقین رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا (کیونکہ نجات ہوگی)۔ اور اگر تم منکر رہے تو خدا تعالیٰ کی ملک ہے یہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔
اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ ہمارے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آ پہنچے جو کہ تم کو (شریعت کی باتیں) صاف صاف بتلاتے ہیں ایسے وقت میں کہ رسولوں (کے آنے) کا سلسلہ (مدت سے) موقوف تھا (اور مختلف حوادث کی وجہ سے سابقہ شریعتیں مفقود ہو گئی تھیں اور فترت رسل سے ان کے علم کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لیے کسی رسول کے آنے کی بہت ضرورت تھی۔ تو ایسے وقت میں آپ کی تشریف آوری کو نعمت عظمیٰ سمجھنا چاہیے) تاکہ تم (قیامت میں) یوں نہ کہنے لگو کہ (ہم دین کے باب میں کوتاہی کرنے میں اس لیے معذور ہیں کہ) ہمارے پاس کوئی (رسول جو کہ) بشیر و نذیر (ہو جس سے ہم کو دین کے بارے میں صحیح علم ہوتا) نہیں آیا (اور پہلی شرائع ضائع ہو چکی تھیں۔ اس لیے ہم سے کوتاہیاں ہو گئیں) سو (سمجھ رکھو کہ اب عذر کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ) تمہارے پاس بشیر اور نذیر (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ چکے ہیں اب ماننا نہ ماننا اس کو تم دیکھ لو) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔
ان مذکورہ بالا دو حوالوں سے بخوبی واضح ہو گیا کہ اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے میں اور گمراہی کی تاریکیوں سے ہدایت کی روشنی میں آنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اورقرآن کے محتاج ہیں۔
اوپر کے تین حوالہ جات میں بیان کردہ حقیقت کو ایک اور آیت میں یوں بیان فرمایا۔
اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے خوشخبری سنانے اور ڈرانے والے)
ظہور اسلام کے وقت کوئی مذہب بھی حق پر نہ تھا
اس بات میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام جو دین لے کر آئے تھے وہ بالکل حق تھا لیکن اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جس شکل میں وہ دین آئے تھے وہ پھر باقی نہ رہی اور تحریفات و بدعات کی بنا پر وہ دین اللہ کی مرضی کے مطابق نہ رہے۔ اس بات کو ہم چند آیات قرانیہ کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔
کیا اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں کچھ لوگ ایسے گزرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام (توریت) سنتے تھے اور پھر اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اس کو سمجھنے کے بعد اور جانتے تھے کہ ہم برا کر رہے ہیں۔
تو بڑی بربادی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں (بدل سدل کر) کتاب (تورات) کو اپنے ہاتھوں سے (اور) پھر (عوام سے) کہہ دیتے ہیں کہ یہ (حکم) خدا کی طرف سے (یوں ہی آیا) ہے۔ (اور) غرض (صرف) یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے قلیل وصول کر لیں۔
اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی (مضمون یعنی تحریف شدہ عبارت یا تفسیر فاسد) سے اور (کیوں) چھپاتے ہوئے واقعی بات کو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ حق بات کو چھپا رہے ہو)
اور ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم علیہا السلام پر بڑا بھاری بہتان دھرنے کی و جہ سے۔
اور مت کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ (اس شرک سے) باز آ جائو تمہارے لیے بہتر ہوگا (اور توحید کے قائل ہو جائو کیونکہ) معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے (اور) وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے۔
مذکورہ آیات کی تائید ان بے تحاشا تحریفات سے ہوئی ہے جو تورات و انجیل وغیرہ میں ہوتی رہی ہیں اور جن کا سلسلہ ابھی تک ختم ہونے میں نہیں آیا۔
حاصل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت جتنے بھی مذاہب پہلے سے موجود تھے خواہ وہ آسمانی ہی کیوں نہ ہوں ان میں وہ تغیرات آ چکے تھے کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی و پسند کے موافق نہ رہے تھے اور سوائے چند ایک بچے کھچے راہبوں کے جو توحید پر تھے۔ باقی سب اہل ارض اللہ تعالیٰ کے غصہ و ناراضگی کے موجب کاموں میں مبتلا تھے۔ یہی مضمون مذکورہ حدیث میں موجود ہے۔
وانی خلقت عبادی حنفاء کلہم وانہم أتتہم الشیاطین فاجتا لتہم عن دینہم و حرمت علیہم ما احللت لہم و أمرتہم ان یشرکوا بی مالم انزل بہ سلطانا و ان اللّٰہ نظر الی اہل الارض فمقتہم عربہم و عجمہم الا بقایا من اہل الکتاب۔
اور میں نے اپنے تمام بندوں کو شرک سے یکسو پیدا کیا اور ان کے پاس شیطان آئے اور ان کو ان کے دین سے ہٹا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کیں اور ان شیاطین نے ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ایسوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے بارے میں مَیں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور اللہ نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو سب عرب و عجم پر غصہ فرمایا سوائے اہل کتاب میں سے (دین حق پر) بچے ہوئے کچھ لوگوں کے یہود و نصاریٰ باطل مذہب پر ہیں
اور اگر (یہ) اہل کتاب (بھی جو تم سے مخالفت کر رہے ہیں تمہاری طرح) ایمان لے آتے تو ان کے لیے (ان کی حالت موجودہ سے جس کو بزعم خود اچھی سمجھتے ہیں زیادہ اچھا ہوتا) کیونکہ پھر یہ بھی اسی مذکورہ اچھی جماعت یعنی خیر امۃ میں داخل ہو جاتے مگر ان کی حالت پر افسوس ہے کہ سب مسلمان نہ ہوئے بلکہ ان میں سے بعضے تو مسلمان ہیں اور زیادہ حصہ ان میں کافر ہیں۔
جما دی گئی ان پر (خاص) ذلت (یعنی جان کی بے امنی کی) جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے مگر (دو ذریعوں سے امن میسر ہو جاتا ہے) ایک تو ایسے ذریعہ کے سبب جو اللہ کی طرف سے ہے اور ایک ایسے ذریعہ سے جو آدمیوں کی طرف سے ہے اور مستحق ہو گئے (یہ لوگ) غضب الٰہی کے اور جما دی گئی ان پر پستی۔ یہ (ذلت و غضب) اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ انکار کر دیتے تھے احکام الہیہ کا اور قتل کر دیا کرتے تھے پیغمبروں کو (اس طرح سے کہ وہ قتل خود ان کے نزدیک بھی) ناحق (ہوتا تھا) اور (نیز) یہ (ذلت و غضب) اس وجہ سے ہوا کہ ان لوگوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ (اطاعت) سے نکل نکل جاتے تھے۔
ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے کسی طرح کی بہتری (بھی) نصیب ہو
تنبیہ: دیکھئے اس آیت میں کس صراحت سے اہل کتاب کو کفار میں سے شمار کیا ہے۔
اور وہ (یہودی فخر سے) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب یعنی اسلام کا اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب سے ان پر خدا کی مار ہے سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے)
اور جب ان کو ایک ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو من جانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے جو (پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی تورات) حالانکہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آ پہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے۔ سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب سے انکار کریں)
وہ حالت (بہت ہی) بری ہے جس کو اختیار کر کے (وہ بزعم خود) اپنی جانوں کو (عقوبت آخرت سے) چھڑانا چاہتے ہیں (اور وہ حالت) یہ (ہے) کہ کفر (وانکار) کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے (ایک سچے پیغمبر پر) نازل فرمائی (یعنی قرآن اور وہ انکار بھی محض (اس) ضد پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ) نازل فرمائے سو (اس حسد بالائے کفر سے) وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہو گئے اور (آخرت میں) ان کفر کرنے والوں کو ایسی سزا ہوگی جس میں (تکلیف کے علاوہ) ذلت (بھی) ہے۔
تو صرف ان کی (یعنی بنی اسرائیل کی) عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت کر دیا (کہ حق بات کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا اور اس سخت دلی کے آثار سے یہ ہے کہ) وہ لوگ (یعنی ان کے علماء) کلام ( یعنی تورات) کو اس کے (الفاظ یا مطالب کے) مواقع سے بدلتے ہیں (یعنی تحریف لفظی یا تحریف معنوی کرتے ہیں) اور (اس تحریف کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو کچھ ان کو (تورات میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا… فوت کر بیٹھے اور (حالت یہ ہے کہ) آپ کو آئے دن (یعنی ہمیشہ دین کے باب میں) کسی نہ کسی (نئی) خیانت کی اطلاع ہوتی رہتی ہے جو ان سے صادر ہوتی رہتی ہے سوائے ان کے گنتی کے چند شخصوں کے (جو کہ مسلمان ہو گئے تھے) سو آپ ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
اور جو لوگ (نصرت دین کے دعویٰ سے) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی ان کا عہد(مثل عہد یہود کے) لیا تھا سو وہ بھی جو کچھ ان کو (انجیل وغیرہ میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیونکہ وہ امر جس کو فوت کر بیٹھے توحید ہے اور ایمان ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کا حکم ان کو بھی ہوا تھا۔ جب توحید کو چھوڑ بیٹھے) تو ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لیے بغض وعداوت ڈال دی اور عنقریب (آخرت میں) کہ وہ بھی قریب ہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ان کا کیا ہوا بتلا دیں گے (پھر سزا دیں گے)
عقیدۂ تثلیث شرک ہے
اے اہل کتاب (یعنی انجیل والو) تم اپنے دین (کے بارہ) میں (عقیدہ حقہ کی) حد سے مت نکلو اور خدا تعالیٰ کی شان میں غلط بات مت کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اور کچھ بھی نہیں مگر اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ (کی پیدائش) ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک (جبرائیل علیہ السلام کے واسطہ پہنچایا اور اللہ کی طرف سے ایک جان (دار چیز) ہیں۔ سو اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائو اور یوں مت کہو کہ تین ہیں (اس شرک سے ) باز آ جائو تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے۔ وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجودات ہیں سب اس کی ملک ہیں۔
بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا ایک ہے حالانکہ سوائے ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں اور اگر یہ لوگ اپنے اقوال سے باز نہ آئے تو جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر دردناک عذاب واقع ہوگا۔